امام حسین علیہ السلام
اُٹھا نگاہ میں اِک عزمِ بے پناہ لئے
ستارہ صبح کا تنویرِ مہر و ماہ لئے
عذار طلعتِ رخشاں ، جبیں گلابی تھی
پیمبرانہ ادا ، شانِ بُو ترابی تھی
نبی کی آل کو ہمراہ لے کے نکلا تھا
فروغِ جلوہ گہِ ماہ لے کے نکلا تھا
اُٹھا تو عظمتِ کونین جھوم جھوم گئی
نظر فرینی دارین جھوم جھوم گئی...