کیا کیجیے؟؟

محمد امین

لائبریرین
السلام علیکم،

محترم اساتذہ کی نظر ایک بے ربط سی کاوش۔۔۔ بحر سے تو بالکل ہی خارج ہے کیوں کہ مجھے عروض سے اتنی واقفیت نہیں، بس شاعری پڑھ پڑھ کر کبھی کبھی کچھ بے ہنگم سے خیالات کو مجتمع کر کے قلمبند کرلیا لرتا ہوں، جسے عوام اور جہلاء پر بھرم جھاڑنے لیے شاعری کا نام دے دیتا ہوں، ہاہاہاہا۔۔۔


نالہ و شور و فغاں کیا کیجیے،
دل نہیں لگتا یہاں کیا کیجیے،

دل تو اظہارِ مدعا چاہے،
وہ نہیں سنتے بیاں کیا کیجیے،

شوخیْ گل کا خدا حافظ ہو،
بلبلیں گریہ کناں کیا کیجیے،

رات سی پھیلی ہے شام میں تاریکی،
دل میرا ڈوب رہا کیا کیجیے۔۔



دل کھول کر تنقید کیجیے گا، مجھے معلوم ہے کہ میری "غزل" کس پائے کی ہے :grin::hatoff: ہی ہی ہی ہی۔۔
 
کہتے ہیں کہ اگر کھیرا اخیر میں کڑؤا ہو جائے تو پورے کھیرے کا مزہ غارت ہو جاتا ہے۔

برادرم جلدی سے آخری شعر کے پہلے مصرعے کا کچھ کیجئے۔

ویسے اس مصرعہ کو کاغذ سے ڈھک لوں تو کیا لاجواب چیز ہے۔

بہت خؤب۔
 
ویسے آپ نے اسے اصلاح سخن کے زمرے میں پوسٹ کیا ہوتا تو میں کچھ یوں مشورہ دیتا کہ۔

رات سی پھیلی ہے شام میں تاریکی،

کو

شب سی تاریکی سرِ شام ہے کیوں

کر لیجئے۔
 

ملائکہ

محفلین
کس پائے کی ہے وہ تو استاد ہی بتائیں گے اور تنقید کی تو فکر ہی نہ کریں وہ تو آپکے کہے بغیر ہی ہوجائے گی;);)
 

الف عین

لائبریرین
ضرور اصلاح ہو سکتی ہے اور بہت خوب ہو سکتی ہے۔ سعود نے ایک مصرع تو کر دیا ہے۔ میں بھی دیکھتا ہوں۔ آج تین دن بعد آیا ہوں تو بہت کچھ محفل میں دیکھنے کے لئے۔۔۔
 
میں بھی اپنی تنقید سے نواز دوں۔ ;) پہلا شعر زبردست ہے۔ دوسرے اور تیسرے شعر میں بھی اچھا مضمون ہے لیکن ان دونوں کے پہلے پہلے مصرعے کے وزن میں گڑبڑ ہے۔۔۔ اور آخری شعر۔۔۔ اہہمم اہمم۔۔۔

امین بھائی! فکر ناٹ۔۔۔ آپ کو یہاں میری شاعری پر بھی تنقید کے مواقع میسر آتے رہیں گے ان شاء اللہ۔۔۔ دل کھول کے بدلے لیجئے گا۔ ;)
 

محمد امین

لائبریرین
چاچو بہت نوازش، بس اس نظر سے اصلاح سے نوازیے گا کہ اسے لکھتے ہوئے میرے ذہن کے کسی دور دراز ک دریچے میں بھی وزن اور بحر کا خیال تک نہ تھا :grin:

عمار صاحب، آخری شعر میں نے اگلی نشست میں لکھا تھا اور بس یونہی لکھ دیا تھا، تنقید کیجیے دل کھول کر، مجھے اسی کی ضرورت ہے، سعود جو کہ اپنی نہایت احتیاط سے لکھی ہوئی با وزن شاعری کو تک بندی کا نام دیتا ہے، مجھ سے تو لاکھوں گنا بہتر لکھتا ہے۔۔ میرے یہاں بحر تو کیا، وزن تک مفقود ہے ;):hatoff:
 

محمد وارث

لائبریرین

بہت اچھی غزل ہے امین صاحب اور سبھی اشعار اچھے ہیں۔

ایک آدھ سخن گسترانہ بات یہ کہ:

اول تو ردیف کو "کیجیے" کی بجائے "کیجے" کریں وگرنہ یہ وزن خراب کر رہا ہے، بقولِ غالب

درد ہو دل میں تو دعا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

گو غالب کی غزل اور آپکی غزل کی بحر مختلف ہے لیکن آخری رکن مشترک ہے یعنی 'فعلن' سو آپ کی غزل کی ردیف بھی 'کیجے' ہونا چاہتی ہے۔

دوسرا یہ کہ ایک بے وزن مصرعے کی نشاندہی سعود صاحب نے کر دی ہے، دوسرا مصرع جو بے وزن ہے

دل تو اظہار مدّعا چاہے

اس میں بھی 'مدعا' گڑ بڑ کر رہا ہے۔

دراصل بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع (جس میں غالب کی غزل ہے) اور بحر رمل مسدس مخبون محذوف مقطوع (جس میں آپ کی غزل ہے) دونوں میں بہت تھوڑا سا فرق ہے، مذکورہ مصرع بحر خفیف میں چلا گیا ہے جب کہ باقی غزل رمل میں ہے! باقی اشعار وزن میں ہیں۔

درستگی اور اصلاح اعجاز صاحب کرتے ہیں اور انشاءاللہ وہی کریں گے۔

والسلام
 

مغزل

محفلین
امین صاحب ۔
آپ تو حیر ان در حیران در حیران کیے جاتے ہیں جناب۔
ایک اعلی کاوش ہے ۔۔ جوا شعار ساقط الوزن ہیں ان کی نشاندہی کی جاچکی ، بابا جانی (الف عین ) رسید کاٹ چکے
وارث بھائی کرم فرماچکے ۔ اور میں حسبِ توفیق دیر سے آیاہوں کہ معرکہ ہوچکا۔ بابا جانی کے آتے ہی عروسِ
غزل مزید بہاریں دکھائے گی ۔ امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے میں نے آپ کو ذپ ( ذاتی پیغام) میں
اپنا شمارِ‌ہاتف (موبائل نمبر) روانہ کردیا ہے تبادلی کیجئے اور ملاقات کا طے کیجئے ۔۔
آج کل یوں بھی ہم عدم مصروفیت کا شکار ہیں۔
غزل پر دلی مبارکباداور کلماتِ تحسین قبول کیجے --- گر قبول افتد زہے عزو شرف
 

الف عین

لائبریرین
شکریہ وارث۔۔۔ میں نے تو اسے پہلی بار میں ’کیجے‘ ہی پڑھا تھا۔
غور سے دیکھنے پر تین باتیں مزید کھٹکی ہیں۔ دو مصرعوں میں ’ہے‘ یا ’ہیں‘ کی کمی ہے (بلبلیں ۔۔۔ اور دل مرا والے مصرعے۔ ہاں مطلع میں نالہ شور اور فغاں تقریبآ ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس کو یوں کہا جائے تو تاثر بڑھ جاتا ہے۔
نالی کیا کیجے، فغاں کیا کیجے
دل تو اظہار مدعا چاہے کو اس بحر میں فٹ کرنے کے لئے ایک سادہ مصرع تو یوں ہو سکتا ہے۔
دل تو اظہار بیاں چاہتا ہے
لیکن پھر دوسرے مصرعے میں بھی ’بیاں‘ ہے۔ کچھ اور سوچنا پڑے گا۔
آخری مصرعے کو (پہلے مصرع میں سعود کی اصلاح کے بعد) یوں کہا جائے تو۔۔۔
دل مرا ڈوب گیا۔کیا کیجے
یوں بھی یہ ’میرا‘ نہیں، ’مرا‘ وزن میں آتا ہے۔
 

مغزل

محفلین
پیارے ۔۔ شعر۔۔ سوچنے سےنہیں ۔۔۔ سپردگی سے میسر آتا ہے۔سو خود کو شاعری کے سپرد کردو ۔۔ شاعری کی دیوی ’’ کلپنا‘‘ خود مہربان ہوجائے گی۔۔
خواجہ حیدر علی آتش کا شعر بھی ملاحظہ ہو۔
شعر گوئی کے لیے جمعیّتِ خاطر ہے شرط
اس مشقّت کے لیے مزدور خوش دل چاہیے
 

محمد امین

لائبریرین
جمعیتِ خاطر کی بھاری شرط ہے نا بھائی :)۔۔۔ حواس منتشر، حیات خاموش، کھوکھلی ہنسی اور حشر سامانیاں اردگرد کی۔۔۔ ایسے میں تو ہم سے کچھ بھی نہیں ہوتا :)
 

مغزل

محفلین
جمعیتِ خاطر کی بھاری شرط ہے نا بھائی :)۔۔۔ حواس منتشر، حیات خاموش، کھوکھلی ہنسی اور حشر سامانیاں اردگرد کی۔۔۔ ایسے میں تو ہم سے کچھ بھی نہیں ہوتا :)
پیارے یہی تو زرخیزی کی صورت ہے اسی سے گھبرا اور اکتا گئے ۔۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ "پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ"
 

محمد امین

لائبریرین
ہمم اصل میں حسّاسیت کم ہوگئی ہے اپنی۔ یوں لگتا ہے کہ ہم بھی بے حس ہوگئے ہیں۔ جھنجھلاہٹ اس درجے پر پہنچ گئی ہے کہ جہاں اسے حیات و ممات کا غم نہیں رہتا۔ زندگی ایک ڈگر پر چل رہی ہے سو چل رہی ہے۔
جانتا ہوں یہ درست نہیں۔ اور آپکی بات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا :)
 

مغزل

محفلین
ہمم اصل میں حسّاسیت کم ہوگئی ہے اپنی۔ یوں لگتا ہے کہ ہم بھی بے حس ہوگئے ہیں۔ جھنجھلاہٹ اس درجے پر پہنچ گئی ہے کہ جہاں اسے حیات و ممات کا غم نہیں رہتا۔ زندگی ایک ڈگر پر چل رہی ہے سو چل رہی ہے۔
جانتا ہوں یہ درست نہیں۔ اور آپکی بات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا :)

شہزادے ۔۔ سعود بھائی نے بہت حساس نکتہ اٹھایا ہے۔۔ غور کرو۔۔
بے حس ہونےکے احساس کو لاوے کی طرح پکنے دو اور اکھوے کی طرح پھوٹ پڑنے کا انتظار۔۔۔
 
Top