محمد آصف میؤ

کوائف نامے کے مراسلے حالیہ سرگرمی مراسلے تعارف

  • خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے
    تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے

    کہاں اب سوچنے سمجھنے کی قوت رہی ہے
    تیرا ہی نقش یہ ذہن بنائے جاتا ہے

    تمہارا نام لکھ کے آسماں پہ یہ بادل
    تمہارے نام سے مجھ کو جلائے جاتا ہے

    اندھیری رات کا اندھیر رات بھر آصفٓ
    جانِ جاں تیری ہی باتیں سُنائے جاتا ہے

    تمہارے بعد بھی مجھ کو خبر نہیں آصف
    کون دروازۂ دل کو بجائے جاتا ہے

    محمد آصفٓ میؤ
    خیال تیرا شب و روز آئے جاتا ہے
    تمہارا عشق ہے مجھ کو جو کھائے جاتا ہے

    تیرے کُوچے سے کوئی روز میرے گھر آ کر
    ہمارے عشق کے قصّے بتائے جاتا ہے

    دکھوں کی شام میں یادیں تیری اے زہرہ جبیں
    جیسے اک ہاتھ مجھے سُلسُلائے جاتا ہے

    تمہارے بن گزارنا ہے زندگی ایسے
    جیسے مسلم کوئ حرام کھائے جاتا ہے

    نیند کیا نیند کا تو نام بھی باقی نہیں ہے
    خواب تجھ سے جدائی کا ڈرائے جاتا ہے

    محمد آصفٓ میؤ
    وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے
    وہ مجھ سے صاف دل عاشِق سے کیونکر بیر لیتی ہے

    جان بستی ہے میری تم میں جو یہ کہتی تھی
    اب کہیں دیکھ بھی لے تو نگاہیں پھیر لیتی ہے

    میں اپنے دیس کے رانجھوں کی کیا تعریف کروں
    انہیں ہر دوسرے ماہ اِک محبت گھیر لیتی ہے

    کون کہتا ہے محبت نہیں ہو سکتی دوبارہ
    یہ تو سو بار بھی ہو سکتی ہے پر دیر لیتی ہے

    محمد آصفٓ میؤ
    اپنی ہستی بھی نہ رہی اپنی
    بھول بیٹھے کہی سنی اپنی

    یاد کرتا ہوں بے رخی تیری
    یاد آتی ہے دل لگی اپنی

    کر کے برباد زندگی میری
    عادتیں اس نے ہیں بدلی اپنی

    کیا کروں ذکر اپنی حالت کا
    جو تمہاری ہے ہے وہی اپنی

    اے محبت تمہارے صدقے میں
    وار پھینکی ہے جان بھی اپنی

    اپنی ہی محفلِ تنہائی میں
    ہم نے محسوس کی کمی اپنی

    اس محبت کے کھیل میں آصفٓ
    ہار بیٹھا ہوں زندگی اپنی

    محمد آصفٓ میؤ
    میں نے سوچا تھا اُسے پیار نہیں ہو سکتا
    پیار گر ہو گیا اقرار نہیں ہو سکتا

    غم چھپا کے جو مسکرائے سامنے سب کے
    اس سے اچھا کوئی فنکار نہیں ہو سکتا

    تو ہے جب تک ہمارے دل میں بسا
    ہمارا دل کبھی بیکار نہیں ہو سکتا

    جیسے ہوتا تھا میں تیار تجھ سے ملنے کو
    اب اس طرح سے میں تیار نہیں ہو سکتا

    شعرکہہ دوں میں چاہے کتنے ہی اچھے آصفؔ
    سخن کی دنیا کا سردار نہیں ہو سکتا

    محمد آصفٓ میؤ
    یہ تعلق تمام نہ کیجیے
    میرا جینا حرام نہ کیجیے

    میں اگر آپ کو پسند نہیں
    آپ مجھ سے کلام نہ کیجیے

    محمد آصفؔ میؤ
    اس کے دن رات نہیں چاہئیں مجھے آصف
    بس ایک بار میرے نام سے بلا لے مجھے

    ویسے خواہش تو یہی ہے کہ بلائے چاہ سے
    پیار سے نہ سہی چل کام سے بلا لے مجھے

    محمد آصفؔ میؤ
    ترے خیال سے خالی نہیں خیال کوئی
    ہر اک خیال میں تیرا خیال رہتا ہے

    ترے خیال سے مشروط ہے مرا جینا
    ترا خیال تو آبِ حیات جیسا ہے

    محمد آصفؔ میؤ
    ہم تجھے دیکھتے ہی ہوش کھو بیٹھے تھے اپنا
    ترے کوچے سے کب نکلے ہمیں خبر ہی نہیں

    بڑے دیکھے خسارے پر تمہارا پیار کھونا
    ایسا نقصان ہے آتا ہمیں صبر ہی نہیں

    محمد آصفؔ میؤ
    کبھی سوچا نہ تھا کے ہاتھ پکڑ کے تیرا
    ننگے پاؤں کبھی ساحل پہ پھروں گا اک دن

    تمہاری ہر ادا ہے جان لیوا جان میری
    تمہاری ہی کسی ادا پہ مروں گا اک دن

    محمد آصفؔ میؤ
    زندگی تیرے سنگ بِتانے کے
    میری آنکھوں میں خواب کتنے ہیں

    عشق کرنے سے پہلے یہ دیکھو
    عاشقی کے عذاب کتنے ہیں

    محمد آصفؔ میؤ
    ترس کھایا ہوا اغیار کا سنبھالا ہوا
    در بہ در پھرتا ہوں جنت سے میں نکالا ہوا

    اسی کی مہر سے جیون میں ہے اندھیر پڑا
    جس کے آنے سے میری زیست میں اُجالا ہوا

    اپنے بچے کا نام میرے نام پر رکھ کر
    وہ سمجھتی ہے بے وفائی کا ازالہ ہوا

    تمام عر جو مرتا رہا ٹھکانے کو
    آج مرنے کے بعد وہ بھی زمیں والا ہوا

    آج ہر شخص ہی دھوکے کی زد میں ہے آصفؔ
    میں سمجھتا تھا میرے ساتھ ہی نرالا ہوا
    محمد آصفؔ میؤ
    نگاہ اٹھا کے وہ محفل میں جب سلام کرے
    ہوش والوں کی مدہوشی کا انتظام کرے

    ہر ایک شخص کو نسبت بتانی پڑتی ہے
    کون پاگل تمہارے شہر میں قیام کرے

    ایک خواہش ہے میرے دل میں کہ وہ مہ جبیں
    ملا کے نظر کبھی مجھ سے بھی کلام کرے

    وہ رخ سے زلفیں ہٹا لے تو روشنی پھُوٹے
    رخ پہ ڈالے اگر زلفیں تو دن کو شام کرے

    خیالِ یار سے اک پل بھی جب نہیں غافل
    کوئی دیوانہ بھلا کس پہر آرام کرے
    محمد آصفؔ میؤ
    نہ ملاقات نہ دیدار کی حسرت کی ہے
    میں نے اُس شخص سے پاکیزہ محبت کی ہے

    میں نے رُخصت کیا ہے اُس کو کسی غیر کے ساتھ
    میں نے ہم عصر عاشقوں سے بغاوت کی ہے

    سگا ہے وہ میرا نہ خون کا رشتہ ہے کوئی
    بات یہ ساری میرے دوست عقیدت کی ہے

    مجال کیا مری جو تجھ کو خط لِکھوں صاحِب
    صاف ظاہر ہے رقیبوں نے شرارت کی ہے

    بے سکوں دل دیا لے کے قرار والا دل
    تم نے سرکار امانت میں خیانت کی ہے
    محمد آصفؔ میؤ
    اہل اعلم سے سوال ہے ک کیا شاعر اپنا اصل نام تخلص کے طور پہ استعمال کر سکتا ہے ؟
    سید عاطف علی
    سید عاطف علی
    کیوں نہیں بھائی ؟ اصلی نام بھی کرسکتا ہے اور نقلی بھی ۔اس میں بھلا کیا قباحت ؟
    عرفان سعید
    عرفان سعید
    اقبال تو اپنا نام ہی بطور تخلص استعمال کرتے تھے۔ شاعر کچھ بھی استعمال کر سکتا ہے۔
    فہد اشرف
    فہد اشرف
    عرفان بھائی اب شعرا کو اتنی بھی چھوٹ نہیں ہے کہ کچھ بھی استعمال کرتے پھریں ۔
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
Top