گلزار گلی قاسِم :: از:: گلزار

گلی قاسِم
گلزار
گلی قاسم میں آکر
تمہاری ڈیوڑھی پر رک گیا ہوں مرزا نوشہ
تمہیں آواز دوں پہلے۔۔۔ ۔۔۔ ۔
چلی جائیں ذرا پردے میں امراؤ
تو پھر اندر قدم رکھوں
چلمچی، لوٹا، سینی اٹھ گئے ہیں
برستا تھا جو دو گھنٹے کو مینہ، چھت چار گھنٹے تک
برستی تھی
اسی چھلنی سی چھت کی اب مرمت ہورہی ہے
صدی سے کچھ زیادہ وقت آنے میں لگا
افسوس ہے مجھ کو
اصل میں گھر کے باہر کوئلوں کے ٹال کی سیاہی لگی تھی
وہ مٹانی تھی
اسی میں بس کئی سرکاریں بدلی ہیں تمہارے گھر پہنچنے میں
جہاں کلن کو لے کر بیٹھتے تھے، یاد ہے ؟
بالائی منزل پر ؟
لفافے جوڑتے تھے تم لیئی سے
خطوں کی کشتیوں میں اردو بہتی تھی
اچھوتے ساحل اردو نثر چھونے لگ گئی تھی
وہیں بیٹھے گا کمپیوٹر
وہاں سے لاکھوں خط بھیجا کرے گا
تمہارے دستخط جیسے، وہ خوشخط تو نہیں ہوں گے
مگر پھر بھی
پرستاروں کی گنتی بھی اسد، اب تو کروڑوں میں ہے
تمہارے ہاتھ کے لکھے ہوئے صفحات رکھے جارہے ہیں
تمہیں تو یاد ہوگا
مسودہ جب رام پور سے، لکھنو سے، آگرہ سے
گھوما کرتا تھا
شکایت تھی تمہیں، یارب نہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے وہ میری بات
انہیں دے اور دل یا مجھ کو زباں اور
(یارب وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے میری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور)
زمانہ ہر زباں میں پڑھ رہا ہے اب، تمہارے سب سخن غالب ( نوشہ)
سمجھتے کتنا ہیں ، یہ تو وہی سمجھیں یا تم سمجھو
یہیں شیشوں میں لگوائے گئے ہیں
پیرہن اب کچھ تمہارے
ذرہ سوچو تو قسمت چار گرہ کپڑے کی اب غالب
کہ تھی قسمت یہ اس کپڑے کی ، غالب کا گریباں تھا
تمہاری ٹوپی رکھی ہے
جو اپنے دور سے اونچی پہنتے تھے
تمہارے جوتے رکھے ہیں
جنہیں تم ہاتھ میں لے کر نکلتے تھے
شکایت تھی کہ سارے گھر کو ہی مسجد بنا رکھا ہے بیگم نے
تمہارا بت بھی اب لگوادیا ہے اونچا قد دے کر
جہاں سے دیکھتے ہو اب تو سب بازیچہء اطفال لگتا ہے
سبھی کچھ ہے مگر نوشہ( غالب)
اگرچہ جانتا ہوں ہاتھ میں جنبش نہیں بت کے
تمہارے سامنے اِک ساغر و مینا تو رکھ دیتے
بس اِک آواز ہے جو گونجتی رہتی ہے اب گھر میں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

بشکریہ جناب راشد اشرف
 

زبیر مرزا

محفلین
واہ بہت خوب - ایسی نظم گلزار ہی لکھ سکتے ہیں جن کو شاعری کے ساتھ داستان گوئی میں بھی ماہرت ہے
جوکمال کے منظرنگار بھی ہیں اور غالب کے طرفدار بھی
شکریہ راشداشرف اور خلیل الرحمان صاحبان
چھوٹاغالبؔ کو آواز دے کوئی
 

Rashid Ashraf

محفلین
بہت شکریہ جناب والا۔ اپنے گزشہ پیغامات معہ لنکس یہاں بھی درج کررہا ہوں:

’’مختصرا عرض کروں کہ یہ قصہ اس وقت شروع ہوا جب ڈاکٹر تقی عابدی نے ایک ہندوستانی جریدے میں اس نظم کا مطالعہ پیش کیا لیکن یہ غضب بھی ساتھ ہی کرڈالا کہ نظم درج نہیں کی۔۔۔ ۔پرچہ ہمارے پاس پہنچا، کھوج لگائی تو معلوم ہوا کہ یہ نظم تو کہیں دستیاب ہی نہیں ہے۔

پھر مجبورا گلزار صاحب ہی کو زحمت دینی پڑی، درخواست کی، کہا کہ دست بدستہ ہوں لیکن فون پر آپ یہ کیفیت دیکھ نہیں سکتے۔

خیر صاحب! انہوں نے کمال مہربانی سے یہ نظم پی ڈی ایف میں ارسال کی۔ خیال آیا کہ پہلے اسے کسی معیاری ادبی پرچے میں شائع کرادوں۔ سب سے پہلے رئیس فاطمہ صاحبہ کا فون آیا تھا، پڑھتے ہی اسیر ہوگئیں۔۔۔ ۔۔۔ کون ہے جو متاثر ہوئے بنا رہ سکے گا، آپ خود ہی پڑھ کر فیصلہ کرلیجیے۔ لنکس پیش خدمت ہیں۔ فیس بک اور اردو فورم پر شامل کررہا ہوں، یقین ہے کہ جلد ہی یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گی:

http://www.flickr.com/photos/41786707@N05/7667055196/in/photostream
اور
http://www.flickr.com/photos/41786707@N05/7667055060/in/photostream
 

الف عین

لائبریرین
خلیل کا شکریہ کہ اس نظم کو ایک جگہ کر دیا، راشد نے ٹائپ کرتے کرتے پیغامات کے جواب دئے تھے۔
مگر راشد گلزار کو خبر کر دیں کہ ان کا گلی قاسم جان کو گلی قاسم بھائی بنانا پسند نہیں آیا!!!
 

Rashid Ashraf

محفلین
خلیل کا شکریہ کہ اس نظم کو ایک جگہ کر دیا، راشد نے ٹائپ کرتے کرتے پیغامات کے جواب دئے تھے۔
مگر راشد گلزار کو خبر کر دیں کہ ان کا گلی قاسم جان کو گلی قاسم بھائی بنانا پسند نہیں آیا!!!

ہا ہا
بہت بہتر جناب
میری کتاب دکن میں پروفیسر رحمت صاحب کے پاس پہنچ چکی ہوگی، علی گڑھ سے بھجوائی گئی ہے۔ کیا آپ حیدرآباد میں ہین ان دنوں ؟ دیکھنا چاہیں تو دیکھ لیجیے گا۔ پہلی کھیپ میں محدود کاپیاں ہی بجھوا سکا۔ دلی سے ان صاحب کا اس کتاب کو شائع کرنے کے بارے میں جواب مثبت آیا ہے
 

زبیر مرزا

محفلین
راشد صاحب آپ کی کتاب اُردوبازار کراچی میں کسی کے پاس دستیاب ہے؟
دوکان کا نام پتہ بتلا دیجئیے ایک دوست کراچی سے آنے والے ہم بھی فیضیاب ہوجائیں اس کتاب سے
 

زبیر مرزا

محفلین
ارے واہ ویلکم بک پورٹ تو میرا پسندیدہ ہے کہ میں سیدھا جاتا ہی اُن کے پاس ہوں
اچھا میں آپ کی کتاب کا نام بھول گیا وہ بھی دوبارہ بتادیں
 

Rashid Ashraf

محفلین
ارے واہ ویلکم بک پورٹ تو میرا پسندیدہ ہے کہ میں سیدھا جاتا ہی اُن کے پاس ہوں
اچھا میں آپ کی کتاب کا نام بھول گیا وہ بھی دوبارہ بتادیں

"کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" --- آج 2 اگست 2012 کوروزنامہ ایکسپریس میں پروفیسر رئیس فاطمہ نے مذکورہ کتاب اور خاکسار کا ذکر کیا ہے

http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101585324&Issue=NP_KHI&Date=20120802
 
Top