ہوسِ اقتدار

قلم گوید کہ من شاہِ جہنّم۔۔۔:D

5965_22413482.jpg
 

رانا

محفلین
دل تو یہی کرتا ہے کہ بندہ کہے کہ ناامیدی اچھی بات نہیں۔ کبھی نہ کبھی رحمتیں نازل ہوں گی ہی کہ سخت گرمی کے بعد بارش بھی ہوتی ہے۔ اس امید میں خوف صرف یہ آتا ہے کہ بعض دفعہ بارش کچھ اتنی دیر سے ہوتی ہے کہ بارش کی دعائیں مانگنے والے قحط کی نذر ہوچکے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں خود بھی ذرا سا حقیقت پسند ہونا چاہئے کہ کیا واقعی ہم اس قابل ہیں کہ تبدیلی کے خواب دیکھ سکیں اور رحمت کی امید کرسکیں؟ ایک بیمار اپنی بیماری سے شفا کی امید بھی رکھے اور طاقت رکھتے ہوئے بد پرہیزی بھی نہ چھوڑے تو اس کی رحمت کی امید گستاخی ہی شمار کی جائے گی۔ ہم سب موجودہ حکومت کو کوستے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ یہ عذاب سے کم نہیں تھا۔ لیکن کیا وہی کردار جو حکومت کا ہے اپنے اپنے دائرے میں ہم سب کا نہیں ہے؟ حکومت کا دائرہ کیونکہ وسیع ہے اور پھر ہر وقت میڈیا کی نظر میں بھی ہے اس لئے واضع ہے۔ لیکن جو یہاں رہتے ہیں ان کا روزمرہ کا مشاہدہ کیا ہے؟ گھر سے نکلیں رکشہ کرنے لگیں تو رکشے والا آپ کی کھال اتارنے کی پوری کوشش کرے گا۔ سبزی والے کے پاس جائیں تو آپ کی بوٹیاں نوچنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ دودھ والا تو اب اپنا حق سمجھتا ہے آپ کا گلا کاٹنا۔ کسی دفتر کے چپراسی سے ہی کام پڑ جائے تو لگ پتہ جائے آٹے دال کا بھاؤ۔ بس میں سفر کریں تو کنڈکٹر ڈرائیور ایسے ٹریٹ کرتے ہیں جیسے مویشی منڈی کے جانور بھرے ہوں بس میں۔ رفتار کم کریں گے تو اپنے مقصد کو اور بڑھائیں گے تو اپنے مفاد میں۔ اگر سواریاں کم ہیں تو چنگ چی سے بھی کم اسپیڈ پر جائیں گے چاہے دفتر والوں کو دیر ہوجائے یا کسی کے ایمرجنسی کام کا ناس ہوجائے۔ اگر دوسری بس سے خطرہ ہے کہ وہ پسنجرز کا صفایا کردے گی تو ایسے بھگائیں گے کہ ضعیف اور عورتیں تو دور کی بات جوان آدمی کے لئے بھی اپنے اسٹاپ پر عزت سے اترنا مشکل ہوجائے۔ خواتین کے ساتھ جو بسوں میں یا مارکیٹوں میں انہیں عوامی کنڈکٹروں یا عوامی دکانداروں کے ہاتھوں جو تذلیل ہوتی ہے وہ یہاں اتنی عام ہے کہ اب تو کوئی آگے بڑھ کر یہ بھی نہیں کہتا ہے کہ یار خاتون ہیں کچھ لحاظ کرو۔ پندرہ پندرہ سال کے چھوکرے چھ چھہ فٹ گلیوں سے ایسے پھٹے ہوئے سائلنسر کی موٹرسائکلیں بھگاتے ہیں کہ آپ زچ ہوکر نفسیاتی مریض بن جائیِں۔ اور والدین کبھی جھوٹے منہ بھی سرزنش نہیں کرتے۔ آپ باہر نکلیں ہر طرف یہی عوام ایک دوسرے کا گلا کاٹنے میں مصروف ہے۔ یہ تو میں نے صرف کچھ مثالیں دی ہیں ورنہ صرف عوام کے کارنامے ہی بیان کردئیے جائیں تو وہ کسی بھی طرح حکومت سے کم نہیں۔ اکثر جگہوں پر ہر گلی میں کچھ گھر مل جائیں گے جو بجلی چوری کررہے ہوں گے۔ کسی کو شادی کرنی ہے اپنے بچے کی تو بیچ گلی میں ٹینٹ لگا کر راستہ بند کردے گا اب آپ خوار ہوتے پھریں دوسری گلیوں میں۔ کسی نے مذہبی پروگرام منعقد کرنا ہے تو سب سے پہلے راستے کا حق مارے گا اس کے نام پر جس نے راستوں کے حقوق بھی متعین کر کے بتادئیے تھے۔ سیاسی پارٹیوں پر ہم غصہ کرتے ہیں کہ اپنی اولادوں کو آگے لاتے ہیں جبکہ عوام میں بھی یہی رویہ نظر آتا ہے۔ جہاں اپنے بچے یا بچی کا سوال آئے گا ہر ذریعہ اختیار کیا جائے گا رشوت سفارش دھونس کہ اپنے بچے کا داخلہ یا کام ہوجائے دوسرے جائیں بھاڑ میں۔ یہ رویئے موقع پڑتے ہی ایسے سامنے آتے ہیں کہ بعض اوقات آپ کو کسی سے یہ امید ہی نہیں ہوتی کہ یہ بندہ کبھی غلط کام کرسکتا ہے۔ استثنا ہر جگہ ہوتے ہیں اس سے انکار نہیں۔ لیکن حکم اکثریت پر ہی لگتا ہے۔ عمومی رویہ ہمارا کچھ ایسا ہوگیا ہےکہ بظاہر کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ کیوں ہمارے حالات بہتر ہوں۔ ان پارٹیوں کے جلسے پر دیکھ لیں کتنا رش ہوتا ہے۔ یہ کون ہیں؟ کارکن؟ صرف نام کارکن کا ہے ورنہ یہ سب عوام ہے۔ جو پیسے کی خاطر اپنے دوسرے ہم وطنوں کا ناس مارنے میں ان بدمعاشوں کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ ایک بندہ اگر پانچ سو یا ہزار لے ووٹ دے دیتا ہے یا جلسے میں شامل ہوتا ہے یا کسی نوکری کے وعدے پر تو وہ صرف اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ اور ہے کون؟ عوام؟ ان حالات کے ہوتے ہوئے یہاں تبدیلی اتنی آسان نظر نہیں آتی۔ خود میں ذاتی طور پر پرویز مشرف کو موجودہ حالت میں پسند کرتا ہوں صرف اس وجہ سے کہ دوسروں سے بہت درجہ بہتر ہے۔ لیکن ان حالات کو سدھارنے کے لئے وہ بھی کچھ نہیں۔ یہاں گراونڈ لیول تک جو اخلاقی تنزلی کا ناسور سرایت کرچکا ہے اس کے لئے ایک بہت بڑی بے درد قسم کی سرجری کی ضرورت ہے جس کی اہلیت مجھے مشرف میں بھی نظر نہیں آتی۔ مشرف جتنا ہی اچھا سہی اس کی حیثیت ہی کیا ہے۔ قائد اعظم کے پاسنگ بھی نہیں۔ قائد اعظم نے تو اس قوم کی ناؤ پار لگائی تھی جس میں اخلاقی گراوٹ اس درجہ کی نہیں تھی بلکہ وہ اس وقت ایک ہوچکی تھی اور آج کی حالت سے کئی درجہ بہتر تھی۔ لیکن آج جو قوم کی مجموعی یا عمومی کہہ لیں حالت ہے اس میں تو وہ ایک قائد اعظم بھی آجائیں تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ بھی کیا کرسکیں گے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ آج کم سے کم دس قائد اعظم کی طاقت، جرات، حوصلہ اور مضبوط عزم وہمت والا انسان چاہئے اور ہمارے پاس آدھا چھوڑ کر پاؤ بھی نہیں۔ مشرف سے بھی اگر کوئی امید ہے تو صرف یہ کہ شائد وہ اس راستے پر سسٹم کو ڈال جائے جس میں پھر کبھی کوئی قائد اعظم پیدا ہوجائے۔ بہرحال بات پھر وہیں آتی ہے کہ جب عوام ہی عوام کا گلا کاٹنے میں مصروف ہے تو پھر آگے کی کیا امید رکھیں۔
 
Top