حکومتی ریفرنس کس کے اشاروں پر بنایا گیا تھا آپ بہتر جانتے ہیں۔ یہ آمرانہ رویوں کے خلاف ججز کی بغاوت ہے۔ کیا کبھی سنا ہے کہ بنچ کے سربراہ کی رائے کے خلاف فیصلہ آیا ہو؟
یہ حقیقت ہے کہ جمہوری ادوار میں اداروں نے پر پرزے نکالنے چاہے، لیکن جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ ان کی سرزنش ہی کی ہے، ان کے اقدامات کو اپنایا نہیں ہے۔ کارگل پر فوجی اقدام کو حکومت نے نہیں مانا۔
حیرت ہے۔ کیا پاکستان اور ہندوستان کے خفیہ مذاکرات اب ڈھکے چھپے رہ گئے ہیں؟ کیا وزیرِ خارجہ کا یہ بیان کہ آرٹیکل ۳۷۰ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے، کسی تعارف کا محتاج ہے۔ اس وقت پاکستان کا وزیرِ اعظم کون ہے؟ یا پھر یہ مان لیجیے کہ کپتان اصل میں کٹھ پتلی ہی ہے۔
کپتان جھوٹا ہے۔ نہ صرف ہندوستان سے خفیہ مذاکرات کررہا ہے بلکہ اپنے وزیرِ خارجہ سے اس نے یہ بھی کہلوادیا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ پاکستان اور کشمیر کاز کے ساتھ کھلی غداری ہے۔
لیجیے! آپ کو خبر ہی نہیں تین جمعے مسلسل دس منٹ تک سب اپنے اپنے دفتروں کے باہر کھڑے رہے تھے جس کے نتیجے میں ہندوستان کی حکومت لرز گئی تھی۔ نتیجہ یہ کہ پاکستان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کرنے لگی۔ پاکستان نے بھی مان لیا کہ آرٹیکل ۳۷۰ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ کپتان کی معاملہ فہمی کی داد تو بنتی ہے!
اجی توبہ کیجیے! ظہیر بھائی کا پیش کردہ حلوہ جعلی نہیں ہوسکتا۔یہ تو وہی بات ہوگئی، ’ناچ نہ جانے، آنگن ٹیڑھا‘۔ ہماری دادی بھی یہی حلوہ بناکر رکھتی تھیں، ہمیں اچھی طرح یاد ہے۔ ذرا توجہ سے ڈھونڈیے۔ ہر اچھے پنساری کے پاس یہ اشیاٗ ضرور مل جائیں گی۔