اعضا عطیہ کرنے میں مسلمانوں کی پریشانیاں!

arifkarim

معطل
رمضان کے مہینے کی آمد آمد ہے اور اس موقعے پر برطانیہ میں کئی ہسپتال مسلمان شہریوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ انسانی اعضا عطیہ کرنے کے بارے میں غور کریں۔

برطانیہ میں تقریباً 27 لاکھ مسلمان ہیں اور ان کو گردوں یا جگر کے لیے اوسطً غیر مسلموں کے مقابلے میں زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد کے لیے نسلی طور پر جوڑ کا شخص دھونڈنا مشکل ہوتا ہے جو کہ اعضا عطیہ کرے۔ یہ مسئلہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں۔ ہمارے ساتھی جان مکمینس نے اس کے معاملے کو پرکھا۔

برطانیہ میں زیادہ تر مسلمان نسلی طور پر جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تارکینِ وطن بہت سے اہم شہروں میں مقیم ہیں جیسے کہ برمنگھم جہاں کی 21 فیصد آبادی مسلمان ہے۔

اور اگرچہ یہ لوگ عام طور پر اقلیت ہیں، ایک معاملے میں یہ سب سے آگے ہیں اور وہ ہے اعضا کے ٹرانسپلانٹ کے لیے انتظار کا وقت۔ برطانیہ میں مسلمان مریضوں کو اعضا کے لیے اوسطً ایک سال زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے مگر ڈاکٹر عدنان شریف کا کہنا ہے کہ برمنگھم میں تو یہ وقت چار اور پانچ سال زیادہ ہے۔

کوئین الزبتھ ہسپتال میں رینال وارڈ میں ڈائیئیلسز کے مریضوں کا علاج ڈاکٹر عدنان شریف ہی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو ڈائیئیلسز پر زیادہ وقت گزارنا پڑتا ہے۔

غیر یقینی صورتحال

ڈاکٹر عدنان کہتے ہیں ’ہمارے کچھ مسلمان مریض اعضا کا انتظار کرتے کرتے ہی جان کھو بیٹھیں گے‘
ڈاکٹر عدنان کہتے ہیں ’ہمارے کچھ مسلمان مریض اعضا کا انتظار کرتے کرتے ہی جان کھو بیٹھیں گے کیونکہ انھیں گردے نہیں ملے۔ اور میرے خیال میں یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔‘

موضوع نسلی ڈونرز کی کمی کی وجہ یہ ہے کہ اس بات پر مختلف رائے پائی جاتی ہے کہ کیا اسلام اعضا کو عطیہ کرنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ کچھ علما کی رائے میں اس کی اجازت ہے جب کہ دیگر کے خیال میں یہ ممنوع ہے۔

اعضا عطیہ کرنے کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جس میں عطیے کرنے والا شخص اس کے بعد زندہ ہو یا پھر دوسری ایسا کہ کسی کے مر جانے کی صورت میں ان کے اعضا کو استعمال کر لیا جائے۔ اس آپریشن میں کامیابی کے لیے نسلی طور پر اور جینیاتی طور پر مریض اور عطیہ کرنے والے شخص کا جوڑ ہونا انتہائی اہم ہوتا ہے۔

ڈاکٹر یاسر مصطفیٰ مساجد میں جا کر لوگوں سے اعضا کو عطیے کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں اور انھیں اس بات پر مائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسا کارڈ اپنے ساتھ رکھیں جس کی پر یہ تحریر ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے کی صورت میں ان کے اعضا عطیہ کر دیے جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر بار ان سے ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہے۔

کوئین الزبتھ ہسپتال میں ہی ریحانہ صادق بھی ایک مسلمان عالما ہیں جو کہ بہت سے خاندانوں کی مشکل گھڑی میں مدد کرتی ہیں
’چاہے وہ مسلمان افریقہ کا ہو یا ایشیا کا یا برطانوی ہر مرتبہ ایک ہی سوال سامنے آتا ہے اور وہ ہے کہ کیا اسلام میں اعضا عطیہ کرنے کی اجازت ہے؟‘

اعضا عطیہ کرنے والے افراد کی کمی معاملہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں۔ اس سال اپریل میں کراچی یونیورسٹی میں علما کا ایک اجلاس بلایا گیا تاکہ اس معاملے پر بحث کی جا سکے۔

اگرچہ بہت سے علما اعضا عطیہ کرنے کی حمایت کی۔ تاہم کونسل آف اسلامک آئیڈاولوجی کے ایک سینیئر عالم نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ جب روزِ آخرت مسلمانوں کے جسموں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو اعضا عطیہ کرنے کا اس عمل پر کیا اثر ہوگا۔

کوئین الزبتھ ہسپتال میں ہی ریحانہ صادق بھی ایک مسلمان عالمہ ہیں جو کہ بہت سے خاندانوں کی مشکل گھڑی میں مدد کرتی ہیں۔ تاہم انھیں کا کہنا ہے کہ آج تک انھیں کسی نے اعضا عطیہ کرنے کے سلسلے میں رابطہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مسلم برادری میں اس معاملے پر رائے شدید منقسم ہے۔ ایک طرف لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ لاشوں کی بے حرمتی ہے۔ اور دوسری جانب لوگوں کا ماننا ہے کہ اسلام میں کسی کی جان بچانے سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں لوگوں کو یہ مشورہ نہیں دیتی کہ وہ عطیہ کریں یا نہیں۔ میں صرف ان سے یہ کہتی ہوں کہ اس معاملے پر غور کریں اور خدا سے دعا کریں۔‘

عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں مسلمان ممالک میں کم اعضا عطیہ کیے جاتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ وسائل کی کمی یا پھر دینی مسئلہ ہو۔

پرویز حسین ایک برطانوی سابق پولیس افسر ہیں جنھیں نئے گردے کے لیے تین سال انتظار کرنا پڑا۔ ہر ہفتے ہسپتال جا کر ڈائیئیلسز کروانے سے انھیں جنوبی ایشیائیوں کے لیے اس مسئلے کی شدت کا اندازہ ہوا۔

’میرے خیال میں سو فیصد لوگ اعضا قبول تو کر لیں گے مگر شاید ان میں بہت سے عطیہ نہیں دیں گے۔‘ برطانوی سابق پولیس افسر
’جب میں وہاں جاتا تھا تو 31 بستروں میں سے 25 پر کوئی نہ کوئی اقلیتی نسل کا شخص ہوتا تھا۔‘

انھوں نے اس مسئلے کے حوالے سے اماموں اور ماہرین طبیعات سے ملاقاتیں کیں تاہم کوئی واضح حل سامنے نہیں آیا۔ ان کا خیال ہے کہ اماموں کو اپنے رتبے کا فائدہ اٹھا کر لوگوں سے اس معاملے میں بات کرنی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ امام صاحب سے وہ ہمیشہ ایک ہی سوال کرتے ہیں ’اگر آپ کو کسی عضو کی ضرورت ہو تو آپ اسے قبول کریں گے یا دین کو درمیان میں لائیں گے۔‘

’میرے خیال میں سو فیصد لوگ اعضا قبول تو کر لیں گے مگر شاید ان میں بہت سے عطیہ نہیں دیں گے۔‘
http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150616_muslim_organ_donor_sa

زیک
 
’میرے خیال میں سو فیصد لوگ اعضا قبول تو کر لیں گے مگر شاید ان میں بہت سے عطیہ نہیں دیں گے۔
clear.png


متفق
 
آخری تدوین:

محمد سعد

محفلین
عام طور پر اعضاء عطیہ کرنے کی حرمت کی دلیل کے لیے جو احکام پیش کیے جاتے ہیں، وہ اعضاء کو ضائع کرنے کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ مرنے کے بعد کسی کو عضو عطیہ کرنا اس عضو کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو اس عضو کو کچھ عرصہ مزید جینے کا موقع دینا ہے۔ خیر، جس قسم کے رویے میں دیکھ چکا ہوں، محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے یہی حل ہے کہ وہ مصنوعی دل گردے کی ٹیکنالوجی بہتر ہونے کا انتظار کریں اور تب تک موج کریں۔ چونکہ وہ ٹیکنالوجی بھی خود تو بنانی نہیں۔ :dazed:

آخر میں ایک دلچسپ نکتے کی طرف اشارہ۔
بی بی سی کے نمائندوں کو طبیعیات اور طب کے فرق کا علم ہی نہیں؟ o_O
 

رانا

محفلین
اس طرح کی باتیں سنی ہوئی تھیں لیکن کبھی یقین نہیں آیا تھا کہ آجکل پڑھے لکھے لوگ ہیں کہاں ان باتوں کو مانتے ہوں گے۔ لیکن ایک مرتبہ ایک بینک کی کلائنٹ سائیڈ پر گیا تو لنچ ان کے ساتھ ہی کرنا پڑا۔ میرے علاوہ بینک کے جو چار افراد ٹیبل پر بیٹھے تھے اسی ٹاپک پر گفتگو کررہے تھے کہ اعضاء عطیہ کرنا بہت گناہ کی بات ہے اور سیکس کی تبدیلی تو اللہ میاں کے کاموں میں مداخلت ہے۔:) لقمہ منہ میں رکھتے ہوئے بے ساختہ دل چاہا کہ ان کی گفتگو میں لقمہ دے دوں لیکن پھر یہ سوچ کر کہ آفس کی طرف سے آیا ہوں نامناسب بات ہوگی، خاموش رہا۔:)
ویسے خاکسار نے اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کی وصیت کی ہوئی ہے۔
 

زیک

مسافر
سعودی فقہا نے تو اس کے حق میں ۱۹۸۸ میں فتوی دیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج بھی مسلمان گھبراتے ہیں؟
 

arifkarim

معطل
محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے یہی حل ہے کہ وہ مصنوعی دل گردے کی ٹیکنالوجی بہتر ہونے کا انتظار کریں اور تب تک موج کریں۔ چونکہ وہ ٹیکنالوجی بھی خود تو بنانی نہیں۔ :dazed:
یقیناً یہ ٹیکنالوجی بھی سب سے پہلے اسرائیلی یہودی ہی بنا دیں گے اور پھر اسکے استعمال کیخلاف بھی فتاویٰ کی روائیتی بھرمار ہوجانی ہے ، حتیٰ کے مفتی اعظم کی اپنی زندگی بچانے کیلئے اس یہودی ٹیکنالوجی کی ضرورت آن پڑے :)

سعودی فقہا نے تو اس کے حق میں ۱۹۸۸ میں فتوی دیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج بھی مسلمان گھبراتے ہیں؟
کیا آپ بھی دیگر الباکستانیوں کی طرح سعودی ’’فقہا‘‘ کے مضحکہ خیز فتاویٰ کو مسلمانوں کیلئے ’’پابند‘‘ سمجھتے ہیں؟ :)
 
اردو فورم پر میرا یہ پہلا تبصرہ ہے جو اس تحریر کو پڑھنے کے بعد تحریر کر رہا ہوں مقصد محض درست شرعی حکم کی وضاحت ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے مولانا مفتی محمد شفیع اور مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نے علماء کا ایک بورڈ مقرّر کیا تھا، اس بورڈ نے اس مسئلے کے مختلف پہلووٴں پر غور و خوض کرنے کے بعد آخری فیصلہ یہی دیا تھا کہ ایسی وصیت جائز نہیں اور اس کو پورا کرنا بھی جائز نہیں۔ یہ فیصلہ ”اعضائے انسانی کی پیوندکاری“ کے نام سے چھپ چکا ہے۔
شاید یہ کہا جائے کہ یہ تو دُکھی انسانیت کی خدمت ہے، اس میں گناہ کی کیا بات ہے؟ میں اس قسم کی دلیل پیش کرنے والوں سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ واقعتا اس کو انسانیت کی خدمت اور کارِ ثواب سمجھتے ہیں تو اس کے لئے مرنے کے بعد کا انتظار کیوں کیا جائے؟ بسم اللہ! آگے بڑھئے اور اپنی دونوں آنکھیں دے کر انسانیت کی خدمت کیجئے اور ثواب کمائیے۔ دونوں نہیں دے سکتے تو کم از کم ایک آنکھ ہی دیجئے، انسانیت کی خدمت بھی ہوگی اور ”مساوات“ کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔
غالباً اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ زندہ کو تو آنکھوں کی خود ضرورت ہے، جبکہ مرنے کے بعد وہ آنکھیں بیکار ہوجائیں گی، کیوں نہ ان کو کسی دُوسرے کام کے لئے وقف کردیا جائے؟
بس یہ ہے وہ اصل نکتہ، جس کی بنا پر آنکھوں کا عطیہ دینے کا جواز پیش کیا جاتا ہے، اور اس کو بہت بڑا ثواب سمجھا جاتا ہے، لیکن غور کرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ یہ نکتہ اسلامی ذہن کی پیداوار نہیں، بلکہ حیات بعد الموت (مرنے کے بعد کی زندگی) کے انکار پر مبنی ہے۔
اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی کی زندگی کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ زندگی کا ایک مرحلہ طے ہونے کے بعد دُوسرا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے، مرنے کے بعد بھی آدمی زندہ ہے، مگر اس کی زندگی کے آثار اس جہان میں ظاہر نہیں ہوتے۔ زندگی کا تیسرا مرحلہ حشر کے بعد شروع ہوگا اور یہ دائمی اور ابدی زندگی ہوگی۔
جب یہ بات طے ہوئی کہ مرنے کے بعد بھی زندگی کا سلسلہ تو باقی رہتا ہے مگر اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ تو اَب اس پر غور کرنا چاہئے کہ کیا آدمی کو دیکھنے کی ضرورت صرف اسی زندگی میں ہے؟ کیا مرنے کے بعد کی زندگی میں اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں؟ معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی اس کا جواب یہی دے گا کہ اگر مرنے کے بعد کسی نوعیت کی زندگی ہے تو جس طرح زندگی کے اور لوازمات کی ضرورت ہے اسی طرح بینائی کی بھی ضرورت ہوگی۔
جب یہ بات طے ہوئی کہ جو شخص آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرتا ہے اس کے بارے میں دو میں سے ایک بات کہی جاسکتی ہے، یا یہ کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتا، یا یہ کہ وہ ایثار و قربانی کے طور پر اپنی بینائی کا آلہ دُوسروں کو عطا کردینا اور خود بینائی سے محروم ہونا پسند کرتا ہے۔ لیکن کسی مسلمان کے بارے میں یہ تصوّر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی کا قائل نہیں ہوگا، لہٰذا ایک مسلمان اگر آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ خدمتِ خلق کے لئے رضاکارانہ طور پر اندھا ہونا پسند کرتا ہے۔ بلاشبہ اس کی یہ بہت بڑی قربانی اور بہت بڑا ایثار ہے، مگر ہم اس سے یہ ضرور کہیں گے کہ جب وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بہ اختیارِ خود اندھاپن قبول فرما رہے ہیں تو اس چند روزہ زندگی میں بھی یہی ایثار کیجئے اور اس قربانی کے لئے مرنے کے بعد کا انتظار نہ کیجئے․․․!
ہماری اس تنقیح سے معلوم ہوا ہوگا کہ:
۱:… آنکھوں کا عطیہ دینے کے مسئلے میں اسلامی نقطہٴ نظر سے مرنے سے پہلے اور بعد کی حالت یکساں ہے۔
۲:… آنکھوں کا عطیہ دینے کی تجویز اسلامی ذہن کی پیداوار نہیں، بلکہ حیات بعد الموت کے انکار کا نظریہ اس کی بنیاد ہے۔
۳:… زندگی میں انسانوں کو اپنے وجود اور اعضاء پر تصرف حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود اس کا اپنے کسی عضو کو تلف کرنا نہ قانوناً صحیح ہے، نہ شرعاً، نہ اخلاقاً۔ اسی طرح مرنے کے بعد اپنے کسی عضو کے تلف کرنے کی وصیت بھی نہ شرعاً دُرست ہے، نہ اخلاقاً۔ بقدرِ ضرورت مسئلے کی وضاحت ہوچکی، تاہم مناسب ہوگا کہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات نقل کردئیے جائیں۔
”عن عائشة رضی الله عنہا قالت: ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: کسر عظم المیت ککسرہ حیًّا۔“
(رواہ مالک ص:۲۲۰، ابوداوٴد ص:۴۵۸، ابن ماجہ ص:۱۱۷)
ترجمہ:… ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میّت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندگی میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے۔“
”عن عمرو بن حزم قال: راٰنی النبی صلی الله علیہ وسلم متکئًا علٰی قبر، فقال: لا توٴذ صاحب ھذا القبر، أو لا توٴذہ۔ رواہ أحمد۔“ (مسند احمد، مشکوٰة ص:۱۴۹)
ترجمہ:… ”عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں قبر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر والے کو ایذا نہ دے۔“
”عن ابن مسعود: أذی الموٴمن فی موتہ کأذاہ فی حیاتہ۔“ (ابنِ ابی شیبہ، حاشیہ مشکوٰة ص:۱۴۹)
ترجمہ:… ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ موٴمن کو مرنے کے بعد ایذا دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی زندگی میں ایذا دینا۔“
حدیث میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا لمبا قصہ آتا ہے کہ وہ ہجرت کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، کسی جہاد میں ان کا ہاتھ زخمی ہوگیا، درد کی شدّت کی تاب نہ لاکر انہوں نے اپنا ہاتھ کاٹ لیا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی، ان کے رفیق نے کچھ دنوں کے بعد ان کو خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں ٹہل رہے ہیں مگر ان کا ہاتھ کپڑے میں لپٹا ہوا ہے، جیسے زخمی ہوتا ہے، ان سے حال احوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی برکت سے میری بخشش فرمادی۔ اور ہاتھ کے بارے میں کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: جو تو نے خود بگاڑا ہے اس کو ہم ٹھیک نہیں کریں گے۔
ان احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ میّت کے کسی عضو کو کاٹنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی زندگی میں کاٹا جائے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو عضو آدمی نے خود کاٹ ڈالا ہو یا اس کے کاٹنے کی وصیت کی ہو وہ مرنے کے بعد بھی اسی طرح رہتا ہے، یہ نہیں کہ اس کی جگہ اور عضو عطا کردیا جائے گا۔ اس سے بعض حضرات کا یہ استدلال ختم ہوجاتا ہے کہ جو شخص اپنی آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرجائے، اللہ تعالیٰ اس کو اور آنکھیں عطا کرسکتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ وہ اس کو نئی آنکھیں عطا کردے، مگر اس کے جواب میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو آپ کو بھی نئی آنکھیں عطا کرسکتے ہیں، لہٰذا آپ اس ”کرسکتے ہیں“ پر اعتماد کرکے کیوں نہ اپنی آنکھیں کسی نابینا کو عطا کردیں․․․! نیز اللہ تعالیٰ اس بینا کو بھی بینائی عطا کرسکتے ہیں تو پھر اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کیوں فرماتے ہیں․․․؟
خلاصہ یہ کہ جو شخص مرنے کے بعد بھی زندگی کے تسلسل کو مانتا ہو اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرنا کسی طرح صحیح نہیں، اور جو شخص حیات بعد الموت کا منکر ہو اس سے اس مسئلے میں گفتگو کرنا بے کار ہے۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

زیک

مسافر
ایدھی نے بھی اپنی آنکھیں عطیہ کیں۔ اس کو فالو کرتے ہوئے کون کون اعضا عطیہ کرنے کے بارے سوچ رہا ہے؟
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
۔
اسی طرح مرنے کے بعد اپنے کسی عضو کے تلف کرنے کی وصیت بھی نہ شرعاً دُرست ہے، نہ اخلاقاً۔ بقدرِ ضرورت مسئلے کی وضاحت ہوچکی، تاہم مناسب ہوگا کہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات نقل کردئیے جائیں۔
”عن عائشة رضی الله عنہا قالت: ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: کسر عظم المیت ککسرہ حیًّا۔“
(رواہ مالک ص:۲۲۰، ابوداوٴد ص:۴۵۸، ابن ماجہ ص:۱۱۷)
ترجمہ:… ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میّت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندگی میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے۔“
”عن عمرو بن حزم قال: راٰنی النبی صلی الله علیہ وسلم متکئًا علٰی قبر، فقال: لا توٴذ صاحب ھذا القبر، أو لا توٴذہ۔ رواہ أحمد۔“ (مسند احمد، مشکوٰة ص:۱۴۹)
ترجمہ:… ”عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں قبر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر والے کو ایذا نہ دے۔“
”عن ابن مسعود: أذی الموٴمن فی موتہ کأذاہ فی حیاتہ۔“ (ابنِ ابی شیبہ، حاشیہ مشکوٰة ص:۱۴۹)
ترجمہ:… ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ موٴمن کو مرنے کے بعد ایذا دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی زندگی میں ایذا دینا۔“
حدیث میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا لمبا قصہ آتا ہے کہ وہ ہجرت کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، کسی جہاد میں ان کا ہاتھ زخمی ہوگیا، درد کی شدّت کی تاب نہ لاکر انہوں نے اپنا ہاتھ کاٹ لیا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی، ان کے رفیق نے کچھ دنوں کے بعد ان کو خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں ٹہل رہے ہیں مگر ان کا ہاتھ کپڑے میں لپٹا ہوا ہے، جیسے زخمی ہوتا ہے، ان سے حال احوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی برکت سے میری بخشش فرمادی۔ اور ہاتھ کے بارے میں کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: جو تو نے خود بگاڑا ہے اس کو ہم ٹھیک نہیں کریں گے۔
ان احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ میّت کے کسی عضو کو کاٹنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی زندگی میں کاٹا جائے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو عضو آدمی نے خود کاٹ ڈالا ہو یا اس کے کاٹنے کی وصیت کی ہو وہ مرنے کے بعد بھی اسی طرح رہتا ہے، یہ نہیں کہ اس کی جگہ اور عضو عطا کردیا جائے گا۔ اس سے بعض حضرات کا یہ استدلال ختم ہوجاتا ہے کہ جو شخص اپنی آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرجائے، اللہ تعالیٰ اس کو اور آنکھیں عطا کرسکتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ وہ اس کو نئی آنکھیں عطا کردے، مگر اس کے جواب میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو آپ کو بھی نئی آنکھیں عطا کرسکتے ہیں، لہٰذا آپ اس ”کرسکتے ہیں“ پر اعتماد کرکے کیوں نہ اپنی آنکھیں کسی نابینا کو عطا کردیں․․․! نیز اللہ تعالیٰ اس بینا کو بھی بینائی عطا کرسکتے ہیں تو پھر اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کیوں فرماتے ہیں․․․؟
خلاصہ یہ کہ جو شخص مرنے کے بعد بھی زندگی کے تسلسل کو مانتا ہو اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرنا کسی طرح صحیح نہیں، اور جو شخص حیات بعد الموت کا منکر ہو اس سے اس مسئلے میں گفتگو کرنا بے کار ہے۔
اول: میت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندگی میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے۔
دوم: قبر کے ساتھ ٹیک لگانے پر فرمایا: قبر والے کو ایذا نہ دے۔
سوم: مومن کو مرنے کے بعد ایذا دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی زندگی میں ایذا دینا۔
چہارم: جہاد میں صحابی کا ہاتھ زخمی ہوا، انہوں نے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ بعد از موت ہاتھ کے بارے میں فرمایا گیا: جو تو نے بگاڑا ہے، اس کو ہم ٹھیک نہیں کریں گے۔
ان چاروں حوالہ جات میں عطیہ کرنے کا بیان کہیں نہیں آتا۔
عطیہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو تکلیف دی لیکن اس لیے دی تاکہ کسی دوسرے کا بھلا ہو جائے۔
کیا ایسی کوئی حدیث یا قرآنی آیت آپ کے علم میں ہے جو اس بات کی کوئی مثال پیش کرتی ہو؟
ہمارے سامنے ایک ایسی مثال موجود ہے۔ کافی مشہور مثال ہے۔ میرے پاس حوالہ نہیں لیکن مثال اتنی مشہور ہے کہ حوالے کی ضرورت بھی نہیں۔
ایک جنگ میں موت کے قریب، جاں بہ لب صحابہ(یا دیگر اللہ والے ) پانی مانگ رہے تھے۔ کسی نے پانی دیا تو دوسری طرف سے آواز آئی کہ مجھے پانی پلا دو۔ پانی جسے پلانے لگے تھے، اس نے کہا اُسے پہلے دے دو۔ پلانے والا اس طرف چلا گیا۔ وہاں بھی یہی ہوا۔ پانی پلانے لگے تو پھر آواز آئی پانی پلا دو۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ اس کو پلا دو۔ وہ تیسرے کی طرف گئے تو وہ جان سے گزر چکا تھا۔ واپس آئے تو دوسرا اور پھر واپس گئے تو پہلا بھی اللہ کے حضور جا چکا تھا۔
ہم مانتے ہیں یہاں اعضا عطیہ کرنے کی بات نہیں ہو رہی۔ لیکن اگر آپ کو معلوم ہو کہ پانی نہ پینے سے آپ مر سکتے ہیں، آپ پھر بھی پانی دوسرے کو دے دیں تو کیا دلائل کی رو سے یہ خودکشی نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا اس پر آپ خودکشی کا حکم عائد کریں گے؟ انہوں نے تو عطیہ دینے کے لیے جان گنوا دی۔ اعضا دینا تو چھوٹی سی بات ہے جس سے تکلیف پہنچتی ہے مردے اور جاندار دونوں کو، لیکن دوسروں کے لیے جان دے دینا کیا ہے؟ خودکشی؟
معذرت کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے دلائل کے خلاف نہیں ہوں، لیکن بات کو سمجھنے کے لیے یہ ایک سوال ہے جس کا جواب ضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ اعضاء عطیہ کرنے کے بارے میں جائز یا ناجائز ہونے کی رائے دی جائے۔
 
اس طرح کی باتیں سنی ہوئی تھیں لیکن کبھی یقین نہیں آیا تھا کہ آجکل پڑھے لکھے لوگ ہیں کہاں ان باتوں کو مانتے ہوں گے۔ لیکن ایک مرتبہ ایک بینک کی کلائنٹ سائیڈ پر گیا تو لنچ ان کے ساتھ ہی کرنا پڑا۔ میرے علاوہ بینک کے جو چار افراد ٹیبل پر بیٹھے تھے اسی ٹاپک پر گفتگو کررہے تھے کہ اعضاء عطیہ کرنا بہت گناہ کی بات ہے اور سیکس کی تبدیلی تو اللہ میاں کے کاموں میں مداخلت ہے۔:) لقمہ منہ میں رکھتے ہوئے بے ساختہ دل چاہا کہ ان کی گفتگو میں لقمہ دے دوں لیکن پھر یہ سوچ کر کہ آفس کی طرف سے آیا ہوں نامناسب بات ہوگی، خاموش رہا۔:)
ویسے خاکسار نے اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کی وصیت کی ہوئی ہے۔
جب ادھر لقمہ نہیں دے سکے تو پھر ادھر شوشے موشے کیوں چھوڑنے شروع کر دیے ہیں جناب صاحب۔
مجہول انداز میں مرضی کے قصے ہر کوئی چھوڑ لیتا ہے۔
حافظ بھی کسی جگہ کہتا ہے؛
برو فسانہ مخوان و فسوں ودم حافظ
کزیں فسانہ وا فسوں مرا بے یا دست
 
یقیناً یہ ٹیکنالوجی بھی سب سے پہلے اسرائیلی یہودی ہی بنا دیں گے اور پھر اسکے استعمال کیخلاف بھی فتاویٰ کی روائیتی بھرمار ہوجانی ہے ، حتیٰ کے مفتی اعظم کی اپنی زندگی بچانے کیلئے اس یہودی ٹیکنالوجی کی ضرورت آن پڑے :)


کیا آپ بھی دیگر الباکستانیوں کی طرح سعودی ’’فقہا‘‘ کے مضحکہ خیز فتاویٰ کو مسلمانوں کیلئے ’’پابند‘‘ سمجھتے ہیں؟ :)
ادھر بڑی رگ پھٹکتی ہے۔
 
برو فسانہ مخوان و فسوں ودم حافظ
کزیں فسانہ وا فسوں مرا بے یا دست

برو، فسانہ مخوان و فسون مدم حافظ
کزاین فسانہ و افسون مرا بسی یاد است

رو: رفتن یعنی جانا سے مضارع۔ برو فعل امر یعنی جا۔
خوان: خواندن یعنی پڑھنا سے مضارع۔
دم: دمیدن یعنی پھونکنا سے مضارع۔
کزین: اس سے
بسی: بہت
 
برو، فسانہ مخوان و فسون مدم حافظ
کزاین فسانہ و افسون مرا بسی یاد است

رو: رفتن یعنی جانا سے مضارع۔ برو فعل امر یعنی جا۔
خوان: خواندن یعنی پڑھنا سے مضارع۔
دم: دمیدن یعنی پھونکنا سے مضارع۔
کزین: اس سے
بسی: بہت
ہم نے تو ترجمے والا دیوان پڑھ رکھا ہے جب ضرورت پڑے نقل کر لیتےہیں۔
 

سید عمران

محفلین
جب ادھر لقمہ نہیں دے سکے تو پھر ادھر شوشے موشے کیوں چھوڑنے شروع کر دیے ہیں جناب صاحب۔
مجہول انداز میں مرضی کے قصے ہر کوئی چھوڑ لیتا ہے۔
حافظ بھی کسی جگہ کہتا ہے؛
برو فسانہ مخوان و فسوں ودم حافظ
کزیں فسانہ وا فسوں مرا بے یا دست

وہاں پٹنے کا ڈر ہوگا...
:):):)

دین کے خالص فقہی احکام کو بھی مذاق اور کھیل بنالیا گیا ہے...
حالاں کہ ان نام نہاد دانشوروں کو ان اصولوں کی ہوا تک نہیں لگی جن کی بنا پر نہایت غور و خوض کے بعد فتوی دیا جاتا ہے...
اصول فقہ کی ان کتابوں کا مطالعہ تو دور کی بات ناموں تک کا علم بھی نہیں ہے...
 

سید عمران

محفلین
ادھر بڑی رگ پھٹکتی ہے۔
کچھ لوگ روزانہ دھڑلے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جان بوجھ کر بلاوجہ شوشے چھوڑتے ہیں...
ان کا اپنا مذہب جو بھی ہو لیکن مذہب اسلام کے خلاف سوچ سوچ کر نکات لانے کا مذہبی فریضہ نہایت تندہی، باعث ثواب اور ذریعہ نجات سمجھ کر کرتے رہتے ہیں..
جبکہ یہودی اور عیسائی دنیا بھر میں جو چاہے ننگی جارحیت کرتے پھریں... ان کے خلاف بولتے زبان گھستی ہے...
 
وہاں پٹنے کا ڈر ہوگا...
:):):)

دین کے خالص فقہی احکام کو بھی مذاق اور کھیل بنالیا گیا ہے...
حالاں کہ ان نام نہاد دانشوروں کو ان اصولوں کی ہوا تک نہیں لگی جن کی بنا پر نہایت غور و خوض کے بعد فتوی دیا جاتا ہے...
اصول فقہ کی ان کتابوں کا مطالعہ تو دور کی بات ناموں تک کا علم بھی نہیں ہے...
بس گل چائیدی اے مولویاں دے خلاف چاہے جیویں دی مرضی ہووے۔
جے فیصلہ اناں دی عقل دے مطابق ہووے تے کوئی تعریف نہیں جے نہ ہووے تے فیر بس اللہ دی پناہ۔
 

سید عمران

محفلین
بس گل چائیدی اے مولویاں دے خلاف چاہے جیویں دی مرضی ہووے۔
جے فیصلہ اناں دی عقل دے مطابق ہووے تے کوئی تعریف نہیں جے نہ ہووے تے فیر بس اللہ دی پناہ۔
مولوی کا کوئی فتوی ان کی مرضی کے مطابق ہوہی نہیں سکتا...
ان کی مرضی کے فتوے دینے کے لیے یہودی اور عیسائی مرگئے ہیں کیا؟؟؟
 
Top