ہو سکتا ہے - منیب احمد

منیب الف نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 2, 2018

  1. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    ہو سکتا ہے تم روز کو بھی رات سمجھ لو
    ہو سکتا ہے تم رات کو بھی رات نہ جانو

    ہو سکتا ہے تم بات کے الفاظ پکڑ لو
    الفاظ کے پردے میں کہی بات نہ جانو

    ہو سکتا ہے تم گردشِ حالات کو دیکھو
    ہو سکتا ہے تم باعثِ حالات نہ جانو

    ہو سکتا ہے تم حاملِ تورات ہو لیکن
    ہو سکتا ہے تم معنئ تورات نہ جانو

    ہو سکتا ہے تم ذاتِ خدا پر کرو بحثیں
    ہو سکتا ہے تم آدمی کی ذات نہ جانو

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  2. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    محمد وارث سر، ایک سوال تھا۔
    یہ معنئ لکھنا ٹھیک ہے، یا معنیِ (زیر کے ساتھ)؟
    شاید کہیں غالب کے خطوط میں پڑھا تھا کہ ئ لکھنا عقل کو گالی دینا ہے، لیکن حوالہ ٹھیک سے میرے ذہن میں نہیں کہ کس بارے میں تھا۔
    آپ کچھ رہنمائی فرمائیں گے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    بخدمت جناب یاسر شاہ صاحب برائے تنقیدی جائزہ :)
     
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,034
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میرے خیال میں اس کو زیر کے ساتھ لکھنا بہتر ہے۔

    ویسے املا کے لیے رشید حسن خان صاحب کی کتابیں دیکھنی چاہیئں، یہ ان کی کتب کی فہرست ہے۔ اردو املا، اردو کیسے لکھیں اور انشا اور تلفظ متعلقہ کتب ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  5. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    نہایت مفید!
    رشید صاحب کی ایک کتاب میرے پاس ہے: اردو املا۔
    آپ نے فہرست شیئر کر دی تو اب دیگر کتب دیکھنے کا بھی موقع مل گیا۔
    بےحد شکریہ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یہ نظم بھی پسند آئی - داد حاضر ہے' قبول کیجئے -
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    بقول آپ کے،
    قبول ہے قبول ہے قبول ہے ۔۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,520
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی نظم ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    بہت شکریہ استاد محترم :rose:
     
  10. میم الف

    میم الف محفلین

    مراسلے:
    294
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    منیب: اچھا اب میں آپ کو تیسری غزل سناتا ہوں جو کہ شاید میری لکھی ہوئی اور آپ کی پسند کی ہوئی۔۔
    عرفان: میری پسندیدہ ہے۔
    منیب: ہاں، ان میں سے ایک ہے۔
    عرفان: یہ وہ ہے ”ہو سکتا ہے“۔
    منیب: ہاں، It is possible :smile2:
    عرفان: In fact, only it is possible
    .but we are just seeing the things from the wrong side
    منیب: ہاں، exactly، کہ ہمارے دیکھنے کا جو ۔۔
    عرفان: ہاں، ہم غلط side سے دیکھ رہے ہیں۔
    اب آپ پڑھیں گے تو سب کو اِس بات کا پتا لگے گا کہ actually بات کیا ہو رہی ہے؟
    ہم کس غلط side کی بات کر رہے ہیں؟
    منیب: ہاں!
    ہو سکتا ہے تم روز کو بھی رات سمجھ لو​
    دن ہو۔
    تم کہو نہیں، یہاں روشنی نہیں ہے، یہاں اندھیرا ہی ہے۔
    ہو سکتا ہے تم روز کو بھی رات سمجھ لو
    ہو سکتا ہے تم رات کو بھی رات نہ جانو​
    عرفان: واہ!
    اِس سے نا مجھے ایک اور ہمارے پسندیدہ شاعر محسن نقوی صاحب ہیں
    اُن کی بات یاد آ گئی کہ
    کیا غضب ہے کہ جلتے ہوئے شہروں میں
    بجلیوں کے فضائل سنائے گئے​
    منیب: صحیح بات ہے!
    عرفان: تو یہاں رات کو بھی رات ماننے کو کوئی تیار نہیں ہے۔
    منیب: اُس کو بھی وہ دن سمجھ رہے ہیں۔
    عرفان: صبحِ روشن کی مانند سمجھ رہے ہیں، یا بے وقوف بنائے جا رہے ہیں۔
    منیب: خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔
    ہو سکتا ہے تم بات کے الفاظ پکڑ لو
    الفاظ کے پردے میں کہی بات نہ جانو​
    عرفان: واہ!
    اِس پہ بھی ہم نے ایک شعر سنا تھا۔
    سب سمجھتے ہیں بات مطلب کی
    کس نے سمجھا ہے بات کا مطلب؟​
    منیب: زبردست :zabardast1:
    ایک نا معنی پھوٹتا ہے اندر سے۔
    بعض اوقات وہ معنی الفاظ کے بغیر بھی convey ہو جاتا ہے۔
    عرفان: بالکل، ایسا ہی ہے۔
    منیب: لیکن ہم اِتنے سطحی الفاظ کو پکڑ کے بیٹھ جاتے ہیں،
    اُن کے جھگڑے میں پڑ جاتے ہیں کہ اُس بات کی اصل بات نہیں سمجھ میں آتی۔
    عرفان: بالکل، ایسا ہی ہے۔
    منیب:
    ہو سکتا ہے تم گردشِ حالات کو دیکھو​
    کل امیر تھا، آج غریب ہو گیا۔
    کل خوشی تھی، آج دکھ ہے۔
    حالات گردش کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے تمھاری نظر میں یہ ہو۔
    ہو سکتا ہے تم باعثِ حالات نہ جانو​
    لیکن اِس گردش کا باعث کیا ہے؟ وہ نظر سے پوشیدہ ہے۔
    عرفان: واہ!
    منیب:
    ہو سکتا ہے تم حاملِ تورات ہو لیکن
    ہو سکتا ہے تم معنیِ تورات نہ جانو​
    عرفان: واہ وا!
    منیب: اور آخری اِس کا شعر ہے،
    ہو سکتا ہے تم ذاتِ خدا پر کرو بحثیں
    ہو سکتا ہے تم آدمی کی ذات نہ جانو​
    عرفان: واہ، واہ وا!
    منیب: یہ جو آخری دو اشعار ہیں نا، تھوڑے نازک سے ہیں۔
    عرفان: نہیں، میرے نزدیک یہ نازک نہیں ہیں۔ اِن پہ کوئی بھی شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔
    یہ میرے خیال سے آئینہ ہیں۔
    اگر کسی کو اپنی شکل اِن میں نہیں پسند آئے گی، تو وہی کوئی الٹا سیدھا comment کر سکتا ہے، ورنہ۔۔
    منیب: بعض مضامین ایسے ہیں کہ وہ شعر کے پردے میں ہی کہے جا سکتے ہیں۔
    جیسے ہی آپ اُن پہ کھلیں گے نا تو آپ کی پکڑ ہو جائے گی۔
    عرفان: ہو سکتا ہے!
    اور اِس نظم کا سب سے پسندیدہ شعر بھی میرا یہی تھا کہ
    ہو سکتا ہے تم ذاتِ خدا پر کرو بحثیں
    ہو سکتا ہے تم آدمی کی ذات نہ جانو​
    منیب:
    افسوس صد ہزار سخن ہائے گفتنی
    خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے​
    اب اِن آخری دو شعروں پہ بہت کچھ میں بول سکتا ہوں لیکن اگر میں نے ویسے ہی بولنا ہوتا تو پھر میں شاعری نہ لکھتا۔
    خوفِ فسادِ خلق ایسا ہے کہ شعر میں ہی رہیں۔

     

اس صفحے کی تشہیر