کیا اسے محض زندگی کا عنوان دے کر خاموش ہو جائیں ؟

ایک شخص کو راستے میں اطلاع ملی کے اس کے عزیز دوست کی والدہ محترمہ انتقال کر گئی ہیں۔ اس نے افسوس کیا۔۔ انا للہ پڑھا اور دو آنسو ٹپکا کر ابھی آگے بڑھا ہی تھا کہ ساتھ ہی ایک دوست دولہا بنا ملا۔۔
"واہ واہ بہت خوبصورت لگ رہے ہو" وہ مسکراتا ہوا دوست کے گلے لگا۔ اس کو ڈھیر ساری مبارک باد دی اور دوبارہ سے آگے بڑھا تھا کہ ایک دوست کی مہندی آگئی، اس میں کچھ خواتین ناچ رہی تھیں، اس نے نے بڑی خاموشی سے وہ پنجابی ذو معنی گانا دیکھا سنا اور چھلکتے پھڑکتے جسموں سے بھی دل خوش کرنے کا موقع پایا ۔ وہاں سے اٹھ کر چلنے لگا تھا کہ ایک اور دوست کی سالگرہ کی اطلاع ملی۔ جناب نے کیک لیا، کچھ دوست کےمنھ میں ٹھونسا اور کچھ سے خود انصاف کیا اور آگے چل دیا ۔۔۔ اتفاق سے آگے ایک دوست کے ماموں کا انتقال ہوچکاتھا۔۔۔۔اب اسے اگلی مہندی میں پہنچنے سے قبل پھر سے چند آنسو بہانے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دوستو یہ کچھ اور نہیں فیس بک کی دنیا اور ہم سب ہیں۔ آج نجانے کیوں ایک ہی وقت میں بہت سی سامنے آتی پوسٹس دیکھ کر کمنٹ کرنے سے قبل یہ غور کیا کہ کس اطلاع پر غمگین ہوا جائے اور کس اطلاع پر خوشی منائی جائے، دونوں کو ایک ہی وقت میں کیسے مینج کیا جائے اور کیا یہ ایک ہی وقت میں مینج ہوسکتے ہیں یا یہ محض منافقت ہوگی؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ آپ ہی بتائیے اسے کیا کہا جائے ؟​
 
فیس بک اکاؤنٹ مستقل بند کر دیں یا ایسی اطلاعات دینے والے سارے ہوائی دوستوں کو بلاک کرتے چلے جائیں۔:cool2:


اپنے آنسو، اپنے قہقہے، اپنے خوشی غمی کے جذبات کا اظہار ان عزیزوں، رشتہ داروں اور قرب وجوار کے لوگوں کے لیے مخصوص کرلیں جو آپ پر کوئی ایسا وقت آنے پر آپ کی غمی خوشی میں شریک ہوں۔ :)
 
میرا خیال ہے کہ یہ صرف فیس بک کی دنیا ہی نہیں، اس کے علاوہ بھی ایسا ہی ہے۔
ایک ہی دن میں کسی دوست کی طرف سے خوشی اور کسی کی جانب سے غمی کی خبر مل جاتی ہے۔
آپ نے زندگی کا نام دینے کی قدغن تو لگا دی ہے، مگر اسے کچھ اور کہا بھی نہیں جا سکتا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے، کہ کبھی خوشی دے کر شکر کرنے کے مواقع عطا فرماتا ہے، تو کبھی غم دے کر صبر کو آزماتا ہے۔
خوشی پر خوش ہونا بھی اللہ کی طرف سے ہے اور غمی پر غم کا اظہار کرنا بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں کوئی منافقت نہیں ہے۔
جس دوست کی خوشی ہے، اس کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے، جس کی غمی ہے ، اس کے غم میں شریک ہونا چاہیے۔
اصل بات خوشی اور غم پر شکر اور صبر کے اظہار کی ہے۔ یہی امتحان ہے۔
 
آخری تدوین:
فیس بُک یا کسی بھی سوشل میڈیا پہ خوشی غمی کی پوسٹس بنیادی طور پہ لوگوں کو اپنے اس احساس میں شریک کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اندر کے اس احساسِ محرومی کے مارے انسان کو چند منٹ کی تسلی دینے کے لیے ہے جو ہر قدم پہ لوگوں کی توجہ چاہتا ہے ۔
ورنہ سیدھی سی سمجھ میں آنے والی چیز ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ میرے ابو یا امی یا کوئی اور رشتہ دار بیمار ہیں پلیز اُن کے لیے دُعا کریں اور پھر اُسی پوسٹ پہ دو گھنٹے لوگوں کے کمنٹس کے جواب میں آمین لکھنے سے بہتر نہیں ہے کہ خُدا کے لیے جو بھی بیمار ہے اس کے پاس بیٹھ کے اس کی تیمارداری کرو ۔ اس کی خدمت کرو ۔ اس کے ساتھ وقت گزارو ۔ اس کی صحت یابی کے لیے نوافل پڑھو ۔
کوئی فوت ہو گیا ہے تو اس کی بخشش کے لیے دُعا کی جائے ۔ قُرآن پڑھنے اور پڑھانے کا بندوبست کیا جائے اور مرحوم کو پڑھ کے بخشا جائے ۔ بجائے اس کے کہ میت کے ساتھ سیلفی اُتاری جائے اور پھر دنیا جہان کے ہر ایرے غیرے کی ہمدردیاں سمیٹی جائیں ۔
 
اگر موقع کی مناسبت سے آپ نے دیانتداری سے تبصرہ کیا تو آپ منافقت نہیں کر رہے۔ اپنے ضمیر میں جھانک کر دیکھ لیجئے اور خود ہی فیصلہ کر لیجئے ہر ایک کی کیفیت اور مزاج ایک جیسے نہیں ہوتے تو ایک ہی جیسی صورتحال پر ان کا رد عمل بھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ ضمیر کا مطمئن ہونا اصل چیز ہے۔
 
فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر آنے والے ایسے زیادہ تر پیغامات پر ہماری اکثریت جذبات سے عاری سٹریو ٹائپ لگے بندهے الفاظ استعمال کر کے ورچوئل دوستی کا حق ادا کردیتی ہے۔ منافقت تو کافی بهاری بهار کم لفظ ہے اسے ڈسپوزایبل جذبات کہا جا سکتا ہے۔
 
فیس بک اکاؤنٹ مستقل بند کر دیں یا ایسی اطلاعات دینے والے سارے ہوائی دوستوں کو بلاک کرتے چلے جائیں۔:cool2:


اپنے آنسو، اپنے قہقہے، اپنے خوشی غمی کے جذبات کا اظہار ان عزیزوں، رشتہ داروں اور قرب وجوار کے لوگوں کے لیے مخصوص کرلیں جو آپ پر کوئی ایسا وقت آنے پر آپ کی غمی خوشی میں شریک ہوں۔ :)

درست کہا آپ نے چودھری صاحب۔ جزاک اللہ ۔ :)
 
میرا خیال ہے کہ یہ صرف فیس بک کی دنیا ہی نہیں، اس کے علاوہ بھی ایسا ہی ہے۔
ایک ہی دن میں کسی دوست کی طرف سے خوشی اور کسی کی جانب سے غمی کی خبر مل جاتی ہے۔
آپ نے زندگی کا نام دینے کی قدغن تو لگا دی ہے، مگر اسے کچھ اور کہا بھی نہیں جا سکتا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے، کہ کبھی خوشی دے کر شکر کرنے کے مواقع عطا فرماتا ہے، تو کبھی غم دے کر صبر کو آزماتا ہے۔
خوشی پر خوش ہونا بھی اللہ کی طرف سے ہے اور غمی پر غم کا اظہار دینا بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں کوئی منافقت نہیں ہے۔
جس دوست کی خوشی ہے، اس کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے، جس کی غمی ہے ، اس کے غم میں شریک ہونا چاہیے۔
اصل بات خوشی اور غم پر شکر اور صبر کے اظہار کی ہے۔ یہی امتحان ہے۔

آپ کی بات درست ہے۔ متفق۔ جزاک اللہ :)
لیکن جس کثرت سے فیس بک پر اپ ڈیٹس آرہی ہوتی ہیں (یا شاید مجھے ان کی کثرت کا احساس اس لیے ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت کم میسر ہونے کی وجہ سے فیس بک کے استعمال میں وقفہ آجاتا ہے۔) ان پر کمنٹ کرتے وقت چند چند سیکنڈ کے بعد احساسات و تاثرات کی تبدیلی فطری نہیں ہوسکتی ۔
 
فیس بُک یا کسی بھی سوشل میڈیا پہ خوشی غمی کی پوسٹس بنیادی طور پہ لوگوں کو اپنے اس احساس میں شریک کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اندر کے اس احساسِ محرومی کے مارے انسان کو چند منٹ کی تسلی دینے کے لیے ہے جو ہر قدم پہ لوگوں کی توجہ چاہتا ہے ۔
ورنہ سیدھی سی سمجھ میں آنے والی چیز ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ میرے ابو یا امی یا کوئی اور رشتہ دار بیمار ہیں پلیز اُن کے لیے دُعا کریں اور پھر اُسی پوسٹ پہ دو گھنٹے لوگوں کے کمنٹس کے جواب میں آمین لکھنے سے بہتر نہیں ہے کہ خُدا کے لیے جو بھی بیمار ہے اس کے پاس بیٹھ کے اس کی تیمارداری کرو ۔ اس کی خدمت کرو ۔ اس کے ساتھ وقت گزارو ۔ اس کی صحت یابی کے لیے نوافل پڑھو ۔
کوئی فوت ہو گیا ہے تو اس کی بخشش کے لیے دُعا کی جائے ۔ قُرآن پڑھنے اور پڑھانے کا بندوبست کیا جائے اور مرحوم کو پڑھ کے بخشا جائے ۔ بجائے اس کے کہ میت کے ساتھ سیلفی اُتاری جائے اور پھر دنیا جہان کے ہر ایرے غیرے کی ہمدردیاں سمیٹی جائیں ۔
درست فرما رہے ہیں آپ۔ بالکل ایسا ہی ہے۔
 

سید عمران

محفلین
ہر بناوٹی چیز منافقت نہیں ہوتی۔۔۔
اور بری بھی نہیں ہوتی۔۔۔
مثالیں:
۱) حدیث پاک۔۔۔ (گناہوں کی معافی کے لیے اللہ کے حضور)روؤ، اگر رونا نہ آئے تو رونے والوں کی شکل بنالو۔
۲) مسلمان بھائی کو دیکھ کر مسکرانا بھی صدقہ ہے۔۔۔
چوں کہ رونا بس میں نہیں اس لیے بتکلف رونے والوں کی شکل بنانے کو کہا گیا۔۔۔
اور چوں کہ مسکرانا اختیار میں ہے اس لیے مطلقاً مسکرانا ارشاد فرمادیا۔۔۔
اس پر ایک اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔
۳) مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا بہترین عبادت ہے۔۔۔
اب دل چاہے یا نہیں مسکرانے یا رونے والوں کی شکل بنانے کو منافقت تو نہیں کہیں گے ناں؟؟؟
 
آخری تدوین:
ہر منافقت بری نہیں ہوتی۔۔۔
سید صاحب اس جملے پر ایک دفعہ پھر غور کرلیں ۔ :)
اگر یوں کہ لیا جائے تو بہتر نہیں ہوگا کہ "ہر بناوٹی بات بری نہیں ہوتی" ؟
یہاں آپ مجھ سے متفق ہوگئے " اب دل چاہے یا نہیں مسکرانے یا رونے والوں کی شکل بنانے کو منافقت تو نہیں کہیں گے ناں؟؟؟ :) "
 
ہر بناوٹی چیز منافقت نہیں ہوتی۔۔۔
اور بری بھی نہیں ہوتی۔۔۔
مثالیں:
۱) حدیث پاک۔۔۔ (گناہوں کی معافی کے لیے اللہ کے حضور)روؤ، اگر رونا نہ آئے تو رونے والوں کی شکل بنالو۔
۲) مسلمان بھائی کو دیکھ کر مسکرانا بھی صدقہ ہے۔۔۔
چوں کہ رونا بس میں نہیں اس لیے بتکلف رونے والوں کی شکل بنانے کو کہا گیا۔۔۔
اور چوں کہ مسکرانا اختیار میں ہے اس لیے مطلقاً مسکرانا ارشاد فرمادیا۔۔۔
اس پر ایک اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔
۳) مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا بہترین عبادت ہے۔۔۔
اب دل چاہے یا نہیں مسکرانے یا رونے والوں کی شکل بنانے کو منافقت تو نہیں کہیں گے ناں؟؟؟

غور طلب باتیں ہیں آپ کی۔ دل کو لگتی ہیں ۔شکریہ ، جزاک اللہ :)
 

زیک

تکنیکی معاون
اگر تو کسی نے فیسبک پر انتہائی تعداد میں دوست رکھے ہیں تو ظاہر ہے ان سے کوئی خاص تعلق نہ ہو گا۔ ورنہ تو یہ عام بات ہے کہ نانا کے قل کے ساتھ کزن کی شادی بھی اٹنڈ کی۔
 

عثمان

محفلین
فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر آنے والے ایسے زیادہ تر پیغامات پر ہماری اکثریت جذبات سے عاری سٹریو ٹائپ لگے بندهے الفاظ استعمال کر کے ورچوئل دوستی کا حق ادا کردیتی ہے۔ منافقت تو کافی بهاری بهار کم لفظ ہے اسے ڈسپوزایبل جذبات کہا جا سکتا ہے۔
متبادل الفاظ کیا ہونے چاہیں؟ اور اجنبی لوگوں کے معاملات پر جذبات ایک حد تک ہی محسوس ہو سکتے ہیں۔
 
Top