ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے ۔ ثاقب لکھنوی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 31, 2020

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
    جوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتے

    لہو تھا تمنا کا آنسو نہیں تھے
    بہائے نہ جاتے تو ہرگز نہ بہتے

    وفا بھی نہ ہوتا تو اچھا تھا وعدہ
    گھڑی دو گھڑی تو کبھی شاد رہتے

    ہجومِ تمنا سے گھٹتے تھے دل میں
    جو میں روکتا بھی تو نالے نہ رہتے

    میں جاگوں گا کب تک وہ سوئیں گے تا کے
    کبھی چیخ اٹھوں گا غم سہتے سہتے

    بتاتے ہیں آنسو کہ اب دل نہیں ہے
    جو پانی نہ ہوتا تو دریا نہ بہتے

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
    ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

    کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
    زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے

    مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقبؔ
    کنارے پہ آ ہی لگی بہتے بہتے

    (ثاقب لکھنوی)
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 31, 2020
    • زبردست زبردست × 2
  2. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    517
    موڈ:
    Breezy
    واہ جی واہ کیا کہنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    4,021
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    عمدہ انتخاب ...ہمیشہ کیطرح....
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر