اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ؟

ابوعبید

محفلین
جاسم بھائی کی باتوں سے ایک لطیفہ یاد آیا
ایک صاحب کو شادیوں میں مفت کھانا کھانے کا شوق تھا ۔ وہ جہاں کہیں بھی شادیانے بجتے ہوئے دیکھتے وہاں پہنچ جاتے اور تین چار حاضرین کو مخاطب کر کے جیب سے لیموں نکالتے اور اس کے فوائد گنوانا شروع کر دیتے ۔ حاضرین چار و ناچار انہیں کھانے کی دعوت دیتے تو یہ صاحب یہ کہہ کر کھانے میں شامل ہو جاتے کہ " دیکھیں جی دانے دانے پہ کھانے والے کی مہر لگی ہوتی ہے "
ایک دفعہ اتفاق سے اس ساری کاروائی کے چشم دید گواہ بھی ایسی ہی اک شادی میں تھے جہاں یہ صاحب لیموں لے کر پہنچ گئے ۔ وہ صاحب حسب معمول کاروائی میں مصروف رہے اور جب کھانے کی دعوت ملی تو کہنے لگے کہ دیکھیں جی دانے دانے پہ کھانے والے کی مہر ہوتی ہے ۔
چشم دید گواہ سے رہا نہ گیا اور جل کر بولے
" بھائی مہر تو آپ نے جیب میں رکھی ہوئی ہے ۔ جہاں دل کرتا ہے وہاں لے کر پہنچ جاتے ہیں " :D

اسرائیل کی حمایت کی وجہ جاننے کے لیے بھی لیموں کے فوائد پڑھیں انشاء اللہ خاطرخواه کامیابی ملے گی :)
 
مراد اسرائیل کو نہ ماننے والے ہیں۔۔۔
آئی بات عقل شریف میں۔۔۔
عدنان بھائی بنیں۔۔۔
لگائی بجھائی والی اماں نہ بنیں!!!
:sad::sad::sad:
آپ گھبرا کیوں رہے ہیں ،
کوئی بات نہیں غلطی سے کہا دیا آپ نے،
معذرت کرلیں ۔تدوین کر کے الفاط واپس لے لیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
جتنے یہودی بھائی ہیں وہ دنیا میں کہیں بھی سکون سے رہ سکتے ہیں. مثلاً برطانیہ جرمنی روس، اور جہاں جہاں سے وہ تشریف لائے تھے
متفق۔ یہ دو انتہاؤں میں ایک متوازن موقف ہے اور میں اس کی بھرپور تائید کرتا ہوں۔
اسرائیل کا وجود رہے نہ رہے۔ فلسطین آزاد و خودمختار ریاست بن پائے یا نہیں۔ کوئی بھی صورت خطے میں آباد کسی بھی قوم کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔
 

جاسم محمد

محفلین
کیا اس اسرائیل سے محبت کی پینگیں بڑھائی جائیں جو ہمیں تباہ کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ کھڑا ہے؟؟؟
پاکستان بھارت سے تین بڑی جنگیں لڑ چکا ہے۔ کشمیر کے محاذ پر آئے روز گولہ باری ہوتی رہتی ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف تباہی اور اموات معمول بن چکا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نہ صرف ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ سفارتی تعلقات بھی بحال رکھے ہوئے ہیں۔ ایک حد تک تجارت بھی کر لیتے ہیں۔ اور کھیل و ثقافت کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔
اسرائیل سے ایسی کیا دشمنی ہے جو بھارت سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی خاص وجہ؟ :)
بہت سی وجوہات ہیں:
  • اسرائیل کی پاکستانی جوہری اثاثوں سے متعلق خوف و تشویش ختم ہو جائے گی
  • پاکستان سے سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد اسرائیل کو بھارت سے دفاعی پینگیں بڑھانے کی ضرورت نہ رہے گی
  • اسرائیل اور پاکستان کے مابین سائنس و ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن ہو سکے جس سے پاکستان کی پیداوار بڑھے گی
  • پاکستانی شہری با آسانی تیسرا بڑا اسلامی مقام مقدسہ بیت المقدس اور اسرائیلی سیاح پاکستان کی سیر کر سکیں گے جس سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا
  • اسرائیلی دباؤ پر امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر سے معاشی پابندیاں ختم کر دیں گے
 

جاسم محمد

محفلین
اسرائیل کی حمایت کی وجہ جاننے کے لیے بھی لیموں کے فوائد پڑھیں انشاء اللہ خاطرخواه کامیابی ملے گی :)
اسرائیل کے ہمسایہ ممالک کوئی کم مسلمان نہیں ہیں۔ اسرائیلیوں کے خلاف تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اور ایک میں جیتے بھی ہیں۔
اس کے باوجود جب وہ اسرائیل کو تسلیم کر کے امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو یہاں ہزاروں میل دور پاکستانیوں کو نہ جانے کونسا جذبہ مجبور کرتا ہے کہ وہ ہمسائے تو ہمسائے دور دراز کی اقوام کے ساتھ بھی حالت جنگ میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں:)
 

جاسم محمد

محفلین
غالبا اس کا حوالہ دیا تھا۔
Capture.jpg
 

فرقان احمد

محفلین
بہت سی وجوہات ہیں:
  • اسرائیل کی پاکستانی جوہری اثاثوں سے متعلق خوف و تشویش ختم ہو جائے گی
  • پاکستان سے سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد اسرائیل کو بھارت سے دفاعی پینگیں بڑھانے کی ضرورت نہ رہے گی
  • اسرائیل اور پاکستان کے مابین سائنس و ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن ہو سکے جس سے پاکستان کی پیداوار بڑھے گی
  • پاکستانی شہری با آسانی تیسرا بڑا اسلامی مقام مقدسہ بیت المقدس اور اسرائیلی سیاح پاکستان کی سیر کر سکیں گے جس سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا
  • اسرائیلی دباؤ پر امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر سے معاشی پابندیاں ختم کر دیں گے
ذرا اسرائیل کی جگہ امریکا لکھ کر اپنا مراسلہ دوبارہ ملاحظہ فرمائیے۔ امریکا کو ہم تسلیم کرتے ہیں۔ کیا امریکا کی 'تشویش' ختم ہو چکی ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے ۔۔۔! اور مزید نکات کا بھی اسی طرح سے جواب دیا جا سکتا ہے جس سے مراسلہ طویل ہو جائے گا اور بحث طویل تر ۔۔۔! :) دراصل، پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو لمحہء موجود میں تسلیم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے جب کہ اسرائیل کا پاکستان سے یہ براہ راست تقاضا بھی نہ ہے۔ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کا کیا فائدہ؟ ایک جانب بقول آپ کے، اسرائیل ہمسایہ ملک ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف 'سازشوں' میں مصروف کار ہے اور دوسری جانب آپ تقاضا کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے۔ بات سمجھ سے بالا تر ہے ویسے ۔۔۔ !
 

فرقان احمد

محفلین
ویسے ہمارے خیال میں، ابھی اس آئیڈیا کو مختلف مسلم ممالک میں 'فلوٹ' کیا جا رہا ہے۔ اس پر بحث مباحثہ شروع کرنے والے افراد کلیدی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ ان پر کون نظر رکھے گا، شبیر یا دِیا ۔۔۔ سوچنے کی بات ہے ۔۔۔۔! :) :) :)
 

جاسم محمد

محفلین
ایک جانب بقول آپ کے، اسرائیل ہمسایہ ملک ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف 'سازشوں' میں مصروف کار ہے اور دوسری جانب آپ تقاضا کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے۔ بات سمجھ سے بالا تر ہے ویسے ۔۔۔ !
تسلیم کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ پہلے کم از کم اعتماد کی فضا تو بحال ہو۔
اسی دھاگے میں دیکھ لیں عام عوام کے اسرائیلیوں سے متعلق کیا جذبات، احساسات ہیں۔ یقینا یہی رویہ اسرائیلیوں کا پاکستانیوں سے متعلق ہوگا۔ کیونکہ دونوں ممالک کے مابین کسی بھی سطح پرتعلقات و روابط تو ہیں نہیں۔ جس کا فائدہ دشمن مودی سرکار نے کیا خوب اٹھایا۔ جلتی پر تیل پھینکتے ہوئے جدید اسرائیلی جنگی سازوسامان سے لیس ہوکر پاکستان پر چڑھ دوڑا۔
یہی اگر پاکستان اور اسرائیل قریب ہوتے تو بھارت کسی صورت اس طرح اسرائیل کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کر سکتا۔ مگر جہاں خارجہ پالیسی وزارت خارجہ کی بجائے جی ایچ کیو میں بنتی ہو۔ وہاں کسی بڑی تبدیلی کی امید فی الحال تو نہیں ہے :)
 
Top