سولھویں سالگرہ کُلّیاتِ غالبؔ (ویب کتاب)

سعادت

تکنیکی معاون
”کُلّیاتِ غالبؔ“ (اور اس سے پہلے ”دیوانِ غالبؔ، نسخۂ اردو ویب“) جیہ ، الف عین صاحب، اور اردو محفل کا ایک شاندار کارنامہ ہے۔ میری ایک عرصے سے خواہش تھی کہ اسے ایک ویب کتاب کی صورت میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف اردو محفل بلکہ دیگر قتیلانِ غالبؔ کے لیے بھی یہ پراجیکٹ ایک منظم صورت میں ویب پر دستیاب رہے۔

پچھلے دو تین سالوں میں اس خواہش کی تکمیل کے لیے اِکا دُکا تجربات کرتا رہا تھا، لیکن جم کر کام کرنے کی فرصت پچھلے سال کے اختتام پر ملی۔ پھر اِس سال اپریل میں جب ویب کتاب کی کچھ قابلِ قبول صورت نکل آئی تو جویریہ اور اعجاز صاحب دونوں کو ذاتی پیغام میں اس کے بارے میں مطلع کیا۔ آپ دونوں نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی، بلکہ میری کچھ تجاویز سے اتفاق بھی کیا، جس کے لیے دونوں کا شکرگزار ہوں۔ مزید کام آہستہ آہستہ کرتا رہا، اور اب محفل کی سالگرہ کے موقع پر یہ ویب کتاب آپ سب کے لیے بھی تیار ہے: کُلّیاتِ غالبؔ :)

51305614970_f351c26f27_o.png
کتاب کے مندرجات میں دو بڑی تبدیلیاں ہیں: ایک تو میرا لکھا ہوا دیباچہ جس میں ویب کتاب کے بارے میں کچھ متفرق تفصیلات موجود ہیں۔ دوم، میں نے تجویز پیش کی تھی کہ کتاب کے دونوں دیباچوں، ”سخن ہائے گفتنی“ اور ”دیوانِ غالب سے کلیاتِ غالب تک“، کو ایک ہی میں ضم کر دیا جائے تاکہ نئے قارئین (یا ایسے افراد جو محفل پر دیوان/کلیات کی تاریخ سے واقف نہیں) کو اس کا پس‌منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔ جویریہ نے اس تجویز سے اتفاق کیا تھا اور اس پر کام کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا، لیکن اپنی ذاتی مصروفیات کے باعث اسے وقت نہ دے سکیں، سو میں نے خود ہی ہلکی سی ایڈیٹنگ کر کے ان دونوں دیباچوں کو‌ ایک میں ضم کر دیا ہے؛ امید ہے کہ جویریہ برا نہیں منائیں گی۔

اس ویب کتاب کی ایک خاص بات اس میں موجود شاعری کی ٹائپوگرافی ہے۔ فی الوقت ویب پر اردو شاعری کو زیادہ تر ایک ہی کالم میں پیش کیا جاتا ہے، اور اگر کہیں دو کالم استعمال کیے بھی جاتے ہیں تو ان کی responsiveness کا خیال نہیں رکھا جاتا (یعنی موبائل کی چھوٹی سکرین پر بھی دو کالمز ہی نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے قاری کو دائیں سے بائیں سکرول کرنا پڑتا ہے، یا پھر شاعری بہت چھوٹے سے فونٹ سائز میں نظر آتی ہے)۔ سو میں نے اِس ویب کتاب میں اِس بات کا خاص طور پر خیال رکھا ہے کہ شاعری کا لےآؤٹ قاری کی ڈیوائس کے مطابق اپنے آپ کو موزوں ترین شکل میں ڈھال لے۔ اس کی ایک جھلک آپ نیچے موجود تصویر میں دیکھ سکتے ہیں:

51303860657_6f16eac044_o.png
یہاں ایک بات کی وضاحت: شاعری کے کالمی لے‌آؤٹ تو جدید سی‌ایس‌ایس کے ذریعے حاصل ہو جاتے ہیں، لیکن جسٹفیکیشن کا معاملہ ابھی تک ٹیڑھا ہی ہے۔ جسٹیفائیڈ شاعری کی جو خوبصورتی (کشیدہ اشکال وغیرہ کے ذریعے) ایک خطاط یا کاتب کا ہاتھ تخلیق کرتا ہے، وہ فی الحال اوپن‌ٹائپ لے‌آؤٹ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اوپر موجود تصویر میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جسٹیفیکیشن حاصل کرنے کے ویب براؤزر نے الفاظ کے مابین فاصلے ہی کو بڑھایا ہے۔ البتہ میں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کسی بھی غزل کے مصرعوں کی لمبائی اُس کے طویل ترین مصرعے سے زیادہ نہ ہو۔ (ان تمام تکنیکی تفصیلات کا جائزہ جلد ہی ایک بلاگ پوسٹ کی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔)

کتاب کے رنگ اور مختلف صفحات پر مستعمل آرائشی آرٹ ”دیوانِ غالبؔ، بہ تحقیقِ متن و ترتیب از حامد علی خاں“ سے انسپائرڈ ہیں۔ آرائشی آرٹ تو اُسی نسخے سے باقاعدہ ٹریس کر کے حاصل کیا گیا ہے۔

ویب کتاب کا سورس گِٹ‌ہب پر موجود ہے، اور پولن (Pollen) میں لکھا گیا ہے (پولن ڈیجیٹل کتابیں بنانے کا ایک دلچسپ ٹُول ہے)۔ فی الحال یہ کتاب اور اس کا سورس کوڈ میرے ہی گِٹ‌ہب اکاؤنٹ میں ہوسٹِڈ ہے، لیکن میں چاہوں گا کہ مستقبل میں اسے اردو ویب یا اردو لائبریری کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے۔ ابن سعید آج کل اپنی پیشہ‌ورانہ ذمہ‌داریوں میں کافی مصروف ہیں، لیکن جیسے ہی انہیں کچھ فرصت ملتی ہے تو ان سے مشاورت کر کے یہ منتقلی عمل میں لے آؤں گا۔

امید ہے کہ آپ سب کو یہ ویب کتاب پسند آئے گی۔ اگر آپ کو اِس کے متن، ڈیزائن، یا لے‌آؤٹ میں کہیں کوئی غلطی یا خرابی نظر آتی ہے، تو براہِ کرم ضرور مطلع کیجیے۔ :)
 
بہت عمدہ۔
جسٹیفائیڈ شاعری کی جو خوبصورتی (کشیدہ اشکال وغیرہ کے ذریعے) ایک خطاط یا کاتب کا ہاتھ تخلیق کرتا ہے، وہ فی الحال اوپن‌ٹائپ لے‌آؤٹ کے بس کی بات نہیں ہے۔
کیا یہ ممکن بھی ہے؟ اگر تمام کشیدہ اشکال میسر بھی ہوں تب بھی یہ کام تو ہاتھ سے ہی کرنا پڑے گا۔
 

سعادت

تکنیکی معاون
کیا یہ ممکن بھی ہے؟ اگر تمام کشیدہ اشکال میسر بھی ہوں تب بھی یہ کام تو ہاتھ سے ہی کرنا پڑے گا۔
فونٹ اور ٹیکسٹ لے‌آؤٹ کے لوگ اس پر کام کر رہے ہیں، مثلاً سائمن کزنز کا یہ تجربہ دیکھیے: (ٹائپ‌سکرپٹ میں لکھا گیا)


البتہ شاعری میں جسٹفیکیشن کا استعمال شاید ہاتھ سے اِن‌پُٹ کا متقاضی بھی ہو، کہ شاعری میں اکثر ردیف یا قافیوں یا کسی مکرر ترکیب کی ایک جیسی خطاطی یا کتابت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس غزل میں ’ت‘ کی اشکال، اور اِس میں ’کیا‘۔
 
بہت خوبصورت لے آؤٹ لگ رہا ہے! کتاب کی تزئین کلامِ غالب کے شایانِ شان ہے اور کلاسیکی کتب کی روایات کے عین مطابق ۔
اس گرانقدر تحفے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ!!!

یہ کتاب محفوظ کرنےوالی ہے ۔ شام کو گھر جاکر ڈاؤنلوڈ کرتا ہوں ان شاء اللہ ۔
 

سعادت

تکنیکی معاون
شکریہ، ریحان۔ :)

نہایت عمدہ کام کے لئے مبارکباد قبول کریں۔ :)
شکریہ، ذیشان۔ :)

بہت خوبصورت لے آؤٹ لگ رہا ہے! کتاب کی تزئین کلامِ غالب کے شایانِ شان ہے اور کلاسیکی کتب کی روایات کے عین مطابق ۔
اس گرانقدر تحفے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ!!!

یہ کتاب محفوظ کرنےوالی ہے ۔ شام کو گھر جاکر ڈاؤنلوڈ کرتا ہوں ان شاء اللہ ۔
شکریہ، ظہیر بھائی۔ :)

یہ کتاب ڈاؤنلوڈ نہیں ہو سکتی، اسے اس کی ویب‌سائٹ ہی پر پڑھا جا سکتا ہے۔ (ہاں اگر آپ مکمل ویب‌سائٹ ڈاؤنلوڈ کر کے رکھ لیں تو پھر آف‌لائن مطالعہ ممکن ہو گا۔)

بہترین کام کیا ہے سعادت۔
شکریہ، زیک۔ :)
محفل کے لائبریرینز کو بھی سکھا دیں تو کیا ہی بات ہو۔
اس ویب کتاب پر کام کرتے ہوئے اردو لائبریری کے لیے کافی آئیڈیاز ذہن میں آئے۔ وقت ملنے پر کچھ عرض کروں گا۔
 
بہت عمدہ سعادت بھائی۔ اور خوبصورت ڈیزائن۔
”کُلّیاتِ غالبؔ“ (اور اس سے پہلے ”دیوانِ غالبؔ، نسخۂ اردو ویب“) جیہ ، الف عین صاحب، اور اردو محفل کا ایک شاندار کارنامہ ہے۔ میری ایک عرصے سے خواہش تھی کہ اسے ایک ویب کتاب کی صورت میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف اردو محفل بلکہ دیگر قتیلانِ غالبؔ کے لیے بھی یہ پراجیکٹ ایک منظم صورت میں ویب پر دستیاب رہے۔

پچھلے دو تین سالوں میں اس خواہش کی تکمیل کے لیے اِکا دُکا تجربات کرتا رہا تھا، لیکن جم کر کام کرنے کی فرصت پچھلے سال کے اختتام پر ملی۔ پھر اِس سال اپریل میں جب ویب کتاب کی کچھ قابلِ قبول صورت نکل آئی تو جویریہ اور اعجاز صاحب دونوں کو ذاتی پیغام میں اس کے بارے میں مطلع کیا۔ آپ دونوں نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی، بلکہ میری کچھ تجاویز سے اتفاق بھی کیا، جس کے لیے دونوں کا شکرگزار ہوں۔ مزید کام آہستہ آہستہ کرتا رہا، اور اب محفل کی سالگرہ کے موقع پر یہ ویب کتاب آپ سب کے لیے بھی تیار ہے: کُلّیاتِ غالبؔ :)

51305614970_f351c26f27_o.png
کتاب کے مندرجات میں دو بڑی تبدیلیاں ہیں: ایک تو میرا لکھا ہوا دیباچہ جس میں ویب کتاب کے بارے میں کچھ متفرق تفصیلات موجود ہیں۔ دوم، میں نے تجویز پیش کی تھی کہ کتاب کے دونوں دیباچوں، ”سخن ہائے گفتنی“ اور ”دیوانِ غالب سے کلیاتِ غالب تک“، کو ایک ہی میں ضم کر دیا جائے تاکہ نئے قارئین (یا ایسے افراد جو محفل پر دیوان/کلیات کی تاریخ سے واقف نہیں) کو اس کا پس‌منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔ جویریہ نے اس تجویز سے اتفاق کیا تھا اور اس پر کام کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا، لیکن اپنی ذاتی مصروفیات کے باعث اسے وقت نہ دے سکیں، سو میں نے خود ہی ہلکی سی ایڈیٹنگ کر کے ان دونوں دیباچوں کو‌ ایک میں ضم کر دیا ہے؛ امید ہے کہ جویریہ برا نہیں منائیں گی۔

اس ویب کتاب کی ایک خاص بات اس میں موجود شاعری کی ٹائپوگرافی ہے۔ فی الوقت ویب پر اردو شاعری کو زیادہ تر ایک ہی کالم میں پیش کیا جاتا ہے، اور اگر کہیں دو کالم استعمال کیے بھی جاتے ہیں تو ان کی responsiveness کا خیال نہیں رکھا جاتا (یعنی موبائل کی چھوٹی سکرین پر بھی دو کالمز ہی نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے قاری کو دائیں سے بائیں سکرول کرنا پڑتا ہے، یا پھر شاعری بہت چھوٹے سے فونٹ سائز میں نظر آتی ہے)۔ سو میں نے اِس ویب کتاب میں اِس بات کا خاص طور پر خیال رکھا ہے کہ شاعری کا لےآؤٹ قاری کی ڈیوائس کے مطابق اپنے آپ کو موزوں ترین شکل میں ڈھال لے۔ اس کی ایک جھلک آپ نیچے موجود تصویر میں دیکھ سکتے ہیں:

51303860657_6f16eac044_o.png
یہاں ایک بات کی وضاحت: شاعری کے کالمی لے‌آؤٹ تو جدید سی‌ایس‌ایس کے ذریعے حاصل ہو جاتے ہیں، لیکن جسٹفیکیشن کا معاملہ ابھی تک ٹیڑھا ہی ہے۔ جسٹیفائیڈ شاعری کی جو خوبصورتی (کشیدہ اشکال وغیرہ کے ذریعے) ایک خطاط یا کاتب کا ہاتھ تخلیق کرتا ہے، وہ فی الحال اوپن‌ٹائپ لے‌آؤٹ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اوپر موجود تصویر میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جسٹیفیکیشن حاصل کرنے کے ویب براؤزر نے الفاظ کے مابین فاصلے ہی کو بڑھایا ہے۔ البتہ میں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کسی بھی غزل کے مصرعوں کی لمبائی اُس کے طویل ترین مصرعے سے زیادہ نہ ہو۔ (ان تمام تکنیکی تفصیلات کا جائزہ جلد ہی ایک بلاگ پوسٹ کی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔)

کتاب کے رنگ اور مختلف صفحات پر مستعمل آرائشی آرٹ ”دیوانِ غالبؔ، بہ تحقیقِ متن و ترتیب از حامد علی خاں“ سے انسپائرڈ ہیں۔ آرائشی آرٹ تو اُسی نسخے سے باقاعدہ ٹریس کر کے حاصل کیا گیا ہے۔

ویب کتاب کا سورس گِٹ‌ہب پر موجود ہے، اور پولن (Pollen) میں لکھا گیا ہے (پولن ڈیجیٹل کتابیں بنانے کا ایک دلچسپ ٹُول ہے)۔ فی الحال یہ کتاب اور اس کا سورس کوڈ میرے ہی گِٹ‌ہب اکاؤنٹ میں ہوسٹِڈ ہے، لیکن میں چاہوں گا کہ مستقبل میں اسے اردو ویب یا اردو لائبریری کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے۔ ابن سعید آج کل اپنی پیشہ‌ورانہ ذمہ‌داریوں میں کافی مصروف ہیں، لیکن جیسے ہی انہیں کچھ فرصت ملتی ہے تو ان سے مشاورت کر کے یہ منتقلی عمل میں لے آؤں گا۔

امید ہے کہ آپ سب کو یہ ویب کتاب پسند آئے گی۔ اگر آپ کو اِس کے متن، ڈیزائن، یا لے‌آؤٹ میں کہیں کوئی غلطی یا خرابی نظر آتی ہے، تو براہِ کرم ضرور مطلع کیجیے۔ :)
 

یاسر شاہ

محفلین
اس نادر مضمون کی طرف توجہ فورا مبذول ہوئی۔پورا پڑھا، تین اشعار کا وزن درست نہیں لہذا تصحیح کی ضرورت ہے۔انھیں سرخ کر رہا ہوں دیکھیں:


کُلّیاتِ غالبؔ
غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعر


گاتی تھیں شمرو کی بیگم، تن نا ہا یا ہو
دودھ میں پکے تھے شلغم، تن نا ہا یا ہو


مولوی احتشام الدین مرحوم نے اپنے مضمون ”غالبؔ کے بعض غیر مطبوعہ اشعار اور لطیفے“ (ماہِ نو، فروری ۱۹۵۰ء) میں لکھا ہے کہ”یہ مطلع مرزا کی ایک مہمل غزل کا ہے جو بچوں کے جھولے میں گانے کے لیے موزوں فرمائی تھی۔“ اندازہ ہے کہ شعر ۱۸۶۵ء کے ابتدائی مہینوں میں کہا گیا ہو گا۔ (خط نمبر ۱۱۲ بنام منشی ہر گوپال تفتہ، آخر مئی ۱۸۶۵ء)

تم سلامت رہو قیامت تک
دولت و عز و جاہ، روز افزوں

اس شعر کا پہلا مصرع مرزا نے نواب یوسف علی خاں ناظمؔ کے نام خط مورخہ ۱۵ فروری ۱۸۵۷ء میں اور پورا شعر انہیں کے نام کے خط مورخہ ۱۴ اگست ۱۸۶۳ء میں لکھا ہے۔

درم و دام اپنے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

آبِ حیات میں درج ہے کہ حسین علی خاں (عارف کا چھوٹا لڑکا) ایک دن کھیلتا کھیلتا آیا کہ دادا جان (غالبؔ) مٹھائی منگا دو۔ آپ نے فرمایا کہ پیسے نہیں۔ وہ صندوقچہ کھول کر اِدھر اُدھر ٹٹولنے لگا اور آپ نے یہ شعر فرمایا۔

حسین علی خاں شاداںؔ کا سالِ ولادت ۱۸۵۰ء ہے۔ اندازہ ہے کہ اِس واقعے کے وقت (آغازِ ۱۸۵۷ء) وہ سات آٹھ برس کا ہو گا۔

سات جِلدوں کا پارسل پہنچا
واہ کیا خوب، بر محل پہنچا

یہ شعر میرزا حاتم علی مہرؔ کے نام خط مورخہ ۲۰ نومبر ۱۸۵۸ء میں درج ہے۔

یہ خبط نہیں تو اور کیا ہے

برہانِ قاطع کا وہ نسخہ جس کے حاشیوں پر ابتداً مرزا صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ لکھے اور جو بعد کو قاطع برہان کے نام سے مرتب ہو کر چھپے۔ لفظ ”خسک“ پر حاشیہ لکھتے ہوئے یہ مصرع بھی مرزا صاحب کے قلم سے نکل گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ۱۸۵۸ء میں ہی لکھا گیا ہو گا۔

روز اس شہر میں حکم نیا ہوتا ہے
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوتا ہے


غالبؔ نے یہ شعر اپنے خط بنام میر مہدی مجروحؔ مورخہ ۲ فروری ۱۸۵۹ء میں لکھا ہے۔

دیکھیے کیا جواب آتا ہے

مندرجہ خط بنام مجروحؔ، ۱۳ دسمبر ۱۸۵۹ء۔ یہ پورے جملے کا ایک ٹکڑا ہے جو از خود موزوں ہو گیا ہے: ”میں نے اس کا اپیل لیفٹیننٹ گورنر کے یہاں کیا ہے، دیکھیے کیا جواب آتا ہے۔“

خدا سے بھی میں چاہوں از رہِ مہر
”فروغِ میرزا حاتم علی مہرؔ“

مندرجہ خط بنام مہرؔ، اپریل ۱۸۵۹ء۔ اس شعر کا دوسرا مصرع خود مہرؔ کا ہے جو اُن کی مثنوی ”شعاعِ مہر“ میں درج ہے۔

پِیر و مرشد معاف کیجیے گا
میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال

مندرجہ خط بنام نواب انور الدولہ بہادر شفقؔ، ۱۹ جولائی ۱۸۶۰ء۔ عودِ ہندی میں یہ اسی طرح درج ہے مگر اردوئے معلیٰ میں اسے نثر کی شکل دے دی گئی ہے اگرچہ اسے منظوم بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد امام
یہی ہے مذہبِ حق، والسلام و الاکرام

مندرجہ خط بنام مجروحؔ، مئی ۱۸۶۱ء۔

تھا تو خط پر جواب طلب نہ تھا
کوئی اس کا جواب کیا لکھتا


یہ شعر چودھری عبدالغفور سرورؔ کے نام خط میں لکھا ہے۔ خط پر تاریخ درج نہیں، مگر قرائن سے پتا چلتا ہے کہ ۱۸۶۲ء کا لکھا ہوا ہے۔

میں بھولا نہیں تجھ کو، اے میری جاں
کروں کیا، کہ یاں گِر رہے ہیں مکاں

مندرجہ خط بنام مجروحؔ، مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۸۶۲ء۔

جویائے حالِ دہلی و الور سلام لو

یہ مصرع خط مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۸۶۲ء، بنام مجروحؔ، کا سر نامہ ہے۔

ولی عہدی میں شاہی ہو مبارک
عنایاتِ الٰہی ہو مبارک

مندرجہ خط بنام علائی، اپریل مئی ۱۸۶۳ء۔

معلوم ہوا خبر کا ٹھینگا باجا

مندرجہ خط بنام علائی، ۱۸ مئی ۱۸۶۴ء۔

کوئی اس کو جواب دو صاحب
سائلوں کا ثواب لو صاحب

مندرجہ لطائفِ غیبی، مطبوعہ ۱۸۶۴ ء، صفحہ ۲۲۔ اب یہ عام طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لطائفِ غیبی، سیاحؔ کی نہیں بلکہ خود مرزا کی تصنیف ہے۔

خوشنودیٔ احباب کا طالب، غالبؔ

ظاہر ہے کہ یہ مصرع خط کے خاتمے کے الفاظ پر مبنی ہے، صحیح سالِ تحریر کا علم نہیں مگر یہ ایک خط بنام قدرؔ بلگرامی کے آخر میں ہے (تاریخ درج نہیں صرف دن اور وقت لکھا ہے: چہار شنبہ، ۱۲ پر ۳ بجے)۔

اور مثنوی ”شعاعِ مہرؔ“ کی تقریظ کو تمام کرتے ہوئے لکھا ہے۔

کھانا نہ انہیں، کہ یہ پرائے ہیں آم

یہ غالبؔ کی ایک رباعی کا چوتھا مصرعہ ہے، جو جلوہ خضر میں درج ہے۔ اس کے ۳ مصرعے صفیرؔ بلگرامی کو یاد نہیں رہے۔ صفیرؔ ۱۸۶۵ء میں غالبؔ سے ملنے دِلّی آئے تھے۔

میں قائلِ خدا و نبی و امام ہوں
بندہ خدا کا اور علی کا غلام ہوں

مندرجہ خط بنام صفیرؔ بلگرامی، مورخہ ۳ مئی ۱۸۶۵ء۔

ہاتفِ غیب سن کے یہ چیخا
ان کی تاریخ میرا تاریخا

جناب احسن مارہروی مرحوم نے اپنی کتاب ”مکاتیب الغالبؔ“ صفحہ ۳۵ پر لکھا ہے:

”راقم الحروف کے پردادا شاہ سید عالم صاحب (صاحب عالم مارہروی، ولادت ۶ ربیع الثانی، ۱۲۱۱ھ بمطابق ۸ اکتوبر ۱۷۹۶ء) سے مرزا کی اکثر خط و کتابت ہوتی رہتی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت صاحب نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ آپ کی ولادت کس سن میں ہوئی اور ساتھ ہی یہ اطلاع بھی دی کہ میری ولادت لفظ ’تاریخ‘ سے نکلتی ہے جس کے عدد ۱۲۱۱ ہوتے ہیں۔ مرزا نے جواب میں یہ شعر لکھ بھیجا۔“

جناب صاحب عالم مارہروی جن کی مرزا بہت عزت کرتے تھے، مرزا سے ایک سال پہلے پیدا ہوئے اور تین سال بعد فوت ہوئے یعنی ان کی وفات ۲ محرم ۱۲۸۸ھ (۲۴ مارچ ۱۸۷۱ء) کو ہوئی۔ صاحبِ عالم، ان کے صاحبزادے شاہ عالم اور عبدالغفور سرورؔ (جن کے خطوں میں صاحبِ عالم کے کئی خط شامل ہیں) کے نام کے خطوط جو آج تک دستیاب ہوئے ہیں، وہ ۱۸۵۸ء سے ۱۸۶۶ء تک کے عرصے میں لکھے گئے ہیں۔ یہ شعر ان خطوں میں درج نہیں۔ ہو سکتا ہے انہی دنوں میں کبھی لکھا گیا ہو مگر خط محفوظ نہ رہا ہو۔ اس لیے اس شعر کو ۱۸۵۸ء کے بعد اور ۱۸۶۶ء سے پہلے کا کہا ہوا ہی کہا جا سکتا ہے۔

تحریر ہے یہ غالبِؔ یزداں پرست کی
تاریخ اس کی آج نویں ہے اگست کی

مندرجہ خمخانہ جاوید، جلد اوّل، صفحہ ۸۲۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ شعر کا زمانۂ فکر ۱۸۶۶ء کے لگ بھگ ہو گا۔

سنین عمر کے ستّر ہوئے شمار برس
بہت جیوں تو جیوں اور تین چار برس

غالبؔ کا سالِ ولادت ۱۷۹۷ء ہے۔ اس طرح یہ شعر ۱۸۶۷ء میں کہا گیا ہو گا۔ ہجری حساب سے ستّر برس ۱۲۸۲ھ (۶۶، ۱۸۶۵ء) میں پڑیں گے۔

آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے؟
یا فقط رستا ہمیں بتلاؤ گے

خمخانہ جاوید، جلد اوّل، صفحہ ۸۱ میں لالہ سری رام نے لکھا ہے کہ پیارے لال آشوب دہلی میں ہوتے تھے، تو کوئی ہفتہ مرزا صاحب کی ملاقات سے خالی نہ جاتا تھا۔ دیر ہو جاتی تو مرزا ایک نہ ایک شعر لکھ کر آشوب کے پاس بھیج دیتے، جس کا مضمون حسنِ طلب ہوتا۔ ان میں سے ایک یہ شعر ہے۔ غالبؔ نے دسمبر ۱۸۶۷ء کو ازالہ حیثیتِ عرفی کا مقدمہ دائر کیا تھا، اس مقدمے میں پیارے لال آشوبؔ (جو ابھی ۳۶ سال کے بھی نہ تھے) گواہوں میں سے ایک تھے۔ شاید یہ شعر انہی دنوں کا ہو۔

مندرجہ بالا اشعار کی کوئی ادبی حیثیت نہیں، یہ غالبؔ کی شوخیٔ طبع اور حاضر دماغی کے آئینہ‌دار ہیں۔ ان کی قدر و قیمت اس پر منحصر ہے کہ یہ غالبؔ کے کہے ہوئے ہیں اور یہ کسی نہ کسی واقعے کی نشاندہی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
 

یاسر شاہ

محفلین
آئندہ بھی جیسے جیسے مطالعہ کرتا رہوں گا یہاں نشاندہی کرتا رہوں گا۔
جزاک اللہ خیر۔محفل کی سالگرہ پر ایک خوبصورت تحفے کے لیے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہاں ایک بات کی وضاحت: شاعری کے کالمی لے‌آؤٹ تو جدید سی‌ایس‌ایس کے ذریعے حاصل ہو جاتے ہیں، لیکن جسٹفیکیشن کا معاملہ ابھی تک ٹیڑھا ہی ہے۔ جسٹیفائیڈ شاعری کی جو خوبصورتی (کشیدہ اشکال وغیرہ کے ذریعے) ایک خطاط یا کاتب کا ہاتھ تخلیق کرتا ہے، وہ فی الحال اوپن‌ٹائپ لے‌آؤٹ کے بس کی بات نہیں ہے۔
اڈوبی انڈیزائن کی حد تک یہ آٹو کشیدہ یا آٹو جسٹفیکیشن کا فیچر کام کرتا ہے۔ معلو م نہیں ویب براؤزرز میں یہ سہولت کیوں شامل نہیں کی گئی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
البتہ شاعری میں جسٹفیکیشن کا استعمال شاید ہاتھ سے اِن‌پُٹ کا متقاضی بھی ہو، کہ شاعری میں اکثر ردیف یا قافیوں یا کسی مکرر ترکیب کی ایک جیسی خطاطی یا کتابت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس غزل میں ’ت‘ کی اشکال، اور اِس میں ’کیا‘۔
یہ بات درست ہے البتہ آٹو جسٹفیکیشن کی سہولت (انڈیزائن والی) کم از کم ویب براؤزر کیلئے دی جا سکتی ہے۔
 

یاسر شاہ

محفلین
اگر آپ کو اِس کے متن، ڈیزائن، یا لے‌آؤٹ میں کہیں کوئی غلطی یا خرابی نظر آتی ہے، تو براہِ کرم ضرور مطلع کیجیے
غالب کی بھی مکمل اصلاح ہو گی
یہ غالب کی اغلاط نہیں ہیں، کسی کاتب کی اغلاط ہیں جن سے اشعار غالب پر غیر موزونیت کی تہمت لگ سکتی ہے بانی جی !
 
اڈوبی انڈیزائن کی حد تک یہ آٹو کشیدہ یا آٹو جسٹفیکیشن کا فیچر کام کرتا ہے۔ معلو م نہیں ویب براؤزرز میں یہ سہولت کیوں شامل نہیں کی گئی ہے۔
کیا زی ٹیخ اس ضمن میں مفید ثابت ہو سکتا ہے؟ ٹیخ سے ایچ ٹی ایم ایل کنورٹ کرنے کے بھی بہت سے ٹولز دستیاب ہیں۔
 
Top