مرزا صاحب! آپ کی محبت کے لیے ممنون ہوں ۔خطاطی جیسا فنِ شریف بہت کچھ اجنبی بن کے رہ گیا ہے۔بہرحال فطرت انسان میں اس کی طرف موانست کی لمبی تاریخ ہے،ظاہر ہے ہزاروں سالوں کا ساتھ ہے۔چکر لگاتے رہیے، امید ہے مزید نوادر آپ کا انتظار کریں گے، انشاءاللہ
درست فرمایا آپ نے......"سرور"ہی ہے۔دوسرا "سے" کی بجائے ،اصل غزل میں "سیں"استعمال ہوا ہے۔
چلی سمتِ غیب سیں اک ہوا کہ چمن سرور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
للَّهُمّ صَلٌ علَےَ مُحمَّدْ و علَےَ آل مُحمَّدْ كما صَلٌيت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ ۔
اللَّهُمّ بارك علَےَ مُحمَّدْ و علَےَ آل مُحمَّدْ كما باركت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ ۔
دو چیزیں:
(1) بچپن میں سکول کے رستے میں ایک گھر کے باہر نام کی تختی پہ صاحب خانہ کے نام کے نیچے لکھا تھا "سب انجینیر".......میں اُس گھر والوں سے مدت تک بہت مرعوب رہا، کہ اِس گھر کے تمام افراد انجینیر ہیں، بڑے ہی لائق لوگ ہیں یار.......کمال ہے
(2) بچپن میں اخبار میں جب یہ...
نازی پس منظر ،ہولوکاسٹ،فطرت انسان اور دو بچوں کے کردار کے گرد گھومتی ہوئی یہ فلم دل کے تاروں کو ہلا دینے والی ہے۔کتھارسس،divine justiceاور انسانیت کے وسیع تر تناظر میں یہ فلم خاصے کی چیز ہے۔
"...