وزیراعظم نےاکانومک ایڈوائزری کونسل قائم کر دی: معروف ماہر اقتصادیات عاطف میاں کونسل کا حصہ ہوں گے

جاسم محمد

محفلین
دین کے معاملے میں مسلمان اسلام کے مقابل اگر کسی مرتد یا کافر کا ساتھ دیں تو ایسے مسلمان پر لخ دی لعنت وہ تو خود ہی مرتد ہوگئے -
کاش یہ لکھنے سے قبل استعفیٰ دینے والے ماہرین کی بیان فرمودہ وجوہات پڑھ لیتے۔ کسی ایک نے بھی اسے دینی و مذہبی مسئلہ نہیں بنایا۔ بلکہ جس طور طریقہ اور انداز سے عین میرٹ پر بھرتی ڈاکٹر عاطف میاں کو عہدہ سے ہٹایا گیا۔ اس کے خلاف احتجاجا استعفیٰ دیا ہے۔
ماہرین کے نزدیک ڈاکٹر عاطف میاں کی علمی قابلیت کسی شک و شبہ کا شکار نہیں۔ بلکہ وہ 18 رکنی مشاورتی کونسل میں سب سے قابل ترین شخصیت تھے۔
 
آخری تدوین:
کاش یہ لکھنے سے قبل استعفیٰ دینے ماہرین کی بیان فرمودہ وجوہات پڑھ لیتے۔ کسی ایک نے بھی اسے دینی و مذہبی مسئلہ نہیں بنایا۔ بلکہ جس طور طریقہ اور انداز سے عین میرٹ پر بھرتی ڈاکٹر عاطف میاں کو عہدہ سے ہٹایا گیا۔ اس کے خلاف احتجاجا استعفیٰ دیا ہے۔ ماہرین کے نزدیک ڈاکٹر عاطف میاں کی علمی قابلیت کسی شک و شبہ کا شکار نہیں۔ بلکہ وہ 18 رکنی مشاورتی کونسل میں سب سے قابل ترین شخصیت تھے۔
قابلیت تو اتنی تھی کہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوگیا۔ باقی کسی مرتد کے لیئے کوئی نرم گوشہ نہ ہے نہ ہوگا۔

الحب للہ و الکرہ للہ
 

جاسم محمد

محفلین
قابلیت تو اتنی تھی کہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوگیا۔
کسی شخص کی پروفیشنل قابلیت کا اس کے مذہبی رجحان سے کیا تعلق ہے؟ مغربی ممالک جو پاکستان سے کہیں آگے ہیں کو یہودی، مسیحی، یہاں تک کہ بے دین دہریہ ایکسپرٹس چلا رہے ہیں۔
 
کسی شخص کی پروفیشنل قابلیت کا اس کے مذہبی رجحان سے کیا تعلق ہے؟ مغربی ممالک جو پاکستان سے کہیں آگے ہیں کو یہودی، مسیحی، یہاں تک کہ بے دین دہریہ ایکسپرٹس چلا رہے ہیں۔
Qunoot.jpg


Dua-Qunoot-Urdu-Hindi-Tarjuma.gif


ہم یہ وعدہ ہر روز کرتے ہیں۔ آپ ہمیں اس سے آزاد کروا کر کہاں بھیجنا چاہتے ہیں۔ جن کی مثال آپ دے رہے ہیں ان کے لیئے ان کا دین کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن ہم اپنے دین کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ کچھ بھی نہیں​
 

جاسم محمد

محفلین
جن کی مثال آپ دے رہے ہیں ان کے لیئے ان کا دین کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن ہم اپنے دین کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ کچھ بھی نہیں
آپ درست کہہ رہے ہیں۔ قوم نے پروفیشنل علمی قابلیت کو چھوڑ کر دین کو ترجیح دی ہے۔ آنے والے حالات ثابت کر دیں گے یہ فیصلہ ملک کی بقا کیلئے کتنا سود مند تھا۔
 

اے خان

محفلین
آپ درست کہہ رہے ہیں۔ قوم نے پروفیشنل علمی قابلیت کو چھوڑ کر دین کو ترجیح دی ہے۔ آنے والے حالات ثابت کر دیں گے یہ فیصلہ ملک کی بقا کیلئے کتنا سود مند تھا۔
مجھے تو پاکستان اب ملک نہیں ایک یتیم خانہ لگ رہا ہے.
 

جاسم محمد

محفلین
ذرا سوچو اگر بل گیٹس اور اسٹیو جابز ہمارے ہاں ہوتے تو کیا ہم ان کے خیال پر انکو پاگل قرار نہ دیتے؟
اور ایسا ہی ہوا۔ اس قوم کی بدقسمتی کہہ لیں یا قادیانیوں کی خوش قسمتی۔ عالمی شہرت کے حامل پاکستانی دانشور ہمیشہ قادیانی نکل آتے ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان، ڈاکٹر عبدالسلام اور اب ڈاکٹر عاطف میاں۔وہ تو اللہ بھلا کرے مفکر پاکستان سر علامہ محمد اقبال کا کہ انہوں نے اپنی وفات سے کچھ سال قبل قادیانیت پر چند حرف بھیج کر توبہ کر لی۔ وگرنہ ان بھی آج قوم نے وہی حال کرنا تھا جو دیگر کا کر رہے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
آپ کے لیئے تبصرہ بند کرنے کے لیئے کسی دین بیزار کی بات حجت ہے ۔ جبکہ ہمارے لیئے انکی حیثیت کچھ بھی نہیں
قائدتحریک انصاف اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان الیکشن سے پہلے: ہم ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں دوسرے ملکوں سے لوگ کام کرنے آئیں گے۔
تین ہفتے حکومت میں رہنے کے بعد: ہمارے لوگ ایسا پاکستان نہیں چاہتے۔ بہتر ہے ملک سے باہر لوگ خود ہی استعفیٰ دے دیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
اس قوم کی بدقسمتی کہہ لیں یا قادیانیوں کی خوش قسمتی۔ عالمی شہرت کے حامل پاکستانی دانشور ہمیشہ قادیانی نکل آتے ہیں۔
اس اقتصادی مشاورتی کونسل میں کتنے افراد قادیانی تھے؟ صرف ایک۔ کیا بقیہ سبھی ممبران عالمی سطح پر غیر معروف ہیں؟
 

جاسم محمد

محفلین
کیا بقیہ سبھی ممبران عالمی سطح پر غیر معروف ہیں؟
وہ بھی معروف ہیں۔ لیکن پاکستان کو درپیش قرضوں کے سخت بحران اور معاشی بدحالی سے نکالنے کے لئے جس شعبہ میں مہارت کی ضرورت تھی۔ اسے ڈاکٹر عاطف میاں سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ موصوف نےپبلک ڈیٹا استعمال کر تے ہوئے سابقہ حکومت کی پالیسیوں کی کئی بار سرجری کی۔ اور بتایا کہ پاکستان اس حال تک کیوں اور کیسے پہنچا۔
مشاورتی کونسل میں شمولیت کے ساتھ وزارت خزانہ ان کو تمام ضروری ڈیٹا دے سکتا تھا۔ جسے استعمال کرتے ہوئے وہ حکومت کو ایسی ایکسپرٹ پالیسی بنا دیتے۔ جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آئندہ آنے والے برسوں میں رفتہ رفتہ ملک معاشی بحران اور قرضوں کے چنگل سے باہر نکل سکتا تھا۔
مگر ہمارے دیسی آئن اسٹائن اور نیوٹن کی افواج کو یہ قبول نہیں۔ اپنے ساتھ ساتھ قوم و حکومت دونوں کو تباہ کیا۔ ذیل میں کل استعفیٰ دینے والے ڈاکٹر عمران رسول کا ڈاکٹر عاطف میاں سے متعلق بیان پڑھ لیں۔ اور سر دھنیے
 

جاسم محمد

محفلین
قابلیت تو اتنی تھی کہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوگیا۔
ذہانت بھی مذہبی ہوتی ہے؟

یہ تحریر لکھنے سے پہلے میں بتانا چلوں کہ میرا تعلق جس قوم سے ہے اسکو انسان کہتے ہیں اور میرا مذہب مجھے انسانیت کا درس دیتا ہے اس کے علاوہ مجھے کسی کو یہ بتانے یا سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ میں کتنا بڑا اور سچا مسلمان ہوں۔
کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک اقلیتی کمیونٹی کے خلاف جنگ کا آغاز ہو چکا ہے اور دبائو اتنا بڑھ گیا کہ گورنمنٹ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ آپ ٹھیک سمجھے میں عاطف میاں کی بات کر رہا ہوں جس کا تعلق احمدی طبقے سے ہے اس کے نام کے علاوہ ان کے بارے میں کچھ اہم معلومات بھی بتاتا چلوں کہ 2014 میں آئی ایم ایف نے عاطف میاں کو دنیا کے ٹاپ 25 اکانومسٹ کی لسٹ میں ڈالا تھا یہ پرنسٹن یونیورسٹی میں اقتصادیات، پبلک پالیسی اور فنانس کے پروفیسر ہیں اور ان کا شمار دنیا میں میکرو معیشت کے بہتریں ماہرین میں سے ہوتا ہے
ذہانت کبھی مذہبی نہیں ہوتی اور اگر مسلمان اپنا فوکس روٹی پر اللہ دیکھنے پر، دھرنے دینے، مذہب کو اپنے انداز سے پیش کرنے، اور غیر مسلموں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے پر صرف کریں گے تو ہمیں ذہین لوگ باہر سے ہی امپورٹ کرنے پڑیں گے- جب انسان مشکل میں ہوتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی مشکل حل کرنے والا ہندو ہے، کرسچن ہے یا یہودی وہ اس کو خدا کی طرف سے وسلیہ سمجھ کر اس کی مدد قبول کرتا ہے یہی سوچ پاکستانیوں کی بھی ہونی چاہئے تھی لیکن افسوس ہم نے مدد لینے اور دینے میں بھی مذہب کا استعال شروع کر دیا ہے
اگر ہم آج اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کریں گے تو ہمیں پھر برما اور انڈیا کی مسلم اقلیتوں کے لئے آواز اٹھاتے شرم آنی چاہئے کیونکہ ان کے ساتھ وہی کچھ ہورہا ہے جو ہم اپنے ملک میں اپنی اقلیتی برادری کے ساتھ کر رہے ہیں
ہم کتنے بڑے مسلمان ہیں آج اس بات کا ہم ثبوت دے سکتے ہیں چلیں آج ہم اپنے موبائل، لیپ ٹاپ توڑ ڈالتے ہیں، فیس بک کو ان انسٹال کر دیتے ہیں، جن بڑی بڑی بلٹ پروف گاڑیوں پر ہمارے یہی مذہبی رہنما پھرتے ہیں ان کو جلا ڈالتے ہیں کیوں کہ یہ سب کافروں کی ایجادات ہیں ہم تو بس بیٹھے ان کی ایجادات کے مزے لوٹنے میں لگے ہیں۔
چلیں اس کو اسلامی نقطہ نظر سے بھی دیکھتے ہیں غزوہ بدر میں جضورﷺ نے قیدیوں (کفار) سے کہا کہ انہیں آزادی لینے کے لئے مسلمانوں کے بچوں کو پڑھنا لکھنا (دنیاوی تعلیم) سکھانا پڑے گا ہم سب مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے تو اگر انہوں نے غیر مسلم قیدیوں کی ذہانت کے استعمال کو برا نہیں سمجھا تو ہم ان کی امت اس کو کیوں برا سمجھ رہے ہیں۔ ہمیں بھی ایک اقلیتی برادری کے ذہین شخص سے ملک کی بہتری کے لئے مشاورت کرنے میں مذہب کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا
اگر ہم اس ملک بنانے والی ہستی، قائداعظم کی بھی بات کریں تو ان کی 11 اگست 1947 کے خطاب کو بھی یاد رکھنا چاہئے ” آپ کسی مذہب، کسی ذات، کسی عقیدے کے بھی ہوں امور ریاست کو اس سے کوئی تعلق نہیں”
 

جاسم محمد

محفلین
ہمارے لیئے اللہ کافی ہے
ہمارا محبوب قومی مشغلہ: احمدیوں کو برا بھلا کہنا

وزیر اعظم عمران خان کی تشکیل کردہ معاشی مشاورتی کونسل میں ایک احمدی کا نام کیا آ گیا کہ جو لوگ ایسی چیزوں کو مسئلہ بنانے کا فن رکھتے ہیں انہوں نے بھونچال پیدا کر دیا۔ مشاورتی کونسل میں کوشش کی گئی ہے کہ اعلیٰ درجہ کے معاشی ماہرین چُنے جائیں۔ ان میں ایک ڈاکٹر عاطف میاں ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ امریکہ کی مشہور پرنسٹن یونیورسٹی میں معیشت کے پروفیسر ہیں۔ اُن کی تعلیمی قابلیت یا جو اعزاز اُنہوں نے امریکہ میں حاصل کیا ہے اُس کے بارے میں کوئی اُنگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ لیکن پاکستان کے چند حلقوں میں اعتراض اُن کی احمدیت پہ ہے۔
یہ لوگ کم از کم خدا کو مانتے ہیں۔ لیکن فرض کیجیے کہ وہ کافر بھی ہوں تو اُس کا اُن کی علمی قابلیت سے کیا تعلق ہے؟ جو نام اِس مشاورتی کونسل میں شامل کیے گئے ہیں وہ کسی مسلک یا مذہب کی بنیاد پہ نہیں چُنے گئے۔ جس نے اپنے شعبے میں نام کمایا اور جن کی کوئی بین الاقوامی شناخت ہے اُن کو اِس کونسل میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ملک و قوم کی خاطر بہتر سے بہتر معاشی مشورے مل سکیں ۔ کوئی سوالنامہ یہ نہیں پُر کروایا گیا کہ اِس کونسل کے ممبران پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں یا نہیں یا دیگر مذہبی عقائد کے پابند ہیں یا نہیں۔ لیکن ہماری سینیٹ کو دیکھیے جس کے چند ممبران نے ڈاکٹر عاطف میاں پہ سوال اُٹھایا ہے کہ یہ تو احمدی ہیں۔ 1974کی آئینی ترمیم کے حوالے سے احمدی غیر مسلم قرار پائے ہیں۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ایک آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کے تحت احمدی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ اگر وہ ایسا کریں اور اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہیں تو یہ قابل دست اندازیِ پولیس مقدمہ ہو سکتا ہے۔ ہمارا قانون تو اَب یہی کہتا ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اِس ماجرے کا علمی قابلیت سے کیا تعلق ہے؟
نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام احمدی تھے یعنی ہمارے آئین کے تحت غیر مسلم تھے۔ لیکن شعبہ طبیعات میں جو کچھ اُنہوں نے کیا اور جس کے تحت وہ نوبل انعام کے حقدار ٹھہرے اس کا اُن کی احمدیت سے کوئی واسطہ نہیں۔ وہ ہندو بھی ہو سکتے تھے، سکھوں کی پگڑی پہن سکتے تھے۔ یہودی رغبت رکھ سکتے تھے، پتھروں کی پوجا کر سکتے تھے۔ لیکن اِن ساری روشوں کا اُن کے شعبہ طبیعات کے کام سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔
ہمارے اعلیٰ فوجی افسران امریکہ کے وار کالج میں کورسز کرنے جاتے ہیں۔ انگلستان کے ملٹری کالجز سے بھی اُن کا تعلق ہوتا ہے۔ لیکن یہ سوال کبھی نہیں اُٹھا کہ اُن کو عیسائی مسلک کے امریکن یا برطانوی افسران درس دیتے ہیں۔ ہمارے سب سے قریبی تعلقات چین سے ہیں۔ چین والے سرے سے خدا کو مانتے ہی نہیں۔ وہاں کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کسی مذہب پہ یقین نہیں رکھتی۔ لیکن چین سے تعلق استوار کرتے وقت ہم یہ چیزیں ملحوظ خاطر نہیں لاتے۔
امریکہ کی ترقی کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے اعلیٰ ترین دماغ امریکی یونیورسٹیوں میں جانا اور وہاں مستقل قیام کرنا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے لوگ بھی امریکی یونیورسٹیوں میں ہیں جیسا کہ ڈاکٹر عاطف میاں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ لیکن ہم سے کہیں زیادہ انڈیا کے اساتذہ اور پروفیسروں نے امریکن یونیورسٹیوں میں اپنا مقام بنایا ہے۔ آپ کی اگر علمی قابلیت اُس معیار کی ہے تو امریکی یہ نہیں پوچھتے کہ آپ کا مذہب کیا ہے۔ اپنے مخصوص شعبے میں آپ نے کچھ مقام حاصل کیا ہے تو امریکن اور یورپین یونیورسٹیوں میں آنکھیں بند کر کے آپ کو لے لیا جاتا ہے۔ ہمارا تماشہ دیکھئے۔ ڈاکٹر عاطف میاں پہ تو سب سے پہلا اعتراض کسی دینی مدرسے سے آنا چاہیے تھا‘ لیکن آیا کہاں سے ؟ سینیٹ آف پاکستان سے۔ جس سینیٹ کا معیار یہ ہو آپ اُس سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟
پوچھنے والی بات تو صرف ایک ہے کہ ڈاکٹر عاطف میاں پاکستانی ہیں یا نہیں۔ اگر پاکستانی ہیں تو اُن کی مرضی کہ اُن کا مذہب کیا ہے۔ آئین میں صدر اور وزیر اعظم کیلئے شرط ہے کہ مسلمان ہونا ضروری ہے۔ لیکن کسی اور عہدے کیلئے ایسی کوئی شرط نہیں۔ ہندؤ، عیسائی، سکھ یا احمدی ہوں تو آپ فوج میں جا سکتے ہیں اور دیگر شعبوں میں بھی۔ یہ تو ایک مشاورتی کونسل ہے کہ پاکستان کو اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کیلئے اور اپنی معاشی حالت بہتر کرنے کیلئے کیا کچھ کرنا چاہیے۔ ہماری سینیٹ کے فلسفیوں کو دیکھیں کہ اِس پہ اعتراض کر رہے ہیں۔ دنیا کہاں پہنچ گئی ہے۔ ہم ہیں اور ہمارا کشکول۔ لیکن کیسی باتوں پہ اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عاطف میاں اس قابل ہیں تو اُن کی رائے لیں اور اُن کی خدمات حاصل کریں۔ نماز کا وقت آئے تو آپ اپنی نماز پڑھیں اور اُن کو اپنے طور پہ عبادت کرنے دیں، اگر وہ عبادت کے عادی ہوں کیونکہ ہم میں سے بہت سے مذہبی رسومات کے بارے میں ڈھیلا رویہ رکھتے ہیں۔
پاکستان ٹائمز کے مشہور فوٹو گرافر ایف ای چوہدری‘ جو کہ کرسچیئن تھے‘ کے بیٹے سکواڈرن لیڈر سیسل چوہدری 1965ء کی جنگ کے ایک ہیرو ہیں۔ مختلف حوالوں سے قومی زندگی میں اقلیتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ لیکن ہمارا اقلیتوں کے ساتھ کیا رویہ رہا ہے؟ گزشتہ سالوں میں کتنے ہی حملے کرسچیئن آبادیوں پہ ہوئے ہیں… گوجرہ، گوجرانوالہ اور سینٹ جوزف کالونی لاہور چند مثالیں ہیں۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کی مخالفت مقتدر علماء اور دینی حلقوں نے تو کی، تمام اقلیتیں… کیا کرسچیئن، کیا احمدی، کیا کوئی اور… سب کے سب نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ اپنی گیارہ اگست 1947ء کی تقریر میں بانی پاکستان محمد علی جناحؒ نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی کا کوئی مذہب ہو اس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔ بجائے اِس کے کہ اِن تاریخ ساز الفاظ کو سمجھا جائے ہمارے دینی اور سماجی حلقے جناح صاحب کے اِن الفاظ پہ آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔
جو آئین کی رُو سے غیر مسلم ہیں وہ غیر مسلم ہیں۔ یہ مسئلہ بحث طلب نہیں۔ لیکن مذہبی عقیدہ ایک چیز ہے اور پاکستانیت مختلف۔ ہم نے تو اقلیتوں کو یہاں سے بھگا دیا ہے۔ پڑھے لکھے اور انگریزی بولنے والے کرسچیئن سب امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا آباد ہو گئے۔ قومی زندگی میں اِن لوگوں کا بہت کردار تھا۔ اِن کیلئے حالات خراب کر کے نقصان ہمارا ہوا ہے۔ ہماری قومی زندگی اچھی چیزوں سے محروم ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عاطف میاں جیسے نامور معاشی ماہر کو مشاورتی کونسل میں شامل کرنا اچھا فیصلہ ہے۔ اِس بات پہ شور مچانے یا جھنڈے لہرانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن مصلحت کی کسی غلط تشریح کے تحت اس فیصلے کو واپس نہیں لینا چاہیے۔ سینیٹ کے جن ممبران نے اِس بات کو مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے اُنہیں اپنے کیے پہ نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
 

زیک

مسافر
دلچسپ بات یہ ہے کہ میری ٹویٹر فیڈ پر یہ خبر امریکہ اور برطانیہ میں اکنامسٹس کے ذریعہ مشہور ہو رہی ہے
 
Top