Jihad Ka Hukum جہاد کا حکم

میاں شاہد

محفلین

JihadKaHukum.jpg

 

خرم

محفلین
ہر حدیث کا، ہر حکم کا ایک پس منظر ہوتا ہے، ایک context ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں مُلا نے بس ایک آیت پکڑ کر، ایک حدیث کے چند الفاظ پکڑ کر فساد پھیلانا شروع کیا ہوا ہے۔ جہاد سب سے پہلے اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اس کا حکم کسی مُلا کو نہیں یاد۔ قتال پر پہنچ جاتے ہیں فٹا فٹ۔ فساد فی سبیل اللہ۔
پہلے اپنے اعمال تو درست کرلو، پھر کسی کو اسلام کی دعوت دینا پھر اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو قتال بھی کر لینا۔ دنیا میں ایک ارب مسلمان ہیں، اسلام بھی ہے کہیں؟ ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ اسلام تو زبردستی سے آئے گا۔ کوئی پوچھے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کونسی زبردستی کی تھی اسلام پھیلانے میں؟ پھر آئیں بائیں شائیں شروع۔ نہ اتہ نہ پتہ، بس دو چار جاہلوں سے "تعلیم" لی اور جہالت پھیلانے نکل پڑے۔
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم
جزاک اللہ میاں شاہد بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔
بھائی مجھے بھی کچھ بیک گراؤنڈ اور بارڈر چاہئے جس پر آیات جہاد ہوں کیونکہ میں ایک نورانی قاعدہ فلیش میں ڈیزائن کر رہا ہوں جس میں مختلف مخارج کے ساتھ تلفظ کی درستگی بھی مقصد ہے لیکن ان ساتھ ساتھ دل چاہتا ہے کہ جہاد کا پیغام بھی ہوں


باقی ہمارے ایک دوست نے نفس کے بارے میں کہا ہے
جہاد سب سے پہلے اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اس کا حکم کسی مُلا کو نہیں یاد۔ قتال پر پہنچ جاتے ہیں فٹا فٹ۔ فساد فی سبیل اللہ۔

بھائی جہاد سب سے پہلے شروع ہی اپنے نفس سے ہوتا ہے جب آپ اپنے نفس کے خلاف جہاد نہیں کریں گے تو محاذ پر کس طرح نکلیں گے
اب تمھیں نفس کہتا ہے مت جاؤ مرجاؤ گے ۔لیکن جب نفس کے خلاف جہاد کروں گے نہیں جانا پڑے گا۔ ۔۔
اب تمھیں نفس کہتا ہے وہاں گرمی سردی ہے
ارے بھائی اپنے بچوں کو کس کے سہارے چھوڑے گے ۔۔ نفس
اتنی خوبصورت بیوی کس کے حوالے کروں گے ۔۔۔ نفس
ارے بھائی ماں باپ ناراض ہوتے ہوتے مت جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نفس
بھائی کتنی باتیں اس نفس کے جہاد کے بارے میں باتوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اپنے نفس کو قابو میں کروں گے تب ہی میدان میں نکلو گے اور اگر اس نفس کو قابو نہیں کیا تو پھر مشکل ہے




إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ سورہ ال عمران 175)
یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم

بھائی اللہ کو خوف کرو
اس لفظ نے ہمارے ملک کا کباڑا کر دیا ہے مجھے اب اچھا نہیں‌ لگتا
یہ دیکھو انہی الفاظ کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے
[arabic]وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ قَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدْفَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًۭا لَّٱتَّبَعْنَٰكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَٰنِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَٰهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ[/arabic] (3:167)
اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے (3:167)

[arabic]وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌۭ ۖ فَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌۭ مُّحْكَمَةٌۭ وَذُكِرَ فِيهَا ٱلْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ ٱلْمَغْشِىِّ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُم[/arabic]ْ (47:20)
اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی؟ لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بےہوشی (طاری) ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے (47:20)
 

ساقی۔

محفلین
اس لفظ نے ہمارے ملک کا کباڑا کر دیا ہے مجھے اب اچھا نہیں‌ لگتا

اچھا تو امریکہ ، اسرائیل ، بھارت، اور بھی کئی دشمنوں کو اچھا نہیں لگتا جہاد کا نام لینا . تو کیا ہم اس وجہ سے نام لینا چھوڑ دیں کہ یہ کفار کو اچھا نہیں لگتا اس لیئے اس سنت رسول کو چھوڑ دیتے ہیں.
اسرائیلی و امریکی بم با ری تو شاید آپ کو بہت اچھی لگتی ہے . کشمیر میں ستم کازار کیا آپ کو اچھا لگتا ہے . ؟ اگر نہیں تو کچھ انہیں بھی کہیں کہ "پیرو مرشد" آپ کے ستم بھی حد سے زیادہ کم کریں ہمیں اچھا نہیں لگتا . کہیں ذرا !
 

ساقی۔

محفلین
ہر حدیث کا، ہر حکم کا ایک پس منظر ہوتا ہے، ایک context ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں مُلا نے بس ایک آیت پکڑ کر، ایک حدیث کے چند الفاظ پکڑ کر فساد پھیلانا شروع کیا ہوا ہے۔ جہاد سب سے پہلے اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اس کا حکم کسی مُلا کو نہیں یاد۔ قتال پر پہنچ جاتے ہیں فٹا فٹ۔ فساد فی سبیل اللہ۔

پہلے اپنے اعمال تو درست کرلو، پھر کسی کو اسلام کی دعوت دینا پھر اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو قتال بھی کر لینا۔ دنیا میں ایک ارب مسلمان ہیں، اسلام بھی ہے کہیں؟ ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ اسلام تو زبردستی سے آئے گا۔ کوئی پوچھے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کونسی زبردستی کی تھی اسلام پھیلانے میں؟ پھر آئیں بائیں شائیں شروع۔ نہ اتہ نہ پتہ، بس دو چار جاہلوں سے "تعلیم" لی اور جہالت پھیلانے نکل پڑے۔

خرم آپ کی کتنی عمر ہو گئی نفس سے جہاد کرتے ہوئے؟ یہ نفس ایک سے رکے گا تو تین در آپ کے لیئے اور کھول دے گا . آپ سو سال نفس نفس کی رٹ لگائے رکھیں گے اور رخصتی ہو جائے گی تو پھر جہاد کب کریں گے؟ ارے اللہ کے بندے کسی بھی اسلامی ملک کی آرمی میں شامل ہو جائیں اور چلے جائیں محاذ پہ ، فرنٹ لائن پہ .. جہاد کا اجر بھی ملے گا اور نفس بھی کچھ عرصے آپ کے ماتحت ہو جائے گا.
 

میاں شاہد

محفلین

السلامُ علیکم
اس تحریر کو پڑہنے، پسند کرنے اور حوصلہ بڑہانے کا بے حد شکریہ
ہر زمانے میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں دین کی ہر بات میں کوئی نہ کوئی تفنہ اور فساد کا پہلو ضرور نظر آتا ہے مگر میرے رب کے کلام اور میرے نبی پاک کے فرمان میں کسی ایمان والے کو نہ تو کوئی اشکال ہوتا ہے اور نہ ہی اسے قبول کرنے میں کوئی تردد
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
والسلام
 

خرم

محفلین
برادران تو یہ بتائیے کہ طالبان اور پاکستانی فوج میں سے کون جہاد کر رہا ہے؟ یہ جو انسانی پٹاخے عوام کے درمیان آکر پھٹ جاتے ہیں وہ جہاد کر رہے ہیں کہ وہ لوگ جنہیں یہ آکر پھاڑ دیتے ہیں؟ پہلے جنگ عظیم میں عرب ترکوں کے خلاف لڑے اور ہندوستان کے مسلمان تحریک خلافت چلارہے تھے۔ جہاد کون کر رہا تھا ان میں سے؟ افغانستان میں روس سے امریکہ کی حمایت اور آشیرباد سے جہاد جاری رہا۔ امریکی فنڈ سے یہ جہاد کے گروپ بنے، یہ تعلیمات اور پراپیگنڈہ مہم چلائی گئی جس کے آج روابط دئیے جاتے ہیں۔ پھر روس چلا گیا، امریکہ بھی چلا گیا اور افغان آپس میں جہاد کرتے رہے۔ احمد شاہ مسعود روسیوں کے خلاف لڑتا رہا لیکن طالبان نے اسے مار دیا۔ اسے مجاہد کہئے گا کہ مردود؟ ایک طومار ہے مثالوں کا جو میں پیش کرسکتا ہوں۔ مذاق بنا کر رکھ لیا ہے جہاد کو جہلاء نے۔ ہوس ملک گیری کو جہاد کا نام دے کر اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ ایک صاحب مارے گئے آپریشن میں۔ ٹی وی پر خود سُنا انہیں جہاد جہاد کی رٹ لگاتے ہوئے اور پھر ایک خاتون پر بدکاری کا الزام لگاتے ہوئے اور یہ اعتراف بھی کرتے ہوئے کہ دراصل ان کے خلاف شرعی گواہ میسر نہیں تھے اس لئے انہیں اُٹھا کر لے آئے تھے۔ اب اُس شخص کی تو قرآن کی رو سے گواہی ہی ساقط تھی اور اس پر کوڑوں کی حد لگتی تھی لیکن احباب نے اسے "مجاہد" و "غازی شہید" بنا دیا۔ کل کو یہ بیت اللہ محسود مارا جائے گا انشاء اللہ تو یہ بھی شہید ہوگا۔ جتنا جہاد، شرک اور شہید کے لفظ کو کھلونا بنایا ہے ہمارے مُلا نے اتنا کسی اور لفظ کا بیڑہ غرق نہیں کیا۔ ویسے قرآن میں جہاد کی کتنی آیات ہیں اور حُسن سلوک، وفاشعاری، سچائی و راستبازی اور اللہ سے ڈرتے رہنے اور مخلوق پر رحم کرنے کی کتنی آیات ہیں؟ وہ کیوں نہیں یاد آتیں؟ مار پیٹ کے بڑے خوگر ہیں سب، اس ملک سے پہلے رشوت تو ختم کرلو، پھر کسی اور کو مارنے بھی نکل جانا۔ پہلے اتنا تو کرلو کہ پاکستان میں بسنے والا ہر انسان بھوکا نہ سوئے پھر اوروں کو بھی مار لینا۔ دُنیا کی وہ کونسی بُرائی ہے جو آپ کے معاشرہ میں موجود نہیں۔ پہلے کم ازکم غیر مسلم معاشروں جتنا سچ، حسن سلوک، انصاف ہی رائج کرلو اپنے معاشرہ میں پھر قتال بھی کر لینا۔ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے برس لگائے اصحاب کے اخلاق و مکارم مکمل کرنے میں پھر جاکر وہ تین سو تیرہ بنے جنہیں ہم اصحاب بدر کے نام سے جانتے ہیں۔ پہلے ایمان تو لے آئیے پھر قتال بھی کرلیجئے گا۔ پہلے یہ تو یقین کرلیجئے کہ آپکا ہمسایہ بھوکا نہیں سو رہا وگرنہ آپ تو مسلمان ہی نہیں قتال کیا کریں گے۔ پہلے یہ تو یقینی بنا لیجئے کہ آپکا معاشرہ ایک منصف مزاج معاشرہ ہے وگرنہ آپ تو ایمان کے حامل ہی نہیں قتال کے فضائل کے حقدار کیسے ہوگئے؟
اسوہ محمدی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کیجئے کہ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں نجات کا۔ محبت کیجئے مخلوق سے۔ گھائل نہیں قائل کیجئے۔ ہاں جب موقع آئے تو سب کچھ اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وار دیجئے کہ سودا بہت سستا ہے۔ لیکن اس سے پہلے اور بھی بہت کچھ ہے کرنے کو۔ بہت ذمہ داریاں ہیں نبھانے کو۔ ان کو تو نباہ لیجئے۔ پرائمری میں داخلہ تو لیجئے، پی ایچ ڈی بھی کر ہی لیجئے گا۔
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم
پھر ایک بحث لا حاصل شروع ہو جائیگی
افغانستان میں روس سے امریکہ کی حمایت اور آشیرباد سے جہاد جاری رہا۔ امریکی فنڈ سے یہ جہاد کے گروپ بنے، یہ تعلیمات اور پراپیگنڈہ مہم چلائی گئی جس کے آج روابط دئیے جاتے ہیں۔ پھر روس چلا گیا، امریکہ بھی چلا گیا اور افغان آپس میں جہاد کرتے رہے۔

بس اپنے اپنے سوچ کی بات ہے اور ہر زاویے سے دیکھنے کی بات اب جسے آپ دہشت گرد کہتے ہیں انہیں ہم مجاہد کہتے ہیں اور جسے آپ امن پسند کہتے ہیں انہیں ہم مکار کہتے ہیں دہشت گرد اسلیے نہیں کہتے ہیں کہ ان کا خوف ہی ہمارے دلوں میں نہیں ہے
رہی بات امریکہ مکار کی تو ہمارا ایمان ہے اللہ پر ہے کہ وہ ہر صورت میں دین کے علمبرداروں کی حمایت نصرت کرے چاہے گا ان کے لیے امریکہ کو ہی کیوں نا تابع بنائیں
اور باقی گنے چنے مسلمان تو کفر کے خلاف لڑ رہے ہیں باقی جتنے ہیں وہ صرف کفر کا ہی دفعہ کریں گے یا مظلوم مسلمانوں کی مدد بھی کریں گے ؟
باقی وہی پرانے سولات دہرائے جاتے اور میرے خیال میں نظریات کو مباحثوں سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا
لیکن میں اور دوسرے ساتھی انشاء اللہ صرف وہی سوالوں کے جواب دیں گے جو نئے دیکھنے والوں کے دل میں شکوک پیدا کریں ۔باقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

اللہ اکبر کبیرا
 

خرم

محفلین
اللہ تعالٰی قرآن میں فرماتے ہیں "و انتم الاعلون ان کنتم مومنین" معنی کم و بیش یہ ہے " اور اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے"۔ سچا مؤمن نہ تو محکوم ہو سکتا ہے اور نہ کسی کا غلام اور نہ کسی سے پیچھے۔ آج امت مسلمہ کی حالت دیکھئے اور قرآن کے اس حکم کو پڑھئے۔ مسلمان دنیا کے ہر میدان میں پیچھے ہیں سوائے ظلم و زیادتی و ناانصافی کے۔ پہلے اسلام پر محکم ہو لیجئے پھر جا جاکر قتال بھی کر لیجئےگا۔ یہ جو آج آپ لوگ جہاد کی باتیں کرتے ہیں، یہ تمام پراپیگنڈہ امریکہ کی حمایت سے شروع ہوا تھا۔ اپنے مقاصد کے لئے آیات قرآنی اور احادیث کو مخصوص مطالب پہنائے گئے، پھر پروموٹ کیا گیا ان مولویوں کو جو ان نظریات کی تبلیغ کریں تاکہ افغانستان میں لڑنے کے لئے افرادی قوت میسر آئے۔ یہ جو آج آپ لوگ باتیں کرتے ہیں، ان باتوں کو پھیلانے والا یہی امریکہ "مکار" ہے اور آپ لوگ آج بھی اس کی "مکاری" کے چنگل میں ہیں۔ مسلمان کو ایک شارٹ کٹ دکھا دیا کہ اس دنیا میں اپنی اور دوسرے مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کچھ مت کرنا۔ تمہارے لئے آسان ترین طریقہ یہی ہےکہ بس "شہید" ہو جاؤ۔ اور اسی آرزو میں پھٹے جاتے ہیں دھڑا دھڑا "کوئی ادھر پھٹا کوئی اُدھر پھٹا"۔
علامہ نے فرمایا تھا
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں قطار اندر قطار اب بھی

آپ لوگ فضائے بدر پیدا نہیں کرتے اور امید رکھتے ہیں قطار اندر قطار فرشتوں کے اترنے کی۔ سبحان اللہ۔ مجاہد و منافق کا فرق کیا ہے یہ آپ کو ابھی علم نہیں یا شائد آپ جاننا ہی نہیں چاہتے۔ مجاہد ہر وقت اس ضابطہ اخلاق کا پابند ہوتا ہے جو نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا۔ خیریہ خوارجی سوچ تو صحابہ کرام کے دور سے چلی آرہی ہے اور ابتدائی اسلام کا ایک فتنہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔ میں تو صرف یہ مانتا ہوں کہ امت کی سرفرازی اسوۃ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پابندی میں ہے۔ جس تلوار کا لوہا خام ہو ٹوٹنا اس کا مقدر ہے۔ یہاں تو تلوار ہی پلاسٹک کی ہے اور اس پر لوہے کا رنگ کیا ہوا ہے۔ مجھے علم ہے آپ شائد ہی کبھی ان معاشرتی تقاضوں سے عہدہ برا ہونے کی سوچیں جو اسلام آپ سے کرتا ہے اور جہاد (کوشش) کریں اس معاشرہ کو ایک منصف مزاج اسلامی معاشرہ بنانے کی لیکن میرا فرض یہ ہے کہ یہ بات آپ کے گوش گزار کرتا رہوں۔
شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
ایک بات عرض کردوں، جب تک آپ اپنے لوگوں کو انصاف اور امن نہیں دے سکتے، بھول جائیے کہ آپ کسی بھی عدو پر قابو پاسکتے ہیں چاہے جتنی مرضی احادیث کے تراجم کیجئے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ حالت اسی قوم کی بدلے گا جو اپنی حالت آپ بدلنا چاہے گی۔ جو اپنی حالت ہی نہیں بدل سکتے وہ اوروں کی تقدیر کیا بنائیں یا بگاڑیں گے؟
 

arifkarim

معطل
بہت خوب خرم بھائی۔ آپ یہاں میرے جیسے اور بھائیوں کی ترجمانی بھی کر رہے ہیں۔ ویسے حیرت ہے آپ پر ابھی قادیانی ہونے کا اسٹمپل نہیں لگایا کسی مولانا نے؟! اگر مذکورہ باتیں میں اوپر لکھتا تو ابھی مجھے پیغامات موصول ہوتے کہ میں نے کن افراد سے تعلیم حاصل کی ہے وغیرہ۔
 

ساقی۔

محفلین
مجاہد و منافق کا فرق کیا ہے یہ آپ کو ابھی علم نہیں یا شائد آپ جاننا ہی نہیں چاہتے۔

واہ واہ کیا بات کہی ہے آپ نے.
اسلام میں منافق اور مجاہد کی پہچان کے لیئے صرف ایک ہی کسوٹی ہے اور وہ ہے جہاد ، جی ہاں اور کوئی چیز ایک مجاہد اور منافق کے درمیان فرق کرنے کے لیئے نہیں ہے صرف جہاد سے ہی منافق دور بھاگتے ہیں اور دوسروں کو بھی ہر وقت یہی سبق پڑھاتے رہتے ہیں.

لیجیئے ملاحظہ کیجیئے.

لاَ يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَن يُجَاهِدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ
(سورہ توبہ /44/45)

وہ لوگ جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ سے (اس بات کی) رخصت طلب نہیں کریں گے کہ وہ اپنے مال و جان سے جہاد (نہ) کریں، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
آپ سے (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) رخصت صرف وہی لوگ چاہیں گے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ اپنے شک میں حیران و سرگرداں ہیں
 
Top