سائنس کیا ہے؛ اور سائنس کیا نہیں ہے؟ (علیم احمد، مدیرِ اعلیٰ ماہنامہ گلوبل سائنس)

arifkarim

معطل
تو یہ قوانین قدرت کہاں سے آئے؟ ذرا اس کی وضاحت بھی کردیجیے۔
یہ بات سمجھ آجائے تو سارے مسائل ہی نا حل ہو جائیں۔
سائنس کے مطابق قوانین قدرت اٹل ہیں۔ مذہب پرستوں کے نزدیک یہ قوانین قدرت خدا نے بنائے ہیں اور وہ جب چاہے معجزاتی رنگ میں انکے ساتھ کھلواڑ کر سکتا ہے۔اسلامی لاجک۔
 

ربیع م

محفلین
سائنس بے چاری آج تک قوانین قدرت تو پوری طرح جان نہیں پائی اٹل کیا قرار دے سکتی ہے

اور کتنی نامعقول اور خلاف عقل بات ہے کہ اس کائنات کو کو جس ذات نے تخلیق کیا وہ اس کے قوانین میں تبدیلی کی قدرت نہیں رکھتا ،کچھ تھوڑی سی ہی عقل استعمال کر لی جائے تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔

ہاں جو اس خالق کائنات کا ہی منکر ہے تو وہ شتر بے مہار کی مانند جہاں چاہے منہ مار سکتا ہے ،اور اسی کے نتیجے میں خلاف عقل و خلاف فطرت باتیں بھی ارشاد فرمائے گا۔
 

آصف اثر

معطل
سائنس کے مطابق قوانین قدرت اٹل ہیں۔ مذہب پرستوں کے نزدیک یہ قوانین قدرت خدا نے بنائے ہیں اور وہ جب چاہے معجزاتی رنگ میں انکے ساتھ کھلواڑ کر سکتا ہے۔اسلامی لاجک۔
کیا سائنس تمام قوانین قدرت معلوم کرچکی ہے؟
 

ربیع م

محفلین
بہت خوب زیک آپ نے لگتا ہے یہ پولیو والا مضمون پوپورا پڑھا نہیں

اور یہ بھی آپ کو پتا ہے کہ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اسے پڑھ سکے یہ کوئی سائنسی یا تحقیقاتی مضمون سے زیادہ اس کا انداز یہ ہے کہ صاحب مضمون نے کچھ سوال اٹھائے ہیں۔

ویسے ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ سائنس میں اکثر باتیں حتمی نہیں ہوتی اس حقیقت کو سبھی تسلیم کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو سچے دل سے سائنس کا معتقد و پجاری ہے کم از کم وہ دوسرے کی رائے کا احترام کرے گا ،لیکن یہاں دیکھا ہے کہ معتقدان سائنس مخالف نظریہ کا علمی بنیاد پر رد کرنے کی بجائے بکواس کہہ کر یہ جا وہ جا ،عوام بھی مرعوب اور کام بھی پورا
 

arifkarim

معطل
بدھ مت رُوح کے متعلق کیا کہتا ہے؟
بدھمت میں روح کا وہ نظریہ نہیں جو ہندومت میں آتما کا ہےیا ادیان ابراہیمی میں روح کا ہے۔ اسکے لئے آپکو گوتم بدھ کے اقتباسات پڑھنے پڑیں گے۔

اور کتنی نامعقول اور خلاف عقل بات ہے کہ اس کائنات کو کو جس ذات نے تخلیق کیا وہ اس کے قوانین میں تبدیلی کی قدرت نہیں رکھتا ،کچھ تھوڑی سی ہی عقل استعمال کر لی جائے تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔
یہاں آپ حضرات کو عقل و منطق یاد آجاتی ہے۔ :LOL:
پہلے خدا کے وجود کو عقلی اور منطقی طور پر ثابت تو کریں ، بغیر ایمانیات کا سہارا لئے :)

کیا سائنس تمام قوانین قدرت معلوم کرچکی ہے؟
نہیں ، لیکن کیا مذہب نے آج تک کوئی قانون قدرت دریافت کیا ہے جسکا تمام انسانوں کو فائدہ ہوا ہو؟

ویسے ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ سائنس میں اکثر باتیں حتمی نہیں ہوتی اس حقیقت کو سبھی تسلیم کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو سچے دل سے سائنس کا معتقد و پجاری ہے کم از کم وہ دوسرے کی رائے کا احترام کرے گا ،لیکن یہاں دیکھا ہے کہ معتقدان سائنس مخالف نظریہ کا علمی بنیاد پر رد کرنے کی بجائے بکواس کہہ کر یہ جا وہ جا ،عوام بھی مرعوب اور کام بھی پورا
یقیناً یہ ایک غلط رویہ ہے۔ اسے مثبت بحث و مباحثہ نہیں کہا جا سکتا۔
 

زیک

مسافر
آپ ذرا اپنے ضمیر سے پوچھ کر سچ بتائیے کیا آپ نے واقعتاً یہ مضمون پورا پڑھ لیا ہے؟ کیا واقعی؟!
پورا پڑھا ہے۔ مضمون نگار نے پہلے بہت بونگیاں ماریں اور پھر آخر میں اضافہ کیا کہ کچھ لوگوں نے اس کے غلط خیالات کو درست کرنے کی کوشش کی
 

عثمان

محفلین
سائنس کی طرف عجلت میں لپکنے سے قبل کم از کم یہی سیکھ لینا تھا کہ Rational اور Irrational اعداد آخر ہوتے کیا ہیں ! نیز ریاضی میں لامحدود اور لامتناہی کا کیا تصور ہے۔
بہرحال توقع کے عین مطابق سائنس کے عنوان کے نیچے وہی مذہب پرستی ریسکائیکل کی گئی ہے۔
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
باقی چوں کہ یہاں پر ”سائنس کیا ہے؛سائنس کیا نہیں؟“ کا ذکر کیا گیا ہےلہذا گفتگو بھی اسی کے متعلق کی جائے ۔ اپنی عادت سے مجبور ہوکر بات کا رُخ کسی اور جانب نہ موڑاجائے۔
آپ کو اعتراض اس بات پر ہے کہ میں نے سائنس کیا ہے کیا نہیں کے متعلق یہ کیوں لکھا کہ میں مذہبی نظریات اور سائنس کو الگ الگ پڑھتا ہوں اور اس پر آپ مجھ پر معترض ہیں کہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر بات کا رخ کسی اور طرف موڑ رہا ہوں۔ عرض ہے کہ میں نے بات کا رخ کسی اور طرف نہیں موڑا بلکہ صاحبِ مضمون کا ایجنڈا ہی ڈسکس کیا ہے۔ اگر اسے سائنسی مضمون مانا جائے اور مذہب کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ کام تو فاضل مصنف اول تا آخر اس مضمون میں کیے چلے جا رہے ہیں۔
ایک ایسے مضمون کے متعلق قاری سے یہ کہنا کہ اسے صرف سائنسی مضمون کے طور پر پڑھا جائے اور مذہب کا ذکر بیچ میں نہ لایا جائے جس مضمون کے کی ورڈز درج ذیل ہوں، چہ معنی دارد
  • خدا
  • مذہب
  • مقدس کتابیں
  • انجیل
  • قرآن
  • فرشتے
  • روح
  • برزخ
  • یوم حشر
  • جنت
  • جہنم
اس سب کے بعد گفتگو بھی صاحب مضمون کے اسی ایجنڈے پر پر ہونی تھی نا کہ سائنس نامی کسی شے پر جو مصنف کا مطمع نظر ہی نہیں لگ رہی اس مضمون میں۔
 

فاتح

لائبریرین
اگر مزید نئی دریافتوں اور تحقیقات کے بعد کوئی نیا نظریہ سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے کسی قرآنی آیت کی سابقہ سائنسی تشریح غلط ثابت ہوجاتی ہے تو اس سے قرآنِ پاک کی صداقت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سائنسی تشریح ہم نے، انسانوں نے کی تھی لہٰذا اسے ہماری غلطی ہی کہا جائے گا۔
کیا قرآن کی کوئی بھی تشریح کسی بھی زمانے میں قابل اعتبار نہیں؟

میں نے زیرِ نظر کتاب ’’اِک نسخہ ٔ کیمیا‘‘ میں یہی کوشش کی ہے کہ قرآنی آیات میں بیان کردہ اشاروں کی بنیاد پر، دستیاب معلومات کی روشنی میں کچھ سائنسی حقائق بیان کروں۔
کیا مصنف کے اپنے الفاظ میں ہی اس کی یہ کوشش قرآنی آیات کی "غلط" یا کم از کم "نا قابل اعتبار" تشریح لکھنے کے مترادف نہیں؟
 

فاتح

لائبریرین
قرآنِ پاک صرف چودہ سو سال پہلے ہی معجزہ نہ تھا، بلکہ یہ آج بھی معجزہ ہے اور رہتی دنیا تک معجزہ رہے گا۔ کوئی انسان بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ قرآن کو پوری طرح سمجھ پایا ہے، کیونکہ قرآنِ پاک کی ہر آیت کے لاتعداد مطالب، مفاہیم اور معانی ہیں۔
یہ کتاب، جس کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں، زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں ہماری رہنما ہے۔
اس کتاب سے جسے صاحب مضمون کے بقول آج تک کوئی پوری طرح سمجھ ہی نہیں پایا اور نہ کبھی سمجھ پائے گا، انسان کے لیے زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں رہنمائی حاصل کرنا کیسے ممکن ہے؟
 
آخری تدوین:

arifkarim

معطل
اس سب کے بعد گفتگو بھی صاحب مضمون کے اسی ایجنڈے پر پر ہونی تھی نا کہ سائنس نامی کسی شے پر جو مصنف کا مطمع نظر ہی نہیں لگ رہی اس مضمون میں۔
بالکل ایسا ہی ہے۔ سائنسی سیکشن میں ایک اسلامی مضمون پوسٹ کر دینے سے یہ سائنسی نہیں ہو جاتا۔

کیا قرآن کی کوئی بھی تشریح کسی بھی زمانے میں قابل اعتبار نہیں؟
پہلے ان سے پوچھیں کہ قرآن پاک کی سائنسی تشریح کیا بلاہے؟
 

ربیع م

محفلین
قوانین قدرت جو سائنس نے انگنت تجربات اور مشاہدات کے بعد اخذ کئے ہیں، حتمی ہیں ۔

یہ تو آپ فرما رہے ہیں کہ حتمی ہیں آج سے چند دہائیوں یا صدیوں پہلے جو سائنسدان گذرے تھے اور عقل و دانش مندی میں آپ سے کہیں بڑھ کر تھے وہ بھی کچھ قوانین قدرت کو حتمی قرار دے چکے تھے جن میں آج تبدیلیاں تسلیم کی جا چکی ہیں۔
 

arifkarim

معطل
یہ تو آپ فرما رہے ہیں کہ حتمی ہیں آج سے چند دہائیوں یا صدیوں پہلے جو سائنسدان گذرے تھے اور عقل و دانش مندی میں آپ سے کہیں بڑھ کر تھے وہ بھی کچھ قوانین قدرت کو حتمی قرار دے چکے تھے جن میں آج تبدیلیاں تسلیم کی جا چکی ہیں۔
لاتعداد تجربات و مشاہدات کا یکساں نتائج پر آنا ضروری ہے، وگرنہ سائنسی تھیوری بیشک آئن اسٹائن ہی نے کیوں نہ پیش کی ہے، رد کی جا سکتی ہے۔
 
Top