ہم نے دیکھے ہیں دنیا میں لاکھوں حسیں

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
---------
ہم نے دیکھے ہیں دنیا میں لاکھوں حسیں
آپ جیسا زمانے میں کوئی نہیں
----------
بھول جانے کی کوشش نہیں کارگر
دل میں میرے ہوئے آپ ایسے مکیں
----------
ان کی باتوں کی لذّت نہیں بھولتی
وہ ہیں شیریں سخن اور خندہ جبیں
--------
دل تصوّر میں ان کے ہی رہنے لگا
ان کو دیکھے بنا چین آتا نہیں
-----------
ہے اداؤں میں ان کی بڑا بانکپن
اپنی باتوں سے لگتا بہت ہے حسیں
----------
اس کی الفت نے مجھ کو سہارا دیا
یاد رہتا ہے مجھ کو میں جاؤں کہیں
----------
بن کے سایہ مرا ساتھ میرے رہا
اس کی یادیں سدا ساتھ میرے رہیں
---------
بات جو بھی کہی تُو نے سچی کہی
تیری باتوں پہ ارشد ہے اتنا یقیں
-------
 

عظیم

محفلین
پہلے دو اشعار درست لگتے ہیں مجھے
تیسرے میں "خندہ جبیں" محض قافیہ لانے کی کوشش لگتی ہے کہ اس کا باتوں کی لذت سے کوئی تعلق نظر نہیں آ رہا
چوتھے میں
جن کو دیکھے بنا چین آتا نہیں
کہیں تو؟
پانچویں کا دوسرا مصرع کوئی اور کہیں، پہلے میں 'ان' اور دوسرے میں ' لگتا' یعنی واحد درست نہیں

اس کی الفت نے مجھ کو سہارا دیا
یاد رہتا ہے مجھ کو میں جاؤں کہیں
//دو لختی کی سی کیفیت ہے، دونوں کا آپس میں ربط اگر ہے تو بہت کمزور ہے
ڈگمگاؤں کہیں
کسی طرح لائیں کہ سہارے کے ساتھ فٹ بیٹھے گا

بن کے سایہ مرا ساتھ میرے رہا
اس کی یادیں سدا ساتھ میرے رہیں
---------اس کا بھی دوسرا مصرع دوبارہ کہیں اور کوئی اور کہیں۔ دونوں میں تقریباً ایک ہی بات ہے

بات جو بھی کہی تُو نے سچی کہی
تیری باتوں پہ ارشد ہے اتنا یقیں
/// دوسرے میں سوالیہ سچوایشن پیدا کریں
کہ کیوں یقیں نہ آئے یا کیوں یقیں نہ کریں جب کہ ہر بات سچی کی ہے
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیا!
ہم نے دیکھے ہیں دنیا میں لاکھوں حسیں
جن کی خوبی بیاں کرنا ممکن نہیں
ہیں اُنہی کی اداؤں کے زیر ِنگیں
چاند، سورج ، ستارے ، فلک اور زمیں

۔۔۔۔۔۔دل رُبا، دل کُشا، دل سِتاں، دل نشیں
۔۔۔۔۔۔جانِ من، جانِ جاں اور جاں آفریں

بھول جانے کی کوشش نہ ہو کارگر
دیکھ لے جو کوئی اُن کو بس اک نظر
اُن کی مدحت سے رکھے زباں اپنی تر
ہو وظیفہ یہی اُس کا شام و سحر
۔۔۔۔۔۔آپ جیسا زمانے میں کوئی نہیں

۔۔۔۔۔۔دل ہے گھر آپ کا آپ دل کے مکیں
اُن کی باتوں کی لذت کا کہنا ہی کیا
بول قند و شَکَر میں ہو جیسے گُھلا
قول الفت میں ڈوبی ہوئی اک صدا
نرم لہجہ کہ جیسے ہو بادِ صبا
۔۔۔۔۔۔اُن کی آواز سازوں سے بڑھ کر حسیں

۔۔۔۔۔۔سننے والے کہیں آفریں آفریں!!!
جب تصور میں اُن کی ہی تصویر ہو
پھر تو رسموں کی کیسی ہی زنجیرہو
کوئی خوش ہو کہ ناراض تقدیر ہو
اور قلاش ہو یا جہاں گیر ہو
۔۔۔۔۔۔چین آئے نہ دنیا میں اُس کو کہیں

۔۔۔۔۔۔در بہ در وہ پھرے لے کے جانِ حَزیں
ہے اداؤں میں اُن کی بڑا بانکپن
اُن کے انداز اللہ رے توبہ شِکن !
وہ بہارِ گلستان ہیں گُل بدن

اُن کو دیکھو تو پیدا ہو فکر ِ سُخن
۔۔۔۔۔۔ہواگرچہ نہ شاعر وہ کہدے وہیں

۔۔۔۔۔۔اُن کے اعزاز میں اِک غزل دل نشیں
جن حسینوں کا ہم نے حوالہ دیا
اور جو دل میں تھا وہ بے دھڑک کہہ لیا
تو یہ ارؔشد جی کہتے ہیں سنیے پیا
۔!
آپ کے مثل رب نے نہ پیدا کیا
۔۔۔۔۔۔ہم نے ڈھونڈا مگر اک نہ پایا کہیں

۔۔۔۔۔۔آپ ساخوبصورت ، حسیں ، نازنیں
۔۔۔۔آہَ ہا۔ہاہَ ہا۔ہا ہَ ہا۔ہا ہَ آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
اب یہ کس کا کلام ہوا؟
ایک طالبِ علم کااپنے طالبِ علم ساتھی کے لیے :
محرومِ تماشا کوپھر دیدۂ بینا دے
۔۔۔۔۔دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلادے

شکریہ ارشد صاحب آپ نے مجھے موقع دیا کہ میں آپ کی رکھی ہوئی فاؤنڈیشن
پر جیسی تیسی عمارت کھڑی کردوں ، اِس مشق سے مجھے خود بہت کچھ سیکھنے
کاموقع ملا،شکریہ ۔
 
آخری تدوین:
Top