مصطفیٰ زیدی یونان ۔ مصطفیٰ زیدی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 20, 2018

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    یونان

    ہم تو یہ سوچ کے آئے تھے تری گلیوں میں
    کہ یہاں تیشۂ فرہاد کی قیمت ہو گی
    بھائی کیوپڈ سے ملیں گے کسی دوراہے پر
    کسی بے نام سے اک موڑ پہ جنت ہو گی
    ہم اولمپس پہ خداؤں کی زباں بولیں گے
    اپنی تقدیر میں وینس کی رفاقت ہو گی

    با ادب جا کے زئیس سے یہ کہیں گے کہ حضور
    آپ اب خلوتِ گمنام سے باہر نکلیں
    دیر سے تشنۂ صُبحِ لب و رُخسار ہیں لوگ
    آپ تاریکیِ احرام سے باہر نکلیں

    پارتھینان کی مٹّی سے جو مس ہو گی نظر
    ہم نے سوچا تھا کہ کُھل جائیں گے سارے اسرار
    آج کل یوں نہیں ہوتا ہے مگر شاید آج
    ٹُوٹ جائیں گے تمدُّن کے مہذب پِندار

    اور اب شام بھی گزری کئی دن بِیت گئے
    ایسے دن جن میں نہ ارماں نہ گِلے ہوتے ہیں
    میرا سینہ شبِ مُفلس کا وہ افسانہ ہے
    جس پہ ایتھنز کے خاموش دِیے روتے ہیں
    ایسی پستی کہ عمارت کا گماں بھی دھوکا
    جانے ہم کور نظر ہیں کہ خُدا سوتے ہیں

    (مصطفیٰ زیدی)

    شہرِ آزر
     

اس صفحے کی تشہیر