محسن نقوی ::::: کیا خزانے مِری جاں ہجر کی شب یاد آئے ::::: Mohsin Naqvi

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 22, 2015

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,642
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزلِ
    مُحسن نقوی

    کیا خزانے مِری جاں ہجر کی شب یاد آئے
    تیرا چہرہ، تِری آنکھیں، تِرے لب یاد آئے

    ایک تُو تھا جسے غُربت میں پُکارا دِل نے
    ورنہ، بِچھڑے ہُوئے احباب تو سب یاد آئے

    ہم نے ماضی کی سخاوت پہ جو پَل بھر سوچا
    دُکھ بھی کیا کیا ہمیں یاروں کے سبَب یاد آئے

    پُھول کِھلنے کا جو موسم مِرے دل میں اُترا
    تیرے بخشے ہُوئے کچھ زخم عجَب، یاد آئے

    اب تو آنکھوں میں فقط دُھول ہےکچھ یادوں کی
    ہم اُسے یاد بھی آئے ہیں تو، کب یاد آئے

    بُھول جانے میں، وہ ظالِم ہے بھَلا کا ماہر !
    یاد آنے پہ بھی آئے، تو غضب یاد آئے

    یہ خُنک رُت، یہ نئے سال کا پہلا لمحہ !
    دِل کی خواہش ہے کہ، مُحسن، کوئی اب یاد آئے

    مُحسن نقوی
     

اس صفحے کی تشہیر