16 دسمبر 1971 - مشرقی پاکستان

زیک

مسافر
یہی تو ہمارے زہنوں میں بھرا جاتا۔۔۔ یہ کیسے بھول سکتے کے بنگلہ دیش کے قائد مجیب الرحمن اور ہندو اکثریت
کہاں کی ہندو اکثریت؟

مجیب الرحمان کی پارٹی نے 1970 کے الیکشن میں اکثریت حاصل کی تھی۔ لہذا انصاف کا تقاضا تھا کہ اسے وزیر اعظم بننے دیا جاتا۔

پھر ہندوستان کی مداخلت۔۔
ہندوستان کی فوجی مداخلت نومبر میں ہوئ۔ اگر باقی معاملات بھی دیکھے جائیں تو ہندوستان کی مداخلت پاکستانی آرمی ایکشن (مارچ 25) کے بعد ہی ہوئ۔

بھٹو نے جذباتی سیاستدان کا رول ادا کیا مگر بھٹو کی اس وقت کیا اہمیت تھی؟ کیا بھٹو پاکستان کا حاکم تھا؟

یہ سب سیاست ہی تو تھی جس میں فوج کے کچھ آستین کے سانپوں نے جلتی کا کام کیا
یہ کیسے کچھ آستین کے سانپ تھے جو ایک دہائ سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان کے مطلق العنان حکمران تھے۔ محب وطن فوج نے ان آستین کے سانپوں سے بغاوت کیوں نہ کی؟ فوج نے مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن میں حصہ لینے سے انکار کیوں نہ کیا؟ وہاں تشدد سے کیوں منکر نہ ہوئے؟

لیکن اسکا مقصد یہ نہیں کہ سارا مدعا ہم فوج پہ ڈالیں۔۔نسلی تعصب کو ابھارنے والے کو کیوں بھول جاتے، پھر ہم کہاں آنکھوں سے دیکھا کہ پاک فوج نے ریپ کئیے؟ ہم تو روایات سنتے آئے ہیں تاریخوں کی۔۔
میں تو اس وقت چلتا بھی نہ تھا محض ایک بے بی تھا۔ سو سب کچھ کتابوں وغیرہ ہی میں پڑھا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس زمانے کی دستاویزات اور خبروں سے یہ تمام معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ کچھ لنک تو میری پوسٹ ہی میں موجود ہیں۔ یہ سب زیادتیاں well-documented ہیں۔

پھر اس وقت کی اندرا گاندھی کے الفاظ کیسے بھول سکتے جب اس نے کہا تھا کہ ہم نے آج مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے اکھنڈ بھارت کے زعم میں مبتلا ہندو بنیاء کیلئے تو پاکستان کا قیام ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ کیا اس میں بھی فوج تھی ؟
حوالہ؟
 

الم

محفلین
زیک برادر میں نے بھی ایسے ہی بہت سے مضامین سے جو پڑھا تو اسکی تشریح کی اور شاید اس تحریر سے جو بھائی نے دی آپکو بھی اندازہ ہو جائے کے تاریخ کے باب کو کس قدر گھمایا جاتا جہاں تک رہی اندرا گاندھی کی بات یہ تو میں نے 10 کلاس کی تاریخ سے لے کے اب تک جتنی تاریخ پڑھی سب میں لکھی تھی اور بلکہ آج تو دوبارہ اخبار کے اسپیشل ایڈیشن میں لکھی تھی۔
 

الم

محفلین
پھر بات رہی مجیب الرحمن کےوزیراعظم بننے کی تو وہ تو ویسے ہی بہت جذباتی تھا اور قوم پرست اگر وہ بن جاتا تو شاید آج بنگلہ دیش ہی نہیں کئی اور ٹکڑے ہو جاتے۔ مجھے میرے دادا ابو نے بتایا کہ جب یہ فسادات بہت زور شور سے جاری تھے تو ان دنوں مجیب الرحمن کوئٹہ بھی کسی سلسلے میں آیا تھا اور کوئٹہ میں ایک لیاقت پارک وہاں ایک جلسہ ہوا تھا اس میں جاتے ہوئے دادا ابو نے بتایا کے اس کے الفاظ آج بھی یاد کے پاکستانیوں تم کو آخری سلام۔۔۔غرضیکہ اگر فوج کو ڈکٹیٹر کے روپ میں دیکھتے تو مجیب ایک بغیر وردی کے ڈکٹیٹر بن جاتا۔۔
 

mfdarvesh

محفلین
16 دسمبر - یوم سقوط ڈھاکہ
پاکستان کے منافق حکمرانوں کی منافقت
بزدل جرنیلوں کی بزدلی
اور
بے حس قوم کی بے حسی کا ماتم کرتی خون سے لتھڑی تاریخ
 

کاشفی

محفلین
زندہ مُردے
(جوش ملیح آبادی کی روح سے معذرت کے ساتھ)

اگر کسی کو کچھ بُرا محسوس ہو تو معذرت
پاکستانی قوم سے خطاب
کیا کہوں اہلِ پاک وطن کی حالت
ایک عالم ہے "دن" اگر تو یہ "رات"

خواہ کچھ ہو اثر نہیں لیتے
اس طرح مِٹ چکے ہیں احساسات

یا تو یہ "سائے" ہیں "بہ شکلِ بشر"
یا یہ "مُردے" ہیں کچھ "بہ قیدِ حیات"
 

کاشفی

محفلین
حسین آنکھوں، مدھر گیتوں کے سندر دیس کو کھو کر
میں حیران ہوں وہ ذکرِ وادیء کشمیر کرتے ہیں

(حبیب جالیب)
 

کاشفی

محفلین
16 دسمبر، یوم سقوط ڈھاکہ ۔۔۔ ایک تلخ حقیقت جس سے ہم نے اب تک سبق نہیں سیکھا۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
سانحہ ... ایک دم نہیں ہوتا
 

کاشفی

محفلین
10580161_856565761035170_2168553134023398186_n.jpg

1960s: Awami League leader Shaikh Mujib-ur-Rahman delivering a Speech
Following Suhrawardy's death in 1963, Mujib came to head the Awami League
which became one of the largest political parties in Pakistan.
 
Top