“دوست“ بھائی کے نام :)

عیشل

محفلین
جامِ تہی قبول نہ تھا غم سمو لیئے
پھولوں کے انتظار میں کانٹے چبھو لیئے
ہم ہیں وہ سادہ لوح کہ پا کر رضائے دوست
خود اپنے ہاتھ اپنے ہی خوں میں ڈبو لیئے​
 

شمشاد

لائبریرین
نہیں کہہ سکتے ہم دشمن بھی جن کو
کچھ ایسے دوستوں میں گھر گئے ہیں
(نزہت عباسی)
 

ہما

محفلین
دوست بن بن کے ملے مجھ کو مٹانے والے
میں نے دیکھے ہیں کئی رنگ بدلنے والے
تُم نے چُھپ کر اور بھی ستم ڈھایا مجھ پر
تُم سے اچھے ہیں میرے حال پہ ہنسنے والے
 

شمشاد

لائبریرین
کچھ دوستی کے داغ تھے ، کچھ دشمنی کے زخم
اب تجھ سے کیا کہوں مجھے کس کس سے کیا ملا
(نزھت عباسی)
 
Top