1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

کیا آپ اپنی رشتہ دار خواتین کو ملازمت/کاروبار کی اجازت دیں گے؟

حُر نقوی نے 'پیشہ ورانہ زندگی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 1, 2019

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. حُر نقوی

    حُر نقوی محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    (نوٹ: یہ میری پہلی پوسٹ ہے، اگر غلط سیکشن میں آگیا ہوں تو اسے صحیح جگہ پوسٹ کردیں یا رہنمائی کردیں تاکہ میں اسے ٹھیک جگہ لگا سکوں)
    اس اہم معاشرتی موضوع پر ٹی وی، ریڈیو ، سوشل میڈیا اور آن لائن فورمز وغیرہ پر کئی مرتبہ بحث اور مکالمے ہوچکے ہے۔ ہمارے معاشرے میں قدامت پرست، اعتدال پسند اور آزاد خیال تمام طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ان تینوں طرح کے خیالات رکھنے والے لوگوں کے درمیان بھی ایک سیدھی لکیر کھینچنا ممکن نہیں۔ اب اسی اہم معاملے کو لے لیجئے، کئی قدامت پرست کہلانے والے مرد بھی اپنی خواتین کو مخصوص شعبہ جات میں ملازمت کی مشروط اجازت دیتے ہیں۔ دوسری طرف بعض آزاد خیال لوگ اگرچہ اپنی خواتین کو زبردستی کام سے روکتے تو نہیں لیکن انہیں وہ مناسب سہولیات اور حوصلہ بھی نہیں دیتے کہ وہ شعبہ ہائے زندگی میں کام کرسکیں۔ دلچسپی رکھنے والے تمام معزز اراکین سے درخواست ہے کہ مندرجہ ذیل ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں:

    سوال نمبر1: کیا آپ اپنی رشتہ دار خاتون (بہن، بیوی، بیٹی وغیرہ) کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت یا کاروبار کی اجازت دیں گے؟ ہاں اور نہیں دونوں کی صورت میں اپنی رائے کی ایک ٹھوس وجہ ضرور لکھیں

    سوال نمبر2: اگر پہلے سوال کا جواب ہاں میں ہے تو آپ خواتین کے کن شعبہ جات میں کام کرنے کے سب سے زیادہ حق میں ہیں اور کیا کسی مخصوص شعبے میں آپ اپنی رشتہ دار کو کام سے منع کریں گے؟

    نوٹ: جوابات ایک پیراگراف (250 الفاظ) سے زیادہ لکھنے سے گریز کریں۔ پہلے سوال کے جواب میں کم از کم ایک مناسب دلیل بھی فراہم کریں جو موجودہ ملکی حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ جن لوگوں نے پہلے سوال کا جواب نفی (نہیں) میں دیا ہے، وہ دوسرا سوال چھوڑ دیں۔ اور سب سے اہم، برائے مہربانی موضوع سے بہت زیادہ ہٹ کر گفتگو سے اجتناب کریں اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں۔ شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    ہاں.
    گٹر میں اتر کر نالے صاف کرنا.
    راج مستری بن کر عمارتیں بنانا، ان پر رنگ و روغن کرنا. الیکٹریشن، پلمبر اور کارپینٹری کرنا.
    رات کی چوکیداری کرنا، وئیر ہاؤسز میں لوڈری کرنا. قلی بننا. لوہار بن کر لوہا کوٹنا،
    کھیتوں میں ہل چلانا، مال منڈیوں تک پہنچانا. ٹرک ٹرالر کی ڈرائیوری کرنا.
    سرحدوں پر پہرہ دینا. آبدوزیں چلانا، فریگیٹ اور ٹینک دوڑانا، توپیں چلانا، میزائل اڑانا. پیدل فوج کا ہراول دستہ بننا. وغیرہ وغیرہ.
    دفتروں میں خواتین کی بھرمار ہوگئی. یہ میدان ان کے لیے خالی پڑے ہیں.
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  3. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,613
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    جملۂ معترضہ:
    اگر یہ سروے کسی پروجیکٹ/ ریسرچ/اسائنمنٹ کا حصہ ہے تو Sampling کے لیے کچھ اصول بھی بنا لیں(کہ سوال کس طبقے سے کرنا ہے، ان کا تعلق کس ملک سے ہے، پاکستانی ہی ہیں لیکن دوسرے ملک میں ہیں تو کتنے عرصے سے؟ یا فقط پاکستان ہی کے باسیوں سے پوچھنا ہے)، بصورت دیگر یہ convenience bias کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
    ظاہر ہے اس سے سروے کے نتائج بھی درست نہیں آئیں گے اور رپورٹ غلط بنے گی۔
     
    • متفق متفق × 2
  4. حُر نقوی

    حُر نقوی محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    آپ کا مشورہ کافی عمدہ ہے۔ اب چونکہ اردوہ فورم ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ زیادہ تر لوگ پاکستان سے ہی ہوں گے یا کچھ بھارت سے یا پھر سمند پار ہم وطن۔ میں سماجی تنظیم کیلئے کام کرتا ہوں لیکن یہ سروے ذاتی حیثیت سے رائے عامہ جاننے کیلئے کررہا ہوں۔ اکثر بی بی سی اردو اور دیگر خبر رساں اداروں پر جب کسی پاکستانی خاتون کی کوئی کامیابی شیئر کی جاتی ہے تو جہاں کئی لوگ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہیں بعض انتہائی قدامت پرست لوگ خواتین کے کسی بھی قسم کا کام یا کاروبار کرنے کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,784
    اس کی وجہ تو آپ خود ہی بیان کر چکے ہیں۔ پھر ہم سے کیا پوچھ رہے ہیں۔
    جب تک آپ خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتے رہیں گے۔ یہ مسائل ختم ہونے والے نہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  6. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,267
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    کسی خاتون کو کسی مرد سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ وہ جب چاہے جیسی چاہے جاب کر سکتی ہے۔
     
    • متفق × 5
    • پر مزاح × 1
    • غیر متفق × 1
    • غمناک × 1
    • مضحکہ خیز × 1
  7. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,410
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    میری رائے میں اس کا تعلق قدامت پسندی سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کوئی دوسرے کی ضرورت اور چاہت کو کس قدر قابل توجہ خیال کرتا ہے۔
    ہر وہ کام جس میں ان کی عزت نفس داؤ پر لگے نہ وقار کو ٹھیس پہنچے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    جو لوگ ناپسند کرتے ہیں اس کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔۔۔
    جو بلا کسی دلیل کے ناپسند کرتے ہیں وہ محض ان کی ذاتی پسند نا پسند ہے، اس کا دین و دنیا سےکوئی تعلق نہیں!!!!
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 2, 2019
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    اعتراض یہاں سے شروع ہوتا ہے!!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    ہم نے کتنے دفاتر میں دیکھا کہ خواتین کی نااہلی پر اس کے افسر نے اسے اتنا ذلیل کیا کہ وہ اپنی میز پر بیٹھ کر چھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
    حالاں کہ اس سے زیادہ ذلت مرد اسٹاف کو سہنا پڑتی ہے مگر انہیں اس طرح روتے نہیں دیکھا!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  11. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    سارا فتنہ اور شر یہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔۔
    یہودیوں نے دنیا کی عورتوں کو ترقی کا جھانسا دے کر گھر سے نکال باہر کیا۔۔۔
    جہاں جہاں لوگ اس جھانسے میں آتے گئے وہاں وہاں عورت کی ذلت و بربادی کا بازار گرم ہوگیا۔ چاہے یورپ و امریکہ ہو یا جاپان۔۔۔

    وہاں کی عورت ایک مرد کے بجائے مرد مرد کی کہانی بن گئی، خاندانی نظام ختم ہوگیا، شرح پیدائش صفر کے قریب پہنچ رہی ہے۔۔۔
    یہی وہ منصوبہ ہے جس میں یہودی کامیابی چاہ رہے ہیں کہ دنیا سے غیر یہودی حتی کہ یہودیوں کے ہمنواؤں کی آبادی بھی ختم ہوجائے اور سارے عالم میں خالص یہودی رہ جائیں!!!
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏ستمبر 2, 2019
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 2
    • زبردست زبردست × 1
  12. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    میری ماں، میری بہن، میری بیوی، میری بیٹی وغیرہ کو میں کیوں "اجازتیں" عطا کروں گا؟
    وہ میری زر خرید لونڈیاں نہیں ہیں۔
    ایک سروے خواتین کے لیے بھی شروع کریں کہ کیا آپ خواتین اپنے گھر کے مردوں کو ملازمت یا کاروبار کی اجازت عطا فرمائیں گی؟
    یہ شہری بابو ذرا کسی گاؤں دیہات میں جا کر دیکھیں تو وہاں خواتین نہ صرف مردوں کے شانہ بشانہ کھیتی باڑی کر رہی ہوتی ہیں بلکہ سندھ میں لوہار گھرانوں میں مرد و عورت ایک ساتھ لوہا کوٹ رہے ہوتے ہیں۔ ان لکھوکھہا خواتین کو یہ شہری بابو وظیفہ لگا دیں تا کہ وہ گھر بیٹھ سکیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,784
    مرد کو بھی اتنا ہی درد ہوتا ہے لیکن چہرہ پر نہیں آتا۔ سیدھا ہارٹ اٹیک ہو جاتا ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. حُر نقوی

    حُر نقوی محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    درست فرمایا، خواتین خاندان کی اراکین ہیں نہ کہ کسی کی ملکیت۔ نہ تو کسی مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو اپنی ملکیت سمجھے اور نہ ہی کسی خاتون کو ایسا کرنا چاہیئے۔
    جی ٹھیک ہے مگر معاملات باہمی رضامندی اور خوش اسلوبی سے آگے بڑھنے چاہیئں نہ کہ تصادم کی راہ اختیار کی جائے۔ اگر والدین انتہائی قدامت پرست ہیں تو بیٹی کو چاہیئے کہ وہ درمیانی راستہ نکالے جس سے بزرگوں کی ناراضی بھی کم ہو اور ساتھ ہی اسے کام کرنے کا موقع بھی مل جائے۔ اسی طرح والدین کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کی جائز اور قابل عمل خواہشات کا احترام کریں اور قدیم روایات میں کچھ لچک اور نرمی پیدا کریں۔
    بہت اعلیٰ، ایسے ہی ہونا چاہیئے
     
    • متفق متفق × 1
  15. حُر نقوی

    حُر نقوی محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    مرد ہو یا خاتون کسی کو بھی بے عزت کرنا پیشہ وارانہ اصولوں کے منافی ہے۔ مہذب اور بڑی کمپنیوں میں نااہلی اور قوانین کی خلاف ورزی پر باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ پھر ایک تحریری وارننگ ملتی ہے یا جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ آخر میں ملازمت سے برخاست کردیا جاتا ہے لیکن گالم گلوچ کا کلچر اس کمپنی کی اخلاقی پستی کی نشاندہی کرتا ہے۔
    ہمارے معاشرے میں وسائل کے مطابق خاندان بنانے کو سخت کبیرہ گناہ سمجھا جاتا ہے۔ سائنسی اصول کے مطابق دنیا میں مرد اور عورت کی آبادی تقریباً برابر ہوتی ہے اگر اس میں انسان خود چھیڑ چھاڑ نہ کرے جیسے کہ چین میں کی گئی، نتیجہ مرد زیادہ ہوگئے اور خواتین کم۔ لیکن یہ ہر خاندان کے ساتھ ایسا نہیں ہوسکتا کہ 8 بچوں میں سے 4 بیٹے اور 4 ہی بیٹیاں پیدا ہوں۔ کسی گھر میں 7 بیٹیاں ایک بیٹا، کہیں 8وں بیٹے ہی پیدا ہوجاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر اگر آپ کسی مخصوص علاقے کی کل آبادی شمار کرلیں تو وہاں آپ کو معمولی فرق کے ساتھ برابر تعداد میں مرد اور عورتیں ملیں گی۔ اب مسئلہ یہاں آتا ہے کہ جب کسی غریب گھر میں 7 بیٹیاں پیدا ہوجاتی ہیں تو باپ کے ریٹائر ہونے کے بعد گھر کا سارا بوجھ اکیلے بیٹے پر آجاتا ہے۔ بعض اوقات تو باپ کی کم آمدن یا اچانک موت یا معذوری کے بعد 10 سال سے بھی کم عمر معصوم لڑکے کو سکول سے نکال کر چائلڈ لیبر کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ اسی محنت مشقت کے دوران گھر کا واحد کمسن کفیل بھی بعض اوقات زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ ایسے میں پھر ان لڑکیوں کو شادی کے نام پر پیسے والے لوگوں کے ہاتھوں فروخت کیا جاتا ہے۔ ان میں سے سب سے خوش قسمت عورتیں وہ ہوتی ہیں جن سے دوسری شادی کرکے بوڑھے اور بیمار والدین کی خدمت کروائی جاتی ہے۔ دیگر کو جسم فروشی، منشیات کے دھندے اور انسانی سمگلنگ پر زبردستی لگا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے لیکن اسے کوئی نہیں مانتا بلکہ معاشرے کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی جائے تو جواب میں فحش گالیاں، دھمکیاں اور یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ ہونے کے الزامات لگتے ہیں۔ اب ذرا سوچیں، اگر انہی بچیوں کو تعلیم دلوا کر باعزت روزگار یا کاروبار کروا دیا جائے تو کیا یہ بہتر نہیں؟

    دیہات اور ایسے گھرانوں میں خواتین مرد کے برابر نہیں، مرد سے زیادہ کام کرتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ بااختیار نہیں۔ اس کے برعکس ہمارے شہر میں کئی تعلیم یافتہ خواتین جان بوجھ کر نہ تو کاروبار کرتی ہیں اور نہ ہی کوئی ملازمت کیونکہ وہ سست اور کاہل ہوتی ہیں، ہر مہنگی فرمائش اپنے شوہر سے پوری کرواتی ہیں بلکہ کئی تو اپنے سسرال کے اخراجات بھی انہیں سے زبردستی نکلواتی ہیں۔ اس کے برعکس دیہات کی محنت کش خواتین زیادہ کام کے باوجود بہت کم اختیارات رکھتی ہیں۔ یہ معاشی اور معاشرتی طور پر بہت کمزور ہوتی ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 2, 2019
    • زبردست زبردست × 1
  16. حُر نقوی

    حُر نقوی محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    معزز اراکین سے درخواست ہے کہ اس "متنازعہ و حساس موضوع" کے عنوان سے مشتعل ہونے کے بجائے سوال کو تھوڑا غور سے پڑھیں۔ وہاں واضح لکھا ہے کہ اپنے ملکی حالات کے مطابق دلیل دیں کہ خواتین کا عملی زندگی میں کاروبار یا ملازمت درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ایک رکن اسے سیدھا اسرائیل، جاپان اور یورپ و امریکہ کی طرف لے گئے حالانکہ سوال پاکستان کے معاشی اور معاشرتی حالات کے مطابق تھا۔ بہرحال، اب تک اپنی رائے کا اظہار کرنے پر تمام محفلین کا شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,267
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    آپ یہاں یہ فرض کر رہے ہیں کہ تمام محفلین پاکستان میں رہتے ہیں جبکہ اردوویب پر دنیا بھر سے قارئین آتے ہیں اور اس کے اکثر بانی پاکستان میں نہیں رہتے۔
     
    • متفق متفق × 1
  18. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,926
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہ الفاظ محفل کے ڈیکورم کا خیال کرتے ہوئے نہ استعمال کیے جائیں تو مناسب ہے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ دوسری انتہا مراد لی جائے۔
    ناپسندیدہ الفاظ کے استعمال کے بغیر بھی بات کی جا سکتی ہے۔

    اس لڑی سے پہلے بھی مراسلے اسی بات پر حذف ہوئے کہ ناپسندیدہ الفاظ کا استعمال تھا۔
     
    • متفق متفق × 1
  19. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    نا پسند کس کو ہیں؟ آپ کو؟
    مجھے بتائیں کہ ریپسٹس کو آپ کے کن پسندیدہ الفاظ میں پکارا جانا چاہیے؟
    وہ تو اچھا ہوا کہ ذوق اور غالب وغیرہ آپ کے مدیر بننے سے پہلے ہی مر گئے ورنہ دیوان ذوق اور غالب کے خطوط میں آپ اپنے پسندیدہ الفاظ شامل کر کے کئی اشعار اور خطوط کا بھی بیڑہ غرق کر دیتے۔۔۔
    پہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیب
    سچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے
    (ذوق)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  20. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,926
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    میرا مراسلہ تحمل سے دوبارہ پڑھیے۔
    نا پسندیدہ الفاظ ہٹانے سے مراد پسندیدہ الفاظ کا استعمال نہیں ہے۔

    اور میں دوبارہ اس لڑی میں شروع سے ہونے والی کارووائی دہرانا نہیں چاہتا۔ پہلے مراسلے بھی اسی بنیاد پر رپورٹ اور حذف ہوئے، کہ نامناسب الفاظ کا استعمال تھا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر