محمد آصف میؤ

کوائف نامے کے مراسلے حالیہ سرگرمی مراسلے تعارف

  • جن راستوں پہ اُس کے قدم تھے پڑے کبھی
    جُوتے اُتار کر میں گزرتا ہوں وہاں سے

    جب کی ہے ہے محبت تو کیوں دنیا سے چھپاؤں
    ہاں مجھ کو محبت ہے فلاں بنتِ فلاں سے

    سب کہتے ہیں اس کو بھی بہت پیار ہے مجھ سے
    لیکن میں سننا چاہتا ہوں خود اس کی زباں سے

    محمد آصفؔ میؤ
    ‏اور بہت تکلیف دہ ہوتا ہے وہ لمحہ جب آپ رب تعالیٰ سے اُس شخص کو بھُولنے کی دعائیں مانگتے ہیں جس کے ساتھ آپ نے زندگی گُزارنے کے خواب دیکھے ہوتے ہیں ۔
    ✍ : محمد آصف میؤ
    ‏تجھ کو بھُولے سے بھی میں بھُول سکوں نا ممکن
    یہ تعلق تو رہے گا میرے مر جانے تک

    موت برحق ہے مگر آخری خواہش یہ ہے
    سانس چلتی رہے میری ، تیرے آ جانے تک

    14 نومبر یومِ پیدائش پیر نصیر الدین نصیر رحمتہ اللّٰہ علیہ
    جو ہمیں جان سے بھی پیارے ہیں
    ان کی تصویر پہ گزارے ہیں

    تری سہیلیاں کہ یوں سمجھو
    چاند کے ارد گرد تارے ہیں

    یہ جو شادی کے تجھ سے وعدے ہیں
    لارے ہیں اور صرف لارے ہیں

    آسماں پر جو بادل چھائے ہیں
    سب ملاقات کے اشارے ہیں

    بن پیئے ہی جو ہوش کھو بیٹھے
    سب تمہاری نظر کے مارے ہیں

    یار آصفٓ منا لو روٹھوں کو
    چار دن زندگی کے سارے ہیں

    محمد آصفؔ میؤ
    یہ قصّہ میں تجھ کو سنا چاہتا ہوں
    آ تجھ کو بتاؤں میں کیا چاہتا ہوں

    وہی بے خیالی وہی بے قراری
    وہی عشق کی ابتدا چاہتا ہوں

    نہ جینے کی اب مجھ کو حسرت رہی ہے
    بہت جی چکا ہوں فنا چاہتا ہوں

    تجھے پردے میں بارہا میں نے دیکھا
    بے پردہ تجھے دیکھنا چاہتا ہوں

    ٓبہت توڑے دل میں نے اپنوں کے آصف
    میں روٹھے ہوؤں کو منا چاہتا ہوں
    محمد آصفؔ میؤ
    میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں
    دعائیں میری تجھے مجھ سے ملا دیں نہ کہیں

    رو بھی سکتا نہیں کُھل کر تیری محبت میں
    میرے آنسو تمہارا نام دِکھا دیں نہ کہیں

    محبت تھی نہیں اسکو تبھی تو ڈرتا ہوں
    لوگ الزام محبت کا لگا دیں نہ کہیں

    میرا قصّہء محبت ہے بہت شہرہ جہاں
    یہ قصّہ بچے میرے مجھ کو سنا دیں نہ کہیں

    آج سے دور بہت دور ہوں تجھ سے آصف
    اہل دنیا تیرا تماشہ بنا دیں نہ کہیں

    محمد آصفؔ میؤ
    خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے
    تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے

    کہاں اب سوچنے سمجھنے کی قوت رہی ہے
    تیرا ہی نقش یہ ذہن بنائے جاتا ہے

    تمہارا نام لکھ کے آسماں پہ یہ بادل
    تمہارے نام سے مجھ کو جلائے جاتا ہے

    اندھیری رات کا اندھیر رات بھر آصفٓ
    جانِ جاں تیری ہی باتیں سُنائے جاتا ہے

    تمہارے بعد بھی مجھ کو خبر نہیں آصف
    کون دروازۂ دل کو بجائے جاتا ہے

    محمد آصفٓ میؤ
    خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے
    تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے

    تیرے کُوچے سے کوئی روز میرے گھر آ کر
    ہمارے عشق کے قصّے بتائے جاتا ہے

    دکھوں کی شام میں یادیں تیری اے زہرہ جبیں
    جیسے اک ہاتھ مجھے سُلسُلائے جاتا ہے

    تمہارے بن گزارنا ہے زندگی ایسے
    جیسے مسلم کوئ حرام کھائے جاتا ہے

    نیند کیا نیند کا تو نام بھی باقی نہیں ہے
    خواب تجھ سے جدائی کا ڈرائے جاتا ہے

    محمد آصفٓ میؤ
    وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے
    وہ مجھ سے صاف دل عاشِق سے کیونکر بیر لیتی ہے

    جان بستی ہے میری تم میں جو یہ کہتی تھی
    اب کہیں دیکھ بھی لے تو نگاہیں پھیر لیتی ہے

    میں اپنے دیس کے رانجھوں کی کیا تعریف کروں
    انہیں ہر دوسرے ماہ اِک محبت گھیر لیتی ہے

    کون کہتا ہے محبت نہیں ہو سکتی دوبارہ
    یہ تو سو بار بھی ہو سکتی ہے پر دیر لیتی ہے

    محمد آصفٓ میؤ
    اپنی ہستی بھی نہ رہی اپنی
    بھول بیٹھے کہی سنی اپنی

    یاد کرتا ہوں بے رخی تیری
    یاد آتی ہے دل لگی اپنی

    کر کے برباد زندگی میری
    عادتیں اس نے ہیں بدلی اپنی

    کیا کروں ذکر اپنی حالت کا
    جو تمہاری ہے ہے وہی اپنی

    اے محبت تمہارے صدقے میں
    وار پھینکی ہے جان بھی اپنی

    اپنی ہی محفلِ تنہائی میں
    ہم نے محسوس کی کمی اپنی

    اس محبت کے کھیل میں آصفٓ
    ہار بیٹھا ہوں زندگی اپنی

    محمد آصفٓ میؤ
    میں نے سوچا تھا اُسے پیار نہیں ہو سکتا
    پیار گر ہو گیا اقرار نہیں ہو سکتا

    غم چھپا کے جو مسکرائے سامنے سب کے
    اس سے اچھا کوئی فنکار نہیں ہو سکتا

    تو ہے جب تک ہمارے دل میں بسا
    ہمارا دل کبھی بیکار نہیں ہو سکتا

    جیسے ہوتا تھا میں تیار تجھ سے ملنے کو
    اب اس طرح سے میں تیار نہیں ہو سکتا

    شعرکہہ دوں میں چاہے کتنے ہی اچھے آصفؔ
    سخن کی دنیا کا سردار نہیں ہو سکتا

    محمد آصفٓ میؤ
    یہ تعلق تمام نہ کیجیے
    میرا جینا حرام نہ کیجیے

    میں اگر آپ کو پسند نہیں
    آپ مجھ سے کلام نہ کیجیے

    محمد آصفؔ میؤ
    اس کے دن رات نہیں چاہئیں مجھے آصف
    بس ایک بار میرے نام سے بلا لے مجھے

    ویسے خواہش تو یہی ہے کہ بلائے چاہ سے
    پیار سے نہ سہی چل کام سے بلا لے مجھے

    محمد آصفؔ میؤ
    ترے خیال سے خالی نہیں خیال کوئی
    ہر اک خیال میں تیرا خیال رہتا ہے

    ترے خیال سے مشروط ہے مرا جینا
    ترا خیال تو آبِ حیات جیسا ہے

    محمد آصفؔ میؤ
    ہم تجھے دیکھتے ہی ہوش کھو بیٹھے تھے اپنا
    ترے کوچے سے کب نکلے ہمیں خبر ہی نہیں

    بڑے دیکھے خسارے پر تمہارا پیار کھونا
    ایسا نقصان ہے آتا ہمیں صبر ہی نہیں

    محمد آصفؔ میؤ
    کبھی سوچا نہ تھا کے ہاتھ پکڑ کے تیرا
    ننگے پاؤں کبھی ساحل پہ پھروں گا اک دن

    تمہاری ہر ادا ہے جان لیوا جان میری
    تمہاری ہی کسی ادا پہ مروں گا اک دن

    محمد آصفؔ میؤ
    زندگی تیرے سنگ بِتانے کے
    میری آنکھوں میں خواب کتنے ہیں

    عشق کرنے سے پہلے یہ دیکھو
    عاشقی کے عذاب کتنے ہیں

    محمد آصفؔ میؤ
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
Top