دیئے گئے لفظ پر شاعری

محمد وارث

لائبریرین
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

(پروین شاکر)


برسات
 

شمشاد

لائبریرین
میں بے ہنر کہ جوہرِ آئینہ تھا عبث
پائے نگاہِ خلق میں خارِ خلیدہ ہوں
(چچا)


آئینہ
 

عمر سیف

محفلین
اس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے
اسکے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا
صورت نقش قدم دشت میں رہنا محسن
اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا

اب دشت ۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
غبارِ دشتِ وحشت سرمہ سازِ انتظار آیا
کہ چشمِ آبلہ میں طویلِ میلِ راہِ مژگاں ہے
(چچا)

غبار
 

فاتح

لائبریرین
بناگلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
(عبید اللہ علیم)

چراغ
 

الف عین

لائبریرین
اوہو۔۔۔ میں نے جلدی میں غبار کو خار پڑھ لیا!!!

میں جنگلوں کی آگ بن کے چار سمت پھیل جاؤں
چراغ نام دے کے اس نے یوں مجھے جلا دیا

ا ع

آگ
 

شمشاد

لائبریرین
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
(ناصر کاظمی)


شہر
 

محمد وارث

لائبریرین
حسن بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

(اقبال)

نقاب
 
Top