’سمت‘ شمارہ 12 کا اجراء

نبیل

تکنیکی معاون
میری ذاتی رائے میں بھی سی ڈی پبلش کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا، بہرحال یہ محض میرا قیاس ہے۔
جہاں تک اعجاز اختر صاحب کی رائے کا تعلق ہے کہ اردو کے قارئین کے نزدیک ویب سائٹ پر صرف کوئی نستعلیق فونٹ ہی قابل قبول ہوگا تو اس سے بھی میں اتفاق نہیں کروں گا۔ نستعلیق ٹائپوگرافی میں حالیہ پیشرفت کے باوجود ابھی تک کوئی نستعلیق فونٹ اس معیار کا نہیں ہے کہ اسے کسی بڑی ویب سائٹ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ آئیڈیل کیس میں تو ویب سائٹ کے وزیٹر کو کوئی نیا فونٹ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ اردو نسخ ایشیا ٹائپ پر جو بھی اعتراض کیا جائے، اس وقت ویب پر اردو کی ہر نمایا‌ں ویب سائٹ پر اسی فونٹ کا استعمال ہو رہا ہے، نفیس ویب نسخ کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔ بہرحال اردو نسخ ایشیاٹائپ کو بھی میں صرف ویب صفحات پر استعمال کے لیے موزوں سمجھتا ہوں۔ اردو مواد کی پی ڈی ایف بنانے کے لیے کسی اچھے نستعلیق فونٹ کا ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

میں جلد ہی ویب پر جریدہ پبلش کرنے کے لیے سلسلے میں تحقیق کا آغاز کروں گا۔ مجھے اس بارے میں ضرور علم ہے کہ ورڈپریس کو کسی میگزین ٹیمپلیٹ کے استعمال کے بعد ایک نیوز ویب سائٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جریدہ کی اشاعت اخبار کی اشاعت سے اس اعتبار سے مختلف ہوتی ہے کہ اس کی اشاعت کا اپنا ایک سائیکل ہوتا ہے جیسا کہ اعجاز اختر صاحب ذکر کر چکے ہیں۔ اسی لیے جریدہ کی سائٹ مستقل اپڈیٹ ہونے کی بجائے مقرر کردہ وقفوں کے بعد اپڈیٹ ہوتی ہے اور اس میں پرانے شمارے دیکھنے کی سہولت موجود ہونی چاہیے۔ یہ کام ورڈ پریس کے ذریعے کرنے کے لیے ورڈپریس پر تحقیق کرنی پڑے گی۔

جریدہ یا اخبار کی سائٹ ورڈپریس کے ذریعے سیٹ اپ کی جائے یا کسی اور سوفٹویر کے استعمال کے ذریعے، ان سائٹس کو اپڈیٹ اورمنظم کرنا کافی محنت کا کام ہوتا ہے۔ اسی لیے اس طرح‌ کی سائٹ سیٹ اپ کرنے سے قبل مختلف کاموں کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دینی چاہیے۔
 

الف عین

لائبریرین
سی ڈی کا خیال اسی وجہ سے آیا کہ یوں بھی نہ لوگ رسالہ خریدتے ہیں محض مانگ کر پڑھتے ہیں۔ اور اگر ہمارا مقصد محض یہ ہو کہ لوگ اردو پڑھیں، تو ضروری نہیں کہ وہ خرچ کر کے ہی پڑھیں۔ یہاں ’شعر و حکمت‘ سالانہ جریدہ ہے جس کی قیمت ہے چار سو روپیے۔ اسے کوں خریدے گا، کود میں نہیں خریدتا، بس ذرا مغنی تبسم صاحب نے معاونیں کو 50 فی صد ڈسکاؤنٹ دیا ہے تو دو سو میں لے لیتا ہوں۔ لیکن اگر یہی جریدہ بیس روپئے میں مل سکے تو ممکن ہے کہ لوگ کرید لیں۔ اگر سی ڈی کی کاپی بھی بنائی جائے، تب بھی کیا حرج ہے، اس کا مطلب یہی تو ہوا نا کہ کچھ لوگ مزید پڑھ سکیں گے۔
بزرگوں کو استعمال کرنے کے لئے یہ سی ڈی جریدہ ہوگا بھی نہیں۔ در اصل بنوجوان نسل کو ہی اردو کے فروغ کے لئے فعال بنانے کے لئے ہی یہ عمل ہو سکتا ہے۔ اگر مقصد محض اردو کا فروغ ہو، تو جتنے لوگ بھی پڑھیں گے یہ جریدہ، اتنا بھی کافی ہے، کیوں کہ خرچ بھی تو زیادہ نہیں ہوگا نا۔۔ محض محنت لگے گی، اس کو مل بانٹ کر کیا جا سکتا ہے۔ تین چار جریدوں کی فائلیں جمع کرنے کا میں ہی ذمہ لے سکتا ہوں۔
اس کا تجربہ کیا جائے تو اس طرح شروع کریں کہ کسی پرنٹ ورژن جریدے کے ساتھ مفت سی ڈی دی جایا کرے، اس کی مقبولیت کا اندازہ کرنے کے بعد مکمل جریدہ الگ سے نکالا جائے۔ اس سلسلے میں جو پہلے سے جرائد سے جڑے ہیں، وہ تجربہ کریں۔’سمت‘ کا مواد میں فراہم کر دوں گا۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
اس کا ایک حل ہے میرے پاس اعجاز صاحب آپ جب بھی کوئی پیغام لکھے تو اس کو پہلے کاپی کر لے اس کے بعد ارسال کرے اگر 500 کی نذر ہو جائے تو پھر دوبارہ سے ارسال کرنے کا موقع تو ہوتا ہے نا
 

نبیل

تکنیکی معاون
میں اس سلسلے میں تحقیق کے لیے جریدہ پراجیکٹ زمرہ کو پھر سے فعال کر رہا ہوں۔ میں نے جرائد اور اخبارات میں مضامین کی اشاعت کے ورک فلو کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے یہاں ایک تھریڈ کا آغاز کیا ہے۔ خاور چوہدری سے درخواست ہے کہ وہ اس ربط پر جا کر معلومات فراہم کریں۔
 
Top