Bardasht

anwarjamal

محفلین
برداشت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کے کچھ دنوں بعد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس عورت کے ساتھ نہیں چل سکتا ،، وہ شاعرانہ مزاج کا آدمی تھا ، حسن و عشق کا دلدادہ مگر اس کی بیوی بالکل الٹ تھی ، نہ اسے گفتگو کا سلیقہ تھا نہ سجنے سنورنے کا نہ ہی اس کے خیالات رومانوی تھے ،، پھر ایک رات مکمل بیزاری کے بعد طلاق کا مصمم ارادہ باندھ کر وہ سو گیا ۔۔
اگلی صبح اٹھتے ہی اسے بیوی کی طبیعت خراب ملی جس کی وجہ سے عارضی طور پر طلاق کا ارادہ ملتوی کرنا پڑا ،، انسانی ہمدردی کے تحت وہ اسے ہسپتال لے گیا ، لیڈی ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد اولاد کی خوش خبری سنائی تو وہ خوشی سے پھولا نہ سمایا مگر یہ عارضی خوشی تھی چند دنوں بعد زچے کی صحت کے حوالے سے دوائیاں خریدنے کے دوران ایک بار پھر دورہ پڑا ،، اس نے سوچا کہ غلط عورت پر پیسے ضایع کر رہا ہے ،، ایسی عورت جسے وہ پسند نہیں کرتا ، جس کے اندر کوئی بھی محبوبانہ پن نہیں ، اسے چھوڑ دینا ہی بہتر رہے گا ۔
مگر پھر اسے پیٹ میں پلنے والے بچے کا خیال ایا اور وہ طلاق دیتے دیتے ایک بار پھر رک گیا ،،،،
بچے کی پیدائش کے بعد اس نے طلاق کا فیصلہ اگلے دو سالوں تک کے لیے محفوظ کر لیا کیونکہ اللہ میاں جی کا حکم تھا کہ ماں بچے کو دو سال تک دودھ پلائے گی ،،
تیسرے اور چوتھے سال وہ اپنے لیے کوئی مناسب رشتہ تلاش کرتا رہا ،، اسے ایسی عورت کی تلاش تھی جو اس کے لیے تو الہڑ ہو مگر اس کے بچے کے لیے سگی ماں سے بھی بڑھ کر ہو ،، مگر افسوس اس کی تلاش بے سود رہی یہاں تک کہ اس کی بیوی ایک بار پھر حاملہ ہو گئی ،
اب پھر وہی سب مسائل تھے ، طلاق کا معاملہ کھٹائی میں پڑا رہا ، دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد پہلا بچہ اسکول جانے لگا ۔۔۔
بچے کے اسکول جانے کہ وجہ سے ایک بار پھر وہ اپنی بیوی کو برداشت کرنے پر مجبور ہو گیا ورنہ کون صبح سویرے اٹھ کر ناشتہ بناتا اور بچے کو اسکول چھوڑنے جاتا ، خود تو وہ دس بجے سو کے اٹھتا تھا ،، کافی آرام طلب جو تھا ۔۔
اب وہ کچھ کچھ اعتراف کرنے لگاکہ اس کی بیوی بڑی خدمت گزار ہے مگر پھر بھی اس میں وہ بات کہاں تھی جس کا وہ طلب گار تھا لہذا اس نے سوچا کہ جب اس کا بیٹا اتنا بڑا ہو جائے گا کہ خود اسکول جانے لگے تب وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے گا ۔
اب اسے اپنے لیے کوئی مناسب رشتہ بھی ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ محلے کی ایک لڑکی سے اس کا چکر چل رہا تھا ، آئے روز وہ اسے شاپنگ کے لیے لے جاتا ، مہنگے مہنگے گفٹ خرید کر دیتا مگر ایک دن جب اس نے لڑکی سے کہا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے کر تمہیں شریک حیات بنانا چاہ رہا ہوں تو وہ بدک گئی اور دوبارہ کبھی ملنے نہ آئی ،
انہی مسائل کی وجہ سے دن گزرتے گئے اس کی بیوی ہر سال دو سال بعد حاملہ ہوتی رہی ، اس کے بچے پہلے اسکول پھر کالج جانے لگے ،، پھر ان کی شادیاں بھی ہو گیئں ۔۔ اس نے اپنی بیوی کو برداشت کرنے کا سلسلہ جاری رکھا مگر بہر حال وہ مناسب موقعے کی تلاش میں تھا ۔۔۔۔

انور جمال انور
 
Top