"یاد" کے موضوع پر اشعار!

شمشاد

لائبریرین
اک پرانا موسم لوٹا یاد بھری پروائی بھی
ایسا تو کم ہی ہوتا ہے وہ بھی ہو تنہائی بھی
(گلزار)
 

تیشہ

محفلین
اسےُ کہنا اسے ہم یاد کرتے ہیں
دئیے جب شام کی دہلیز پہ چلے آتے ہیں

ستارے آسمان پہ جب ٹمٹماتے ہیں
زمین پہ چاندنی پھولوں پہ پڑتی ہے
بہت ہی خوب لگتا ہے
ہم اس دم اپنی آنکھوں میں اسے آباد کرتے ہیں
اسےُ کہنا اسےُ ہم یاد کرتے ہیں ۔ ۔
 

شمشاد

لائبریرین
سکوتِ حلقۂ زنداں سے ایک گونج اُٹھی
اور اس کے ساتھ مرے ساتھیوں کی یاد آئی
(ساحر)
 

زینب

محفلین
رسمِ الفت ہی اجازت نہں دیتی ورنہ

ہم پھی تمہں ایسا بھولیں کہ سدا یاد کرو۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
میری آنکھوں سے اس لیے لالی نہیں جاتی
تیری یادوں سے کوئی بھی رات خالی نہیں جاتی
 

زینب

محفلین
میں تمہں ڈھونڈنے یادوں کی کھلی سڑکوں پر

خشک پتوں کی طرح روذ بکھر جاتی ھوں
 

شمشاد

لائبریرین
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روز گار کے
(فیض)
 

عمر سیف

محفلین
اتنا یاد ہے باتوں میں کچھ ذکر تمہارا آیا تھا
اس کے بعد تصور میں پھر ساری رات گزاری ہے
 

شمشاد

لائبریرین
تم سے ملنے کا مزا اپنی جگہ پر خوب تھا
بات ہی کچھ اور ہے لیکن تمہاری یاد کی
(سرور)
 
Top