ناصر کاظمی کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں - ناصر کاظمی

arshadmm

محفلین
کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

یہ کہہ کر چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گءے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

ناصر کاظمی
 

شاہ حسین

محفلین
کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں (ناصر کاظمی)

کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پھتّر ہی لے چلیں

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں

رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچہ دلبر ہی لے چلیں

یہ کہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
ناصر کاظمی
 

شاہ حسین

محفلین
بہت شکریہ وارث صاحب یکجا کرنے کا پر میں نے ٹیگ کر کے دیکھا تھا مجھ کو مل نہیں پایا آئندہ دھیان سے سرچ کروں گا
ملائکہ صاحبہ اور سخنور صاحب آپ دونوں کا بھی شکریہ
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
کچھ یاد گارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں​
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں​
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر​
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں​
رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو​
تھوڑی سی خاکِ کوچہءدلبر ہی لے چلیں​
یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی​
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں​
اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں​
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں​
(ناصر کاظمی)
(دیوان)
(6 ستمبر 1967)
 

سید زبیر

محفلین
اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
واہ ۔ ۔ بہت خوب ۔۔۔زبردست کلام پیش کیا ۔ ۔ ۔ ۔ جزاک اللہ
 

مہ جبین

محفلین
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں
بہت ہی عمدہ کلام شیئر کرنے کا شکریہ
 
Top