امریکہ اور پاکستان

محمد سعد

محفلین
ایک طرف محمد بن قاسم ایک عورت کی آواز پر سندھ کو روندنے پرائی جگہ سے یہاں آگیا۔
ملک فتح کیا۔ محمود غزنوی نے سترہ حملے کیے۔
آپ یا میں مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت ہے کہ وہ مقامی لوگوں کی نظروں میں غاصب تھے
غیرملکی حملہ آور تھے
دوسری طرف امریکہ بقول ان کے عراق کو صدام کے چنگل سے بچانے کے کیئے عراق پر حملہ آور ہوا۔
دنیا کو محفوظ بنانے کیلیئے افغانستان پر فوج لیے چڑھ دوڑا
ایک کو ھم ہیرو اور دوسرے کو ظالم اور غاصب کہتے ہیں
کیا صرف اس لیئے کہ محمد بن قاسم مسلمان تھا اور مسلمان کو یہ حق ہے کہ جب چاہا کسی بھی ملک کو اسلام کے نام پر تباہ کردیا
کیا یہ کھلا تضاد نہیں
کیا خیال ہے آپ کا

جناب ان تمام واقعات کے سیاق و سباق میں فرق ہے۔ اگر آپ تاریخ کا مطالعہ اچھی طرح سے کر لیں تو معلوم ہوگا کہ حقیقت کیا ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
امریکہ کسی پاکستان یا پاکستانی کا دشمن نہیں ۔۔

تو وہ سرحد پار سے میزائیل مفت میں آتے رہتے ہیں کیا؟ :eek:
اور جو مساجد و مدارس پر فضا سے بم پھینک کر بے شمار بے گناہ لوگوں کو، جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہوتے ہیں، بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسے کیا کہیں گے؟ کیا اس کے باوجود آپ یہ اصرار کرتے ہیں کہ امریکہ ہمارا دشمن نہیں ہے؟
 

محمد سعد

محفلین
ویسے بھی اس دھاگہ پر بات پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی ہو رہی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ظالمان کے کردار اور نظریات پر کسی اور دھاگہ میں بات کئے دیتے ہیں۔

دراصل آج کل طالبان کے متعلق اتنے دھاگے کھلے ہوئے ہیں کہ میں خود ہی بھول گیا تھا کہ یہاں ہونے والی بحث کا مرکزی خیال کیا ہے۔ اس لیے معذرت خواہ ہوں۔
 

محمد سعد

محفلین
سعد میاں آپ نے طالبان کے حق میں جو دلائل دئے ہیں وہ گھسے پٹے دلائل میں گزشتہ سات برسوں سے امریکیوں کو دے رہا ہوں۔ مجھے آپ آج کے ان کے افعال سے مثالیں لا کر دیں۔

ان امریکیوں سے کہہ دو کہ طالبان آج بھی وہی ہیں جو کہ ایک عرصہ پہلے ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب چونکہ امریکی حکومت کو وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ محسوس ہونے لگے ہیں، اس لیے وہ انہیں راہ سے ہٹانے کے درپے ہے۔ اور چونکہ اس طرح کا کوئی حملہ پوری دنیا کو مطمئن کیے بغیر ممکن نہیں تھا، اس لیے اس نے پراپیگنڈے کی طاقت کا استعمال کیا (عراق کے "مہلک ہتھیاروں" کا قصہ تو انہیں آج بھی یاد ہوگا)۔ یہی حقیقت ہے۔ ان سے کہہ دو کہ اگر یقین نہ آئے تو خود آ کر ان کے کردار کا مشاہدہ کر لیں۔ ان شاء اللہ، ان کے تمام شکوے شکایات دور ہو جائیں گے۔
 

محمد سعد

محفلین
خرم بھائی، آپ نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کروں۔ لیکن مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ آپ پاکستان کی تاریخ کے کس پہلو کی جانب میری توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ براہِ مہربانی اپنا سوال تھوڑی وضاحت کے ساتھ لکھیں کہ آپ کو کس چیز پر اعتراض ہے تاکہ جواب دینے میں آسانی ہو۔
 

محمد سعد

محفلین
خرم بھائی، کہیں آپ یہ تو نہیں کہنا چاہتے کہ پاکستان بھی امریکہ کی طرح دس پندرہ ممالک پر چڑھائی کر کے انہیں تباہ کر چکا ہے؟ :-P
 

محمد سعد

محفلین
عارف بھیا، اغیار نے مسلمانوں کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے اس کو آگے بڑھایا اس میں کوئی شک نہیں اور کوئی آپ کو اس کی تقلید کرنے سے نہیں روکتا۔ لیکن اگر آپ کی آرزو یہی ہے کہ ٹیکنالوجی ہی نہیں ہتھیار و اوزار بھی انہی سے مانگیں اور پھر لڑائی بھی انہی سے کریں تو پھر یہ نرم سے نرم لفظوں میں آپکی سادہ لوحی ہی کہی جاسکتی ہے۔

اگر آپ کو معلوم ہو تو پاکستان کے ہتھیاروں کا زیادہ تر حصہ مقامی طور پر ہی تیار ہوتا ہے۔ باقی جو ایسی چیزیں بچ جاتی ہیں جو مقامی طور پر تیار نہیں ہو سکتیں تو ان میں بھی زیادہ تر چین سے حاصل کی جاتی ہیں۔ فرانس اور امریکہ جیسے ممالک کا حصہ تو نہایت ہی مختصر ہے۔
 

مغزل

محفلین
سرکار پڑھنا سیکھ لو :)
امریکہ کسی پاکستان یا پاکستاننی کا دشمن نہیں ۔۔ تم جو امریکہ کے اتنے دشمن ہو تو کیوں اس کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہو؟

اجازت دیجئے تو میں کچھ عرض کروں۔۔کہ۔
یہ تمام تر معاملہ ’’ صارف معاشرہ ‘‘ بنانے کیلئے ہے۔
مزید وضاحت طلب کیجئے گا ۔۔ تو حاضر ہوں۔
 

محمد سعد

محفلین
خرم بھائی! آپ نے شخصیت پرستی کی بات کی ہے تو وضاحت کر دوں کہ شخصیت پرستی مجھے بھی پسند نہیں ہے۔ لیکن چونکہ آپ نے شکایات کا تقاضا کیا تھا اسی لیے یہاں صرف شکایات ہی جمع ہو سکی ہیں۔ ان شکایات کا آپ براہِ مہربانی یہ مطلب نہ سمجھیں کہ ہمارے نزریک امریکہ یا امریکیوں کی ہر بات بری ہے۔ ان کی جو خوبیاں ہیں، ان کی ہم بھی قدر کرتے ہیں۔ لیکن جو بات غلط ہے وہ تو غلط ہے نا۔ برائی کو تو اچھائی نہیں کہا جا سکتا۔
 

خرم

محفلین
سعد بھائی میرا سوال یہ تھا کہ پاکستان کا سیاسی سفر 1948 سے 1950 تک کیا رہا؟ اس میں آپکی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، محلاتی سازشیں، ملکی معاملات میں مسلح افواج کا کردار سب شامل ہیں۔ اس دور کی کوئی تفصیل اگر بیان کرسکیں تو پھر امریکہ کے پاکستان میں کردار پر بھی بات کی جائے۔
باقی بھائی جہاں تک بات ہے ظالمان کی تو ان کے متعلق تو ایک ہی بات کہ تاریخ خود ہر سوال کا جواب دیتی ہے۔ امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی کب اور کس لئے شروع ہوئی اس کا علم آپ کو ہونا ہی چاہئے۔ اس سارے عمل کے دوران تمام کرداروں کے افعال و اقوال کا جائزہ لے لیجئے اور انصاف سے فیصلہ کیجئے گا کہ جب داہر نے قزاقوں کی حوالگی سے انکار کیا تو حجاج نے تین لشکر بھیجے اور بالآخر محمد بن قاسم سندھ فتح کرکے ہمارا ہیرو بنا۔ اسی طرح جب امریکہ نے قاتلوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو انکار کے نتیجہ میں ان سے یہ توقع کیوں کہ وہ چُپکے بیٹھے رہیں؟ انصاف تو سب کے لئے ایک ہی ہوتا ہے۔ اب جب ظالمان کے "دوستوں" نے ان واقعات میں اپنے ملوث‌ہونے کا اقرار بھی کر لیا تو پھر آپ انہیں کیسے حق پر قرار دے سکتے ہیں؟ یہ جتنے بھی خون آپ گنواتے ہیں یہ امریکہ کی نہیں شائد کسی اور کی گردن پر ہیں۔
اور بھیا یہ جو ہتھیاروں کے متعلق آپ نے بات کی نا، یہ درست نہیں ہے۔ ہمیشہ سے پاکستانی فوج، بحریہ، اور فضائیہ تینوں کے پاس بہترین ہتھیار امریکی یا فرانسیسی ساختہ ہی رہا ہے۔ 65 کی جنگ ہو، 71 کی یا افغان جنگ، پاکستان کے دفاع میں امریکی ساختہ ہتھیاروں کا بہت بڑا دخل رہا ہے اور ابھی تک ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو کسی دوسرے دھاگہ میں ہر Armکے ہتھیار اور اس کے دفاعِ پاکستان میں کردار پر بات کر سکتے ہیں۔
 

مغزل

محفلین
خرم صاحب۔ اسی تھریڈ میں بات کرنے میں کیا قباحت ہے ۔۔۔ موضوع تشنہ اور منتبق ہے ۔
یہ اچھی بات نہیں کہ آئیں بائیں کرتے ہوئے الگ تھریڈ کی تجویز پر معاملہ الٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔

میں نےعرض کیا تھا ’’ صارف معاشرہ ‘‘ کے حوالے سے ۔۔
اگر آپ میری بات سے متفق ہیں تو بحث ہی ختم ۔۔ ہمارا موقف صحیح
آپ نے مزید کوئی بات نہیں کی۔۔۔ بات کرنا چاہتے ہیں تو حاضر ہوں۔۔
حکم کیجئے ۔۔۔۔ اور اسی تھریڈ میں۔
 

محمد سعد

محفلین
۔۔۔انصاف سے فیصلہ کیجئے گا کہ جب داہر نے قزاقوں کی حوالگی سے انکار کیا تو حجاج نے تین لشکر بھیجے اور بالآخر محمد بن قاسم سندھ فتح کرکے ہمارا ہیرو بنا۔ اسی طرح جب امریکہ نے قاتلوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو انکار کے نتیجہ میں ان سے یہ توقع کیوں کہ وہ چُپکے بیٹھے رہیں؟ انصاف تو سب کے لئے ایک ہی ہوتا ہے۔ اب جب ظالمان کے "دوستوں" نے ان واقعات میں اپنے ملوث‌ہونے کا اقرار بھی کر لیا تو پھر آپ انہیں کیسے حق پر قرار دے سکتے ہیں؟

اس اعتراض کے جواب کے لیے تاریخ کا تھوڑا سا حوالہ دینا ضروری ہوگا۔ دیکھو بھائی، جہاں تک داہر کی بات ہے تو وہ ایک طویل عرصے سے قزاقوں کی اعلانیہ سرپرستی کر رہا تھا اور وہاں سے گزرنے والے قافلے بڑی مدت سے ان لٹیروں کا نشانہ بن رہے تھے۔ تو ایسی صورتحال میں قزاقوں کا خاتمہ کرنے کے لیے داہر کی طاقت ختم کرنا ضروری تھا۔ اور آپ نے اگر تاریخ کا مطالعہ کیا ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ محمد بن قاسم نے کوئی بھی علاقہ فتح کرنے کے بعد امریکی افواج کی طرح وہاں کے لوگوں کا جینا حرام نہیں کیے رکھا۔ وہاں کے لوگوں کو ان کے تمام حقوق دیے گئے اور یہی وجہ تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ مسلمانوں کی اخلاقی خوبیوں کے باعث مسلمان ہوئے۔
اب آتے ہیں امریکہ کی طرف۔ پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر حملہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد فوراً ہی اعلان کر دیا جاتا ہے کہ اس میں اسامہ بن لادن ملوث ہے۔ اور ایسے الٹے سیدھے "ثبوت" پیش کیے جاتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے کہ کیا یہ بھی ممکن ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تحقیقات کا حتمی نتیجہ ایک دو دنوں میں ہی آ جاتا ہے۔ اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یہ تحقیقات کرنے والے وہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے عراق پر مہلک ہتھیاروں کا الزام لگایا تھا۔
اب اسامہ بن لادن پہلے تو گرفتاری سے انکار کرتا ہے لیکن پھر بعد میں راضی ہو جاتا ہے۔ اب حق تو یہ تھا کہ جب وہ گرفتاری کے لیے راضی ہو گیا تو اس کے ملک کو چھوڑ دو۔ لیکن امریکہ پھر بھی افغانستان پر حملے کی تیاریاں جاری رکھتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ صدام حسین کی جب باری آئی تھی تو وہ فوراً ہی گرفتاری کے لیے راضی ہو گیا تھا لیکن امریکہ نے پھر بھی عراق پر حملہ کیا۔ تو بہرحال دونوں فریق جنگ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور کچھ ہی عرصے میں جنگ شروع ہو جاتی ہے۔
کیا اب بھی آپ کہیں گے کہ دونوں واقعات بالکل ایک جیسے ہیں؟
 

محمد سعد

محفلین
اور بھیا یہ جو ہتھیاروں کے متعلق آپ نے بات کی نا، یہ درست نہیں ہے۔ ہمیشہ سے پاکستانی فوج، بحریہ، اور فضائیہ تینوں کے پاس بہترین ہتھیار امریکی یا فرانسیسی ساختہ ہی رہا ہے۔ 65 کی جنگ ہو، 71 کی یا افغان جنگ، پاکستان کے دفاع میں امریکی ساختہ ہتھیاروں کا بہت بڑا دخل رہا ہے اور ابھی تک ہے۔۔۔

جناب 65ء کی جنگ کو اب تک 43 سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران پاکستان نہ صرف بری، بلکہ بحری اور فضائی ہتھیار سازی میں بھی کافی حد تک خود کفیل ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ اب طیارے، آبدوزیں اور کروز میزائیل تک مقامی طور پر تیار ہونے لگے ہیں۔ اب اگر آپ توجہ نہیں دیتے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟
 

محمد سعد

محفلین
خرم بھائی، جہاں تک گیارہ ستمبر کے واقعات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں امریکہ میں ہی کئی ایسی ڈاکیومنٹری فلمیں بن چکی ہیں کہ جن میں امریکی حکومت کے مؤقف کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک ڈاکیومنٹری "جیو" چینل پر ایک بار "کھوٹے سکے" کے عنوان سے دکھائی جا چکی ہے۔
کبھی جی چاہے تو دیکھ لینا۔
 

خرم

محفلین
مغل بھیا بات کہاں پلٹانی ہے۔ صارف معاشرہ سے آپکی مثال Consumer Market ہے کیا؟
سعد بھیا، اسامہ کب گرفتاری کے لئے تیار ہوا تھا؟ اور صدام کب گرفتاری کے لئے تیار ہوا تھا؟ اس معاملہ میں کوئی ثبوت؟ جہاں تک گیارہ ستمبر میں اسامہ کے ملوث ہونے کی بات ہے، اب جب اس کی تنظیم نے خود اقرار کر لیا، آپ پھر بھی کہیں گے کہ امریکی کیسے دو دنوں میں اس نتیجہ پر پہنچ گئے؟ اگر وہ درست نتیجہ پر پہنچ گئے تھے تو آپ کو اس سےکیا غرض کہ وہ دو دن میں وہاں پہنچے یا دو برس میں؟ آپ تو یہ سوچئے کہ ایک جھوٹے پر اعتبار کرکے مسلمانوں کو مروایا گیا۔ اور جہاں تک قزاقوں‌کی سرپرستی کا سوال ہے، افغانستان کے طالبان کیا قاتلوں کو پناہ نہیں دیتے تھے؟ ریاض بسرا کا نام تو سُنا ہی ہوگا آپ نے۔
آپ نے کروز میزائلوں کی اور دوسری چیزوں کی بات کی، لگتا ہے کہ آپ کا مطالعہ صرف اخباری بڑھکوں تک محدود ہے۔ کبھی کسی ایسے بندے سے بات کیجئے گا جو ان ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث رہا ہو۔ اور نہیں تو کبھی "غوری" میزائل کی بابت ہی سرچ کر لیجئے گا۔
اور بات پھر وہی کہ میرا سوال ہنوز تشنہ ہے۔ آخر ہم پاکستانیوں کو اپنے ملک کے سوا دنیا کے ہر ملک کی تاریخ سے دلچسپی کیوں ہوتی ہے؟ بڑا دلچسپ سوال ہے لیکن جواب نہیں آئے گا کیونکہ ہم من الحیث القوم ہی شرمندہ ہیں اپنے آپ سے اور اپنے اردگرد بسنے والی تمام دُنیا سے۔ اسی لئے تو اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی بجائے دوسروں پر الزام تراشی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس میدان میں ہمارا مقابلہ شائد ہی کوئی اور کر سکے۔:)
 

محمد سعد

محفلین
جہاں تک گیارہ ستمبر میں اسامہ کے ملوث ہونے کی بات ہے، اب جب اس کی تنظیم نے خود اقرار کر لیا، آپ پھر بھی کہیں گے کہ امریکی کیسے دو دنوں میں اس نتیجہ پر پہنچ گئے؟ اگر وہ درست نتیجہ پر پہنچ گئے تھے تو آپ کو اس سےکیا غرض کہ وہ دو دن میں وہاں پہنچے یا دو برس میں؟

اتنے کم عرصے میں نتیجہ آنے پر شک اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اگر ہم یہ بات دھیان میں رکھیں کہ حملے سے پہلے امریکیوں کو اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا تو لازماً اس میں اس سے کہیں زیادہ عرصہ لگنا چاہیے تھا۔ کیونکہ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ واقعی وہی لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں کہ جن پر وہ الزام عائد کرتے ہیں تو وہ انہیں روکنے کا انتظام کیوں نہ کرتے؟ آپ خود سوچیں کہ طیارے میں ہتھیار پہنچانا کتنا مشکل کام ہوگا۔
اور میں نے ایک ویڈیو دیکھی بھی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ اسامہ بن لادن کے اقرار کی ویڈیو ہے۔ اس میں مجھے کوئی بھی ایسی بات نظر نہیں آئی کہ میں اس پر یقین کر لیتا۔ آپ بھی اگر غور کریں تو شاید آپ کو وہ خامیاں نظر آ جائیں۔
اور ایک اور بات۔ یہ کہا جاتا ہے کہ پینٹاگان پر حملہ بھی طیارے سے کیا گیا تھا جبکہ دھماکے کی نوعیت سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ کوئی مسافر بردار طیارہ نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کچھ تصاویر ڈھونڈ سکیں تو شاید آپ کو بھی یہ بات سمجھ میں آ جائے۔
 

محمد سعد

محفلین
اور بات پھر وہی کہ میرا سوال ہنوز تشنہ ہے۔ آخر ہم پاکستانیوں کو اپنے ملک کے سوا دنیا کے ہر ملک کی تاریخ سے دلچسپی کیوں ہوتی ہے؟ بڑا دلچسپ سوال ہے لیکن جواب نہیں آئے گا کیونکہ ہم من الحیث القوم ہی شرمندہ ہیں اپنے آپ سے اور اپنے اردگرد بسنے والی تمام دُنیا سے۔ اسی لئے تو اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی بجائے دوسروں پر الزام تراشی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس میدان میں ہمارا مقابلہ شائد ہی کوئی اور کر سکے۔:)

اصل میں آپ کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ پاکستانیوں کو اپنے علاوہ ہر ایک کی تاریخ میں دلچسپی ہوتی ہے۔ پاکستانیوں کو دوسروں سے کہیں زیادہ اپنی تاریخ میں دلچسپی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں، شکایات کے مطالبے پر پھول نہیں جھڑا کرتے۔ :-P
اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاکستانیوں کو امریکہ کے بارے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے تو اس کا جواب سادہ سا ہے کہ امریکہ چونکہ ہمارے اندرونی معاملات میں سب سے زیادہ دخل اندازی کرتا ہے تو اس لیے لوگوں کو فطری طور پر دیگر بہت سے ممالک کی نسبت امریکہ کے بارے میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔
 

خرم

محفلین
پیارے بھائی اگر دلچسپی ہے تو پھر میرے سوال کا جواب تو دیجئے نا۔ بات امریکہ سے نکل کر ظالمان سے ہوتی ہوئی کہاں کی کہاں پہنچ گئی لیکن ابھی تک 1948 سے 1950 تک کا سوال تشنہ ہے۔ باقی رہی آپکی بات کہ طیارے سے ایسا دھماکہ کیسے ہوا، کیا آپ کو پتہ ہے کہ طیارے کا ایندھن کس قدر خالص ہوتا ہے اور ایک مسافر بردار طیارہ میں کسقدر ایندھن ہوتا ہے، طیارہ کی رفتار کیا ہوتی ہے اور اس رفتار سے جب یہ کسی عمارت سے ٹکرائے تو اس کا اسراع اور اس کے ایندھن کا یکدم آگ پکڑنا کیا اثرات دکھاتا ہے؟
خیر یہ سب تو چھوڑئیے کیوں نہ ہم صرف پاکستان کی بات کریں کچھ عرصہ کے لئے۔ 1948 سے نکلتے ہیں 2001 تک آنے میں تو ابھی بہت عرصہ باقی ہے۔
باقی آپ کے اعتراض کا جواب تو یہ کہ جب پہلے بھی اسامہ ان ٹاورز کو گرانے کے منصوبہ میں ملوث تھاتو بعد میں بھی پہلا شک اسی پر جانا تھا۔ اس میں اچھنبا کیسا؟
 

محمد وارث

لائبریرین
میرا سوال سمجھ لیں یا کچھ اور، بھئی یہ جو امریکن گورنمنٹس کی پالیسی ہوتی ہے ڈکٹیٹرز کے متعلق

"he may be a son of a bitch, but he's our son of a bitch" یہ کیا ہے ;)
 
Top