لاہور کے چرچ میں 'عید میلاد' کا جشن، نماز بھی ادا کی گئی

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

ظفری

لائبریرین
کیا آپ کو امینہ ودود یاد نہیں جس نے امریکہ میں ایک گرجا گھر میں جمعہ کی نماز کی امامت کی تھی اور اس کے پیچھے مردوں اور عورتوں نے اکٹھے نماز ادا کی تھی۔
یہ الگ بات ہے کہ وہ نماز تھی یا نماز پڑھنے کی ایکٹنگ کی گئی تھی۔

IH-Iqb1.jpg
1111220731_1084.jpg
4283438992_061dc8b6f7.jpg
2005050100020401.jpg
wadud100_v-ARDFotogalerie.jpg
کیا دین میں اللہ اور رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایسا واضع حکم موجود ہے ۔ جس میں عورت کی امامت کو کلی طور منع فرمایا گیا ہو ۔ ؟
 

ظفری

لائبریرین
اصولاً تو مجھے اس بات کے بعد کے یہاں، میں الفاظوں سے کھیلنے آؤں گا ۔ مجھے اپنا نقطہ نظر واضع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ مگر پھر سوچا کہ کئی ایسے بھی لوگ ہونگے ۔ جواس آیت کو جو سورہ سے باہر نکال کر اپنی مرضی کے مطابق سب کے سامنے پیش کی جاتی ہے ۔ ان کو غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ واقعتاً ایسی ہی بات ہے کہ " یہود اور نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے " ۔ لہذا جو ایسا سمجھتے ہیں تو وہ میرا نقطہ نظر جانیں ۔ اور پھر قرآن کی مطالعہ کریں کہ میری بات کہاں تک صحیح ہے ۔ اگر وہ کوئی اور استدلال پیش کرسکتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے ۔ کیونکہ میں ہمیشہ اپنی بات کی طرف رجوع کرنے رحجان رکھتا ہوں ۔
یہ یہود نصاریٰ مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ یعنی اگر صرف اس رویے کی یہی توجیہہ سامنے رکھی جائے تو آپ کس طرح اپنا دین، یہود و نصاری ٰ پر وضع کرسکتے ہیں کہ آپ ان سے دوستی پر روا نہیں ہیں ۔جب آپ ان سے ملیں گے نہیں ۔ مسکر ا کر نہیں دیکھیں گے ۔ دوستی کا ہاتھ آگے نہیں بڑھائیں گے ۔ تو اپنا دین ان کے سامنے کیسے پیش کریں گے ۔ یعنی یہ رویہ سب سے پہلے فطرت اور عقلی بنیادوں پر ہی پورا نہیں اترتا ۔
اب آجایئے ۔قرآن کی اس آیت کی طرف ۔ جسے سارے سیاق و سباق سے نکال کر ایک الگ مفہوم میں پیش کیا گیاہے ۔ اس کا بھی آپ کو اندازہ ہوجائے گا جب آپ اس آیت کے سیاق وسباق پر غور کریں گے ۔ قرآن مجید میں یہ بات کہی گئی ہے ۔ وہ ایک خاص موقع سے منسلک ہے ۔ یعنی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مدینے میں اتمامِ حجت کرلیا ۔ اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود وہاں کے یہود اور نصاری سازشوں سے باز نہیں آئے ۔ اور اس موقع پر مسلمانوں کیساتھ ان کے روابط بھی تھے ۔ کاروباری مراسم تھے ، پڑوسی تھے ، ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے ۔ اس موقع پر اللہ نے حکم دیا کہ ان کیساتھ اب تعلقات قطع کرلو کہ اب یہ عذاب کی زد میں آنے والے ہیں ۔ کیونکہ ان پر اتمامِ حجت پوری ہوچکی تھی ۔ یہ بات اس خاص موقع پر کہی گئی تھی ۔ اس کے بعد کے لوگوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر آپ اس سورہ کو وہاں سے پڑھیں جہاں اتمام حجت پوری ہو رہی ہے اور پھر اس آیات پر آئیں تو یہ بات بلکل واضع ہوجاتی ہے کہ یہ حکم ایک خاص موقع کے لیئے تھا ۔ اور وہ موقع اتمامِ حجت کا تھا ۔
اب رہی یہ با ت کہ آپ یہ روابط مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کرتے ہیں تو یہود و نصاریٰ سے کیا ، کسی بھی کریں گے تو یہ ایک جرم بن جائیگی ۔دنیا میں تعلقات اور روابط کا ایک پرانا سلسلہ ہے ۔ ایک تعلق دوستی اور اعتماد کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ ایک تعلق ورکنگ ریلیشن سے بھی پیدا ہوتا ہے ۔ کاروباری تقاضے ہوتے ہیں ۔ پڑوسیوں کے حقوق ہوتے ہیں ۔ ان سب کو مدنظر رکھ کر تعلقات رکھے جاتے ہیں ۔ مگر اس آیات کو جس طرح Interpreted کیا جاتا ہے ۔ میری سمجھ نہیں آتا کہ اس سے لوگ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
 

ظفری

لائبریرین
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں امریکہ آیا تھا تو مساجد بہت کم تھیں ۔ نمازِ جمعہ کے لیئے ہمیں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔کیونکہ جگہ کی قلت تھی ۔ الحمداللہ اب کافی مساجد ہیں اور اب یہاں جمعہ کا اہتما م بہت احسن طریقے سے کیا جاتا ہے ۔ مگر میں اوائل کی بات کر رہا ہوں ۔ اس وقت ہم نے چرچ اور ان کی کمیونٹی سے بات کی کہ ہمیں جمعہ کی جماعت کے لیئے کچھ جگہ چاہیئے ۔ تو انہوں نے بلاتامل نہ صرف اجازت دی بلکہ چرچ سے ساری بنچیں باہر نکال کر رکھ دیں ۔تاکہ ہم باآسانی وہاں کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکیں ۔ اور ہم وہاں اپنی نمازیں قائم کرتے رہے ۔ نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی تو آس پاس کے مکینوں نے اپنے گھروں کے سامنے ہماری گاڑیاں پارک کرنے کی اجازت دیدی۔ بعض اوقات وہ اپنے گھر سے باہر ہماری گاڑیوں کے جانے کا انتظار کرتے کہ ہماری گاڑیاں ان کے ڈرائیووے پر کھڑی ہوئی ہوتیں تھیں ۔
یہ سلسلہ کافی عرصہ چلتا رہا اور یہ معاملات دوسری اسٹیس اور شہروں میں بھی دیکھنے میں آئے کہ وہاں مقیم مسلمانوں کوعیسائیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہوا ۔ ہماری عبادات کے طور طریقے سے ان میں جستجو ہوئی کہ وہ اسلام کے بارے جانیں ۔ جب یہ رحجان عام ہوا تو بہت بڑی تعداد میں نومسلموں کی تعداد بھی بڑھی ۔
شکاگو کے نارتھ میں ایک اسٹریٹ جس کا نام ڈیوان ہے ۔ جسے عام طور پر دیوان سے پکارا جاتا ہے کہ وہاں انڈین اور پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد رہائش پذیر ہے ۔ وہاں یہودیوں نے اپنا کارنر کا ایک بڑا پلاٹ بیچنا چاہا ۔ جس کے امیدوار ہندو اور مسلمان تھے ۔ ہندو وہاں اپنا مندر بنانا چاہتے تھے جبکہ مسلمانوں کو مسجد بنانا مقصود تھا ۔ یہودیوں نے متفقہ طور پر یہ طے کیا یہ زمین صرف مسلمانوں کو بیچنا چاہیئے ۔ آج وہاں الحمداللہ ایک بہت بڑی جامع مسجد تعمیر ہے ۔
شکاگو کے مغربی سبرب جہاں میری رہائش ہے ۔ وہاں ایک بہت بڑی زمین پچھلے سال برائے فروخت تھی ۔ مسلمانوں نے اس کے حصول کے لیئے جستجو کی ۔ امریکہ میں عموما ایسی زمینیں جب برائے فروخت ہوں ۔ جہاں مذہبی اجتماع مقصود ہو تو وہاں آس پاس کے مکینوں سے اجازت لی جاتی ہے کہ یہاں مذہبی اجتماع کی اجازت دی جائے کہ نہیں ۔ 99 فیصد عیسائیوں گوروں کی اکثریت نے بغیر کسی جھجھک کے اجازت دیدی ۔ اور اب وہاں مسجد اوربڑے مدرسے کی تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں ۔ جو یہاں پیش کی جاسکتیں ہیں ۔ میرا ان مثالوں کا یہاں پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ سب اس لیئے ممکن ہوسکا کہ یہاں مسلمانوں نے یہودیوں اور نصاری کو اپنا دشمن نہیں سمجھا بلکہ ان سے دوستی بڑھائی ۔ جواباً ان کی طرف سے بھی خیر مقدم کیا گیا ۔ مگر ان تمام معاملات کا سب سے مثب پہلو یہ رہا کہ وہاں لوگوں کو اسلام کے بارے میں جستجو ہوئی ۔ انہوں نے اس کو جانا اور بہت بڑی تعداد میں اسلام کے حلقے میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔
اگر ان یہود اور نصاری کے ساتھ قرآن کی غلط انٹیرپیٹیشن کیساتھ ہم نے آج سلوک کیا ہوتا تو یہ اسلام کی طرف راغب نہیں ہوتے ۔ اور نہ ہی ہمیں یہ مذہبی آزادی اور مراعات ہرگز نہیں ملتی ۔
 

دوست

محفلین
چرچ میں نماز کو لے کر یار لوگوں نے چھ صفحوں پر چھنکنے بجائے ہیں۔ ہر کوئی فلسفہ کی چوٹی پر بیٹھا ایک جما ہو مہاتما بدھ، اور ہر کوئی عقلِ کُل سے ڈیڑھ ہاتھ اوپر کی چیز۔ جس قرآن سے یہ یہود و نصاریٰ کے دوست نہ ہونے کی آیات نکال کر لاتے ہیں اسی قرآن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آؤ اے اہل کتاب ہم اور تم اس بات پر متفق ہو جائیں جو ہم میں مشترک ہے، یعنی اللہ کی وحدانیت۔ اللہ غریقِ رحمت کرے سلسلہ عظیمیہ کے روحانی پیشوا سید عظیم برخیا یا ان کے جانشین خواجہ شمس الدین عظیمی کا ایک اعلان روحانی ڈائجسٹ میں شائع شدہ کئی بار پڑھ چکا ہوں کہ بالآخر اقوامِ عالم کو جو ایک نقطہ مشترک ملے گا وہ اللہ کی واحدانیت ہی ہو گا۔ اس کے علاوہ ظاہر ہے عبادات سے لے کر اعمال تک سب کچھ ہر مذہب میں مختلف ہو گا۔ اگر کبھی یہ اتفاق ہو سکا تو۔ خیر ہم نے تو بعثتِ رسول صلی اللہ علی وسلم کے بعد سارے اہل کتاب ہی جہنمی کر دئیے ہوئے ہیں۔ اس پر شک صرف چند ایک یہودیوں وغیرہ پر پیدا ہو سکتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی حمایت میں مدینہ میں وفات پا گئے لیکن اپنے مذہب پر ہی رہے۔ ان میں سے ایک یہودی راہب کا ذکر ملتا ہے جس نے اپنی جائیداد رسول اللہ ﷺ کے نام چھوڑ دی۔زمانہ نبوی ﷺ کے بعد تو سارے پکے ٹھکے کافر ہیں۔
اور فیر تبلیغ کے لیے مامے تو ہم ہی ہیں۔ ادھر کوئی مشنری آ جائے، آئے تو بچ کہ کہاں جائے۔ اُدھر ہمارے مشنری جائیں تو سارے فوائد کھٹ کر آئیں۔ دنیا بھی اور آخرت بھی کمائیں۔ اور پھر بھی یہ باتیں یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ مولوی صاحب کی مسجد میں یہ نقطہ نظر بڑا چنگا لگتا ہے۔یہ گندی دنیا جو ہے اس میں سارے گندے گندے لوگوں سے واسطہ رکھنا پڑتا ہے۔ پر مولوی صاحب کو کیا، وہ تو ہم جیسے گندے گندے لوگ اور گندی گندی دنیا اور اس کے گندے گندے کام۔ مولوی صاحب کا کام تو گٹا ننگا رکھ کر پانچ وقت متھا۔۔۔۔اس سے آگے میں بولا تو بہت سوں کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا۔
 

فاتح

لائبریرین
کئی ایسے بھی لوگ ہونگے ۔ جواس آیت کو جو سورہ سے باہر نکال کر اپنی مرضی کے مطابق سب کے سامنے پیش کی جاتی ہے ۔ ان کو غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ واقعتاً ایسی ہی بات ہے کہ " یہود اور نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے " ۔ لہذا جو ایسا سمجھتے ہیں تو وہ میرا نقطہ نظر جانیں ۔ اور پھر قرآن کی مطالعہ کریں کہ میری بات کہاں تک صحیح ہے ۔ اگر وہ کوئی اور استدلال پیش کرسکتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے ۔ کیونکہ میں ہمیشہ اپنی بات کی طرف رجوع کرنے رحجان رکھتا ہوں ۔
یہ یہود و نصاریٰ تمھارے دوست نہیں ہو سکتے والی آیت بھی اسی طرح بغیر سیاق و سباق کے پڑھائی جاتی ہے جیسے "ولا تقربوالصلوٰۃ" اور نماز کے قریب بھی مت جاؤ کی آیت کہ صاف حکم موجود ہے نماز کے قریب بھی نہ جانے کا :)
 
ظفری ، دوست اور فاتح ۔۔۔ بہت سارے سلام ۔۔ زبردست قسم کے پیغام پر ۔۔ میں ہوں متفق اور پسند کرتا ہوں آپ کی سمجھداری ۔۔۔

اے بی سی ڈی پڑھ لی بہت۔۔۔۔۔ اب کروں گا گندی بات ۔۔۔ گندی بات ۔۔۔

چونکہ فورم پر گندی بات کی اجازت نہیں ۔۔۔ لہذا ۔۔۔ میں چپ ۔۔!!!!
 
چرچ میں نماز کو لے کر یار لوگوں نے چھ صفحوں پر چھنکنے بجائے ہیں۔ ہر کوئی فلسفہ کی چوٹی پر بیٹھا ایک جما ہو مہاتما بدھ، اور ہر کوئی عقلِ کُل سے ڈیڑھ ہاتھ اوپر کی چیز۔ جس قرآن سے یہ یہود و نصاریٰ کے دوست نہ ہونے کی آیات نکال کر لاتے ہیں اسی قرآن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آؤ اے اہل کتاب ہم اور تم اس بات پر متفق ہو جائیں جو ہم میں مشترک ہے، یعنی اللہ کی وحدانیت۔ اللہ غریقِ رحمت کرے سلسلہ عظیمیہ کے روحانی پیشوا سید عظیم برخیا یا ان کے جانشین خواجہ شمس الدین عظیمی کا ایک اعلان روحانی ڈائجسٹ میں شائع شدہ کئی بار پڑھ چکا ہوں کہ بالآخر اقوامِ عالم کو جو ایک نقطہ مشترک ملے گا وہ اللہ کی واحدانیت ہی ہو گا۔ اس کے علاوہ ظاہر ہے عبادات سے لے کر اعمال تک سب کچھ ہر مذہب میں مختلف ہو گا۔ اگر کبھی یہ اتفاق ہو سکا تو۔ خیر ہم نے تو بعثتِ رسول صلی اللہ علی وسلم کے بعد سارے اہل کتاب ہی جہنمی کر دئیے ہوئے ہیں۔ اس پر شک صرف چند ایک یہودیوں وغیرہ پر پیدا ہو سکتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی حمایت میں مدینہ میں وفات پا گئے لیکن اپنے مذہب پر ہی رہے۔ ان میں سے ایک یہودی راہب کا ذکر ملتا ہے جس نے اپنی جائیداد رسول اللہ ﷺ کے نام چھوڑ دی۔زمانہ نبوی ﷺ کے بعد تو سارے پکے ٹھکے کافر ہیں۔
اور فیر تبلیغ کے لیے مامے تو ہم ہی ہیں۔ ادھر کوئی مشنری آ جائے، آئے تو بچ کہ کہاں جائے۔ اُدھر ہمارے مشنری جائیں تو سارے فوائد کھٹ کر آئیں۔ دنیا بھی اور آخرت بھی کمائیں۔ اور پھر بھی یہ باتیں یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ مولوی صاحب کی مسجد میں یہ نقطہ نظر بڑا چنگا لگتا ہے۔یہ گندی دنیا جو ہے اس میں سارے گندے گندے لوگوں سے واسطہ رکھنا پڑتا ہے۔ پر مولوی صاحب کو کیا، وہ تو ہم جیسے گندے گندے لوگ اور گندی گندی دنیا اور اس کے گندے گندے کام۔ مولوی صاحب کا کام تو گٹا ننگا رکھ کر پانچ وقت متھا۔۔۔ ۔اس سے آگے میں بولا تو بہت سوں کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا۔
دوست پائی تُساں بڑے جلا ل اچ او۔۔۔۔۔اج تے ہوگئی شاکر شاکر
ویسے صفائی نصف ایمان ہے ۔۔۔۔۔۔اس کا عملی نمونہ آپ پشاور آکر (پشاور میں مسلمانی زیادہ ہے) مساجد کے استنجا خانوں کا وزٹ کرکے دیکھ سکتے ہیں
 

گرائیں

محفلین
غور کرنے والی بہت ساری باتیں ہیں ۔ابن سعید اور نبیل آپ کی طرح نالائق نہیں ہیں آئی پی سے فور ا بندہ پکڑ لیتے ہیں میرا یا تو گھر ہے یا پھر دفتر ہے اور نہ ہی میری کوئی دوسری آئیڈی ہے۔اور میں شیر بندہ ہوں جیسا آپ کے سامنے ہوں ویسا ہی عام زندگی میں بھی ہوں ۔مجھ میں منافقت بالکل بھی نہیں ہے ۔ اور اللہ معاف کرے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب قرار پاؤں ۔۔۔ ۔ اللہ اس وقت سے پہلے موت دے دے۔۔۔ ۔قیصرانی آپ نے مجھے بہت زیادہ افسردہ کیا ہے اللہ تبارک تعالیٰ آپ سے سمجھے ۔
قیصرانی بھائی کو آج کل محفل کے ارکان پر بہت شک ہو رہا ہے۔ الف کا قافیہ ب سے اور ج کا قافیہ ص سے ملا رہے ہیں۔ نظر انداز کر دینا بہتر ہوگا۔ :-ڈ
 

x boy

محفلین
میری کیا مجال کہ میں کس کو برا کہوں ، کوئی کیسا بھی وہ اس کا فعل لیکن صراط مستقیم چونکہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں ہی بتانا ہے بتانے کے بعد چھوڑدیں۔
میرا کام کسی کی زاتیات سے نہیں لیکن ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
قول و فعل کے تضاد پر لکھتا ھوں،، جب کسی گاڑی کے بونٹ سے دھواں نکل رھا ھو تو ڈرائیور کو بتانا ضروری ھوتا ھے،،اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ گاڑی والے کے خلاف ھوں ،، یہ بھی ایک بیماری بن گئ ھے کہ جونہی کوئی کسی کی کوئی خامی بیان کرتا ھے تو لوگ اس کو اس کی مخالفت سمجھتے ھیں،، نتیجہ یہ ھے کہ مخلص بھی آج کل صرف تماشہ دیکھتے ھیں !
 
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں امریکہ آیا تھا تو مساجد بہت کم تھیں ۔ نمازِ جمعہ کے لیئے ہمیں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔کیونکہ جگہ کی قلت تھی ۔ الحمداللہ اب کافی مساجد ہیں اور اب یہاں جمعہ کا اہتما م بہت احسن طریقے سے کیا جاتا ہے ۔ مگر میں اوائل کی بات کر رہا ہوں ۔ اس وقت ہم نے چرچ اور ان کی کمیونٹی سے بات کی کہ ہمیں جمعہ کی جماعت کے لیئے کچھ جگہ چاہیئے ۔ تو انہوں نے بلاتامل نہ صرف اجازت دی بلکہ چرچ سے ساری بنچیں باہر نکال کر رکھ دیں ۔تاکہ ہم باآسانی وہاں کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکیں ۔ اور ہم وہاں اپنی نمازیں قائم کرتے رہے ۔ نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی تو آس پاس کے مکینوں نے اپنے گھروں کے سامنے ہماری گاڑیاں پارک کرنے کی اجازت دیدی۔ بعض اوقات وہ اپنے گھر سے باہر ہماری گاڑیوں کے جانے کا انتظار کرتے کہ ہماری گاڑیاں ان کے ڈرائیووے پر کھڑی ہوئی ہوتیں تھیں ۔
یہ سلسلہ کافی عرصہ چلتا رہا اور یہ معاملات دوسری اسٹیس اور شہروں میں بھی دیکھنے میں آئے کہ وہاں مقیم مسلمانوں کوعیسائیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہوا ۔ ہماری عبادات کے طور طریقے سے ان میں جستجو ہوئی کہ وہ اسلام کے بارے جانیں ۔ جب یہ رحجان عام ہوا تو بہت بڑی تعداد میں نومسلموں کی تعداد بھی بڑھی ۔
شکاگو کے نارتھ میں ایک اسٹریٹ جس کا نام ڈیوان ہے ۔ جسے عام طور پر دیوان سے پکارا جاتا ہے کہ وہاں انڈین اور پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد رہائش پذیر ہے ۔ وہاں یہودیوں نے اپنا کارنر کا ایک بڑا پلاٹ بیچنا چاہا ۔ جس کے امیدوار ہندو اور مسلمان تھے ۔ ہندو وہاں اپنا مندر بنانا چاہتے تھے جبکہ مسلمانوں کو مسجد بنانا مقصود تھا ۔ یہودیوں نے متفقہ طور پر یہ طے کیا یہ زمین صرف مسلمانوں کو بیچنا چاہیئے ۔ آج وہاں الحمداللہ ایک بہت بڑی جامع مسجد تعمیر ہے ۔
شکاگو کے مغربی سبرب جہاں میری رہائش ہے ۔ وہاں ایک بہت بڑی زمین پچھلے سال برائے فروخت تھی ۔ مسلمانوں نے اس کے حصول کے لیئے جستجو کی ۔ امریکہ میں عموما ایسی زمینیں جب برائے فروخت ہوں ۔ جہاں مذہبی اجتماع مقصود ہو تو وہاں آس پاس کے مکینوں سے اجازت لی جاتی ہے کہ یہاں مذہبی اجتماع کی اجازت دی جائے کہ نہیں ۔ 99 فیصد عیسائیوں گوروں کی اکثریت نے بغیر کسی جھجھک کے اجازت دیدی ۔ اور اب وہاں مسجد اوربڑے مدرسے کی تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں ۔ جو یہاں پیش کی جاسکتیں ہیں ۔ میرا ان مثالوں کا یہاں پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ سب اس لیئے ممکن ہوسکا کہ یہاں مسلمانوں نے یہودیوں اور نصاری کو اپنا دشمن نہیں سمجھا بلکہ ان سے دوستی بڑھائی ۔ جواباً ان کی طرف سے بھی خیر مقدم کیا گیا ۔ مگر ان تمام معاملات کا سب سے مثب پہلو یہ رہا کہ وہاں لوگوں کو اسلام کے بارے میں جستجو ہوئی ۔ انہوں نے اس کو جانا اور بہت بڑی تعداد میں اسلام کے حلقے میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔
اگر ان یہود اور نصاری کے ساتھ قرآن کی غلط انٹیرپیٹیشن کیساتھ ہم نے آج سلوک کیا ہوتا تو یہ اسلام کی طرف راغب نہیں ہوتے ۔ اور نہ ہی ہمیں یہ مذہبی آزادی اور مراعات ہرگز نہیں ملتی ۔
آپ جب اس طرح کی باتیں کرتے ہیں تو بہت اچھے لگتے ہیں۔ :)
 

دوست

محفلین
آج کل لگتا ہے یوسف 2 والے اکاؤنٹ کو آرام دیا ہوا ہے لئیق اور معاویہ منصور والے کھاتے سے ہی انٹری دے رہے ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
قیصرانی بھائی کو آج کل محفل کے ارکان پر بہت شک ہو رہا ہے۔ الف کا قافیہ ب سے اور ج کا قافیہ ص سے ملا رہے ہیں۔ نظر انداز کر دینا بہتر ہوگا۔ :-ڈ
آپ نے شاید پورا نہیں پڑھا ورنہ یہ بھی نظر سے گذر جاتا :)
میرا پیغام ذرا ایک بار پھر پڑھ لیجئے کہ میرا اشارہ کس جانب ہے۔ پھر اس کے بعد آپ کی "عقلمندی اور جذباتیت" پر بات کرتے ہیں :)
ایک ہلکا سا اشارہ بھی
اوہ سوری سر معذرت چاہتا ہوں میں سمجھا کہ آپ نے مجھے دونمبر ی بناد یا ہے
 

گرائیں

محفلین
آپ نے شاید پورا نہیں پڑھا ورنہ یہ بھی نظر سے گذر جاتا :)
خود ہی دیکھ لیجئے۔ آپ نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ آپ کا اشارہ روحانی بابا کی طرف نہیں کسی اور کی طرف تھا۔ اور یہ سب پڑھنے کے بعد ہی میں نے وہ سب لکھا۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں، آپ نے مجھے کباڑی بھی بنا دی اتھا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
خود ہی دیکھ لیجئے۔ آپ نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ آپ کا اشارہ روحانی بابا کی طرف نہیں کسی اور کی طرف تھا۔ اور یہ سب پڑھنے کے بعد ہی میں نے وہ سب لکھا۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں، آپ نے مجھے کباڑی بھی بنا دی اتھا۔
جی بالکل۔ اور یہ میری نہیں، محفل کے بہت سارے دوستوں کی رائے ہے جو اردو محفل کو اردو کی ہی محفل دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ اس محفل کو خود کش بمبار اور فسادیوں کی آماج گاہ :)
 

گرائیں

محفلین
تو آپ لوگوں کے پاس ہوں گے اتنے ایڈمن حقوق۔ نکال باہر کریں نا فسادیوں کو۔ 10 بارہ بندے رہ جائیں گے۔ اردو کی ترقی پر سیر حاصل گفتگو کریں۔
آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں۔
 

گرائیں

محفلین
خامخا اتنے بندوں پر فضول میں شک کرنا جب کہ آپ ثابت کر بھی نہیں سکتے۔ آپ کی اپنی کریڈیبیلیٹی خراب کرتا ہے۔ یا تو نکالیں سب کو جومشکوک ہیں۔ ان کی آئی پی وغیرہ شائع کریں۔ یا پھر خاموشی سے برداشت کریں۔ اگر ثبوت ملے تو دھڑلے سے بات کریں۔ اشارے کنائیوں میں بات کرنا اچھا نہیں لگتا نا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
تو آپ لوگوں کے پاس ہوں گے اتنے ایڈمن حقوق۔ نکال باہر کریں نا فسادیوں کو۔ 10 بارہ بندے رہ جائیں گے۔ اردو کی ترقی پر سیر حاصل گفتگو کریں۔
آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں۔
میں محض ایک عام سا رکن ہوں جو اپنے اضافی وقت میں لائبریری کے فرائض بھی سرانجام دیتا ہے۔ اس بارے آپ ایڈمن سے کہیئے :)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top