گائے کی حفاظت کے لیے انسانوں پر حملے

پہلی بات یہ ہے کہ میں خان صاحب سے گفتگو کر رہا تھا آپ درمیانی اقتباسات لینے لگیں۔ اور مجھے معلوم نہیں تھا آپ اسے ہار جیت کا کھیل سمجھ رہیں تھیں۔
آپ نے درست فرمایا مجھے گائے کے اس موضوع پرلوگوں کی مار پیٹ پر زیادہ افسوس نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے اہم چیزوں پر ہماری توجہ ہے۔ ہور جھوٹی مذمت ہم نہیں کرتے۔ وہ مضامین نام کے غیر معتبر باسی خبر پر بھی فی الحال مجھے افسوس نہیں ہے۔ آپ خوش رہیے۔
وعلیکم السلام

آپ کے بیان متضاد ہیں
اگر آپ کہتے ہیں کہ جگر والے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی مسلم کو خطرہ ہے پھر کہتے ہیں کہ محفوظ ہیں
اللہ کرے رہیں
پاکستانی مسلمان بہت محفوظ ہیں ۔ ایس ایس آر کو تحلیل کروایا۔ انڈیا جیسے خبیث ملک کو کنٹین کیا۔ اور کیا کریں۔ ہندوستانی مسلمان کی طاقت بھی پاکستان ہی ہے کشمیر کی بھی ۔ بلکہ سارے ساوتھ ایشیا کے ممالک کی بھی
سعودی بھی پاکستان پر ہی تکیہ کرتا ہے ۔ یواےای بھی۔
فلسطینی تک پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں
اب تو اسلامی دنیا کی سربراہی بھی ہمارے محترم جرنیل شریف کررہے ہیں
نہ صرف ہم۔محفوظ ہیں بلکہ اوروں کوبھی کررہے ہیں
 
مابدولت نے بہ زبان اہل فرنگ رقم اس لطیفے کو چونکہ خوبیء ظرافت کا مرقع پایا اورایک درودیوارشکن قہقہہ بھی بلند کیا جس کی شدت ارتعاش سےدرودیوارتونہیں ،البتہ مابدولت اپنے تئیں ضرور لرزہ براندام ہوکررہ گئے، چنانچہ فی الفور " پرمزاح " کی مثبت ریٹنگ برادرم ڈاکٹرعامر شہزاد کے بالا مراسلے کو تفویض کردی، جس پر یقینا" ناصرف انہیں ،بلکہ اغلب امکان ہے کہ کسی بھی زودرنج یا معتدل المزاج محفلین کوکوئی تعرض نہیں ہوگا۔ تاہم مابدولت کے لئے یہ امرتعجب خیزہے کہ فورم میں منفی ریٹنگ کی برملا بہم دستیابی کے باوجودبھی کبھی کبھار ان کا مسعتمل ہونا یہاں شجرممنوعہ کیوں قرار پاتا ہے۔اور استعمال کرنے والے کا ناطقہ بندکرنے کی کوشش بلاسود کے ساتھ ایک فصیحتۂ بیجا کیوں کھڑا کیا جاتا ہے؟:):)
جیسے پہلے کسی زمانے میں جنتریوں کی دوکان ہوا کرتی تھی ایسے ہی اب آپ ڈکشنریوں کی دوکان کھول لیں بھیا ۔ ورنہ آپ کی لکھی ہوئی اُردو سمجھنے کے لیے فرہنگ ِ آصفیہ کے موجد و مصنف سے کلاسز لینی پڑیں گی ۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
جیسے پہلے کسی زمانے میں جنتریوں کی دوکان ہوا کرتی تھی ایسے ہی اب آپ ڈکشنریوں کی دوکان کھول لیں بھیا ۔ ورنہ آپ کی لکھی ہوئی اُردو سمجھنے کے لیے فرہنگ ِ آصفیہ کے موجد و منصف سے کلاسز لینی پڑیں گی ۔
یہ کلاسز لینے کے لیے آپ کو جنت الفردوس میں جانا پڑے گا، کیونکہ امید ہے کہ فرہنگِ آصفیہ کے مؤلف موصوف اس خدمت کے بعد وہیں ہونگے، لیکن کسی ڈاکٹر کا وہاں پہنچنا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے :)
 
یہ کلاسز لینے کے لیے آپ کو جنت الفردوس میں جانا پڑے گا، کیونکہ امید ہے کہ فرہنگِ آصفیہ کے مؤلف موصوف اس خدمت کے بعد وہیں ہونگے، لیکن کسی ڈاکٹر کا وہاں پہنچنا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے :)
چلو بندہ کسے مریض دا ہتھ پھڑ کےای پہنچ جاندا اے:D
 
مسئلہ منفی ریٹنگ دینے کا ہے ہی نہیں بلکہ خود کو عالم فاضل اور عقل کل سمجھ کر ریٹنگ کا غلط استعمال کرنے کا ہے اور انتہائی مہذب طریقے سے توجہ دلانے پر بھی اپنی ضد پر قائم رہنے کے ساتھ ساتھ مزید اپنی غلطی پر برقرار رہتے ہوئے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرنا یقینا شرمناک ہونا چاہیے۔ منفی ریٹنگ کا استعمال قطعی ممنوع نہیں ہے لیکن اگر انتہائی سادہ اور بے ضرر مراسلہ پر خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے منفی ریٹنگ سے نوازنا یقینا محفلین کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اور انتہائی مہذبانہ طریقے سے توجہ دلانے کے باوجود نظرِثانی کی بجائے اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے غلطی کو بار بار دہرانا یقینا صحیح نہیں ہے۔ بزرگ صحیح کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں سے سلام لینے کے بعد اپنی راہ جدا کر لینی چاہیے کیونکہ اسی میں بہتری ہوتی ہے۔
 
Top