پاکستانی مصنوعات اور ہماری ترجیحات

محمداحمد

لائبریرین
اگر دستیاب نہیں تو وہاں اس کی ایجنسی کھولنی چاہیے، بہت ہی منافع رہے گا. سید عمران محمد عدنان اکبری نقیبی اور آپ مل کر ایجنسی کھول لیں اور مزے اڑائیں کمپنی سیل مین کے لیے تنخواہ بھی دے گا اور بھی بہت سی آفرز، اور ایک مخصوص علاقہ بھی جہاں تک آپ اپنی سیل پہنچا سکتے ہو. اس علاقے میں کوئی اور گورمے کی ایجنسی نہیں کھول سکے گا

واہ۔۔۔!

کیا پارٹنرشپ بنائی ہے۔ :)

ویسے کراچی والے گورمے سے نا بلد ہیں۔ اور کوک پیپسی اور ٹی وی اشتہاروں کے عاشق۔ نہ جانے کیا نتیجہ ہو۔
 
اگر دستیاب نہیں تو وہاں اس کی ایجنسی کھولنی چاہیے، بہت ہی منافع رہے گا. سید عمران محمد عدنان اکبری نقیبی اور آپ مل کر ایجنسی کھول لیں اور مزے اڑائیں کمپنی سیل مین کے لیے تنخواہ بھی دے گا اور بھی بہت سی آفرز، اور ایک مخصوص علاقہ بھی جہاں تک آپ اپنی سیل پہنچا سکتے ہو. اس علاقے میں کوئی اور گورمے کی ایجنسی نہیں کھول سکے گا
آپ کا شکریہ چھوٹے خان ، اب ہمیں اپنے شوق کے لیے اسٹور کھولنا پڑے گا ، ہم فروخت تو کم ہی کریں گے خود ہی زیادہ پیا کریں گے اور عمران بھیا سے خوب ڈانٹ کھایا کریں گے ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
آپ کا شکریہ چھوٹے خان ، اب ہمیں اپنے شوق کے لیے اسٹور کھولنا پڑے گا ، ہم فروخت تو کم ہی کریں گے خود ہی زیادہ پیا کریں گے اور عمران بھیا سے خوب ڈانٹ کھایا کریں گے۔

واہ۔۔۔۔!

ایک ذرا سی ایجنسی نے کھانے پینے کا بندوبست کر دیا۔

اسی لئے تو ہم ایجنسیوں کے عمل دخل کی بہت زیادہ مخالفت نہیں کرتے۔ :)
 

اے خان

محفلین
واہ۔۔۔!

کیا پارٹنرشپ بنائی ہے۔ :)

ویسے کراچی والے گورمے سے نا بلد ہیں۔ اور کوک پیپسی اور ٹی وی اشتہاروں کے عاشق۔ نہ جانے کیا نتیجہ ہو۔
عوام وہی خریدتے ہیں جو ہر اسٹور میں ملتا ہو یا جس آئٹم کی دکاندار تعریف کرے. اپنی سیل بڑھانے کے لیے دکاندار حضرات کو ایسی ایسی آفر دینا کہ ان میں ان کا منافع ہو تو دکاندار حضرات مال شوق سے رکھیں گے. اور پھر بیچنا ان کا کام ہے. مثال کے طور پر اگر پیپسی کے ایک کاٹن میں بیس روپے منافع ہے تو آپ ایک کاٹن میں پچیس روپے منافع دیں. اور اسی طرح پیسوں کے معاملے دس کاٹن نقد دیں تو بیس ادھار اس طرح چلتا رہے گا اور ایک وقت آئے گا جب عوام عادی ہوجائیں گے اور آپ کی سیل بڑھ جائے گی.
 

محمداحمد

لائبریرین
عوام وہی خریدتے ہیں جو ہر اسٹور میں ملتا ہو یا جس آئٹم کی دکاندار تعریف کرے. اپنی سیل بڑھانے کے لیے دکاندار حضرات کو ایسی ایسی آفر دینا کہ ان میں ان کا منافع ہو تو دکاندار حضرات مال شوق سے رکھیں گے. اور پھر بیچنا ان کا کام ہے. مثال کے طور پر اگر پیپسی کے ایک کاٹن میں بیس روپے منافع ہے تو آپ ایک کاٹن میں پچیس روپے منافع دیں. اور اسی طرح پیسوں کے معاملے دس کاٹن نقد دیں تو بیس ادھار اس طرح چلتا رہے گا اور ایک وقت آئے گا جب عوام عادی ہوجائیں گے اور آپ کی سیل بڑھ جائے گی.

ماشاءاللہ !

اس نوعمری میں بھی آپ کا کاروباری فہم بہت عمدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عملی زندگی میں بہت بہت کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
 

اے خان

محفلین
آپ کا شکریہ چھوٹے خان ، اب ہمیں اپنے شوق کے لیے اسٹور کھولنا پڑے گا ، ہم فروخت تو کم ہی کریں گے خود ہی زیادہ پیا کریں گے اور عمران بھیا سے خوب ڈانٹ کھایا کریں گے ۔
نہیں سٹور نہیں بڑی سی ایجنسی آپ دکانداروں کو مال سپلائی کریں گے. عام لوگوں کو نہیں بیچنا ہاں اگر تابش بھائی کراچی آئیں تو ایک کاٹن دے دینا
 

سید عمران

محفلین
اگر دستیاب نہیں تو وہاں اس کی ایجنسی کھولنی چاہیے، بہت ہی منافع رہے گا. سید عمران محمد عدنان اکبری نقیبی اور آپ مل کر ایجنسی کھول لیں اور مزے اڑائیں کمپنی سیل مین کے لیے تنخواہ بھی دے گا اور بھی بہت سی آفرز، اور ایک مخصوص علاقہ بھی جہاں تک آپ اپنی سیل پہنچا سکتے ہو. اس علاقے میں کوئی اور گورمے کی ایجنسی نہیں کھول سکے گا
خیالی پلاؤ کچھ زیادہ نہیں پکا لی؟؟؟
 

اے خان

محفلین
پشاوری چپل چارسدہ میں بنوائے تھے. پندرہ سو روپے میں دو سال سے پہن رہا ہوں. اور ویسے کے ویسے ہی ہیں بس تھوڑے سے گھس گئے ہیں. بڑی عید کے لیے شاید نئے چپل خرید لوں. پائیداری میں اس کا مقابلہ نہیں
 
Top