کچھ سوالات

افضل حسین

محفلین
مغربی بنگال پرائمری ٹیچرس کی بحالی کے لئے منعقد مقابلہ جاتی امتحان سے اردو پیپر کے کچھ سوالات یہاں پیش کررہا ہوں ماہرین جواب دے کر شکریہ کا موقعہ عنایت کریں۔

1 "لا حول ولا قوة الا بالله " کس صنف سخن کے لئے وزن ہے ؟

2 اردو کے کل کتنے دبستان ہیں؟

3 فن تجوید کا موجد کون ہے ؟

4 دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقے کو کس نے اردو کی جائے پیدائش قرار دیا؟
 

فاتح

لائبریرین
میرا خیال ہے کہ میری بجائے دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ فاتح بھائی یہاں بہتر جواب دے سکتے ہیں کہ میں مبتدی ہی ہوں :)
ان کے پہلے سوال کا جواب تو کافی عرصہ پہلے یہیں محفل پر دیا جا چکا ہے:
مغربی بنگال پرائمری ٹیچرس کی بحالی کے لئے منعقد مقابلہ جاتی امتحان سے اردو پیپر کے کچھ سوالات یہاں پیش کررہا ہوں ماہرین جواب دے کر شکریہ کا موقعہ عنایت کریں۔

1 "لا حول ولا قوة الا بالله " کس صنف سخن کے لئے وزن ہے ؟

جی ہاں! یہ رباعی کی ایک مستعملہ بحر ہے:
مفعول۔ مفاعیل۔ مفاعیلن۔ فاع
(اخرب۔ مکفوف۔ سالم۔ ازل)
(صدر و ابتدا۔ حشو اول۔ حشو دوم۔ عروض و ضرب)

اس میں تقطیع کر کے دیکھیے:
مفعول ۔ مفاعیل ۔ مفاعیلن ۔ فاع
لاحول ۔ ولا قووَ۔ تَ اِل لا بل ۔ لاہ
 

فاتح

لائبریرین
2 اردو کے کل کتنے دبستان ہیں؟
دبستان سے مراد شعرا کا کسی خاص پیرائےیا رنگ کو اختیار کرنا یا اس کی پیروی کرنا ہے۔ گذشتہ عہد میں دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنؤ ہی دو دبستان مانے جاتے تھےلیکن دبستانوں کے حوالے سے موجودہ دور میں کوئی متفق علیہ رائے موجود نہیں۔۔۔
کئی نقاد دبستانِ میر اور دبستانِ غالب وغیرہ جیسی اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں یعنی شعرا کا میر یا غالب کے انداز کی پیروی کرنا۔
 

فاتح

لائبریرین
دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقے کو کس نے اردو کی جائے پیدائش قرار دیا؟
یہ بلا تحقیق نظریہ مسعود حسین خاں نے مقدمۂ تاریخِ زبان اردو میں پیش فرمایا تھا۔
اس بارے مختلف علما و محقیقن کی آرا ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں، کوئی اردو کا ماخذ پنجاب کو ثابت کرتا ہے اور کوئی سندھ کو جب کہ کوئی مہاراشٹرا کو، الخ
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
یہ بلا تحقیق نظریہ مسعود حسین خاں نے مقدمۂ تاریخِ زبان اردو میں پیش فرمایا تھا۔
اس بارے مختلف علما و محقیقن کی آرا ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں، کوئی اردو کا ماخذ پنجاب کو ثابت کرتا ہے اور کوئی سندھ کو جب کہ کوئی مہاراشٹرا کو، الخ
اُردو کا ماخذ تو نہیں البتہ اردو کا گہوارہ کہلانے کا دعویدار تو گجرات (انڈیا)بھی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں : سخنوران گجرات از ڈاکٹر سید ظہیر الدین مدنی(مطبوعہ: National Council for Promotion of Urdu Language(NCPUL)Delhi.)
 

افضل حسین

محفلین
میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا لیکن کچھ احباب کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ نے فن تجوید کے ابتدائی قواعد وضع کیے تھے۔

اس سوال کے جواب کے چار آپشن تھے ان میں حضرت علی کا نام نہیں تھا۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
علم تجوید ۔۔ قرآن کریم کو حروف کے درست مخارج اور وقوف وغیرہ کے ساتھ تلاوت کرنے کے علم کو کہا جاتا ہے۔ اس علم کے سب سے بڑے استاد تو بذاتِ خود نبی کریمﷺ ہیں۔انہوں نے جس طرح جبریل علیہ السلام سے قرآن کو سناتھا اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوسکھادیا۔ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چونکہ اہل زبان تھے، اس لیے ان کو قواعد سیکھنے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ کوئی بھی اہل زبان چاہے قواعد کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اس کے مخارج اور تلفظ درست ہی ہوا کرتے ہیں۔ اور قواعد کو بھی انہی کی زبان سن کر مرتب کیا جاتا ہے۔ ۔لیکن بعد میں جب عرب وعجم کا اختلاط ہوا تو فن تجوید کے قواعد مدوّن کرنے کی ضرورت بھی شدت سےمحسوس ہوئی۔ چنانچہ قواعد مرتب کیے گئے۔ قواعد مدوّن کرنے والوں میں ابو الاسود الدؤلی، ابو عبید قاسم بن سلام، خلیل بن احمد الفراہیدی، ابو عمر حفص الدوری البصری، ابومزاحم خاقانی اورموسیٰ بن عبید اللہ خاقان البغدادیکے نام سر فہرست ہیں۔
ابوالاسود الدؤلی ۔۔ نے براہ راست حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے استفادہ کیا تھا۔
 

فاتح

لائبریرین
اس سوال کے جواب کے چار آپشن تھے ان میں حضرت علی کا نام نہیں تھا۔
بھائی، میں نے اسی لیے کہا تھا کہ وثوق سے نہیں کہہ رہا۔۔۔ مزید برآں اگر چار آپشنز موجود تھے تو کم از کم وہ لکھ تو دیتے تا کہ تکے لگانے میں سہولت رہتی۔ ;)
 
Top