تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں (تابش کانپوری)

نیرنگ خیال

لائبریرین
اس غزل کو ٹائپ کرنے کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ یہ مشہور زمانہ غزل شاید ابھی تک پسندیدہ کلام کا حصہ نہیں بنی۔ کم از کم میری تلاش کے مطابق۔ اور دوسری وجہ اس کے اکثر اشعار کا بگڑی ہوئی حالت میں مشہور ہونا ہے۔ تابش کانپوری کی یہ غزل اصل حالت میں آپ احباب کی باذوق بصارتوں کی نذر ہے۔

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں
کوئی اتنا تو آکر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروں

میں نے خاک نشیمن کو بوسے دیے اوریہ کہہ کے بھی دل کو سمجھا لیا
آشیانہ بنانا مرا کام تھا کوئی بجلی گرائے تو میں کیا کروں

میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا، میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے
جو مرا فرض تھا میں نے پورا کیا، اب خدا ہی نہ چاہے تو میں کیا کروں

شوق پینے کا مجھ کو زیادہ نہ تھا،ترک توبہ کا کوئی ارادہ نہ تھا
میں شرابی نہیں مجھ کو تہمت نہ دو، وہ نظر سے پلائے تو میں کیا کروں

حسن اور عشق دونوں میں تفریق ہے، پر انہیں دونوں پہ میرا ایمان ہے
گر خدا روٹھ جائے تو سجدے کروں، اور صنم روٹھ جائے تو میں کیا کروں

چشم ساقی سے پینے کو میں جو گیا، پارسائی کا میری بھرم کھل گیا
بن رہا ہے جہاں میں تماشا مرا، ہوش مجھ کو نہ آئے تو میں کیا کروں​
 

اوشو

لائبریرین
یہ غزل منی بیگم اور عزیز میاں کی آواز میں اکثر سنتا ہوں اور سر دھنتا ہوں۔
لیکن اصلی حالت میں پڑھ کر کچھ حیرت ہوئی کہ مذکورہ دونوں گلوکار جو بھی گاتے ہیں یا تھے ان کا انتخاب بہت عمدہ ہوتا ہے تلفظ ، ادائیگی ، اور درست شعر پڑھنے پر بھی توجہ ہے ان کی ۔ لیکن اس غزل کے معاملے تو دونوں نے غلطیاں کی ہیں۔ شاید طرز میں لانے کے لیے کچھ رد و بدل کی گئی ہو۔ لیکن اصل حالت میں بھی غزل طرز پر پوری اتر رہی ہے۔
شاعر کانام بھی ذہن سے محو ہو چکا تھا۔ یاد دلانے کے لیے شکریہ
بہت اعلیٰ نیرنگ خیال جی
بہت شکریہ ٹیک کرنے کے لیے
خوش رہیں
بہت جئیں :)
 

اوشو

لائبریرین
میرے مرنے کی تم مانگتے ہو دعا ، لے گلا گھونٹ دے میں بھی بیزار ہوں
موت اب تک تو دامن بچاتی رہی ، تو بھی دامن بچائے تو میں کیا کروں

نیرنگ خیال جی یہ شعر بھی عزیز میاں نے پڑھا سید شہزاد ناصر جی کی شیئر کی گئی ویڈیو میں۔ لیکن یہ آپ کی شیئر کی گئی غزل میں نہیں ہے۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
مکرر تعریف کیے دیتے ہیں۔ :)

بہت عمدہ انتخاب ہے۔ :)

خوش رہیے۔
مکرر۔۔۔۔ :eek:
شکریہ شکریہ

یہ غزل منی بیگم اور عزیز میاں کی آواز میں اکثر سنتا ہوں اور سر دھنتا ہوں۔
لیکن اصلی حالت میں پڑھ کر کچھ حیرت ہوئی کہ مذکورہ دونوں گلوکار جو بھی گاتے ہیں یا تھے ان کا انتخاب بہت عمدہ ہوتا ہے تلفظ ، ادائیگی ، اور درست شعر پڑھنے پر بھی توجہ ہے ان کی ۔ لیکن اس غزل کے معاملے تو دونوں نے غلطیاں کی ہیں۔ شاید طرز میں لانے کے لیے کچھ رد و بدل کی گئی ہو۔ لیکن اصل حالت میں بھی غزل طرز پر پوری اتر رہی ہے۔
شاعر کانام بھی ذہن سے محو ہو چکا تھا۔ یاد دلانے کے لیے شکریہ
بہت اعلیٰ نیرنگ خیال جی
بہت شکریہ ٹیک کرنے کے لیے
خوش رہیں
بہت جئیں :)
جناب ملک صاب۔۔۔ آپ کی بات سے متفق ہوں۔ مگر کافی غزلیں ان غزل خوانوں نے بگاڑی ہیں۔ دیواروں سے باتیں کرنا بھی اس کی ہی ایک مثال ہے۔ :)
انتخاب کو پسند کرنے پر شکرگزار ہوں۔

کیا شاہکار شریکِ محفل کیا ہے
بس میں ہوتا تو ہر لفظ پر زبردست کی ریٹنگ دیتا
بس اتنا کہ سکتا ہوں بقول محمد وارث ایک حج کا ثواب آپ کی نظر
اللہ ہمیشہ خوش رکھے آمین
واہ شاہ سرکار۔۔۔ اور یہ عزیز میاں کی آواز کے لئے بطور خاص شکریہ۔۔۔ ایک میکدے کا ثواب آپ کی نذر ہے۔ :)

میرے مرنے کی تم مانگتے ہو دعا ، لے گلا گھونٹ دے میں بھی بیزار ہوں
موت اب تک تو دامن بچاتی رہی ، تو بھی دامن بچائے تو میں کیا کروں

نیرنگ خیال جی یہ شعر بھی عزیز میاں نے پڑھا سید شہزاد ناصر جی کی شیئر کی گئی ویڈیو میں۔ لیکن یہ آپ کی شیئر کی گئی غزل میں نہیں ہے۔
کوئی گل نئیں سر۔۔۔ :D
میں دیکھتا ہوں ملک صاب اس شعر کو۔۔۔ :)

عمدہ شیئرنگ جی۔
شکریہ قبول فرمائیں
شکرگزار ہوں جناب شیزان۔۔۔ :)
 
واہ شاہ سرکار۔۔۔ اور یہ عزیز میاں کی آواز کے لئے بطور خاص شکریہ۔۔۔ ایک میکدے کا ثواب آپ کی نذر ہے۔ :)
کیا غمخوار نے رسوا،لگے آگ اس محبت کو
نہ لاوے تاب جو غم کی،وہ میرا رازداں کیوں ہو
میاں جی کیوں اس عمر میں پول کھولنے پر تُلے ہوئے ہو
اب تو یہ حال ہے
وقتِ پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

اُسکے گھر لے چلا مجھے دیکھو
دلِ خانہ خراب کی باتیں

واعظا چھوڑ ذکرِ نعمت خُلد
کر شراب و کباب کی باتیں

تجھ کو رسوا کریں گی خوب، اے دل
تیری یہ اضطراب کی باتیں

سُنتے ہیں اُس کو چھیڑ چھیڑ کے ہم
کس مزے سے عتاب کی باتیں

ذکر کیا جوشِ عشق میں اے ذوقؔ
ہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
کیا غمخوار نے رسوا،لگے آگ اس محبت کو
نہ لاوے تاب جو غم کی،وہ میرا رازداں کیوں ہو
اپنی لے سے غافل رہ کر ہجر بیاں کرتے ہیں
آہوں سے ناواقف ہیں یہ شور مچانے والے

میاں جی کیوں اس عمر میں پول کھولنے پر تُلے ہوئے ہو

سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال؟ جو کچھ گفتگو کریں

اب تو یہ حال ہے
وقتِ پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
اک خوابِ ہُنر کی آہٹ سے کیا آگ لہو میں جلتی ہے
کیا لہر سی دل میں چلتی ہے! کیا نشہ سر میں رہتا ہے

اُسکے گھر لے چلا مجھے دیکھو
دلِ خانہ خراب کی باتیں
ربط کی بات اور ہے‘ ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے‘ اِس میں کبھی گلاب تھے

واعظا چھوڑ ذکرِ نعمت خُلد
کر شراب و کباب کی باتیں
بے وضو پائے خمِ بادہ کو چُھو لیتا ہے
خاک آتی ہے تجھے مرتبہ دانی واعظ

تجھ کو رسوا کریں گی خوب، اے دل
تیری یہ اضطراب کی باتیں
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی

سُنتے ہیں اُس کو چھیڑ چھیڑ کے ہم
کس مزے سے عتاب کی باتیں
سنجیدہ بن کے بیٹھو اب کیوں نہ تم کہ پہلے
اچھی طرح سے مجھ کو پامال کرلیا ہے

ذکر کیا جوشِ عشق میں اے ذوقؔ
ہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں
وہی تھا حال میرا، جو بیاں میں آ نہ سکتا تھا
جسے کرتا رہا افشا، سکوتِ رازداں برسوں
 
اپنی لے سے غافل رہ کر ہجر بیاں کرتے ہیں
آہوں سے ناواقف ہیں یہ شور مچانے والے



سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال؟ جو کچھ گفتگو کریں


اک خوابِ ہُنر کی آہٹ سے کیا آگ لہو میں جلتی ہے
کیا لہر سی دل میں چلتی ہے! کیا نشہ سر میں رہتا ہے


ربط کی بات اور ہے‘ ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے‘ اِس میں کبھی گلاب تھے


بے وضو پائے خمِ بادہ کو چُھو لیتا ہے
خاک آتی ہے تجھے مرتبہ دانی واعظ


رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی


سنجیدہ بن کے بیٹھو اب کیوں نہ تم کہ پہلے
اچھی طرح سے مجھ کو پامال کرلیا ہے


وہی تھا حال میرا، جو بیاں میں آ نہ سکتا تھا
جسے کرتا رہا افشا، سکوتِ رازداں برسوں
میں نے غلط نہیں کہا تھا
"تُسی بندے بڑے خطرناک ہو"
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُسکا آسماں کیوں ہو
 
آخری تدوین:
اس غزل کو ٹائپ کرنے کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ یہ مشہور زمانہ غزل شاید ابھی تک پسندیدہ کلام کا حصہ نہیں بنی۔ کم از کم میری تلاش کے مطابق۔ اور دوسری وجہ اس کے اکثر اشعار کا بگڑی ہوئی حالت میں مشہور ہونا ہے۔ تابش کانپوری کی یہ غزل اصل حالت میں آپ احباب کی باذوق بصارتوں کی نذر ہے۔

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں
کوئی اتنا تو آکر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروں

میں نے خاک نشیمن کو بوسے دیے اوریہ کہہ کے بھی دل کو سمجھا لیا
آشیانہ بنانا مرا کام تھا کوئی بجلی گرائے تو میں کیا کروں

میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا، میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے
جو مرا فرض تھا میں نے پورا کیا، اب خدا ہی نہ چاہے تو میں کیا کروں

شوق پینے کا مجھ کو زیادہ نہ تھا،ترک توبہ کا کوئی ارادہ نہ تھا
میں شرابی نہیں مجھ کو تہمت نہ دو، وہ نظر سے پلائے تو میں کیا کروں

حسن اور عشق دونوں میں تفریق ہے، پر انہیں دونوں پہ میرا ایمان ہے
گر خدا روٹھ جائے تو سجدے کروں، اور صنم روٹھ جائے تو میں کیا کروں

چشم ساقی سے پینے کو میں جو گیا، پارسائی کا میری بھرم کھل گیا
بن رہا ہے جہاں میں تماشا مرا، ہوش مجھ کو نہ آئے تو میں کیا کروں​

بہت بہت شکریہ محترم
 

آوازِ دوست

محفلین
اس غزل کو ٹائپ کرنے کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ یہ مشہور زمانہ غزل شاید ابھی تک پسندیدہ کلام کا حصہ نہیں بنی۔ کم از کم میری تلاش کے مطابق۔ اور دوسری وجہ اس کے اکثر اشعار کا بگڑی ہوئی حالت میں مشہور ہونا ہے۔ تابش کانپوری کی یہ غزل اصل حالت میں آپ احباب کی باذوق بصارتوں کی نذر ہے۔

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں
کوئی اتنا تو آکر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروں

میں نے خاک نشیمن کو بوسے دیے اوریہ کہہ کے بھی دل کو سمجھا لیا
آشیانہ بنانا مرا کام تھا کوئی بجلی گرائے تو میں کیا کروں

میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا، میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے
جو مرا فرض تھا میں نے پورا کیا، اب خدا ہی نہ چاہے تو میں کیا کروں

شوق پینے کا مجھ کو زیادہ نہ تھا،ترک توبہ کا کوئی ارادہ نہ تھا
میں شرابی نہیں مجھ کو تہمت نہ دو، وہ نظر سے پلائے تو میں کیا کروں

حسن اور عشق دونوں میں تفریق ہے، پر انہیں دونوں پہ میرا ایمان ہے
گر خدا روٹھ جائے تو سجدے کروں، اور صنم روٹھ جائے تو میں کیا کروں

چشم ساقی سے پینے کو میں جو گیا، پارسائی کا میری بھرم کھل گیا
بن رہا ہے جہاں میں تماشا مرا، ہوش مجھ کو نہ آئے تو میں کیا کروں​
بہت خوب جی، کیا بات ہے!
 
Top