"ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے" - محمود خواجہ بہبودی

حسان خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 7, 2018

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    15,049
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ماوراءالنہری مُفکِّر و ادیب «محمود خواجه بهبودی» (وفات: ۱۹۱۹ء) تُرکستان سے جاری ہونے والے مجلّے «آینه» میں ۱۹۱۳ء میں لکھے گئے مقالے «ایککی اېمس، تۉرت تیل لازم» (دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں) میں ایک جا لکھتے ہیں:

    "تُرکستان‌نینگ سمرقند و فرغانه ولایت‌لرینده فارسچه سۉیله‌تورگن بیر نېچه شهر و قیشلاق‌لر باردور. بُخارا حکومتی‌نینگ تیلی فارسی‌دور. فارس شاعر و اُدَباسی اثرلری قیامت‌غه‌چه لذّتی کېتمه‌یتورگن خزینهٔ معنوی‌دور که، موندان فایده‌لنماق اوچون آوروپایی‌لر میلیه‌ردلر صرف اېترلر.
    بیزغه سعادت‌دور که، تورکی و فارسی‌نی تحصیل‌سیز بیلورمیز. هر تورک‌نی فارسی و هر فارس‌نی تورکی بیلماغی لازم‌دور.

    فارسی بیلگن کیشی فردوسی، بېدل، سعدی، «مثنوی»دن قنده‌ی لذّت آلسا، تورکی بیلگن‌لر فضولی، نوایی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم‌بېک، سنایی، نابی، ناجی‌لردن، ینه تالستۉی، جول ورن و عُلَمایِ زمانی اثرینی تورکی ترجمه‌سی‌دن لذّت شونده‌ی آله‌دور."

    ترجمہ:
    "تُرکستان کی سمرقند و فرغانہ ولایتوں میں فارسی بولنے والے کئی ایک شہر اور قریے موجود ہیں۔ حکومتِ بُخارا کی زبان فارسی ہے۔ فارسی شاعروں اور ادیبوں کی تألیفات ایسا خزینۂ معنوی (روحانی) ہیں کہ جس کی لذت قیامت تک نہ جائے گی، اور جس سے فائدہ یاب ہونے کے لیے اہلِ یورپ اربوں خرچ کرتے ہیں۔
    ہمارے لیے سعادت ہے کہ ہم تُرکی و فارسی کو تحصیلِ علم کے بغیر ہی جانتے ہیں۔ ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے۔
    فارسی جاننے والا شخص جس طرح فردوسی، بیدل، سعدی، مثنویِ معنوی سے لذّت لیتا ہے، تُرکی جاننے والے اشخاص [بھی] اُسی طرح فضولی، نوائی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم بیگ، سنائی، نابی، ناجی وغیرہ سے، نیز تالستوی، جُول وَرْن، اور عُلمائے عصر کی تألیفات کے تُرکی ترجمے سے لذّت لیتے ہیں۔"


    لاطینی رسم الخط میں:
    Turkistonning Samarqand va Farg'ona viloyatlarinda forscha so'ylayturgan bir necha shahar va qishloqlar bordur. Buxoro hukumatining tili forsiydur. Fors shoiru udabosi asarlari qiyomatg'acha lazzati ketmayturgan xazinai ma'naviydurki, mundan foydalanmoq uchun ovrupoyilar milyardlar sarf etarlar.
    Bizg'a saodatdurki, turkiy va forsiyni tahsilsiz bilurmiz. Har turkni forsiy va har forsni turkiy bilmog'i lozimdur.
    Forsiy bilgan kishi Firdavsiy, Bedil, Sa'diy, «Masnaviy»dan qanday lazzat olsa, turkiy bilganlar Fuzuliy, Navoiy, Boqiy, Somiy, Abdulhaq Homid, Akrambek, Sanoyi, Nobiy, Nojiylardan, yana Tolsto'y, Jul Vern va ulamoi zamoniy asarini turkiy tarjimasidan lazzat shunday oladur.


     
    آخری تدوین: ‏اگست 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    15,049
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ماوراءالنہری مُفکِّر و ادیب «محمود خواجه بهبودی» (وفات: ۱۹۱۹ء) نے تُرکستان سے جاری ہونے والے مجلّے «آینه» میں ۱۹۱۳ء میں لکھے گئے اپنے مقالے «ایککی اېمس، تۉرت تیل لازم» (دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں) کا آغاز اِن الفاظ کے ساتھ کیا تھا:

    "بیز تورکستان‌لی‌لرغه تورکی، فارسی، عربی، و روسی بیلماق لازم‌دور، تورکی، یعنی اۉزبېکی‌نی سببی شول که، تورکستان خلقی‌نینگ اکثری اۉزبکی سۉیله‌شور. فارسی بۉلسه، مدرَسه و اُدَبا تیلی‌دور. بوکون‌غه‌چه تورکستان‌نی هر طرفینداگی اېسکی و ینگی مکتب‌لرینده فارسی نظم و نثر کتاب‌لری تعلیم بېریلیب کېلگن‌دور.
    برچه مدرَسه‌لرده شرعی و دینی کتاب‌لر عربی تعلیم بېریلسه هم، مُدرِّس‌لرنی تقریر و ترجمه‌لری فارسچه‌دور. بو قاعدہ، یعنی درس کتابی - عربی، مُعلِّم - تورکی، تقریر و ترجمه‌نی فارسی‌لیگی خیله عجیب‌دور."


    "ہم تُرکستانیوں کو تُرکی، فارسی، عرَبی اور رُوسی جاننا لازم ہے۔ تُرکی، یعنی اُزبَکی کا سبب یہ کہ مردُمِ تُرکستان کی اکثریت اُزبکی بولتی ہے۔ جبکہ فارسی اِس لیے کیونکہ یہ مدرَسے اور اُدباء کی زبان ہے۔ تا اِمروز تُرکستان میں ہر طرف قدیم و جدید مکتبوں میں فارسی نظم و نثر کی کتابیں تعلیم و تدریس ہوتی آئی ہیں۔
    خواہ تمام مدرَسوں میں شرعی اور دینی کتابیں عربی میں تعلیم دی جائیں، لیکن مُدرِّسوں کی خط و کتابت اور ترجمے فارسی میں ہوتے ہیں۔ یہ قاعدہ، یعنی درسی کتاب: عربی، مُعلّم: تُرکی، خط کتابت و ترجمہ: فارسی خَیلے حیرت انگیز ہے۔"


    لاطینی رسم الخط میں:
    Biz turkistoniylarg‘a turkiy, forsiy, arabiy va rusiy bilmoq lozimdur. Turkiy, ya’ni o‘zbekini sababi shulki, Turkiston xalqining aksari o‘zbakiy so‘ylashur. Forsiy bo‘lsa, madrasa va udabo tilidur. Bukung‘acha Turkistonni har tarafindagi eski va yangi maktablarinda forsiy nazm va nasr kitoblari ta’lim berilib kelgandur.
    Barcha madrasalarda shar’iy va diniy kitoblar arabiy ta’lim berilsa ham, mudarrislarni taqriru tarjimalari forschadur. Bu qoida, ya’ni dars kitobi —arabiy, muallim — turkiy, taqriru tarjimani forsiyligi xila ajibdur.
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر