ٹیکسلا میوزیم اور دھرماراجیکا اسٹوپا کی سیر

گو اس زمرے کو استعمال کرتے ہوئے میں یہ کتھا پیش کر رہا ہوں ورنہ یہ سارا ’سفر نامہ‘ دو گھنٹے سے بھی کم وقت پر محیط ہے۔ :)

ہوا یہ کہ مجھے ایک درمیانے سے ’صاحب‘ (یعنی نا چھوٹا افسر نا بڑا افسر ) سے ملنے اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں جانا تھا۔ لگ بھگ گیارہ بجے انھیں کال کیا تو وہ کہنے لگے ’میں تو آج ٹیکسلا آیا ہوا ہوں اور سارا دن یہیں گزرنا ہے، آپ چاہیں تو مجھے یہیں مل سکتے ہیں‘۔ یہ سن کر میرا تو وہ حال ہوا جو کسی بلی کے بھاگوں وغیرہ کا کس محاورے میں ذکر ہے۔ ان کا موجودہ محل وقوع جانا تو علم ہوا کہ صاحب |UET ٹیکسلا میں دن بِتا رہے ہیں۔

کچھ ہی دیر میں اپنے ایک عزیز کے ساتھ وہاں جا پہنچا اور ان سے ملاقات کر لی۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد واپسی شروع ہوئی تو راستے میں ٹیکسلا میوزیم کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنے اس عزیز سے پوچھا کہ ’کیا اس نے میوزیم دیکھ رکھا ہے‘، بولے ’نہیں۔۔ یا شاید کہیں بچپن میں دیکھا ہو‘۔ پھر پوچھا ’ اگر وقت ہے تو پھر سے دیکھ لیں‘ ۔۔ بولے، ’دیکھ لیتے ہیں‘۔ اور ہم نے وہیں رک جانے کا فیصلہ کیا۔ موٹر سائیکل سٹینڈ پر لگائی اور اندر جا گھسے۔

اندر جاتے ہی بائیں ہاتھ ٹکٹ گھر ہے۔ دو ٹکٹ مانگے اور مالیت پوچھی۔ جواب آیا 40 روپے۔ میز پر رقم رکھی، ٹکٹ اٹھائے اور آگے نکل لیے۔ سامنے یہ عمارت موجود تھی۔
5446242751_b3b36be333_b.jpg
گوگل امیج

اندر داخل ہوئے تو دائیں طرف ایک صحتمند خاتون کرسی پر بیٹھی دکھائی دیں۔ ان کے پاس سے گزر کر تین چار قدم ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ مقامی لب و لہجے میں آواز آئی ’ ٹِکُٹ کِیندے نیں!‘ ۔۔ میں نے جواب دیا ’جی آ‘۔ جواباً بولیں ’ماں تکاؤ دا‘۔۔ ہم نے جھٹ واسکٹ کی جیب سے نکال کر حوالے کیے۔ انھوں نے بغیر دیکھے انھیں تقریباً درمیان سے پھاڑا اور پھر سے ہمارے ہاتھ میں تھما دئیے۔ ہم دوبارہ سے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگ گئے۔

کوئی دو سال قبل آخری چکر لگا تھا تو یہ علم ہوا کہ میوزیم کے اندر تصویر بنانا منع ہے۔ اس بار اندر گھومتے پھرتے لوگوں کو سامنے سمٹ بھی اور چوری چھپے بھی تصاویر بناتے دیکھا تو کچھ دیر تو سوچتا اور گھومتا ہی رہا کہ بناؤں یا نہ بناؤں ۔۔۔۔ لیکن پھر ایک طرف کا چکر کاٹ کر واپس اسی خاتون کے قریب پہنچے تو دریافت کیا ’فوٹو کِھچ سکنے آں‘ تو بولیں۔۔۔ اُنج تے جازت نئی، پر چَمُک (فلیش) بند کر کے تے آواز بند کر کے پاویں بنا کینو‘ ۔۔ اس وقت تک آدھے سے زیادہ میوزیم گھوم چکے تھے سو جو بنا پائے وہ حاضر خدمت ہیں۔ :)
 
چوہدری جی اگر ہر تصویر کے ساتھ تھوڑی معلومات بھی دیتے جائیں تو کیا ہی اچھی بات ہوگی ۔ہمارے علم میں ان کی قیمتی ہونے کی وجہ بھی سمجھ آجائے گی ۔
تمام آلات، برتن، مورتیاں وغیرہ قبل از مسیح سے لیکر 3 سے 5 سو سال بعد از مسیح تک کے وقت کی ہیں۔ مزید باریک چھان بین کے لیے پھر کسی دن چکر لگانا پڑے گا۔
 
جو آدھے سے زیادہ میوزیم کیمرے کی دسترس سے بچ گیا اسے کسی اور دن پر موقوف کیا کہ ارادہ ایک نزدیکی کھنڈر تک جانے کا تھا۔ باہر نکلے تو ایک تصویر اور بنائی۔میوزیم ایک وسیع وعریض باغ میں بنا ہوا ہے، نہایت پرسکون اور آرام دہ جگہ ہے۔ جگہ جگہ بینچ لگے ہوئے اور دل چاہ رہا تھا کہ یہاں کچھ دیر مزید قیام کیا جائے اور اس خاموشی کو مزید اندر اتارا جائے لیکن ’ سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں‘ ۔۔۔ سو باہر نکلتے ہی بنی۔

20190225-140539.jpg
 
سٹینڈ سے موٹر سائیکل نکالی اور عزیز سے پوچھا کہ ایک دو جگہ اور گھوم لیں۔ ان کی طرح سے اثبات میں جواب ملا تو دھرماراجیکا اسٹوپا کی طرف دھیان گیا جو میوزیم سے بمشکل دو سوا دو کلومیٹر ہے۔
56.jpg


میوزیم سے باہر نکلیں تو بائیں ہاتھ ’بِھڑ ماؤنڈ‘ نامی کھنڈرات ہیں۔ کیونکہ بچپن میں ہم یہاں بے شمار کرکٹ میچ کھیل چکے تھے سو اسے فہرست سے نکال باہر کیا کہ اس کا چپہ چپہ ہم نے چھان رکھا تھا۔
612664395a40232133447d33247d383337373334323033

%27By_%40ibneAzhar%27-Bhir_Mound_-2000_yr_Old_1st_City_of_Taxila-Pakistan_%2821%29.JPG
گوگل امیج
 

زیک

مسافر
کوئی دو سال قبل آخری چکر لگا تھا تو یہ علم ہوا کہ میوزیم کے اندر تصویر بنانا منع ہے۔ اس بار اندر گھومتے پھرتے لوگوں کو سامنے سمٹ بھی اور چوری چھپے بھی تصاویر بناتے دیکھا تو کچھ دیر تو سوچتا اور گھومتا ہی رہا کہ بناؤں یا نہ بناؤں ۔۔۔۔ لیکن پھر ایک طرف کا چکر کاٹ کر واپس اسی خاتون کے قریب پہنچے تو دریافت کیا ’فوٹو کِھچ سکنے آں‘ تو بولیں۔۔۔ اُنج تے جازت نئی، پر چَمُک (فلیش) بند کر کے تے آواز بند کر کے پاویں بنا کینو‘ ۔۔ اس وقت تک آدھے سے زیادہ میوزیم گھوم چکے تھے سو جو بنا پائے وہ حاضر خدمت ہیں
جب آخری بار میوزیم گیا تھا تو جگہ جگہ لکھا تھا کہ تصویر بنانا منع ہے لیکن میوزیم ہی کا ایک کارندہ ادھر ادھر دیکھ کر کہ کوئی بڑا دیکھ تو نہیں رہا مجھے مشورہ دے رہا تھا کہ تصویر لے لوں
 

جاسم محمد

محفلین
میوزیم سے باہر نکلیں تو بائیں ہاتھ ’بِھڑ ماؤنڈ‘ نامی کھنڈرات ہیں۔ کیونکہ بچپن میں ہم یہاں بے شمار کرکٹ میچ کھیل چکے تھے سو اسے فہرست سے نکال باہر کیا کہ اس کا چپہ چپہ ہم نے چھان رکھا تھا۔
یہ کھنڈرات کسی زمانہ میں بدھمت کے علم و معرفت کے مراکز ہوتے تھے۔ خیر آپ کرکٹ کھیلیں :)
 

جاسم محمد

محفلین
جب آخری بار میوزیم گیا تھا تو جگہ جگہ لکھا تھا کہ تصویر بنانا منع ہے لیکن میوزیم ہی کا ایک کارندہ ادھر ادھر دیکھ کر کہ کوئی بڑا دیکھ تو نہیں رہا مجھے مشورہ دے رہا تھا کہ تصویر لے لوں
کرپشن قوم کے رگ رگ میں رچ بس گئی ہے۔ فیصل مسجد اسلام آباد میں ایک بار ایسا ہی واقعہ میرے ساتھ ہو چکا ہے۔
 
یونیورسٹی کی بھی سیر کرا دیتے۔ وہاں گئے پندرہ بیس سال گزرے
یونیورسٹی نے تبدیلی کے ساتھ ملکر آجکل میرے سمیت بہت سوں کے گوڈے گٹے لوائے ہوئے ہیں، ہر دوسرے تیسرے ہفتے چکر لگانا پڑتا ہے۔ اب تو ماشاءاللہ سے بہت سی نئی عمارات، انٹرینس گیٹ اور مکمل چار دیواری بن چکی ہے۔ امید ہے کہ اگلے ہفتے پھر چکر لگ جائے گا۔ تفصیل سے تصویر کشی کا وقت نکالوں گا، انشااللہ۔
 
پھر سے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور دھرماراجیکا کی طرف چل پڑے۔ یہ سڑک کچھ آگے حساس علاقے کی طرف جاتی ہے تو یہاں پبلک ٹرانسپورٹ نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ خالم خالی سڑک، فروری کی سنہری روپہلی دھوپ کی تپش، سہ پہر کا وقت، اردگرد ہر طرف سبزہ ہی سبزہ، فاصلے پر بنے ہوئے چھوٹے بڑے مکانات اور ہلکی ہلکی ہوا۔ مزا ہی آ گیا۔ موٹر سائیکل بالکل آہستہ آہستہ چلاتے 5، 6 منٹ میں دھرماراجیکا اسٹوپا کے بورڈ کے پاس جا بریک لگائی۔

اسٹوپا سڑک سے کچھ دور ہے اور موٹر سائیکل یا گاڑی وہاں تک نہیں لےجائی جا سکتی سو وہیں دروازے کے پاس موٹر سائیکل کھڑا کیا اور ایک گیٹ سے اندر کی طرف ہو لیے۔ اندر اسٹوپا تک جانے کی لیے کنکریٹ کا فٹ پاتھ بنا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے آگے بڑھتے گئے، پہلے کچھ سیڑھیاں جو پہاڑی پتھر کو تراش کر ٹائلز کی صورت تھیں، نیچے کی طرف لے گئیں اور پھر ہر پانچ سات قدم کے بعد 45کے زاویے پر بل کھاتی 8، 10 سیڑھیاں۔ میں نے گننا شروع کر دیں، 88 نکلی۔ آخری سیڑھی کے پاس ایک نوجوان ہاتھ میں رسید بک ٹائپ کچھ پکڑے ہمارا ہی منتظر تھا۔ سمجھ گئے کہ یہاں بھی ٹِکُٹ لینا پڑے گا۔ پھر سے 40 روپے دئیے اور آخری سیڑھی سے اسٹوپا کی نسبتاً ہموار سطح پر قدم رکھا۔
Picture1.jpg
 
Top