1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

کھانے کے آداب۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۔

الشفاء نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 17, 2020

  1. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    آداب الاکل۔ کھانے کے آداب۔
    کتاب احیاءعلوم الدین از امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۔

    ارباب عقل و دانش کا مقصد حیات یہ ہے کہ وہ جنت میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شرف حاصل کریں، لیکن اس شرف کے حصول کا ذریعہ علم و عمل کا مجموعہ ہے۔علم کی تحصیل اور عمل کی مداومت جسمانی قوت و طاقت اور سلامتی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور جسم کی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ انسان بھوک کے وقت، ضرورت کے مطابق غذا استعمال کرے۔ اسی لیے کسی بزرگ کا قول ہے کہ کھانا بھی دین کا ایک جزء ہے۔ پروردگار عالم نے بھی غذا کی اہمیت سے آگاہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:-

    كُلُوا مِنَ الطَّيِّباتِ وَ اعْمَلُوا صالِحاً۔ پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو اور نیک عمل کرتے رہو۔ (سورۃ المؤمنون۔ آیت 51)۔​
    جو شخص علم، عمل اور تقویٰ پر قدرت حاصل کرنے کے لیے کھانا کھائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھے، جانوروں کی طرح منھ نہ چلائے، کیونکہ کھانا دین کا جزء ہے اور علم و عمل کا واحد ذریعہ ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ اس عمل میں بھی دین کے انوار ظاہر ہوں۔ دین کے انوار سے ہماری مراد کھانے کے آداب و سنتیں ہیں۔ کھانے والے کو چاہیے کہ وہ ان آداب و سنن کی رعایت کرے تاکہ نفس بے مہار نہ ہو۔ کھانے کا عمل شریعت کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ ہمیں یقین ہے کہ آداب و سنن کی رعایت کے ساتھ کھانے کا استعمال نہ صرف یہ کہ اجر و ثواب کا باعث ہوگا بلکہ اس کے ذریعہ گناہوں سے بچنے کی توفیق بھی ہوگی۔ احادیث سے ثابت ہے کہ بندہ کو اس لقمے کا ثواب بھی دیا جاتا ہے جو وہ اپنی بیوی کے منھ میں ڈالتا ہے۔ (بخاری-سعد ابن ابی وقاص)۔ یہ اجرو ثواب اس صورت میں ہے کہ انسان محض دین کی خاطر اور دین کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق یہ لقمہ کھلائے۔ ذیل کے ابواب میں ہم کھانے پینے کے آداب بیان کرتے ہیں۔

    کھانے کے آداب : کھانا چار طریقوں پر کھایا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ تنہا کھائے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مجمع کے ساتھ کھائے، تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آنے والے مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کرے اور چوتھا طریقہ یہ ہے کہ دعوت وغیرہ کی تخصیص ہو جائے۔ ذیل میں ہم ان چار طریقوں کے آداب الگ الگ بیان کریں گے۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  2. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    تنہا کھانے کے آداب :-
    ان میں سے کچھ آداب کھانا کھانے سے پہلے کے ہیں، کچھ کا تعلق کھانے کے وقت سے ہے اور کچھ فراغت کے بعد سے متعلق ہیں۔ کھانے سے پہلے درج ذیل سات آداب ملحوظ رہنے چاہئیں۔
    پہلا ادب : یہ ہے کہ کھانا حلال ہو، پاک و طاہر ہو اور جائز طریقے سے شریعت اور تقویٰ کے تقاضوں کے مطابق حاصل کیا گیا ہو۔ حصول رزق کی خاطر نہ دین میں مداہنت کی جائے، نہ خواہشات نفسانی کا اتباع کیا جائے اور نہ وہ ذرائع استعمال کیے جائیں جو شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے حلال و طیب رزق کھانے کا حکم دیا ہے اور باط طریقے پر مال کھانے سے منع کیا ہے، یہ ممانعت قتل کی ممانعت پر مقدم ہے۔ اس سے اکل حلال کی اہمیت اور اکل حرام کی قباحت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ فرمایا :-
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ۔
    اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ، لیکن تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، اور تم ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو۔ (سورۃ النساء، آیت نمبر 29)​

    دوسرا ادب : یہ ہے کہ کھانے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: -
    الوضوء قبل الطعام ينفي الفقر وبعده ينفي اللمم۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا غربت دور کرتا ہے ، اور کھانے بعد ہاتھ دھونا رنج دور کرتا ہے۔ (مسند الشہاب۔ موسیٰ الرضا)​
    ہاتھ دھونے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ کام کرنے سے ہاتھ گرد آلود ہو جاتے ہیں۔ نظافت کا تقاضہ یہ ہے کہ دسترخوان پر بیٹھنے سے پہلے انہیں دھو لیا جائے۔ جس طرح نماز عبادت ہے اور اس سے پہلے وضو کیا جاتا ہے، اسی طرح کھانا بھی عبادت ہے ، اس سے پہلے بھی ہاتھ دھونے چاہئیں۔
    تیسرا ادب: یہ ہے کھانا اس دسترخوان پر رکھا جائے جو زمین پر بچھا ہوا ہو۔ اونچا دسترخوان رکھنے کی بہ نسبت یہ فعل رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ مبارک سے زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ روایت میں ہے کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ کی خدمت میں کھانا لایا جاتا تو آ پ اسے زمین پر رکھتے۔ (احمد-عن حسن مرسلاً)
    زمین پر کھانا رکھ کھانا تواضع اور انکساری کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو دسترخوان پر رکھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوان اور کشتی پر کبھی کھانا نہیں کھایا، لوگوں نے عرض کیا کہ پھر آپ لوگ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے۔ فرمایا، دسترخوان پر۔ (بخاری)۔ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چار چیزیں نئی پیدا ہوئی ہیں، اونچے دسترخوان، چھلنیاں، اشنان اور شکم سیر ہو کر کھانا۔ یہاں یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ دسترخوان پر کھانا بہتر ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اونچے دسترخوان پر کھانا ناجائز یا مکروہ ہے۔ اس سلسلے میں کوئی ممانعت ثابت نہیں ہے۔ ان چیزوں کو نو ایجاد کہا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر نو ایجاد چیز بدعت نہیں ہے، بلکہ بدعت وہ ہے جس کے مقابل کوئی سنت ہو، اور اس سے شریعت کے کسی حکم کی نفی ہو رہی ہو۔ بلکہ بعض حالات میں اسباب کے تغیر اور تبدیلی کی وجہ سے بدعت کا ایجاد کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اونچے دسترخوان میں صرف یہ مصلحت ہے کہ کھانا زمین سے بلند رہے، اور کھانے میں سہولت ہو، اس طرح کی کوئی مصلحت خلاف شریعت نہیں ہے اور نہ اس میں کسی طرح کی کوئی کراہت ہے۔
    چوتھا ادب : یہ ہے کہ دسترخوان پر مسنون طریقے کے مطابق بیٹھے اور آخر تک اسی طرح بیٹھا رہے۔ چنانچہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی دوزانو ہو کر اپنے دونوں پاؤں کی پشت پر بیٹھتے، اور کبھی دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے اور بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور کھانا تناول فرماتے ۔ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔ (بخاری ) تکیہ لگا کر پانی پینا معدہ کے لیے مضر ہے، تکیہ لگا کر یا لیٹ کر کھانا کھانا مکروہ ہے اور صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
    پانچواں ادب: یہ ہے کہ کھانے میں لذت ، آرام طلبی اور عیش کوشی کی نیت نہ کرے بلکہ یہ نیت کرے کہ کھانے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قدرت حاصل ہو گی۔ بندے کے کھانا بھی اطاعت ہی ہونا چاہیے۔کم کھانے کی بھی نیت کرے کیونکہ عبادت کی نیت اسی وقت معتبر ہو گی جب کم کھانے کا ارادہ ہو گا، شکم سیر ہو کر کھانا عبادت کے لیے مانع ہے۔ اس نیت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ کھانے کی طرف اسی وقت ہاتھ بڑھائے جب بھوک محسوس کرے۔ اس کے بعد یہ ضروری ہے کہ شکم سیر ہونے سے پہلے کھانے ہاتھ کھینچ لے۔ جو شخص بھوک کے وقت کھانا کھائے گا ، اور کم کھائے گا وہ کبھی ڈاکٹر کا محتاج نہیں ہو گا۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    چھٹا ادب : یہ ہے کہ جو کھانا موجود ہو اسی پر خوش رہے، لذت کام و دہن کی خاطر زیادہ کی جستجو نہ کرے۔ اگر دسترخوان پر صرف روٹی ہو تو اس کی تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ سالن کا انتظار نہ کیا جائے، روٹی کی تعظیم کا یہ حکم احادیث میں ہے۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر نماز کا وقت آ جائے اور وقت میں گنجائش ہو تو پہلے کھانا کھا لے۔ نماز پر کھانے کی تقدیم میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ نماز میں دلجمعی رہے گی ، دھیان نہیں بٹے گا۔
    ساتواں ادب : یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ کھلانے کی کوشش کرے، خواہ اپنے بچوں کو ساتھ بٹھا کر کھلائے۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :
    فاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللہ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ ۔اپنے کھانے پر جمع رہو یعنی مل کر اور اللہ کا نام لے کر کھاؤ، اس سے تمہارے کھانے میں برکت ہو گی۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ-وحشی ابن حرب)
    ذیل میں وہ آداب بیان کیے جا رہے ہیں جن کا تعلق عین کھانے کی حالت سے ہے۔ اس میں پہلا ادب یہ ہے کہ بسم اللہ سے ابتدا کرے ، اور آخر میں الحمدللہ کہے۔ اگر ہر لقمے کے ساتھ بسم اللہ کہے تو زیادہ بہتر ہے تاکہ یہ ثابت ہو کہ کھانے کی ہوس نے اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں کیا۔ اس موقع پر بلند آواز سے بسم اللہ کہنا اچھا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی توفیق ہو جائے اور وہ بھی یہ سعادت حاصل کر سکیں۔ دائیں ہاتھ سے کھانا کھائے۔ نمکین چیز سے شروع کرے اور آخر میں بھی نمکین چیز کھائے۔ لقمہ چھوٹا ہونا چاہیے۔ کھانا اچھی طرح چبا کر کھائے۔ جب تک پہلا لقمہ ختم نہ ہو دوسرے لقمے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے۔ منھ کا کھانا ختم کیے بغیر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھانا عجلت پسندی پر دلالت کرتا ہے، اس سے پرہیز کرے۔ کسی کھانے کی برائی نہ کرے۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کھانے کی برائی نہ کرتے تھے، بلکہ آپ کا معمول یہ تھا کہ اگر کھانا پسند ہوتا تو تناول فرما لیتے ، ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے۔ (بخاری و مسلم -ابو ہریرہ)۔
    کھانا ہمیشہ اپنے سامنے سے کھانا چاہیے، ہاں اگر پھل ، خشک میوے یا مٹھائی وغیرہ ہو تو دوسرے طرف سے اٹھا کر کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ارشاد نبوی ہے : کل مما یلیک ۔ یعنی کھانا اس طرف سے کھاؤ جو تمہارے قریب ہو۔ (بخاری و مسلم-عمر بن ابی سلمہ)۔ پیالے یا پلیٹ کے درمیان سے مت کھائے، روٹی بھی درمیان سے نہیں کھانی چاہیے، مثلاً اس طرح کہ درمیانی حصہ کھا لے اور کنارے چھوڑ دے۔ اگر روٹی توڑنے کی ضرورت پیش آئے تو ٹکڑا توڑ لے، لیکن چھری وغیرہ سے نہ کاٹے (ابن حبان-ابو ہریرہ)۔ پکا ہوا گوشت بھی چھری سے نہ کاٹے بلکہ دانتوں سے کاٹ کر کھائے، حدیث میں چھری وغیرہ سے گوشت کاٹنے سے منع فرمایا گیا ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ دانتوں سے گوشت جدا کرو (ابن ماجہ-صفوان بن امیہ، ترمذی، ابن ماجہ-عائشہ)

    پیالہ وغیرہ روٹی کے اوپر نہ رکھنا چاہیے، البتہ روٹی پر سالن رکھا جا سکتا ہے۔ حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : أكرموا الخبز ، فان الله تبارك وتعالى أنزلہ من بركات السماء۔ یعنی روٹی کی تعظیم کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی برکتوں کے ضمن میں روٹی نازل کی ہے۔ (حاکم-عائشہ) روٹی سے ہاتھ صاف کرنا بھی بے ادبی ہے، ارشاد نبوی ہے :إذا وقعت لقمة أحدكم فليأخذها فليمط ما كان بها من أذى وليأكلها ولا يدعها للشيطان، ولا یمسح یدہ بالمندیل حتی یلعق اصا بعہ فانہ لا یدری فی ای طعامہ تکون البركة۔ یعنی اگر تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا لے ، اور جو مٹی وغیرہ لگ گئی ہو وہ صاف کر لے اور اس لقمے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے۔ اور جب تک کھانے کے بعد انگلیاں نہ چاٹ لے رومال سے صاف نہ کرے، اسے کیا معلوم کہ برکت کس کھانے میں ہے۔ (مسلم-انس و جابر)
    گرم کھانے کو پھونک مار کر ٹھنڈا کرنا بھی مکروہ ہے، بلکہ اگر کھانا گرم ہوتو تھوڑی دیر صبر کرے۔ چھوارے، کھجور اور میوے وغیرہ طاق کھائے۔ کھجور اور گٹھلی ایک برتن میں جمع نہ کرے، نہ ہاتھ میں رکھے بلکہ منھ سے گٹھلی نکال کر ہاتھ کی پشت پر رکھے اور نیچے ڈال دے۔ ہر اس چیز کا جس میں گٹھلی یا بیج وغیرہ ہو یہی حال ہے۔ ہڈی وغیرہ چیزوں کو کھانے کے برتن میں نہ رکھے بلکہ الگ ڈال دے۔ کھانے کے دوران زیادہ پانی نہ پیے، البتہ اگر حلق میں کچھ پھنس جائے تو پینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اطباء کہتے ہیں کہ کھانے کے دوران زیادہ پانی پینے سے معدہ کو نقصان پہنچتا ہے۔
    پانی پینے کے آداب یہ ہیں کہ گلاس یا کٹورے وغیرہ کو دائیں ہاتھ میں لے ، بسم اللہ پڑھ کر پیے، آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر پیے۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :مصوا الماء مصا، ولا تعبوه عبا، فإن الكباد من العب۔ یعنی پانی چوس کر پیو، بڑے گھونٹ لگاتار مت پیو، اس سے جگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ (ابو منصور دیلمی-انس)
    کھڑے ہو کر اور لیٹ کر پانی نہیں پینا چاہیے۔ جس برتن میں پانی پیے اس کے زیریں حصے کو اچھی طرح دیکھ لے کہ کہیں سے پانی تو نہیں ٹپک رہا۔ پینے سے پہلے پانی پر نظر ڈال لے کہ کوئی کیڑا وغیرہ پانی میں نہ ہو۔ پانی پیتے ہوئے ڈکار نہ لے ، نہ سانس لے بلکہ ضرورت ہو تو برتن منھ سے الگ کر دے ، پھر سانس لے اور الحمدللہ کہے۔ پیاس باقی ہو تو بسم اللہ کہہ کر دوبارہ شروع کرے۔
    اگر بہت سے لوگ ایک وقت میں ایک ہی برتن سے پانی پئیں تو دائیں جانب سے آغاز کرنا چاہیے۔ پانی تین سانس میں پیے، ابتداء میں بسم اللہ اور آخر میں الحمدللہ کہے۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر شروع کرے، پہلے سانس پر الحمدللہ، دوسرے سانس پر الحمدللہ رب العالمین اور تیسرے سانس پر الحمدللہ رب العالمین الرحمٰن الرحیم کہے۔
    کھانے کے بعد کے آداب یہ ہیں کہ پیٹ بھرنے سے پہلے ہاتھ روک لے، انگلیاں چاٹے، انہیں رومال سے صاف کرے، پھر پانی سے دھوئے۔ دسترخوان پر پڑے ہوئے ریزے اٹھا کر کھا لے۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : من اکل ما یسقط من المائدہ عاش فی سعۃ وامن من الفقر والبرص الجذام وصرف عن ولدۃ الحمق۔ یعنی جو شخص دسترخوان سے ریزے اٹھا کر کھائے گا اسے رزق میں وسعت حاصل ہو گی اور وہ فقرو تنگدستی ، برص اور جذام سے محفوظ رہے گا اور اسے بیوقوف اولاد نہیں دی جائے گی۔ (کتاب الثواب- جابر)
    کھانے کے بعد خلال کرے ، خلال کرنے سے جو ریزے وغیرہ نکلیں انہیں تھوک دے، البتہ زبان کی نوک سے جو ریزے نکلیں انہیں کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خلال کے بعد کلی کرے۔ اس سلسلے میں اہل بیت رضوان االلہ علیہم اجمعین سے ایک اثر بھی منقول ہے، برتن میں لگا ہوا سالن چاٹ لے اور اس کا دھوون پی لے ، اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ دل میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا شکر ادا کرے کہ اس نے کھانا کھلایا اور بہترین رزق عطا کیا۔ حلال غذا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھ لے۔
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَطْعَمَنَا وَ سَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان یعنی فرمانبردار بنایا۔۔۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اجتماعی طور پر کھانے کے آداب :-
    یہ آداب ان آداب کے علاوہ ہیں جو تنہا کھانے میں ملحوظ رہنے چاہئیں۔

    پہلا ادب : یہ ہے کہ اگر مجمع میں کوئی شخص عمر یا علم و فضل میں سب سے بڑا ہو تو خود کھانے کی ابتدا نہ کرے بلکہ بڑوں کا انتظار کرے۔ لیکن اگر خود مقتدا ہو تو کھانے والوں کے جمع ہو جانے کے بعد شروع کر دے، لوگوں کو زیادہ انتظار کی زحمت نہ دے۔
    دوسرا ادب : یہ ہے کہ کھانے کے وقت خاموش نہ رہیں۔ عجمیوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ دسترخوان پر بیٹھنے کے بعد ایک دوسرے سے گفتگو نہیں کرتے تھے، مسلمانوں کو ان کی عادت اختیار نہ کرنی چاہیے ، بلکہ کھانے کے وقت اچھی باتیں کریں ، سلف صالحین کے وہ قصے اور اقوال بیان کریں جو کھانے وغیرہ سے متعلق منقول ہیں۔
    تیسرا ادب : یہ ہے کہ اپنے اس رفیق کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے جو کھانے میں اس کا شریک ہے، یعنی اس سے زیادہ کھانے کا ارادہ نہ کرے۔ اگر شریک الطعام کی مرضی یہ ہو کہ اس کا رفیق کم کھائے تو زیادہ کھانا حرام ہو جاتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے شریک الطعام کے لیے ایثار کرے، ایک مرتبہ میں دو کھجوریں نہ کھائے، اگر دوسرے لوگ ایک ایک کھجور کھا رہے ہوں تو اجازت کے بغیر زیادہ کھانا صحیح نہیں ہو گا۔ اگر شریک الطعام کم کھا رہا ہو تو اسے کھانے کی ترغیب دے ، اور کھانے کے لیے کہے، لیکن تین مرتبہ سے زیادہ نہ کہے۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایک بات تین مرتبہ سے زیادہ نہیں فرمایا کرتے تھے (بخاری-انس)۔
    چوتھا ادب : یہ ہے کہ اس طرح کھائے کہ شریک الطعام کو کہنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ایک عالم فرماتے ہیں کہ بہترین کھانے والا وہ ہے جس کے ساتھی کو کہنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ لو گوں کے دیکھنے کی وجہ سے وہ چیز چھوڑ دے جس کی خواہش ہو، یہ تکلف ہے، بلکہ دسترخوان پر بیٹھنے کے بعد وہی عمل کرنا چاہیے جس کا تنہائی میں عادی ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تنہائی میں بھی آداب کی رعایت ہونی چاہیے تاکہ مجمع میں تکلف نہ ہو۔ تاہم اگر مجمع میں اس خیال سے کم کھائے کہ دوسرے لوگ زیادہ کھا لیں ، یا یہ نقطہ نظر ہو کہ صاحب خانہ کو کفایت ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح اگر دوسرے لوگوں کا ساتھ دینے کے خیال سے زیادہ کھا لے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ یہ دونوں عمل مستحسن ہیں۔
    حضر ت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا دستور یہ تھا کہ اپنے دوستوں کے سامنے عمدہ عمدہ کھجوریں رکھتے جاتے اور فرماتے کہ جو شخص زیادہ کھجوریں کھائے گا اسے ایک گٹھلی کے بدلے میں ایک درہم دوں گا۔ چنانچہ کھانے کے بعد گٹھلیاں گنی جاتیں اور زیادہ کھانے والے کو انعام دیا جاتا۔ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا یہ طریقہ کار حجاب دور کرنے اور نشاط و رغبت پیدا کرنے میں بڑا مؤثر ہے۔ جعفر بن محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے دوستوں میں سب سے زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو سب سے زیادہ کھائے، اور بڑے بڑے لقمے اٹھائے، وہ شخص میرے لیے بوجھ بن جاتا ہے جو کھانے کے دوران اپنی خبر گیری کرائے۔ جعفر بن محمد رحمۃ اللہ علیہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ دوستوں کی محبت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اس کے گھر آ کر اچھی طرح کھائیں۔۔۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    پانچواں ادب :- سلفچی = (برتن جو مہمانوں کے ہاتھ منھ دھلوانے کے لیے استعمال ہوتا تھا، آج کل واش بیسن ہوتا ہے)۔

    سلفچی میں ہاتھ دھونے کو برا نہیں سمجھا گیا ہے، اس میں تھوک بھی سکتا ہے اور کلی بھی کر سکتا ہے لیکن مجمع عام میں ایسا نہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص تعظیم کے خیال سے سلفچی پیش کرے تو قبول کر لے۔ ایک سلفچی میں متعدد لوگ بیک وقت ہاتھ دھو سکتے ہیں بلکہ یہی صورت تواضع سے زیادہ قریب ہے۔ یہ ہر گز نہ ہونا چاہیے کہ ایک شخص کے دھونے کے بعد پانی پھینک دیا جائے پھر دوسرا شخص دھوئے، بلکہ سلفچی میں پانی اکٹھا ہونا افضل ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک طشت میں سب مل کر ہاتھ دھویا کرو۔ کلی آہستہ سے کرے، ہاتھ بھی آہستہ آہستہ دھوئے تاکہ پانی کے چھینٹے دوسرے لوگوں پر نہ پڑیں ، اور نہ پانی فرش پر گرے۔ صاحب خانہ کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کے ہاتھ خود دھلوائے۔

    چھٹا ادب : یہ ہے کہ ساتھ کھانے والوں کو نہ تکے اور نہ ان کے کھانے پر نظر رکھے، بلکہ نگاہیں نیچی رکھے اور کھانے میں مشغول رہے۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ اس کے کھانے کے بعد لوگ ہاتھ روک لیں گے اور کھانے سے گریز کریں گے تو ہاتھ نہ روکے ، بلکہ آہستہ آہستہ کھاتا رہے تاکہ دوسرے لوگ اطمینان کے ساتھ فارغ ہو جائیں۔ اگر کسی وجہ سے کھانے کی خواہش نہ ہو تو معذرت کر دے تاکہ لوگ بدستور کھانے میں مشغول رہیں۔

    ساتواں ادب : یہ ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کرے جو دوسروں کو برا معلوم ہو ، مثلاً یہ کہ پیالے میں ہاتھ نہ جھاڑے، نہ لقمہ اٹھاتے ہوئے کھانے کے برتنوں پر اپنا سر جھکائے۔ اگر منھ میں سے کوئی چیز نکال کر پھینکنی ہو تو کھانے والوں کی طرف سے رخ پھیر کر بائیں ہاتھ سے نکالے۔ چکنائی سے آلودہ لقمے کو سرکہ میں نہ ڈبوئے اور نہ سرکہ سے تر لقمے کو چکنائی کے برتن میں ڈالے۔ دانت سے کاٹا ہوا ٹکڑا شوربے یا سرکے وغیرہ میں نہ ڈالے۔ گندی اور طبیعت مکدر کرنے والی گفتگو سے بھی اجتناب کرے۔

    (آگے ،کھانا پیش کرنے کے آداب۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    (امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے "آداب الاکل" کے ابواب نہایت شرح و بسط سے بیان کیے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اہم باتیں کسی قدر اختصار کے ساتھ پیش کر دی جائیں)۔

    کھانا پیش کرنے کے آداب :-
    پہلا ادب: یہ ہے کہ کھانے وغیرہ کی تیاری میں کسی قسم کا کوئی تکلف نہ کرے بلکہ جو کچھ گھر میں موجود ہو پیش کر دے۔ اگر گھر میں کچھ نہ ہو اور نہ اتنا روپیہ پاس ہو کہ انتظام کر سکے تو قرض لے کر اپنے آپ کو پریشانی میں مبتلا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض علماء نے تکلف کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اپنے دوستوں کو وہ چیز کھلائے جو خود نہ کھائے، یعنی معیار سے عمدہ اور قیمتی کھانا انہیں کھلائے۔ فضیل ابن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ تکلف کی وجہ سے لوگوں کا ملنا جلنا کم ہو گیا ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں ایک دوست کے پاس جایا کرتا تھا، وہ میرے لیے تکلف کرتے اور کھانے میں زبردست اہتمام کرتے ۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے کہا کہ تنہائی میں نہ تم ایسا کھانا کھاتے ہو اور نہ میں کھاتا ہوں، پھر اس تکلف اور اہتمام کی کیا ضرورت ہے۔ اب صرف دو راستے ہیں ، یا تو تم اس تکلف کو بالائے طاق رکھ دو یا میں آنا موقوف کر دوں۔ میرے دوست نے تکلف ختم کر دیا، اس بے تکلفی کی بنا پر ہم ہمیشہ ساتھ رہے اور کبھی کسی قسم کی کدورت پیدا نہیں ہوئی۔

    دوسرا ادب: آنے والے کے لیے ہے کہ وہ اپنے میزبان سے کسی متعین چیز کی فرمائش نہ کرے۔ بعض اوقات اس کی خواہش کی تکمیل دشوار ہوتی ہے۔ اگر میزبان اپنے مہمان کو کھانے کی تجویز کا اختیار دے تو وہ کھانا تجویز کرے جس کا حصول آسان ہو اور جس کی تیاری میں میزبان کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہی مسنون طریقہ ہے کہ جب بھی حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے وہی چیز پسند فرمائی جو سہل الحصول تھی۔

    تیسرا ادب : یہ ہے کہ میزبان اپنے مہمان کو کھانے پر آمادہ کرے اور اس کی خواہش دریافت کرے، مگر شرط یہ ہے کہ میزبان کی طبیعت اس فرمائش کی تکمیل کے لیے آمادہ ہو، اس سلسلے میں دل پر جبر کرنا صحیح نہیں ہے۔

    چوتھا ادب :
    یہ ہے کہ آنے والے سے یہ مت دریافت کرے کہ آپ کے لیے کھانا لاؤں؟ گھر میں جو کچھ پکا ہو ، لا کر سامنے رکھ دے۔ ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارا کوئ بھائی تم سے ملنے آئے تو اس سے یہ مت پوچھو کہ کیا آپ کھائیں گے، یا میں کھانا لاؤں؟۔ بلکہ تم کھانا لے آؤ، اگر وہ کھا لے تو بہتر ہے ، ونہ واپس لے جاؤ۔

    مہمان سے متعلق آداب:-
    یہ طریقہ مسنون نہیں ہے کہ کسی کے پاس بلا اطلاع کھانے کا وقت ملحوظ رکھ کر پہنچے، یہ اچانک آنے میں داخل ہے۔ اگر کوئی شخص اچانک کھانے کے وقت پہنچا ، لیکن اس کا مقصد کھانا نہیں تھا تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب تک صاحب خانہ اجازت نہ دے کھانے میں شریک نہ ہو، صاحب خانہ کھانے کے لیے کہے تو کھانے میں تامل کرے اور عذر کر دے، ہاں اگر دیکھے کہ صاحب خانہ براہ محبت کھانے کے لیے بلا رہا ہے اور دل سے اس کی شرکت کا متمنی ہے تو شریک ہو جائے۔ اگر کوئی شخص بھوکا ہو اور اپنے کسی بھائی کے پاس کھانے کے وقت کا لحاظ کیے بغیر اس غرض سے جائے کہ وہ اسے کھانا کھلا دے گا تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
    اگر یہ یقین ہو کہ صاحب خانہ اس کا بہترین دوست ہے ، وہ اس کی آمد سے اور کھانے سے خوش ہوتا ہے ، تو اس کی اجازت کے بغیر بھی کھا سکتا ہے، کیونکہ اجازت کا مقصد رضا ہے اور صورت حال مستقل رضا مندی پر دلالت کرتی ہے۔ بعض لوگ مہمانوں کو کھانے کے لیے قسم دے کر مجبور کرتے ہیں اور صریح طور پر اجازت دے دیتے ہیں لیکن دل میں رضا مندی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کا کھانا اجازت کے باوجود مکروہ ہے۔ بعض لوگ گھر پر موجود نہیں ہوتے اور نہ صراحتاً اجازت دیتے ہیں لیکن دل میں وہ مہمانوں کے آنے اور ان کے کھانے سے خوشی محسوس کرتے ہیں، ایسے لوگوں کا کھانا اچھا ہے۔ حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے، بریرہ رضی اللہ عنہا اس وقت کہیں گئی ہوئی تھیں۔ آپ نے ان کا کھانا تناول فرمایا۔ وہ کھانا کسی نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا تھا، آپ نے فرمایا : بلغت الصدقۃ محلھا ۔ یعنی صدقہ اپنے ٹھکانے لگ گیا۔ (بخاری ومسلم-عائشہ) آپ نے حضرت بریرہ کا کھانا ان کی اجازت کے بغیر اسی لیے تناول فرمایا کہ آپ جانتے تھے کہ جب بریرہ کو معلوم ہو گا تو وہ بے حد خوش ہو گی۔ گھر میں داخل ہونے کی اجازت کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  7. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ضیافت کرنے اور کھانا کھلانے کے فضائل :-

    ضیافت کرنے اور مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کرنے کے بڑے فضائل ہیں۔ جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ جب تم اپنے بھائیوں کے سامنے دسترخوان پر بیٹھو تو دیر تک بیٹھے رہو، اس لیے کہ یہ گھڑی تمہاری عمر میں محسوب نہیں ہو گی۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی ذات پر ،ماں باپ، اہل و عیال اور دوسرے رشتہ داروں پر جو کچھ خرچ کرتا ہے اس کا حساب لیا جائے گا لیکن جو خرچ برادران اسلام کو کھانا کھلانے میں ہوتا ہے اس کا محاسبہ نہیں ہو گا۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : لا تزال الملائکۃ تصلی علیٰ احدکم ما دامت مائدتہ موضوعۃ بین یدیہ حتیٰ ترفع۔ یعنی فرشتے تم میں سے ایک شخص کے لیے رحمت کی دعا میں مشغول رہتے ہیں جب تک کہ اس کا دسترخوان اس کے سامنے بچھا رہے اور اٹھ نہ جائے۔ (طبرانی۔ عائشہ)
    خراسان کے بعض علماء کے متعلق منقول ہے کہ وہ اپنے ملنے والوں کے سامنے اتنا کھانا رکھتے تھے کہ ان سے کھایا نہیں جاتا تھا، فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کا علم ہے کہ جب بھائی کھانے سے ہاتھ روک لیں تو جو شخص ان کا بچا ہوا کھانا کھاتا ہے ، اس کھانے کا حساب نہیں ہو گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سفر میں بہترین زاد راہ رکھنا اور دوستوں کی خاطر خرچ کرنا بڑائی کی علامت ہے۔ عہد صحابہ میں یہ بھی دستور تھا کہ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کے لیے جمع ہوتے اور کچھ نہ کچھ کھا کر رخصت ہوتے۔ کہتے ہیں کہ محبت اور اخلاص کے ساتھ بھائیوں کا اجتماع دنیاوی عمل نہیں بلکہ دینی عبادت ہے۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
    إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ يقولُ يَومَ القِيامَةِ: يا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قالَ: يا رَبِّ وكيفَ أُطْعِمُكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: أما عَلِمْتَ أنَّه اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلانٌ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أما عَلِمْتَ أنَّكَ لو أطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذلكَ عِندِي۔ یعنی قیامت کے دن اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرمائیں گے ، اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ وہ شخص کہے گا۔ اے میرے رب میں آپ کو کھانا کیسے کھلاتا حالانکہ آپ تو رب العالمین ہیں۔ اللہ عزوجل فرمائیں گے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا لیکن تم نے اسے نہیں کھلایا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اگر تم اس کو کھانا کھلاتے تو اس کا ثواب میرے پاس پاتے۔ (صحیح مسلم-ابو ہریرہ)۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معمول یہ تھا کہ کھانے کے لیے بیٹھنے سے پہلے ایسے لوگوں کی تلاش میں جاتے جو کھانے پر آپ کا ساتھ دے سکیں ۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا ، یا رسول اللہ ،أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ۔ یعنی کیسا اسلام بہترین ہے؟ فرمایا ، کھانا کھلانا اور سلام کہنا۔ صحیح بخاری و مسلم)۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : لا خیر فیمن لا یضیف۔ یعنی جو شخص مہمان کی ضیافت نہ کرے اس میں کوئی خیر نہیں۔ (احمد-عقبہ بن عامر)۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
  8. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ضیافت کے آداب :-

    پہلا ادب : دعوت کرنے والے کو چاہیے کہ وہ فسّاق و فجار کی دعوت نہ کرے، بلکہ نیک اور پرہیزگار لوگوں کو مدعو کرے۔ کسی شخص نے حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی تو آپ نے اس کے حق میں یہ دعا فرمائی :أَكَلَ طَعَامَكُ الْأَبْرَارُ ، یعنی تیرا کھانا نیک لوگ کھائیں (ابو داؤد-انس)۔

    دوسرا ادب : یہ ہے کہ فقراء کی دعوت کرے اور خاص طور پر مال داروں کو مدعو نہ کرے۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:شر الطعام الطعام الوليمة، يدعى لها الأغنياء ويترك الفقراء۔ یعنی بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں مال داروں کو دعوت دی جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے۔ (بخاری و مسلم-ابو ہریرہ)۔

    تیسرا ادب : یہ ہے کہ دعوتوں میں اپنے اعزہ و اقرباء کو ضرور بلائے ، انہیں مدعو نہ کرنا قطع رحمی کے مترادف ہے۔ دوستوں اور جان پہچان کے لوگوں کی دعوت میں ترتیب ملحوظ رکھے، ایسا نہ ہو کہ بعض لوگوں کی دعوت سے بعض دوسرے لوگوں کو شکایت کا موقع ملے اور انہیں تکلیف ہو۔

    چوتھا ادب : یہ ہے کہ دعوت سے فخرو مباہات اور نام و نمود کی نیت نہ کرے بلکہ داعی کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے بھائیوں کے دل اپنی طرف مائل کر رہا ہے اور کھانا کھلانے اور مؤمنین کے دلوں کو خوش کرنے کے سلسلے میں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ کی اتباع کر رہا ہے۔

    پانچواں ادب : یہ ہے کہ ان لوگوں کی دعوت سے گریز کرے جن کے بارے میں یہ علم ہو کہ وہ اپنے اعذار کے باعث شریک نہ ہو سکیں گے، یا یہ کہ اس طرح کی دعوتیں ان کے مزاج کے خلاف ہیں۔ وہ بھی آ گئے تو حاضرین کی موجودگی ان کے لیے زحمت و پریشانی کا باعث ہو گی۔

    چھٹا ادب : یہ ہے کہ دعوت صرف ان لوگوں کی کرے جن کی قبولیت کا دل سے خواہش مند ہو، سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی ایسے شخص کی دعوت کی جائے کہ دل سے اس کی آمد ناپسند ہو تو داعی پر ایک گناہ ہو گا، اور اگر مدعو نے دعوت قبول کر لی تو داعی پر دو گناہ ہوں گے کیونکہ اس شخص نے مدعو کو برا جاننے کے باوجود کھانے پر آمادہ کیا، اگر اسے معلوم ہوتا کہ داعی دل سے اس کی آمد پر متفق نہیں ہے تو وہ کبھی نہ آتا۔

    متقی کو کھانا کھلانے سے تقویٰ پر اور فاسق کو کھانا کھلانے سے فسق پر اعانت ہوتی ہے۔ ایک درزی نے حضرت عبداللہ ابن مبارک سے دریافت کیا کہ میں بادشاہوں کے کپڑے سیتا ہوں ، کیا میرا یہ عمل ظلم کی اعانت کے مترادف ہے۔ ابن مبارک نے جواب دیا کہ ظلم کی اعانت تو وہ لوگ کرتے ہیں جن سے تم سوئی اور دھاگا خریدتے ہو، تم ظلم کی اعانت کرنے کے بجائے نفس ظلم کا ارتکاب کر رہے ہو۔۔۔

    (آگے، دعوت قبول کرنے کے آداب۔۔۔۔۔)
     
  9. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    دعوت قبول کرنے کے آداب :-
    دعوت قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ بعض علماء نے اسے واجب بھی کہا ہے۔ دعوت قبول کرنے کے پانچ آداب ہیں۔

    پہلا ادب : یہ ہے کہ مالدار اور غریب کا فرق نہ کرےکہ اگر کسی مالدار کے یہاں دعوت ہو تو منظور کر لے اور غریب کے یہاں ہو تو انکار کر دے۔ اس طرح کا امتیاز تکبر کے دائرے میں آتا ہے۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام اور مسکین سب کی دعوت قبول فرما لیا کرتے تھے۔(ترمذی،ابن ماجہ-انس)۔ ایک مرتبہ امام حسن رضی اللہ عنہ کچھ فقراء اور مساکین کے پاس سے گزرے۔ یہ وہ لوگ تھے جو راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے روٹی کے چند ٹکڑے ریت پر پھیلا رکھے تھے۔ امام حسن رضی اللہ عنہ خچر پر تشریف لے جا رہے تھے کہ کسی فقیر نے انہیں روک کر کہا کہ اے نواسہء رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائیے اور ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیے۔ آپ خچر سے اترے اور یہ کہتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گئے کہ اللہ تعالیٰ متکبرین کو محبوب نہیں رکھتا، ان کے ساتھ کھانا کھایا اور سلام کر کے خچر پر سوار ہو گئے اور فرمایا کہ میں نے تمہاری دعوت قبول کی، اب تم میری دعوت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی دعوت سر آنکھوں پر ، ہم ضرور حاضر ہوں گے۔ امام حسن نے انہیں دعوت کا وقت بتلایا۔ جب وہ لوگ آپ کے دولت کدے پر حاضر ہوئے تو آپ نے ان کی خاطر مدارات کی، بہترین کھانے کھلائے اور خود بھی ان کے پاس بیٹھ کر کھانا کھایا۔

    دوسرا ادب : یہ ہے کہ دعوت قبول کرنے سے محض اس لیے انکار نہ کرے کہ داعی کا گھر فاصلے پر واقع ہے۔ اگر فاصلہ اتنا ہو کہ عادتاً اس کا طے کرنا دشوار نہ ہو تو دعوت قبول کر لے۔

    تیسرا ادب : یہ ہے کہ روزے کی وجہ سے انکار نہ کرے بلکہ دعوت میں جائے ، اگر محسوس کرے کہ داعی کی خوشی روزہ افطار کرنے میں ہے تو روزہ افطار کر لے اور نیت یہ کرے کہ میں اپنے اس عمل کے ذریعہ ایک مسلمان بھائی کے دل کو خوشی سے ہمکنار کرنا چاہتا ہوں۔ افطار کا تعلق نفلی روزے سے ہے، فرض روزے سے نہیں ہے۔ اگر داعی کے دل کا حال معلوم نہ ہو تو ظاہری حال پر اعتماد کرتے ہوئے افطار کر لینا چاہیے۔ لیکن اگر یہ ثابت ہو کہ وہ بتکلف دعوت کر رہا ہے اور افطار کرنے سے اس کو کوئی خوشی نہیں ہو گی تو عذر کر دے، افطار نہ کرے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے ہم نشینوں کی خاطر روزہ افطار کرنا بہترین نیکی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ داعی کا دل خوش کرنے کی نیت سے افطار کرنا عبادت بھی ہے اور خوش خلقی کا مظہر بھی، اس کا ثواب روزے سے زیادہ ہے۔
    چوتھا ادب : دعوت قبول کرنا ہر حالت میں ضروری نہیں ہے، بلکہ بعض صورتوں میں دعوت مسترد بھی کی جا سکتی ہے، مثلاً یہ کہ کھانا مشتبہ ہو، وہ جگہ جہاں کھانا کھلایا جا رہا ہو، ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی ہو یا اس جگہ کوئی برائی ہو، مثلاً ریشمی فرش، چاندی کے برتن، دیواروں یا چھتوں پر جاندار کی تصویریں ہوں، گانا بجانا ہو رہا ہو، لوگ لہو و لعب ، غیبت ، چغلی ، بہتان تراشی، جھوٹ اور فریب کی باتوں میں مشغول ہوں، یا اسی طرح دوسری بدعتیں ہوں تو دعوت قبول کرنے کا استحباب باقی نہیں رہتا۔ اگر داعی ظالم، بدعتی ، فاسق، شر پسند ، متکبر اور شیخی خور ہو تو اس کی دعوت بھی رد کی جا سکتی ہے۔
    پانچواں ادب : یہ ہے کہ دعوت قبول کرنے سے ایک وقت پیٹ بھر کھانے کی نیت نہ کرے، اگر یہ نیت کرے گا تو قبول دعوت دنیا کا عمل قرار پائے گا ، بلکہ نیت صحیح ہونی چاہیے تاکہ قبول دعوت آخرت کا عمل محسوب ہو اور اس کی صورت یہ ہے کہ دعوت قبول کرنے میں رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کی نیت کرے۔ اور یہ بھی نیت کرے کہ اگر دعوت قبول کروں گا تو میرا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو گا کیونکہ ارشاد نبوی ہے : من لم یجب الداعی فقدعصی اللہ ورسولہ۔ یعنی جس شخص نے داعی کی دعوت قبول نہیں کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (بخاری ومسلم-ابو ہریرہ)۔ یہ نیت بھی ہونی چاہیے کہ دعوت میں شرکت کے ذریعہ مجھے اپنے بھائی سے ملنے کا موقع بھی ملے گا، اس طرح مدعو ان لوگوں میں شمار ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ ایک حدیث (قدسی) میں ہے : وَجَبَتْ مَحبَّتِي للمُتَزَاوِرِينَ فيَّ، وَالمُتَباذِلِينَ فيَّ۔ یعنی میری محبت میرے لیے آپس میں ملاقات کرنے والوں اور میرے لیے آپس میں خرچ کرنے والوں کے لیے واجب ہے۔(صحیح مسلم-ابوہریرہ) دعوت میں بذل و انفاق (خرچ) پہلے سے موجود ہےجس کا تعلق داعی سے ہے، اب مدعو کو چاہیے کہ زیارت و ملاقات کی نیت کر کے دوسرا پہلو بھی مکمل کر دے۔ ایک نیت یہ ہونی چاہیے کہ میں یہ دعوت اس لیے قبول کر رہا ہوں تاکہ لوگ میرے متعلق بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں یا یہ خیال نہ کریں کہ دعوت مسترد کر کے میں نے مسلمان بھائی کی تحقیر کی ہے۔ اگر کوئی شخص دعوت قبول کرتے وقت یہ تمام نیتیں کرے تو اس کے اجر و ثواب کا کیا ٹھکانا، لیکن اگر ان میں سے ایک نیت بھی کی تو ان شاءاللہ قربت کا باعث ہو گی۔ ایک بزرگ فرماتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر عمل میں میری ایک نیت ہو، یہاں تک کھانے اور پینے میں بھی نیت کروں۔ نیت کے سلسلے میں حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہإِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔(بخاری و مسلم-عمر فاروق)۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیت صرف مباح امور اور طاعات میں مؤثر ہوتی ہے، ان امور میں مؤثر نہیں ہوتی جن سے منع کیا گیا ہے۔۔۔

    (آگے، دعوت میں شرکت کرنے کے آداب۔۔۔۔۔)
     

اس صفحے کی تشہیر