کیسے پرلطف ہوا کرتے تھے وہ پیار کے دن(غزل)

محمد اسامہ سَرسَری نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 25, 2013

  1. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    دل پہ قابو جو نہیں رہتا ہے دیدار کے دن
    لفظ بھی ساتھ نہیں دیتے ہیں اظہار کے دن
    روز مسکان سجاتے ہیں ہمیں دیکھ کے جو
    کرتے اعراض ہیں پھر کیوں مرے اقرار کے دن
    وصلِ احباب تو موسم پہ بھی رکھتا ہے اثَر
    کیسی دلشاد فضا ہوتی ہے اتوار کے دن
    پھر تو دو چند ہو یہ عید ، جو محبوب ہمیں
    آکے خود ’’عید مبارک‘‘ کہے تہوار کے دن
    رات ساری انھی سوچوں میں گزر جاتی ہے
    کیسے پرلطف ہوا کرتے تھے وہ پیار کے دن
    ہجر کی تیغِ جفا کھاکے ہمیں یاد آیا
    قیس و لیلیٰ کا زمانہ ، وہی تلوار کے دن
    سَرسَرؔی سی نظر اک بار پڑی تھی ان پر
    اب گزرتے نہیں اُس دید کے بیمار کے دن
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful

اس صفحے کی تشہیر