غالب :::: کی وفا ہم سے تو غیر اُس کو جفا کہتے ہیں

طارق شاہ

محفلین
غزلِ​
اسدالله خاں غالب ​
​
کی وفا ہم سے تو غیر اُس کو جفا کہتے ہیں
ہوتی آئی ہے کہ اچّھوں کو بُرا کہتے ہیں​
​
آج ہم اپنی پریشانیِ خاطر اُن سے
کہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھیے کیا کہتے ہیں​
​
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، اِنھیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں​
​
دل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سے
اور پھر کون سے نالے کو رسَا کہتے ہیں؟​
​
ہے پرے سرحدِ ادراک سے، اپنا مسجود
قبلے کو، اہلِ نظر، قبلہ نُما کہتے ہیں​
​
پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
خارِ رہ کو تِرے ہم مِہرِ گیا کہتے ہیں​
​
اِک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائیگا کیا
آگ مطلوب ہے ہم کو ،جو ہَوا کہتے ہیں​
​
دیکھیے، لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگ
اُس کی ہر بات پہ ہم نامِ خُدا کہتے ہیں​
​
وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شاید
مر گیا غالبِ آشفتہ نوا، کہتے ہیں​
​
مرزا غالب ​
​
 

طارق شاہ

محفلین
سدا بہار غزل ۔۔۔ !
شکریہ محترم اس خوبصورت پیشکش کے لیے ۔۔سلامت رہیں ۔
گیلانی صاحبہ! اظہار خیال اور انتخاب غزل کی پذیرائی کے لئے ممنون ہوں :)
تشکّر، بہت خوش رہیں

((خرم شہزاد اور بھلکڑ، صاحبان کا بھی انتخاب پر رائےدینے پر دلی تشکّر :) بہت خوش رہیں ))
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top