رہ عشق میں جو ہوا گزر ، دل و جاں کی کچھ نہ رہی خبر
نہ کوئی رفیق نہ ہم سفر ، مرے ساتھ بے خبری رہی
سراج اورنگ آبادی کی زمین میں شعر ہے یہ۔۔۔
سراج کی اپنی غزل کے چند شعر سنیے:
خبر تحیر عشق سن،نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا،نہ تو میں رہا،جو رہی سو بےخبری رہی
چلی سمت غیب سے اک ہوا،کہ چمن سرور...