یاز بھائی کا انٹرویو

زیک

مسافر
deja Vu کا کمال ہے شاید، کہ سوالات دیکھے دیکھے لگ رہے ہیں۔


ای بک۔ گزشتہ پانچ سات سال میں ایک آدھ کتاب ہی ہارڈ کاپی میں پڑھی ہو گی۔


ماؤس۔ لیپ ٹاپ کا ٹچ پیڈ شاذونادر ہی استعمال کیا ہو شاید۔


ابھی تک تو اینڈروئیڈ ہی۔


یقیناً میسج۔ کال سننا سخت ناپسند ہے۔


حتی الامکان حد تک پیدل ہی۔


بیک پیک۔


برگر۔


کافی۔


بلاشبہ پہاڑ۔


سبز
اینڈرائڈ اور سبز کے علاوہ سب سے اتفاق ہے
 

زیک

مسافر

یاز

محفلین
اینڈرائڈ اور سبز کے علاوہ سب سے اتفاق ہے
نوازش جناب۔ اینڈرائیڈ سے ہمیں بھی زیادہ نسبت نہیں ہے، سوائے اس کے کہ مڈ رینج میں زیادہ تر موبائل فون اینڈرائیڈ ہی دستیاب ہیں، جیسے ہواوے، ایل جی، شیومی وغیرہ۔
 
آخری تدوین:
یاز بھائی رمضان المبارک کی مصروفیات کے باعث اپنے سوالات تاخیر سے پیش کرنے پر انتہائی معذرت خواہ ہوں

لگے ہاتھوں ان سوالات کے جواب بھی دے دیں

جمہوریت؛ سقراط کو زہر پلاتی ہے، منصور کو سولی پر چڑھاتی ہے، جمہوریت نے حضرت عیسی علیہ السلام کا احترام بھی نہیں کیا. جمہوریت کے ذریعے کوئی مفکر، امام، دانشور، ولی، عالم دین یا مرد حق برسرِ اقتدار نہیں آ سکتا لیکن پھر بھی آج کا انسان بادشاہت کے مقابلے میں جمہوریت کو کیوں ترجیح دیتا ہے؟ اپنی قیمتی رائے سے نوازیں

کیا لامحدود آرزوئیں محدود زندگی میں پوری کی جا سکتی ہیں؟

جب زندگی بے مقصد لگنے لگے تو ہم اپنی زندگی کو با مقصد کیسے بنا سکتے ہیں؟

عبادت اور محبت میں جذبوں کا معیار کیا ہونا چاہیے؟

بعض اوقات حالات کے سائے غموں کی دھوپ کو اس قدر شدید کر دیتے ہیں کہ سینے میں اونگھتا ہوا درد دہکنے لگتا ہے اسے حالات میں ہمیں کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے؟

اگر ادنٰی طبقے کا کوئی آدمی ہو اور ادنٰی حرکتیں کرنے لگے تو تحمل اور تواضع سے رام کیا جا سکتا ہے لیکن اگر اونچے طبقے کا کوئی آدمی گٹھیا پن پر اتر آئے تو کیا کئیا جانا چاہیے؟

کسی ایسی جگہ سیاحت کے دوران جہاں موبائل فون کے سگنلز اور ٹیلی فون کی سہولت نہ ہو اور آپ کی اہم ترین دستاویزات اور پیسے وغیرہ گم ہو جائیں تو کیا کریں گے؟

طلب معاش کے جتنے بھی پیشے ہیں ان میں سب سے شریفانہ اور معزز پیشہ کون سا ہے؟

غم کا بہترین علاج کیا ہے؟

سیاستدانوں کی دیکھا دیکھی لوگوں نے گلی محلوں، اور گھروں میں بھی سیاست سیاست کھیلنا شروع کر دی ہے کون سی سیاست کا پہلو انسان کی زندگی پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے؟

کہتے ہیں کہ انسان مظلوم ہوتا ہے یا ظالم ہوتا ہے، آپ کی نظر میں مظلوم ہونا بہتر ہے یا ظالم ہونا؟
 
اب تو یقین ہوا چاہتا ہے- :)

یہ تو جاب انٹرویو کا سوال لگ رہا ہے۔:)

جواب میں تاخیر کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔
ان اپروچیبل نہیں ہوں البتہ confrontation سے ممکنہ حد تک بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔
جہاں تک فورم کی نظامت میں تبدیلی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں میں پہلے بھی اشارہ کر چکا ہوں کہ ہم بڑے پیمانے پر تبدیلی کا پلان رکھتے ہیں اور اس کے بارے میں جلد ہی پبلک فورم پر مشاورت کا آغاز بھی ہوگا۔
 

یاز

محفلین
یاز بھائی رمضان المبارک کی مصروفیات کے باعث اپنے سوالات تاخیر سے پیش کرنے پر انتہائی معذرت خواہ ہوں
لگے ہاتھوں ان سوالات کے جواب بھی دے دیں
معذرت کی کیا بات جی۔ جوابات میں بھی تاخیر متوقع ہو سکتی ہے۔

جمہوریت؛ سقراط کو زہر پلاتی ہے، منصور کو سولی پر چڑھاتی ہے، جمہوریت نے حضرت عیسی علیہ السلام کا احترام بھی نہیں کیا. جمہوریت کے ذریعے کوئی مفکر، امام، دانشور، ولی، عالم دین یا مرد حق برسرِ اقتدار نہیں آ سکتا لیکن پھر بھی آج کا انسان بادشاہت کے مقابلے میں جمہوریت کو کیوں ترجیح دیتا ہے؟ اپنی قیمتی رائے سے نوازیں
اس سوال سے تو آپ نے ہماری دکھتی رگ کو ہی چھیڑ دیا۔ ان سب مذکورہ بالا واقعات کا جمہوریت سے کیا تعلق ہے؟
درج بالا تمام واقعات (اگر حقیقی بھی تھے تو) تھیوکریسی کی بالادستی کی خواہش کا نتیجہ تھے، نہ کہ جمہوریت کا۔
خیال رہے کہ جمہوریت کو ہمارے ہاں فوراؐ نون لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی وغیرہ یا ان کی حمایت سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بس رسمی سی گزارہ ٹائپ جمہوریت ہی ہے۔
جمہوریت تو نام ہی امن، برداشت اور جوابدہی کا ہے۔ آزادیء فکر اور آزادیء اظہار کے بغیر کوئی جمہوریت جمہوریت نہیں۔

رہی بات کہ انسانوں نے بادشاہت کے مقابلے میں جمہوریت کو ترجیح دینا کیوں شروع کی۔
ہماری محدود معلومات کے مطابق جمہوریت کی جانب اولین اہم قدم کوئی آٹھ سو سال قبل میگناکارٹا کی شکل میں اٹھایا گیا، جس کی رو سے بادشاہ کو تسلیم کرنا پڑا کہ وہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اور پھر انقلابِ فرانس جمہوریت کی جانب اہم ترین قدم تھا، جس کا بنیادی سوال ہی یہ تھا کہ بادشاہ کو ہمارے اوپر حکومت کرنے کا حق کس نے دیا۔

خیر یہ بہت لمبی بحث ہے۔ فی الحال اتنا ہی۔

کیا لامحدود آرزوئیں محدود زندگی میں پوری کی جا سکتی ہیں؟
یہ تو قانونِ قدرت کے ہی خلاف ہے، کیونکہ خواہشات ہمیشہ لامحدود ہوتی ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لئے وسائل (جن میں عمر بھی شامل ہے) ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔

جب زندگی بے مقصد لگنے لگے تو ہم اپنی زندگی کو با مقصد کیسے بنا سکتے ہیں؟
یہ تو مشکل سوال ہے۔ ویسے زندگی بے مقصد کیسے لگ سکتی ہے، کہ بے مقصد ہونا بھی تو ایک مقصد ہی ہو شاید۔
 

یاز

محفلین
عبادت اور محبت میں جذبوں کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
اگر صرف ایک معیار مقرر کرنا ہو تو وہ ہو گا "بے غرضی"
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔۔۔ وغیرہ

بعض اوقات حالات کے سائے غموں کی دھوپ کو اس قدر شدید کر دیتے ہیں کہ سینے میں اونگھتا ہوا درد دہکنے لگتا ہے اسے حالات میں ہمیں کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے؟
غم ایسی چیز ہے کہ جس کا سوچ کر ہم ہمیشہ غمگین ہوا کرتے ہیں۔ ایسے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ دھوپ کے بعد چھاؤں کو آنا ہی ہوتا ہے۔ بقول شاعر
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

اگر ادنٰی طبقے کا کوئی آدمی ہو اور ادنٰی حرکتیں کرنے لگے تو تحمل اور تواضع سے رام کیا جا سکتا ہے لیکن اگر اونچے طبقے کا کوئی آدمی گٹھیا پن پر اتر آئے تو کیا کیا جانا چاہیے؟
حتی الامکان تحمل و برداشت۔ ورنہ دائیں بائیں سے نکل لیں۔
خیال رہے کہ کسی بھی صورت میں کم ظرفی کا جواب کم ظرفی کی شکل میں نہیں دینا چاہئے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

کسی ایسی جگہ سیاحت کے دوران جہاں موبائل فون کے سگنلز اور ٹیلی فون کی سہولت نہ ہو اور آپ کی اہم ترین دستاویزات اور پیسے وغیرہ گم ہو جائیں تو کیا کریں گے؟
دستاویزات اور پیسے گم نہ کرواتیں تو میں فون سے دور ہونے پہ شکر ہی کرتا۔ تاہم دستاویزات اور پیسوں والا معاملہ گھمبیر ہے۔
ایسے موقعے پہ بھی کوشش تو یہی ہو گی کہ اپنا ٹرپ حتی الامکان پورا کر کے پھر ہی سوگ منایا جائے۔
 

یاز

محفلین
طلب معاش کے جتنے بھی پیشے ہیں ان میں سب سے شریفانہ اور معزز پیشہ کون سا ہے؟
بلاشبہ تدریس۔

غم کا بہترین علاج کیا ہے؟
غم غلط کرنا دشوار نہیں ہے، انتقاماََ مسکرانا چاہئے

سیاستدانوں کی دیکھا دیکھی لوگوں نے گلی محلوں، اور گھروں میں بھی سیاست سیاست کھیلنا شروع کر دی ہے کون سی سیاست کا پہلو انسان کی زندگی پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے؟
ہم اس سوال کو صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔
ویسے ہمارے معاشرے میں خاندانی سیاست سب سے دھانسو اثرات مرتب کرتی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان مظلوم ہوتا ہے یا ظالم ہوتا ہے، آپ کی نظر میں مظلوم ہونا بہتر ہے یا ظالم ہونا؟
دونوں ہی صورتیں غیرمتاثرکن ہیں۔ تاہم اگر جبراََ ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ہم مظلوم ہونے کو ترجیح دیں گے۔
 
Top