1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

اقتباسات ہمارے اصل مجرم!!

عبداللہ محمد نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 9, 2016

  1. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    11,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    تمہیں پتہ ہے ہمارے اصل مجرم کون ہیں،جنہوں نے ہمارے ساتھ فریب کیا-ترقی پسند شاعر اور دانشور،انہوں نے ہمیں خواب دکھلائے-انقلاب کے رومان کی آگ میں زندہ جلا ڈالا- ہم دیکھیں گے،ہم نہ تو دیکھ سکے،نہ تاج اچھالےگئے نہ تخت گرائے گئے۔اور نہ خلق خدا نے راج کیا اور چاند کو گل کریں تو جانیں،تو چاند بھی گل ہو گیا--
    اے غزال شب از مستنصر حسین تارڑ چاچا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    18,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    عمدہ ہے جناب.
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    خواب ایک تحریک کا نام ہے اگر ہم تحریک بھی دوسروں کے خواب کی تعبیر کو سمجھتے ہیں تو کیا فائدہ اس شعور اور آگہی کا ۔
    لازم تھا کہ ہم اپنے حصے کی شمع جلاتے بجائے اس کے کہ شمع جلانے کی تحریک کو الزام دیتے ۔
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. طالب سحر

    طالب سحر محفلین

    مراسلے:
    380
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    یہ جملہ کسی ناول یا فلم میں تو یقینی طور پر پُراثر ہوگا، لیکن اس جملے میں ترقی پسند تحریک کی کوئی معروضی assessment تو نہیں ہے اور شاید ناول کے مکالمے کے طور پر ایسا ممکن بھی نہیں ہے۔

    حسن عابد (جو کہ پوری زندگی unapologetically ترقی پسند تحریک سے جُڑے رہے) کا ایک شعر :
    ہوا کرتی ہے اپنا کام اور شمعیں بجھاتی ہے
    ہم اپنا کام کرتے ہیں، نئی شمعیں جلاتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
  5. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,493
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اچھا اقتباس ہے۔

    دراصل یہ ایک مختلف نقطہ نظر ہے جو مصنف نے اپنی تحریر میں پیش کیا ہے اور مختلف نقطہ نظر کی بہرکیف اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے۔

    زندہ رہنے کے لئے اُمید ضروری ہوتی ہے لیکن مستقل درپیش آنے والی محرومیاں اور مایوسیاں بھی ہمارے اظہار کا حصہ بنتی ہیں اور بننا بھی چاہیے۔ مستنصر حسین تارڑ کے ایک ناول 'قلعہ جنگی' کی ہی بات کی جائے کہ اس میں جو منظر نامہ پیش کیا گیا ہے اُسے پیش کرنے کے لئے اُمید کی نہیں بلکہ مایوسی کی ہی ضرورت ہے اور بیانیہ میں معاملات حسبِ ضرورت ہی برتے جاتے ہیں نہ کہ حسبِ منشا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    11,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    شکریہ جناب۔
    وہ فراز صاحب کا شعر ہے کہ
    شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
    بات تو یہ ٹھیک ہے لیکن دوسرا رخ دیکھنے میں کیا حرج ہے؟
    جی بھائی یہ ناول کا ہی اقتباس ہے باقی اگر آپ اپنی بات پر تھوڑی اور روشنی ڈال دیں تو عین نوازش ہوگی۔
    شکریہ احمد بھائی۔ قلعہ جنگی کا ابھی تک مطالعہ نہیں کیا۔ سوچ رہا ہوں مہینہ چاچا مستنصر مناؤں اور زیادہ تر ناول پڑھ ہی ڈالوں۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 11, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    18,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    فیض کا نہیں، فراز کا شعر ہے جناب.
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  8. طالب سحر

    طالب سحر محفلین

    مراسلے:
    380
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ جوجملے مستنصر حسین تارڑ کے ناول سے آپ نے quote کئے ہیں، وہ اُس ناول کے سیاق و سباق میں تو یقینی طور پر پُراثر رہے ہوں گے۔ ناول میں نے نہیں پڑھا ہے۔ اقتباس میں دیے گئے جملوں کی بناوٹ سے ایسا لگتاہے کہ ناول کا ایک کردار دوسرے کردار کو کچھ بتا رہاہے۔ یہ بھی اندازا ہو ہی جاتا ہے کہ بولنے والے کردار کے لہجے میں تلخی ہے۔ ناول کے پڑھنے میں مکالمے کا یہ حصہ اپنےبہت سارے معانی بآسانی ظاہر کرسکتا ہے، اور ممکن ہے کہ ناول کے پلاٹ میں مذکورہ جملے کی کوئی کلیدی حیثیت بھی ہو۔ لیکن جب اِس جملے کو ہم ناول سے نکال کر پڑھتے ہیں تو اس کی قراءت کا یہ معاملہ نہیں رہتا۔ اب یہ جملہ فکشن کے domain سے نکل کر بظاہر کسی حقیقت کو بیان کرنے کی کوشش کرتا نظر آرہا ہے۔ ناول میں تو دو (یا دو سے زیادہ) کرداروں کے درمیان بحث مباحثہ ہو رہا ہو گا لیکن یہاں محفل پر بطور اقتباس مکالمے کا یہ حصہ statement بن گیا ہےجب کہ ان جملوں میں ترقی پسند تحریک کے بارے میں کوئی معروضی assessment نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,447
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ نے بہت عمدہ طریقے سے اقتباس کو واضح کر دیا۔ کیا ادب کو اپنے عہد کا آئینہ ہونا چاہیے یا عہد ساز؟
     

اس صفحے کی تشہیر