کیا آپ کو معلوم ہے؟

ابوشامل

محفلین
.................بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کو ملانے کے لیے تیار کی گئی 77 کلومیٹر طویل پاناما نہر کی تعمیر میں 27 ہزار 500 مزدور ہلاک ہوئے جن میں سے 22 ہزار مزدور 1881ء سے 1889ء تک جاری رہنے والے ناکام فرانسیسی منصوبے میں کام آئے۔ تمام تر احتیاطی اقدامات کے باوجود 1904ء سے 1914ء تک جاری رہنے والے امریکی منصوبے کے دوران بھی 5 ہزار 609 کارکن ہلاک ہوئے. (حوالہ: اردو وکیپیڈیا)
 
خبریں تو اچھی ہیں جو مسلمانوں کے تابناک ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔ مگر سوال یہ کہ وہ اور تھے تم اور ہو، ہمارا انکے ساتھ کیا رشتہ تھا اور ہے، اگر باوجود اتنے علوم و علماء ہونے کے آج ہماری حالت یہ ہے کہ دنیا کی ترقی میں ہمارا کوئی حصہ ہی نہیں نہ کوئی کردار۔ تو پھر تف ہے
 

ابوشامل

محفلین
...................... کہ دنیا کا سب سے بلند مینار مسجد حسن ثانی، کاسابلانکا، مراکش کا ہے جس کی بلندی 210 میٹر (689 فٹ) ہے۔ غروب آفتاب کے بعد مینار سے سبز رنگ کی شعاع کا اخراج ہوتا ہے جو قبلہ رو ہوتی ہے اس سے شہر میں کسی بھی مقام سے قبلہ کے رخ کا با آسانی تعین کیا جا سکتا ہے۔ (حوالہ: اردو وکیپیڈیا)
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھیپڑی دوران خون (pulmonary circulation) کی دریافت کا سہرا ولیم ہاروے کے سر! مسلم سائنسدان ابن النفیس نے یورپیوں سے 350 سال قبل 13ویں صدی میں یہ معلوم کرلیا تھا کہ پھیپڑے خون کو صاف کرتے ہیں، اور وہ ولیم ہارے سے بہت پہلے پھیپڑی دوران خون کے اصول بیان کرچکا تھا۔
 

ابوشامل

محفلین
"قاتل پہاڑ" کہلانے والا نانگا پربت اب تک 216 مرتبہ سر کیا جا چکا ہے اور اس کو سر کرنے کی کوشش میں اب تک 61 کوہ پیما اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یعنی اس پر ہلاکتوں کا تناسب 28.24 فیصد ہے۔ حفاظتی انتظامات بڑھنے کے باعث اب ان ہلاکتوں میں خاصی کمی آ چکی ہے لیکن 1990ء سے پہلے یہ تناسب 77 فیصد تھا جو اس کے نام "قاتل پہاڑ" کی حقیقت کو واضح کرتا ہے تاہم 1990ء کے بعد حفاظتی انتظامات بڑھنے کے بعد یہ تناسب اب 5.5 فیصد ہے۔ (حوالہ: انگریزی وکیپیڈیا)
 

شمشاد

لائبریرین
جی کچھ دن پہلے بی بی سی پر یہ خبر پڑھی تھی۔ وہ بیچارے اپنی آئی سے ملک عدم کو روانہ ہوئے۔ ویسے چند ایک کو بچا لیا گیا تھا۔
 

ابوشامل

محفلین
تازہ ترین واقعہ تو K2 پر پیش آیا ہے جو میرے خیال میں کوہ پیمائی کی تاریخ کا بدترین حادثہ ہے جس میں 11 کوہ پیما ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ نانگا پربت پر دو کوہ پیما ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان کے یہ دونوں پہاڑ کوہ پیمائی کے لیے بہت مشکل سمجھے جاتے ہیں اور ماؤنٹ ایورسٹ ان کے مقابلے میں بہت آسانی سے سر کیا جا سکتا ہے۔
 
اچھی معلومات ہیں مہاراج
حقیقت بھی تو یہی ہے کہ اسلام جہالت میں علم کا انقلاب لانا چاہتا تھا۔ مگر کیا ہوا ہمارے مسلمان آج بھی تعلیم کے خلاف ہیں۔ دیکھ لیں جب سرسید احمد خان نے علم کی بات کی تو انہیں‌انگریزوں کا ساتھ اور کافر تک قراردیا گیا۔
اس بارے میں اپنے بلاگ پر روناروچکا ہوں، اور حقیقتاُ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام واقعی پیام حیات ہے مگر جو آج کااسلام جو ہم تک پہنچا اور ہے۔
 

عزیزامین

محفلین
وضاحت کریں

خرگوش دو الفاظ کا مرکب ہے یعنی خر+گوش - خر بمعنی گدھا اور گوش بمعنی کان اور خرگوش کا لفظی مطلب ہے گدھے کے کانوں والا -
اسی طرح شترمرغ - شتر بمعنی اونٹ اور مرغ بمعنی پرندہ یعنی اونٹ جیسا پرندہ
اس طرح سرخاب یعنی سرخ۔آب یعنی سرخ آبی پرندا کیا میری تشریح ٹھیک ہے یا نھیں نھیں تو کس طرح؟
 

ابوشامل

محفلین
..................... کہ بنگلہ دیش کے فضل الرحمٰن خان کو "تعمیرانی انجینئرنگ کا آئن اسٹائن" اور "20 ویں صدی کے آخری نصف کا عظیم ترین تعمیراتی انجینئر" کہا جاتا ہے۔ عرصۂ دراز تک دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز رکھنے والی سیئرز ٹاور کے structural engineer تھے۔
 
میرے خیال میں آپ:pbuh: نے خود ترتیب دی تھی۔
دارالعوام دیوبند کے مطابق
حفظ وتعلیم قرآن کی سہولت کے خیال سے اس کو تیس پاروں میں تقسیم کردیا گیا ہے، یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تیس پاروں کی تقسیم کس نے کی ہے؟ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس کی تقسیم ہوئی، علامہ بدرالدین زرکشی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ قرآن کے تیس پارے مشہور چلے آتے ہیں اور مدارس کے قرآنی نسخوں میں ان کا رواج ہے۔ حرکات وغیرہ کس نے لگائیں اس کے بارے میں بھی اختلاف ہے، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کام سب سے پہلے ابوالاسود دوٴلی رحمہ اللہ نے انجام دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے یحیی بن معمر رحمہ اللہ اور نصر بن عاصم لیثی رحمہ اللہ نے کرایا (قرطبی: ۱/۶۳) اور اکثر رموز سب سے پہلے علامہ ابوعبد اللہ محمد بن طیفور سجاوندی رحمہ اللہ نے وضع فرمائے۔ (النشر فی القراء ات العشر) تفصیل کے لیے دیکھئے علوم القرآن یا مقدمہ معارف القرآن۔


واللہ تعالیٰ اعلم
 

MD MUBARAK ANSARI

محفلین
دارالعوام دیوبند کے مطابق
حفظ وتعلیم قرآن کی سہولت کے خیال سے اس کو تیس پاروں میں تقسیم کردیا گیا ہے، یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تیس پاروں کی تقسیم کس نے کی ہے؟ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس کی تقسیم ہوئی، علامہ بدرالدین زرکشی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ قرآن کے تیس پارے مشہور چلے آتے ہیں اور مدارس کے قرآنی نسخوں میں ان کا رواج ہے۔ حرکات وغیرہ کس نے لگائیں اس کے بارے میں بھی اختلاف ہے، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کام سب سے پہلے ابوالاسود دوٴلی رحمہ اللہ نے انجام دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے یحیی بن معمر رحمہ اللہ اور نصر بن عاصم لیثی رحمہ اللہ نے کرایا (قرطبی: ۱/۶۳) اور اکثر رموز سب سے پہلے علامہ ابوعبد اللہ محمد بن طیفور سجاوندی رحمہ اللہ نے وضع فرمائے۔ (النشر فی القراء ات العشر) تفصیل کے لیے دیکھئے علوم القرآن یا مقدمہ معارف القرآن۔


واللہ تعالیٰ اعلم
بہت بہت شکریہ
 

وجی

لائبریرین
جہاں تک ہمیں یاد ہے حضرت عثمان کے ترتیب دئیے گئے اصلی نسخے میں تیس پارے نہیں ہیں!!!
ہم نے سنا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ترتیب کیے گئے نسخوں میں سے تین ابھی بھی موجود ہیں
ایک برطانیہ کی میوزیم میں ہے
ایک ترکی کے میوزیم میں ہے
ایک بخارا یا سمرقند کے کسی ایک شہر میں ہے

تو ان نسخوں کا معائنہ کیا جاسکتا ہے۔
 
Top