حضرت مہدی کون؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

مہوش علی

لائبریرین
سجدہ تعظیمی اور منکرینِ احادیث حضرات

اے ایمان والو:

اللہ تعالی کا شکر ادا کرو کہ اللہ تعالی نے اسی قران میں ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ منکر عقائد والوں کو کوئی راہ فرار نہیں۔

مجھے یقین ہے آج اس قرانی پیغام کو پہنچا دینے کے بعد منکرین حدیث عقیدے کا مکمل قلع قمع ہو جائے گا [صرف اُن لوگوں کے لیے جو صدق دل سے حق و سچائی کے طلبگار ہیں]۔ انشاء اللہ۔

قران میں سجدہ تعظیمی:

[arabic]إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ[/arabic]
[القران 12:4] جس وقت یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے باپ میں گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو خواب میں دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں


[arabic]وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَ۔ذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ[/arabic]
[القران 12:100] اور اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور اس کے آگے سب سجدہ میں گر پڑے اور کہا اےباپ میرے اس پہلے خواب کی یہ تعبیر ہے۔۔۔۔


[arabic]وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لِآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ[/arabic]
[القران 2:34] اورجب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کہ اس نے انکار کیا اورتکبر کیا اورکافروں میں سے ہو گیا

نوٹ:
1۔ قران کی یہ آیات اُس سجدہ تعظیمی کا ذکر کر رہی ہیں جو پچھلی شریعتوں میں نہ صرف حلال تھا، بلکہ ایک انتہائی بہترین و نیک عمل سمجھا جاتا تھا۔

2۔ مگر اسلامی شریعت میں [بلکہ کہتے ہیں کہ جناب موسی علیہ السلام کے زمانے سے] اس سجدہ تعظیمی کو اللہ کی جابب سے حرام قرار دے دیا گیا۔

مگر سجدہ تعظیمی کی اس حرمت کے متعلق کہیں بھی قران میں ایک بھی آیت موجود نہیں
[بلکہ فاروق صاحب اور دیگر منکرین حدیث حضرات کے دعوے کے بالکل برعکس بالکل واضح، روشن و صاف و غیر مبہم قرانی آیت تو ایک طرف رہی، کوئی غیر مبہیم آیت بھی سجدہ تعظیمی کو حرام قرار نہیں دے رہی۔
بلکہ اگر قران میں کچھ ہے تو وہ واضح اور صاف اور روشن طور پرسجدہ تعظیمی کو حلال بیان کر رہا ہے۔

4۔ مگر امت [غیر منکرین حدیث] کا اجماع ہے کہ سجدہ تعظیمی کم از کم یقینی طور پر شریعت محمدی میں حرام ہو چکا ہے، اور اس معاملے میں ہمارے پاس صرف اور صرف ایک حدیث نبوی ہے کہ:
رسول ص نے فرمایا:"اگر اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ جائز ہوتا تو وہ عورتوں کو حکم دیتے کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔"
نوٹ:
اور یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود نہیں کہ جیسا کہ یہ آرگومنٹ/بہانہ پیش کر کے ظفری برادر اور دیگر چند حضرات عقیدہ ظہور مہدی کی تمام دیگر روایات کا انکار کر رہے تھے۔

5۔ اور اب فاروق صاحب اور دیگر منکرین حدیث کے اس لائسنسن کا سب سے خطرناک اور مہلک پہلو کہ جس کے فتنے کے متعلق میں بار بار انہیں خدا کا واسطہ دے کر سمجھا رہی ہوں٫۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ یہ کہ رسول اللہ ص کی اس واضح حکم کے باوجود [کہ اب اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ جائز نہیں] پھر بھی ایسے گمراہ لوگ ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر یہ حرام کام انجام دیتے ہیں اور فاروق صاحب کے اسی لائسنس کے تحت قرانی آیات سے کھیل رہے ہیں اور آرگومنٹ دیتے ہیں کہ:

۔ قران میں اتنی ساری جگہ بالکل صاف واضح، اور روشن طور پر انبیاء علیھم السلام کے آگے سجدے کا حکم ہے، تو پھر ان کی موجودگی میں کوئی [انکے زعم میں] گھڑی ہوئی اس ایک روایت کو کیوں مانے؟؟؟؟؟؟؟؟

تو کاش فاروق صاحب جیسے منکرین حدیث حضرات دیکھیں اور عبرت حاصل کریں کہ انکا یہ لائسنس کتنے فتنوں کا دروازہ کھول چکا ہے اور مستقبل میں نجانے کتنی اور بربادیاں امت پر لائے گا۔

مجھے پورا یقین ہے کہ اللہ کی جانب سے خود کیے گئے اس قرانی نظام کا پیغام سمجھ لینے کے بعد جو شخص بھی صدق دل و سچائی سے راہ جاننے کے لیے تحقیق کر رہا ہو گا، وہ کبھی بھی منکرین حدیث عقائد کو قبول نہ کر سکے گا اور اُس پر اس فتنے کی بربادیوں کا حال کھل چکا ہو گا۔ انشاء اللہ۔
 

مہوش علی

لائبریرین
اوپر کچھ حضرات کی جانب سے دیگر چند اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں کہ عقیدہ ظہور مہدی پر یقین لانے یا نہ لانے کی اہمیت کیا ہے؟ کیا اسکو نہ مان کر کوئی کافر ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

تو میں تو بس اپنی رائے پیش کر سکتی ہوں جو کہ اپنی کم علمی کے باوجود تفکر اور تدبر کرنے پر میرے سامنے آئی ہے:

1۔ عقیدہ ظہور مہدی کی اہمیت کو براہ راست اس بحث پر لیجانا کہ یہ کفر ہے یا نہیں۔۔۔۔ یہ ایک فضول بحث ہے۔
اگر آپ پھر بھی یہ سوال کرتے ہیں تو اس سے قبل آپ کو ہمارے اس سوال کا جواب دینا ہو گا: "کیا عقیدہ ظہور عیسی ابن مریم کو نہ ماننے سے انسان کافر ہو جائے گا؟"

2۔ اور ہمارے لیے اس کفر کی لغو بحث میں پڑنا مناسب نہیں، مگر یہ کہ ہمارا ایمان ہے کہ:

  • جو چیز ہمیں قران سے ثابت ہے اس پر جوں کا توں ایمان لانا فرض ہے۔
  • جو چیز ہمیں قول رسول سے اپنے بنائے ہوئے سٹینڈرڈز کے مطابق ثابت ہے، اس پر جوں کا توں ایمان لانا فرض ہے۔
  • اور اسی بنیاد پر ہمارا عقیدہ ہے کہ عقیدہ ظہور مہدی پر ایمان لانا ویسا ہی لازمی اور فرض ہے جیسا کہ عقیدہ ظہور عیسی علیہ السلام پر ایمان لانا، کیونکہ دونوں ہمارے لیے احادیث رسول سے ثابت ہیں۔
    اور اگر کوئی جانتے بوجھتے قول رسول کو ماننے سے انکار کرے تو اسے ڈرنا چاہیے کہ یہ چیز قران اور اللہ کے احکام کے انکار کرنے کے مترادف ہی ہے۔
  • یعنی کیا آپ نے ایسا شخص یا گروہ دیکھا ہے جو قول نبی کے ایک حصے کو تو قبول کر لے [جیسا کہ سجدہ تعظیمی میں منکرین حدیث حضرات اور عقیدہ ظہور مہدی و عیسی میں ظفری برادر ابن خلدون کا اقرار کرتے ہیں] مگر دوسرا حصہ جو کہ انکے انہی سٹینڈرڈز پر بالکل پورا اترتا ہے اُسکا اس بنیاد پر انکار کر دیں کہ وہ انکی خواہشات کے مطابق نہیں؟؟؟
    تو خود بتائیے ایسے ڈبل سٹینڈرڈز کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟
    اب ظفری برادر جیسے برادران یا تو ابن خلدون پر کیے جانے والے ان اعتراضات کا جواب دے دیں جو کہ مفتی شامزئی نے ان پر کیے ہیں اور ثابت کر دیں کہ یہ روایات قول نبی نہیں،۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ان دلائل کا سامنا نہیں کر سکتے تو ڈبل سٹینڈرڈز دکھانے کی بجائے بہتر ہو گا حق بات کو قبول فرما لیں۔

تو ابتک دو طبقات نے عقیدہ ظہور مہدی کا انکار کیا ہے:

1۔ منکرین حدیث حضرات۔۔۔۔۔ اور انکا ڈبل سٹینڈرڈ اور فتنہ میں اوپر بیان کر چکی ہوں۔
2۔ وہ حضرات جو مکمل منکرین حدیث تو نہیں، مگر ابن خلدون کی پیروی کرتے ہوئے عقیدہ ظہور مہدی کا انکار کر رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ اور ان لوگوں کے سامنے میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں ہی مفتی شامزئی علیہ رحمہ کی دلائل سے بھرپور کتاب پیش کر دی تھی کہ جس کی ایک بھی دلیل کا ایک بھی جواب ان حضرات کی طرف سے موصول ہوا ہے اور نہ ہو گا، مگر انکار ظہور مہدی پھر بھی مسلسل موصول ہوتا رہے گا۔

اللھم صلی اللہ محمد و آل محمد
 

مہوش علی

لائبریرین
از ڈاکٹر عباس:
جناب میرا استدلال یہ ہے کہ نبوت تو ختم ہو چکی ۔کیوں کہ اس کے لئے قرآن کی ایت آچکی ہے۔لیکن امامت وہ عہدہ ہے جو قیامت تک رہے گا کیوں کہ اس کے خاتمے کا اعلان نہیں ھوا۔یہ عہدہ اکتسابی نہیں ھو گا بلکہ اللہ تعایٰ کا عطا کردہ ہو گا۔
اور اسکا جواب دیا طالوت صاحب نے:

ڈاکٹر صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ عہدہ اب تک کن لوگوں کو دیا گیا اللہ کی طرف سے یا صرف کسی مخصوص شخصیت یا خاندان کے لیے یہ عہدہ ہے اور کن خصوصیات کی حامل شخصیت کو یہ منصب عطا ہو گا۔۔۔۔ کیا آپ وضاحت کریں گے۔۔۔۔اگر قران سے کریں تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ قران کی مسلک کی نہیں بلکہ اسلام کی بات کرتا ہے (ممکن ہے آپ پہلے کر چکے ہوں میری نظر سے نہیں گزری اگر کر چکیں ہیں تو اس پوسٹ کو ھوالہ دے دیں)۔۔۔۔۔۔۔۔۔وسلام

طالوت صاحب،

فاروق صاحب نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے بعد یہ عہدہ اسحق و یعقوب
کو ملا اور فاروق صاحب کے نزدیک اسکے بعد یہ وعدہ پورا ہو گیا۔

مگر پھر وہ خود ہی اس وعدے کو اسحق و یعقوب علیھم السلام کی آگے اولاد تک بڑھاتے ہیں، اور منکرین حدیث حضرات کا پتا نہیں، مگر امت کا اجماع ہوا ان قرانی آیات پر اقوال نبی کی روشنی میں کہ یہ وعدہ خاندان ابراہیمی میں جاری رہا۔۔۔۔۔ ہمیشہ جاری رہا۔۔۔۔۔ اور صرف اسی ایک خاندان میں پھر رہا۔

پھر آپ نے ائمہ کے ان اوصاف کا پوچھا کہ: "اور کن خصوصیات کی حامل شخصیت کو یہ منصب عطا ہو گا۔"

امام کا یہ منصب کیا صرف انبیاء تک محدود؟

آپکی مرضی آپ مانیں یا نا مانیں۔۔۔۔ مگر:

1۔ ہم تو قران کو مکمل پڑھتے ہیں۔
2۔ اور پھر اسکی تفسیر اپنی خواہشات کی بجائے اقوال نبی ص کی روشنی میں کرتے ہیں۔

اور پھر پڑھ لے انسان "سورہ الفیل" کی تفسیر کہ:


  • تھا خاندان ابراہیمی سے ایک شخص، جو نبی نہ تھا۔
  • مگر جب کیا ابراہہ کعبے کو ڈھانے کا ارادہ تو خاندان ابراہیمی کے اس توحید کے پرستار شخص نے اللہ سے ایک دعا مانگی۔
  • یہ اس شخص کا اُس کفر کے ماحول میں اللہ پر یقین کامل تھا کہ اللہ نے خاندان ابراہیمی کے اس شخص کی دعا کو ایسا قبول کیا کہ اس کے ذکر کو قران میں سورہ الفیل کے ذریعے یادگار بنا دیا۔
یہ ہیں اللہ کے وہ منتخب امام کہ جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے۔

یہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی، بہرحال قبل اسکے میں اس موضوع پر مزید تفصیل سے لکھوں، بہتر ہو گا اس بحث کو دوسرے تھریڈ میں شروع کیا جائے اور اس تھریڈ کو صرف اصل موضوع کے متعلق رکھا جائے۔

اللھم صلی اللہ محمد و آل محمد۔
 

طالوت

محفلین
شکریہ مہوش ۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ آپ نے بیان فرمایا کہ آپ کو آپ کے اعتراضات کا جواب نہیں مل سکا تو کچھ یہی کہنے میں میں بھی حق بجانب ہوں۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تک گمراہ فرقوں کا تعلق ہے تو اس گمراہی اور عظیم علماء کے گٹھ جوڑ کی قلعی انشاءاللہ میں بہت جلد کسی نئی پوسٹ میں کھولوں گا۔۔۔۔۔۔۔ اصل مسلہ جو سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ آپ یا دوسرے احباب جہاں سے اور جس طرح دلائل دے رہے ہیں وہ میں نہیں مانتا جیسا کہ سکون نے دلائل دیے۔۔۔۔۔ تفسیر کے معاملے کے لیے کوئی لگ بھگ 500 سے زائد تفاسیر موجود ہیں۔۔۔۔۔ اور کم بیش سبھی تفسیر طبری سے متاثر ہیں اور کئی ایک ایسی ہیں جن کی جلدیں سینکڑوں میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ لہذا مجھے قران سے باہر کی تفسیروں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں کیونکہ اس دلچسپی کے نتیجے میں پھنس کر رہ جاتا ہوں کہ ہر شخص نے تفسیر رسول اللہ کی بیان کردہ تفسیر کے مطابق لکھی ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ سر چکرا کر رہ جائے۔۔۔۔
بات مختصر یہ ہے کہ تمام مکتبہ فکر کا اپنا سنت اور حدیث اسٹینڈر ہے ۔۔۔۔۔۔ اور کوئی بھی ایک دوسرے کی سنت یا حدیث سے اتفاق نہیں رکھتا اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے میں قران اور اور صرف قران کو اولین ترجیح دیتا ہوں اور مجھے فاروق کی اس بات سے بھی سو فیصد اتفاق ہے کہ سنت کا اصل اور صحیح ماخذ قران ہی ہے اور اس پر میں اس پہلے ایک فورم میں کافی زیادہ بات چیت کر چکا ہوں۔۔۔ لیکن افسوس کہ وہ بجائے میری بات کو دلائل سے رد کرتے ان سارا زور اس بات پر رہا کہ میں کافر ہوں قادیانی ہوں اور جانے کیا کیا الزام لگاتے رہے۔۔۔۔۔ حالانکہ میں نے اپنی کسی ایک دلیل میں بھی قرانی آیت سے باہر کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میں قران کا طالب علم ہوں اور اس کی روشنی میں ہی اپنی زندگی سنوارنے کی کوشش کرتا ہوں ورنہ ملا کے خود ساختہ دین یہود کی بے ہودہ سازشوں اور اہل فارس کی ریشہ دوانیوں کے باعث میری نظر میں تو صرف نماز کا بھی کوئی ایک ایسا طریقہ نہیں بچتا جسے میں رسول اللہ کی نماز کہہ سکوں۔۔۔ کیونکہ جتینے طریقوں سے ہمارے یہاں نماز راءج ہے وہ سب تو رسول عربی (صلوۃ و سلام ہو تمام انبیاء پر) کے طریقے نہیں ہو سکتے نہ۔۔۔۔
یہ میری آخری پوسٹ ہے اس کے بعد میںکچھ کہنے سننے والا نہیں بس بجائے طنز کرنے یا کافر ثابت کرنے کہ اگر موضوع پر دھیان دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا باقی ہم سب نے اس ذات اعلٰی کی طرف رجوع کرنا ہے اس لیئے دین اور بے دین ہونے کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں آپ تمام احباب کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ حضرات نے بڑی اہم اور مفید معلومات پہنچائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔وسلام
 

نبیل

تکنیکی معاون
میں اس قسم کے مباحث سے دور ہی رہنا پسند کرنا ہوں لیکن یہاں مفتی شامزئی کا بار بار حوالہ سن کر مجھے ان کی کتاب پر نظر ڈالنی پڑی۔ مجھے مفتی شامزئی کے علمی مرتبے کا علم نہیں ہے، لیکن یہ کتاب اگر واقعی شامزئی صاحب کی مرتب کردہ ہے تو اسے بطور حوالہ پیش کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ذیل میں میں اس کا ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں جس میں قارئین کو تفصیلات میں جائے بغیر مہدیت پر ایمان لانے پر زور دیا گیا ہے:

shamzai_mehdi13.png


شامزئی صاحب کی کتاب اس ربط پر موجود ہے۔
 
مفتی نظام الدین شامزئی دارالعلوم بنوریہ کے مہتم اعلیٰ تھے اور ان کو کئی سال پہلے شہید کیا گیا تھا، باقی یہ متن صحیح نہیں پڑھا جارہا۔
 

سکون

محفلین
مہدی تو شاید کئ آ چکے ہیں۔ :confused:


کسی کے جھوٹے دعوی سے شچائی تو نہیں بدل جاتی ہے ؟ویسئ کئی لوگوں‌ نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ بھی تو کیا ہے ؟کیا اس سے سچے نبی کی سچائی میں کوئی فرق آتا ہے یا نہیں ؟؟ آپ کا جو جواب ہے وہی ہمارا جواب امام مھدی کے لئے بھی ہے۔ امید کہ سمجھ گئے ہونگے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
مفتی نظام الدین شامزئی دارالعلوم بنوریہ کے مہتم اعلیٰ تھے اور ان کو کئی سال پہلے شہید کیا گیا تھا، باقی یہ متن صحیح نہیں پڑھا جارہا۔
مجھے معلوم ہے کہ شامزئی دارالعلوم بنوریہ کے مہتمم تھے۔ میں نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی ہے، لیکن جتنی بھی پڑھی وہ انتہائی سطحی قسم کی لگی ہے۔ یہ ہرگز نہیں لگتا کہ یہ کتاب کسی علمی شخصیت کی لکھی ہوئی ہے۔ محض سنی سنائی روایات کوٹ‌ کی گئی ہیں جن کا قران سے یا احادیث سے حوالہ دینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اور استدلال یہ کہ احادیث میں ان تفاصیل کے موجود ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے کسی بات کے ایمان کا جزو ہونے کے لیے اس کا قران میں موجود ہونا ضروری نہیں تھا، اب اس کے لیے حدیث کی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
کسی کے جھوٹے دعوی سے شچائی تو نہیں بدل جاتی ہے ؟ویسئ کئی لوگوں‌ نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ بھی تو کیا ہے ؟کیا اس سے سچے نبی کی سچائی میں کوئی فرق آتا ہے یا نہیں ؟؟ آپ کا جو جواب ہے وہی ہمارا جواب امام مھدی کے لئے بھی ہے۔ امید کہ سمجھ گئے ہونگے۔
بالکل ٹھیک کہا آپ نے، اسی طرح من گھڑت روایتوں اور قصے کہانیوں کو عقیدے کا جزو قرار دینے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکتی خواہ اس کے لیے دوسروں کو کافر اور واجب القتل بھی قرار دے دیا جائے۔ امید کہ سمجھ گئے ہونگے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
مجھے معلوم ہے کہ شامزئی دارالعلوم بنوریہ کے مہتمم تھے۔ میں نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی ہے، لیکن جتنی بھی پڑھی وہ انتہائی سطحی قسم کی لگی ہے۔ یہ ہرگز نہیں لگتا کہ یہ کتاب کسی علمی شخصیت کی لکھی ہوئی ہے۔ محض سنی سنائی روایات کوٹ‌ کی گئی ہیں جن کا قران سے یا احادیث سے حوالہ دینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اور استدلال یہ کہ احادیث میں ان تفاصیل کے موجود ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے کسی بات کے ایمان کا جزو ہونے کے لیے اس کا قران میں موجود ہونا ضروری نہیں تھا، اب اس کے لیے حدیث کی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔

نبیل بھائی،
آپ نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی ہے اور جہاں تک پڑھی ہے وہاں بھی لگتا ہے آپکو کچھ غلط فہمی ہو رہی ہے۔
یہ کتاب مکمل طور پر احادیث سے بھری ہوئی ہے اور اس میں اتنی احادیث ہیں کہ آپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیں گے۔

جہاں تک صفحہ 13 [جو آپ نے پوسٹ کیا ہے] اسپر عیقدہ مہدی کے متعلق روایات کی براہ راست کوئی گفتگو نہیں ہو رہی ہے، بلکہ مفتی شامزئی قرب قیامت میں پیش آنے والے ان تمام واقعات [بشمول عیسی علیہ السلام کا آنا] کی ترتیب [یعنی کس ترتیب سے واقعات پیش آئیں گے] پر تبصرہ کر رہے ہیں۔

پھر سے گذارش ہے کہ اس کتاب کو مکمل پڑھئیے اور آپ کو مہدی کے متعلق اتنی احادیث پڑھنے کو ملیں گی کہ جن کا رتبہ ہر سٹینڈرڈ سے "تواتر" سے زیادہ ہے [نوٹ: تواتر حدیث کا رتبہ صحیح حدیث سے کہیں بڑھ کر ہے]۔

اب میں اس کتاب کے بارے میں انصاف کے تقاضے پورا کرنے کے متعلق اور کیا کہوں سوائے اسکہ جو میں اوپر بار بار کہہ چکی ہوں کہ اس کتاب کو مکمل پڑھئیے اور اگر کہیں غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے تو ہم اسے یہاں ڈسکس کر سکتے ہیں۔

////////////////////////////////

سولنگی بھائی،
آپ یہ کتاب اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں [اور نبیل بھائی نے اسکے صفحے 13 کا حوالہ دیا تھا]

آپ یہ خود دیکھ لیں کہ بحث صرف اور صرف قرب قیامت میں پیش آنے والے ان واقعات کی "ترتیب" پر ہے، اور اسکا مہدی کے متعلق احادیث سے کوئی تعلق نہیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
شکریہ مہوش بہن، دراصل میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں، مزید تھکاوٹ کی فی الحال ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ :)
ذرا میری معلومات کے لیے بتا دیں کہ مہدیت سے متعلقہ احادیث کے علاوہ اور کون سی احادیث ہیں جو متواتر ہیں؟
 

مہوش علی

لائبریرین
شکریہ مہوش بہن، دراصل میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں، مزید تھکاوٹ کی فی الحال ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ :)
ذرا میری معلومات کے لیے بتا دیں کہ مہدیت سے متعلقہ احادیث کے علاوہ اور کون سی احادیث ہیں جو متواتر ہیں؟

مفتی شامزئی کی کتاب آپ نے شاید صفحہ 13 کے بعد پڑھنی موقوف کر دی تھی، بہرحال آپ کی آسانی کے لیے:

۔ صفحہ 21 سے لیکر صفحہ 72 تک مفتی شامزئی نے مہدی کے متعلق اکاون 51 احادیث نقل کی ہیں۔
ان سب کی سب احادیث کی اسناد بھی ساتھ مکمل طور پر ساتھ درج کی ہیں۔
پھر ان سب اسناد پر علم الرجال اور دوسرے علوم کے مطابق مکمل بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے بہت سے تو بذات خود صحیح روایات ہیں۔

اسکے بعد کتاب میں تقریبا 100 کے قریب صفحات ہیں، جس میں انہوں نے ابن خلدون اور دیگر تمام منکرین مہدی کے اعتراضات 100 فیصد مکمل طور پر Quote کے ان میں سے ہر ایک کا جواب تفصیلا دیا ہے۔
ان سب باتوں کے بات اگر اس کتاب کو سرسری مطالعے کے بعد "سطحی" کہہ کر آپ نے اس کتاب کے ساتھ کچھ انصاف نہیں کیا۔۔۔۔ صرف یہ یاد رکھ لیں کہ اس کتاب کو لکھنے کے بعد پاکستان میں موجود بہت سے "ناصبی" طبقات مفتی شامزئی کی جان کے پکے دشمن ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ یہی کتاب انکی شہادت کا باعث بنی ہے۔

اللھم صلی علی محمد و آل محمد۔

پی ایس:
مھدی کے متعلق مفتی شامزئی نے 51 مختلف احادیث اس کتاب میں بیان کی ہیں۔
اب میں اگر آپ کو بتا دوں کہ اہل تشیع کی کتب اربعہ میں مھدی کے متعلق یہی روایات 100 سے بھی زائد طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔

نیز آپ نے "متواتر" احادیث کے متعلق پوچھا ہے تو یاد رکھئیے کہ متواتر حدیث کا درجہ احادیث میں سب سے بلند تر ہے۔ مثلا بخاری و مسلم میں بہت سے صحیح روایات نقل ہوئی ہیں کہ جن کا معیار یہ ہے کہ اگر "ایک بھی صحیح" سند سے کوئی حدیث نقل ہو جائے تو اسے صحیح حدیث کہا جاتا ہے۔
مگر انہی بخاری و مسلم میں بہت سے صحیح احادیث ایک کی بجائے بہت سے مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہیں اور یہ چیز اسے تواتر کے قریب کرتی ہے۔

متواتر احادیث کی تعداد بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر "خطبہ حجتۃ الوداع" کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو خطبہ بیان کیا وہ بہت سے صحابہ سے بہت سے طریقوں سے نقل ہوا ہے۔ اور یہ اس بنیاد پر ایک متواتر حدیث ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
شکریہ مہوش بہن، میری معلومات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 

سکون

محفلین
مفتی شامزئی کی کتاب آپ نے شاید صفحہ 13 کے بعد پڑھنی موقوف کر دی تھی، بہرحال آپ کی آسانی کے لیے:

۔ صفحہ 21 سے لیکر صفحہ 72 تک مفتی شامزئی نے مہدی کے متعلق اکاون 51 احادیث نقل کی ہیں۔
ان سب کی سب احادیث کی اسناد بھی ساتھ مکمل طور پر ساتھ درج کی ہیں۔
پھر ان سب اسناد پر علم الرجال اور دوسرے علوم کے مطابق مکمل بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے بہت سے تو بذات خود صحیح روایات ہیں۔

اسکے بعد کتاب میں تقریبا 100 کے قریب صفحات ہیں، جس میں انہوں نے ابن خلدون اور دیگر تمام منکرین مہدی کے اعتراضات 100 فیصد مکمل طور پر Quote کے ان میں سے ہر ایک کا جواب تفصیلا دیا ہے۔
ان سب باتوں کے بات اگر اس کتاب کو سرسری مطالعے کے بعد "سطحی" کہہ کر آپ نے اس کتاب کے ساتھ کچھ انصاف نہیں کیا۔۔۔۔ صرف یہ یاد رکھ لیں کہ اس کتاب کو لکھنے کے بعد پاکستان میں موجود بہت سے "ناصبی" طبقات مفتی شامزئی کی جان کے پکے دشمن ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ یہی کتاب انکی شہادت کا باعث بنی ہے۔

اللھم صلی علی محمد و آل محمد۔

پی ایس:
مھدی کے متعلق مفتی شامزئی نے 51 مختلف احادیث اس کتاب میں بیان کی ہیں۔
اب میں اگر آپ کو بتا دوں کہ اہل تشیع کی کتب اربعہ میں مھدی کے متعلق یہی روایات 100 سے بھی زائد طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔

نیز آپ نے "متواتر" احادیث کے متعلق پوچھا ہے تو یاد رکھئیے کہ متواتر حدیث کا درجہ احادیث میں سب سے بلند تر ہے۔ مثلا بخاری و مسلم میں بہت سے صحیح روایات نقل ہوئی ہیں کہ جن کا معیار یہ ہے کہ اگر "ایک بھی صحیح" سند سے کوئی حدیث نقل ہو جائے تو اسے صحیح حدیث کہا جاتا ہے۔
مگر انہی بخاری و مسلم میں بہت سے صحیح احادیث ایک کی بجائے بہت سے مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہیں اور یہ چیز اسے تواتر کے قریب کرتی ہے۔

متواتر احادیث کی تعداد بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر "خطبہ حجتۃ الوداع" کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو خطبہ بیان کیا وہ بہت سے صحابہ سے بہت سے طریقوں سے نقل ہوا ہے۔ اور یہ اس بنیاد پر ایک متواتر حدیث ہے۔


مہوش علی اس تفصیل کا بہت شکریہ
اور میں نے بھی اس کتاب کا سرسری مطالعہ کیا اور میں امید کرتا ہوں کہ (چونکہ نبیل بھائی کم سے کم منکر حدیث نہیں‌ہیں )تو ان کے لئے اب عقیدہ مہدیت کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا ۔اور اتنی دلائل کے بعد کوئی گبجائش نہیں رہتی ہے جن دوستوں کو قران سے دلیل چاہئے تھی انھیں قران مجید اور جن دوستوں کو حدیث وغیرہ پر اعتقاد ہے احادیث سے جواب دیا جا چکا ہے ۔اور وہ احادیث شیعہ سنی کتب میں تواتر کی حد تک ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
 
بہت شکریہ محترم۔
محترم اس آیہ میں امام کا لفظ آیا ہے اور حضرت ابراہیم اپنی اولاد کے لیے امامت مانگ رہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا جواب اثبات میں ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ۔
اب آپ ہی بتائیں ذریت ابراہیم میں امامت کہاں ہے۔کیا اللہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔اگر یہ کہا جائے کہ رسالت اور نبوت ہی امامت ہے تو یہ قرین قیاس نہیں ہو گا۔کیوں کہ نبوت اور رسالت تو پہلے ہی سے حضرت ابراہیم کے پاس موجود تھی۔
جناب عباس صاحب ویسے تو یہ بحث جناب مہدی کے بارے میں ہورہی ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ آپ اس آیت شریفہ سے بالکل غلط مراد لے رہے ہیں یہاں امامت سے مراد مطلقا پیشوائی ہے یا حکومت دینی اور ایسی امامت نبوت یا رسالت کے تباین نہیں ہے اگر اس امامت سے مراد غیر انبیا کا حضرت ابراہیم کی نسل میں ویسا امام بننا ہے جو کہ اہل تشیع حضرات کا نظریہ ہے یعنی کہ
1۔ امام منصوص من اللہ ہو تا ہے (انبیا کی طرح، یعنی دوسرے الفاظ میں امامت وہبی ہے کسبی نہیں)
2۔امام، انبیا کی طرح معصوم ہوتے ہیں
3۔انبیا کی طرح ان کی اطاعت فرض ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ
4 اور ان کو احکام شریعہ میں رد وبدل اور تحلیل و تحریم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ( فی الحال میں مزید تمام تفاصیل حذف کر رہا ہوں‌)
تو بلا شبہ آپ غلطی پر ہیں غیر انبیا میں کوئی بھی شخص یا کوئی بھی رتبہ منصوص من اللہ نہیں قران اور احادیث صحیحہ میں ایسا کوئی ذکر نہیں کہ انبیا کےسوا کوئی بھی شخص ایسی امامت کا حامل ہو جو منصو ص من اللہ ہو۔ اور نہ ہی امام کی اطاعت انبیا کی طرح فرض ہے جیسا کہ اہل تشیع حضرات کا خیال ہے۔

اوپر جتنی بھی بحث حضرت مہدی کے حوالے سے کی گئی اس میں ایک نہایت ہی اہم پہلو ان حضرات نے نظر انداز کر دیا ہے جو کہ حضرت مہدی کے وجود کی گواہیاں بڑے بھونڈے انداز سے قران سے دے رہے تھے یا احادیث سے ثابت کر رہے تھے دیکھیے یہاں کچھ باتیں بطور خاص ذہن میں رکھنے کی ہیں
1۔ اہل سنت کے نزدیک احادیث سے یہ ثابت ہے مہدی نام کےایک خلیفہ جو کہ آخری خلیفہ ہوں گئے وہ قیامت سے پیشتر تشریف لائیں گئے اب یہ سمجھ لیں کہ یہ مہدی جن کی پیشن گوئی احادیث میں آئی ہے وہ اس مہدی سے باکل مختلف ایک شخص ہیں جن کے قائل اور منتظر حضرات شیعہ ہیں یہ بات میں اپنی ایک پوسٹ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اہل تسنن اور اہل تشیع کے مہدی میں شاید سوائے نام کہ اور کچھ بھی یکساں نہیں ہے چنانچہ اگر اہل تشیع حضرات ان احادیث صحیحہ سے تمسک کرتے ہیں جو جناب مہدی کے بارے میں اہل تسنن کی کتابوں میں آئیں ہیں تو وہ گویا ایک دھوکہ اور فریب دیتے ہیں آئیے حضرات شیعہ کے نظریہ مہدیت پر ایک نظر دوڑاتے ہیں
1۔مہدی اہل تشیع کے بارہویں امام ہیں ، ایسے امام جو اللہ کی طرف امامت پر مقرر کیے گئے ہیں جن کی اطاعت حضرات انبیا کی اطاعت کی طرح فرض ہے جن کا رتبہ آنحضرت کے سوائے باقی انبیا سے بھی بلند ہے۔
2۔مہدی جو جناب حسن عسکری کے بیٹے تھے۔ آج تک کسی نے انکو نہیں دیکھا ہاں بعض روایات کے مطابق ان کی آواز سنی ہے وہ کم سنی میں ہی تبرکات اور حقیقی قرآن لے کر ایک غار میں (سر من رایٰ کے ایک غار میں) روپوش ہوگئے اور اب قیامت کے قریب ہی آئیں گئے
3۔ اہل تشیع کے مطابق جو کچھ مہدی اپنی روپوشی ختم کرنے کے بعد اور قیامت کے نزدیک ظہور کے وقت کریں گئے ان کی تفصیل لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپتے ہیں اور میں وہ باتیں لکھ نہیں سکتا۔
یہ صرف چند باتیں ہیں جو میں نے بیان کی ہیں ضرورت پڑنے پر مزید بہت ساری تفصیل میں بیان کر سکتا ہوں
جو کچھ میں نے اوپر بیان کیا ہے وہ اہل تشیع کی بنیادی کتب مثلا اصول کافی وغیرہ سے بیان کیا ہے اور تمام حوالے میں بوقت ضرورت پیش کر سکتا ہوں
اب میری گذارش یہ ہے کہ اگر اہل تشیع کو عقیدہ مہدی ثابت کرنے کا شوق ہے تو وہ شامزئی صاحب کا سہارا نہ لیں وہ احادیث بھی نہ بیان کریں جو کتب اہل سنت میں جناب مہدی ( جو کہ اہل سنت کے مطابق آخری خلیفہ ہوں گئے اور جن کی پیدائش ہوگی) کے بارے میں آئی ہیں۔بلکہ وہ اپنا عقیدہ مہدیت بیان کریں اور اس کو ثابت کریں
باقی اگر جناب فاروق سرور صاحب یا طالوت صاحب یا ظفری صاحب عقیدہ مہدی کے منکر ہیں تو ان کاا پنا عقیدہ ہے جس میں وہ آزاد ہیں۔
 

خرم

محفلین
ابن حسن یہ بہتر ہوگا کہ اس دھاگہ کو فرقہ واریت کے فروغ کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ آپ کے جو نظریات ہیں امام مہدی کے متعلق انہیں بیان کیجئے لیکن براہِ کرم دوسروں پر کیچڑ اچھالے بغیر۔ ان سطحی بحثوں کے لئے ویب پر اور بہت سے فورمز موجود ہیں۔
 
خرم آپ کس حیثیت سے مجھے کسی اور فورم کا راستہ دکھا رہے ہیں ؟ براہ کرم اپنی حیثیت واضح کریں آپ منتظم اعلیٰ ہیں یا منتظم خاص یا ویسے ہی آپ کو امریکی انداز تکلم کی عادت ہے؟
اگر میری پوسٹ متعلق بہ فرقہ واریت ہے تو جناب یہ سارا تھریڈ ہی فرقہ واریت سے بھرا ہے ہر کوئی اپنا نظریہ ہی بیان کر ہا ہے اور اپنے فرقہ کی بات کر رہا ہے
میں عموما جو باتیں کہتا ہوں وہ بلا دلیل یا حوالہ نہیں کہتا اوپر بیان کی ہوئی باتیں اگر کسی کے خیال میں غلط ہیں تو ثابت کریں اور ایک ایک چیز کا حوالہ میرے پاس موجود ہے۔نہ میں سطحی بات کرتا ہوں اور نہ مجھے کسی پر کیچڑ اچھالنے کا شوق ہے بلکہ میں اس معاملے میں بہت سے اور افراد سے زیادہ محتاط ہوں
آپ کے لیے بہتر یہ ہوتا کہ آپ کسی دلیل کے بغیر سطحی بات کہنے سے پرہیز کرتے اور مجھ پر ذاتی حیثیت میں کیچڑ نہ اچھالتے اور اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ پیش کرتے یہ دو سطریں کسی کے خلاف لکھ دینا شاید سب سے آسان کام ہے۔
 

خرم

محفلین
ایک فرقہ کا نام لیکر اس پر حملہ کرنا اگر فرقہ واریت نہیں ہے تو اور کیا ہے اس پر آپ اگر کچھ فرما دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ یقیناَ میں منتظم نہیں ہوں لیکن کسی کو غلط کام سے باز رکھنے کے لئے منتظم ہونا ضروری نہیں۔ آپ سمیت ہر بندے کے پاس اپنے فرقہ کی حمایت میں دلائل کا انبار موجود ہے اگر کمی ہے تو اس حوصلہ کی جو اختلاف رائے کو ایک حقیقت سمجھ کر قبول کرسکے۔
آپ اپنے دلائل دیجئے لیکن یہ ضرور پیش نظر رکھئے کہ یہ صرف آپ کا اپنا نظریہ ہے اور دوسروں کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔ اگر آپ اوروں پر کیچڑ اچھالیں گے تو جواب میں آپ کو بھی اسی کیچڑ میں رگیدا جائے گا۔ گفتگو میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دینا حسن خلق کے زمرہ میں آتا ہے اور یہ تو آپ کو علم ہی ہوگا کہ حسن خلق اعمال کے پلڑے میں سب سے وزنی چیز ہوگا۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ابن حسن برادر،

میں آپ سے درخواست کرنا چاہ رہی ہوں کہ فی الحال ہم لوگ صرف اُس بات پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں جو ہمارے درمیان میں مشترک ہے [اور یہ ویسی ہی دعوت ہے جیسی کہ اہل کتاب کو دی گئی تھی]۔

اور جہاں تک مہدی کے متعلق اُن باتوں کا تعلق ہے جو کہ مشترک ہیں، میری نظر میں وہ "بنیادی اہمیت" کی حامل ہیں، جبکہ جن چیزوں میں فرق ہے، وہ ثانوی چیزیں ہیں۔

مثلا "بنیاد" یہ ہے کہ مہدی نامی ایک خلیفہ ضرور بالضرور امت میں آئے گا جس کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور اسکی نصرت کرنا ہر ہر مسلمان پر فرض ہے۔
باقی یہ بات کہ وہ پیدا ہو چکا ہے، یا پھر پیدا ہو گا، وہ کیسے حکومت کرے گا اور اس کر درجہ کیا ہو گا وغیرہ وغیرہ، یہ ثانوی باتیں ہیں۔

فی الحال اس فورم پر عموما ہمارا رویہ یہی ہے کہ اُن مشترک چیزوں کی اہمیت پر زور دیا جائے کہ جس سے امت میں اتحاد پیدا ہو۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں بحث مہدی کی ان جزئیاتی ثانوی باتوں پر نہیں ہو رہی بلکہ بالکل "جڑ" کا کاٹا جا رہا ہے اور سرے سے عقیدہ ظہور مہدی کا انکار مختلف حیلوں سے کیا جا رہا ہے۔ ان میں پہلا حیلہ مکمل انکار حدیث ہے اور دوسرا حدیث کے من پسند حصے کا اقرار اور ناپسند حصے کا انکار ہے۔

اور آپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اہل تشیع حضرات مفتی شامزئی کی کتاب کا حوالہ نہ دیں۔ تو برادر اس میں دو قباحتیں ہیں:

1۔ مفتی شامزئی کی یہ کتاب بنیادی طور پر مھدی کے متعلق اس "بنیادی جڑ" کے متعلق ہے کہ عقیدہ ظہور مھدی ایک حقیقت ہے [اس میں ثانوی جزئیاتی بحث نہیں کی گئی، اور اسکا ذکر ہے بھی تو اسکا شامزئی صاحب کی بحث کا براہ راست تعلق نہیں]

2۔ اور دوم مسئلہ یہ ہے کہ جس طبقے سے میری اس تھریڈ میں گفتگو ہو رہی ہے یہ وہ طبقہ ہے جو احادیث کا من پسند حصہ قبول کرتا ہے اور ناپسند حصے کا انکار کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ اس طبقے کا تعلق بنیادی طور پر اہلسنت سے ہی ہے اور وہ اپنے لیے اہلسنت کی کتب کو ہی حجت مانتا ہے۔ تو بتائیے کہ ایسے میں اگر میں نے شامزئی صاحب کی کتاب سے انہی پر حجت احادیث کو پیش کر دیا تو کیا غلط کیا؟
ذاکر نائیک صاحب جب ہندووں اور عیسائیوں پر انہی کی کتب سے حجت پیش کریں تو یہ قابل قبول، مگر جب میں ایک نیک مقصد کے لیے یہ کام کروں تو آپ کو اعتراض کیوں ہے برادر؟ کیا میں نے شامزئی صاحب کی کتاب کو کوئی غلط حوالہ پیش کر دیا ہے؟ آپ کو تو مطمئین و خوش رہنا چاہیے کہ صحیح چیز ہی کی ترویج ہو رہی ہے، اس میں اعتراض کیسا؟

چنانچہ آپ سے درخواست ہے کہ آپ کی یہ اینٹری ذرا غلط وقت پر اور غلط جگہ ہو گئی ہے [اور ہو سکتا ہے کہ اس میں ہماری پچھلی پوسٹوں کا بھی کچھ عمل دخل ہو جس میں ایسی باتیں ہو گئی ہوں]۔ بہرحال استدعا یہ ہے کہ ذرا دل بڑا کر کے ان مسائل کو فی الحال نظر انداز فرمائیے۔ شکریہ۔
والسلام۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top