کوئٹہ، لاشوں کے ساتھ دھرنا جاری! شہر کو فوج کے حوالہ کیا جائے!

حسینی

محفلین
ایک سوال:

گورنر راج ہونے سے کیا مراد ہے؟ اس سے کیا ممکنہ تبدیلی واقع ہو سکتی ہے؟

ظاہرا تو اس سے مراد یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو تحلیل کر کے گورنر کو سارے اختیارات دے دئے جائیں۔
اگر گورنر چاہے تو تبدیلی آسکے گی۔۔۔۔۔۔ لیکن مظاہرین کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے۔۔۔
اصل میں موجودہ وزیر اعلی انتہائی عجوبہ شخص ہے۔۔۔۔ اس جیسا لعین بندہ نہیں دیکھا۔۔
پچھلے ایک واقعے پر اس کا بیان ملاحظہ کیجیے:





Uploaded with ImageShack.us

اسی بیان کی ویڈیو بھی میرے پاس موجود ہے۔۔۔۔۔
 

فلک شیر

محفلین
مسالک جب سیاسیات سے پھوٹیں گے..........تو امن کی امید رکھنا ناحق ہے...........
کیا یہاں بحث سے شیعہ سنی کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟؟:-(
کسی بھی شخص کا ناحق قتل ظلم ہے...........دل اہل شام کے لیے بھی دکھی ہے اور ہزارہ کمیونٹی کے مقتولین کے لیے بھی......
یہ طویل بحث ہے، کہ کسی ملک میں کس کو حکومت کا حق ہے.........اور یہ بحث ہزار جہت رکھتی ہے........بے تعصّبی، گہرا مطالعہ اور بے لاگ تجزیہ اس کے pre requisites ہیں.........
ایمان، حسن نیت اور عافیت ...........پھر خاتمہ بالخیر اور حشر مع الصدیقین و الشہداء.........دعا در بارگاہ ارحم الراحمین
اللہم احفظ بلاد المسلمین و دمر اعداء الدین
 

فرسان

محفلین
شام سے متعلق بحث میں اصل حقائق عربي زبان هي ميں هوسكتے ہیں۔

اور كبھی كسي عرب اخبار (سوائے چند شيعه اخبارات) كےمجھے كسي اخبار كا معلوم نهيں هوسكا جو بشاركو اچھا كهتا هو۔

ميرے ايك اردن كے صحافي دوست جو كويت ٹی وی كے كورسپونڈنٹ هيں انهوں نے چند حقائق بتائے تھے جن سے وهاں كي عوام پر ترس آتا هے۔ اور شيخ تقي الدين الحراني كا قول ياد آتا هے۔ اور "التقريب والاتحاد" كي حقيقت طشت از بام هوجاتي هے۔

ساجد بھائي آپ كي دوهرے معيار والي بات دل كو لگی (هميشه كي طرح)۔

همارے ايك استاد جو ليبيا میں كافي عرصه ره كر آئے تھے (اور خود مصري تھے) وه بھی اس دوهرے معيار كے سخت ناقد تھے كه ايك طرف تو بحرين پر سفيد معيار اور دوسري طرف شام پر كالا معيار۔
 

سید ذیشان

محفلین
شام کی اور کوئٹہ کی سیچوئشن کو کمپئر نہیں کیا جا سکتا اور نا ہی کرنا چاہیے۔ ہزارہ امن پسند لوگ ہیں۔ انہوں نے کسی حکومت کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے اور نہ ہی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ جس طرح سے وہ بغیر دکانیں جلائے اور لوٹ مار کئے احتجاج کر رہے ہیں اسی سے ہمیں بہت کچھ سمجھ لینا چاہیے۔

جس کو شام پر بحث کرنی ہو تو وہ الگ دھاگہ بنائے۔
 

نایاب

لائبریرین
اگرچہ پچھلے آٹھ دس مراسلے موضوع سے قدرے ہٹے ہوئے ہیں لیکن یہ ہمیں ہماری سوچ اور ذات میں پائے جانے والے دہرے معیارات اور تضادات کے سامنے کھڑے کر رہے ہیں جن کا سامنا کرنے کی شاید ہم میں سے کسی کو بھی ہمت نہیں ۔ بس الفاظ کے تیر ہیں جو چھوڑے جا رہے ہیں جہاں عملی طور پر موازنہ کی کیفیت درپیش ہوتی ہے وہاں سے ہمارے فلسفے کے نئے شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
کیا کریں صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں " کافر فیکٹری " چلانے کا ہی تجربہ ہے ۔
سو ہر جگہ اس کی بنیاد کھڑی کرنے میں لطف آتا ہے ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
 

فرسان

محفلین
انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ اس کا کوئی نہ کوئی مثبت حل نکلنا چاہیے۔

اگر انسان کو انسانیت کا شرف ديا جائے اور هم اپنے محبت اور احترام كے دعووں ميں سچائي دكھائيں اور دونوں هتھیلیاں تالياں بند كرديں تو صورتحال بهتر هوسكتي هے۔
 

نایاب

لائبریرین
عراق کی " ویپن آف ماس ڈسٹرکشن " کی بنیاد پر تباہی سے لیکر الجزائر کے بھگوڑے صدر کو پناہ دیتے مصر میں حسنی مبارک کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھاتے بحرین میں عوام کی آواز کو دباتے " کیمیکل ویپنز " کے نام پر سیریا کو برباد کرنے کی مہم میں ہم " اٹکل پچو " دانشور " اپنی دانشوری جھاڑتے دہشت گردی کا شکار معصوم پاکستانی عوام پر گزرنے والے المیئے کی مذمت کرنے کی بجائے " دہشت گردوں " کا دفاع کرتے " جنت " کما رہے ہیں ۔
ہم " مسلمان " ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلامتی کے پیغامبر ۔
 

حسینی

محفلین
برائے مہربانی اس دھاگے میں کوئٹہ کے حالات پر ہی بحث کی جائے۔
کسی کو اور موضوعات پر بحث کا شوق ہے تو اور دھاگے کھول لیں۔۔۔۔۔
نایاب نے بالکل ٰ ٹھیک بات کی ہے۔۔۔۔ کیوں ہم سب مل کر دہشت گردوں کی قولی وعملی مذمت نہی کرتے؟؟
 

حسینی

محفلین

سید ذیشان

محفلین
عراق کی " ویپن آف ماس ڈسٹرکشن " کی بنیاد پر تباہی سے لیکر الجزائر کے بھگوڑے صدر کو پناہ دیتے مصر میں حسنی مبارک کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھاتے بحرین میں عوام کی آواز کو دباتے " کیمیکل ویپنز " کے نام پر سیریا کو برباد کرنے کی مہم میں ہم " اٹکل پچو " دانشور " اپنی دانشوری جھاڑتے دہشت گردی کا شکار معصوم پاکستانی عوام پر گزرنے والے المیئے کی مذمت کرنے کی بجائے " دہشت گردوں " کا دفاع کرتے " جنت " کما رہے ہیں ۔
ہم " مسلمان " ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ سلامتی کے پیغامبر ۔

یہی تو بات ہے جناب۔ دھاگہ کوئٹہ کے سانحے کے بارے میں ہے، اور لوگ شام کی بحث بیچ میں لے آئے ہیں اور شائد یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ کوئٹہ کے ہزارہ کا شام کیساتھ کوئی تعلق بنتا ہے۔ اور شام کی بحث بیچ میں لانے والے خواتین و حضرات نے ایک دفعہ بھی اس سانحہ پر افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ ایسی فرقہ پرستی اور دین پرستی کا کیا کرنا جو انسانیت کو ہی بھلا دے۔ (یہ بات میں اپنے سمیت سب کے لئے کر رہا ہوں)
 

حسینی

محفلین
پڑھنے والوں کی آسانی کی خاطر کالم یہاں نقل کیا جاتا ہے:​
احمد رضا​
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد​
ہمارے معاشرے کو خون کی بو کا چسکا آنے لگ گیا ہے
پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز کی لائیو کوریج ہو، صبح کے شوز ہوں یا شام کے مقبول ٹاک شوز، سب پر ان دنوں ایک ہی موضوع چھایا ہوا ہے اور وہ ہے ’طاہر القادری کا لانگ مارچ‘۔​
لیکن کوئٹہ میں جمعرات کے بم حملوں میں ہلاک ہونے والے درجنوں شیعہ افراد کی میتوں سمیت ان کے ورثاء اور شیعہ ہزاری برادری کے دھرنے کی خبر ٹی وی چینلز کے نیوز بلیٹنز میں ہی نظر آتی ہے اور انتہائی سرد موسم میں جاری یہ احتجاج طاہر القادری کے پرجوش خطابات اور اخباری کانفرنسوں جیسی لائیو کوریج حاصل نہیں کرسکا ہے۔​
اس کی وجہ مصلحت ہے، لاتعلقی یا کاروباری ترجیحات، اس پر رائے تقسیم ہے۔​
صحافی اور ٹی وی اینکر پرسن معید پیرزادہ کہتے ہیں کہ ‘اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ نے بہت زیادہ توجہ حاصل کر رکھی ہے اور اس پر میڈیا کی ایک بڑی غیرمتناسب توجہ ہے۔’​
معید پیرزادہ سمجھتے ہیں کہ کوئٹہ کے احتجاج پر میڈیا کے اس ردعمل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔​
’دہشتگردی کے واقعات بہت زیادہ تعداد میں ہورہے ہیں، پچاس، ساٹھ، ستّر لوگوں کا گھائل ہوجانا ایک معمول بن چکا ہے۔ دہشتگردی پر پاکستانی ٹاک شوز میں اتنی بار بحث ہوچکی ہے اور سینکڑوں پروگرام ہوچکے ہیں کہ دہشتگردی کے ہر نئے واقعے پر وہ توجہ دے نہیں پاتے۔‘​
لیکن ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کا ایجنڈہ تو بہت سوچ بچار کرکے طے کیا جاتا ہے۔ کوئٹہ کا احتجاج ٹاک شوز کا بھی بڑا موضوع نہیں بن سکا۔​
معید پیرزادہ کہتے ہیں ’ٹاک شوز، نیوز بلیٹن سے تھوڑے سے تو مختلف ہوتے ہیں۔ ٹاک شوز محض حقائق اور واقعات پر بحث نہیں کرتے۔ کرتے بھی ہیں لیکن وہ بہت حد تک اس سے آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری چونکہ سیاسی نظام پر حملے کررہے ہیں اور مجموعی حالات سے اس کا زیادہ تعلق ہے اس لیے ٹاک شوز میں وہ نمایاں ہے۔‘​
لیکن ڈان ٹی وی پر ٹاک شو کی میزبان عاصمہ شیرازی معید پیرزادہ کی اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتیں۔​
‘میرا خیال ہے کہ ہم بے حس ہوچکے ہیں۔ جو دہشتگردی کے باقی واقعات ہوتے ہیں وہ بھی ہم تھوڑی دیر بحث کرنے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن شیعہ مسلمانوں کا قتل تو تواتر سے جاری ہے۔ شاید ان لوگوں کے ہاتھوں میں مشعل ہوتی ہے، شمع ہوتی ہے، بندوق نہیں ہوتی اس لیے یہ مجبور نہیں کرسکتے پاکستانی میڈیا کو کسی بھی طریقے سے۔‘​
انہوں نے طنزیہ طور پر کہا ’کاش کے طاہر القادری جیسی اشتہاری مہم شیعہ برادری بھی کر سکتی یا احمدی بھی کرسکتے تو ان کو بھی اتنی کوریج مل جاتی۔ میں تو یہ کہوں گی کہ ہمارے معاشرے کو خون کی بو کا چسکا آنے لگ گیا ہے۔ ہمیں جتنی بھی خون کی بو آئے ہم اسے ویلکم کرتے ہیں اور اگلے خون کی بو کا انتظار کرتے ہیں۔‘​
عاصمہ شیرازی کے بقول ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا خود شدت پسندی اور دہشتگردی سے خوفزدہ ہے۔​
’میڈیا کے ادارے چونکہ آسان ہدف بھی ہیں، صحافی بھی آسان ہدف ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی نشانہ بنایا جائے جو کہ بہت حد تک ممکن ہے۔ لیکن میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ اگر ہم اب بھی نہیں بولیں گے تو کب بولیں گے۔ میں تو اپنے بچوں کے لیے بول رہی ہوں اور بولنا چاہیے۔‘​
انہوں نے کہا کہ ہماری خاموشی سے مزید کتنی زندگیاں خاموش ہوجائیں گی شاید اس کا کسی کو اندازہ نہیں ہے۔​
پاکستان کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پی ایف یو جے یا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت کہتے ہیں کہ مقابلے کی دوڑ نے بھی میڈیا میں لاتعلقی یا بے حسی کے ایک مخصوص رجحان کو فروغ دیا ہے۔​
‘مجھے افسوس ہے کہ اب تک 90 سے زیادہ ہمارے ساتھی مارے جاچکے ہیں لیکن آج بھی ہر چینل اپنے اپنے صحافی یا کارکن کے ہلاک ہونے پر احتجاج کرتا ہے یا اس کی خبریں چلاتا ہے اور وہ بھی کچھ دن بعد خاموش ہوجاتا ہے۔‘​
ایک حقیقت اور بھی ہے کہ پاکستانی میڈیا میں بلوچستان کو کم ہی جگہ مل پاتی ہے۔ بعض لوگوں کے بقول اس کی ایک وجہ وہ ایڈوائسز بھی ہیں جو پاکستان میں جمہوریت ہونے کے باوجود تحریری یا زبانی طور پر آج بھی نجی میڈیا کو جاری کی جاتی ہیں۔​
 

حسینی

محفلین
کوئٹہ میں شدید سردی کے باوجود دھرنا جاری ہے۔ علمدار روڈ لبیک یاحسین(ع) کے شگاف نعروں سے گونج رہا ہے۔ جبکہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی دھرنا دیا جارہا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بات کوئٹہ اور کوئٹہ کے ہزاروں کی ہو رہی تھی، لوگ بحث کو شام اور بشار السد کی طرف لے گئے۔ پتا نہیں ہمیں اپنے ملک سے زیادہ باہر کے لوگوں کی اتنی فکر کیوں رہتی ہے۔
 

فرسان

محفلین
بے گناہ اور نہتے لوگوں کا (چاہے وه جس بھی مذهب ، فرقه يا نسل كے هوں) قتل هر طرح سے شرمناك اور قابل مذمت هے۔

اور جو "دهشت گرد" بھی اس ظلم ميں شريك هوں انهيں اس كي سزا ضرور ملني چاهيے۔

جو بے گناہ جانيں ضائع هوئي هيں الله ان كي مغفرت فرمائے اور همارے حالات پر رحم فرمائے۔ آمين
 
اپ۔ن۔۔ی ہست۔ی عش۔قِ محمد(ص) اپن۔۔ی دول۔ت حُ۔بِ عل۔۔ی(ع)
اِن ن۔ع۔م۔ات کے م۔۔دِ مق۔اب۔ل ہ۔ر دول۔ت ک۔و ٹھک۔رائیںگے

جتن۔۔ی جہ۔۔ادی تنظ۔۔یمی۔ں ہی۔۔ں جت۔نے فس۔ادی لشک۔ر ہی۔ں
اُن کے م۔ظ۔الم سُن ک۔ر ت۔و شم۔ر و یزی۔د بھ۔ی شرم۔ائینگے

ک۔رب و بلا اور شام و ک۔وف۔۔ہ پی۔شِ نظ۔۔ر ہی۔ں ہم ل۔وگ۔وں کے
ظل۔م و تشدد ، قی۔د و سلاسل ح۔وصلے پست نہ کر پائیں گے

تھ۔۔وڑا مع۔۔اوضہ دیکے حک۔۔ومت زخمی۔۔۔وں اور شہی۔۔دوں ک۔۔ا
اپنے تئی۔ں یہ سمجھے ہ۔وئے ہے زخم ہم۔ارے بھر جائینگے

راہِ خ۔دا می۔ں م۔۔رنے وال۔۔وں سے ی۔ہ خ۔دا کا وع۔۔دہ ہ۔ے
م۔۔وت نہ۔یں آئیگ۔۔ی اُن ک۔۔و ، رزق خ۔۔دا س۔ے پائی۔۔۔ں گ۔ے

مراسلے کے ٹائیپو درست کر دیے ہیں

اپنی ہستی عشقِ محمد(ص) اپنی دولت حُبِ علی(ع)
اِن نعمات کے مدِ مقابل ہر دولت کو ٹھکرائیں گے

جتنی جہادی تنظیمیں ہیں جتنے فسادی لشکر ہیں
اُن کے مظالم سُن کر تو شمر و یزید بھی شرمائینگے

کرب و بلا اور شام و کوفہ پیشِ نظر ہیں ہم لوگوں کے
ظلم و تشدد ، قید و سلاسل حوصلے پست نہ کر پائیں گے

تھوڑا معاوضہ دیکے حکومت زخمیوں اور شہیدوں کا
اپنے تئیں یہ سمجھے ہوئے ہے زخم ہمارے بھر جائینگے

راہِ خدا میں مرنے والوں سے یہ خدا کا وعدہ ہے
موت نہیں آئیگی اُن کو ، رزق خدا سے پائیں گے
 

طالوت

محفلین
شام کے حالات سے متعلق یہاں گفتگو کچھ مناسب نہیں ورنہ چار برس کا شامیوں سے تعلق ہے میرا ، بہرحال میٹھا ہپ اور کڑوا تھو کی یہ پالیسی امن و امان نہیں لا سکتی ،
ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی اور دیر تک جھانکتے رہنے کی اشد ضرورت ہے۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
گورنر راج ہی بہتر آپشن رہے گا ۔۔۔ وزیراعلیٰ بھی تو "نااہل" ہے!
 

سید ذیشان

محفلین
شام کے حالات سے متعلق یہاں گفتگو کچھ مناسب نہیں ورنہ چار برس کا شامیوں سے تعلق ہے میرا ، بہرحال میٹھا ہپ اور کڑوا تھو کی یہ پالیسی امن و امان نہیں لا سکتی ،
ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی اور دیر تک جھانکتے رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

اگر ہزارہ شامی ہوتے یا وہاں جا کر انہوں نے قتل و غارت گری کی ہوتی تو آپ کی بات بجا تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ تو شام کو بیچ میں لانے کی کیا تک بنتی ہے؟
 

رانا

محفلین
حکومت کا رویہ اس معاملے میں سمجھ سے بالا اور انتہائی حد تک شرمناک ہے۔ بے چارے لواحقین پچاس گھنٹوں سے زائد ہوگئے ہیں اس سخت موسم میں لاشوں کے ساتھ کھلی جگہ پر اور کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک رات گزرنے کے بعد ہی حکومت کو سنجیدگی سے لینا چاہئے تھا لیکن انتہائی قابل افسوس رویہ ہے کہ اتنے گھنٹوں بعد وزیر اعظم وہاں پہنچے ہیں اور ابھی تک کوئی پروگریس نہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ پہلا دکھ ہی ان کے لئے کم نہیں کہ اپنے پیاروں سے یوں بچھڑ جانا لیکن اس پر مزید ستم اس سرد رویے سے ڈھایا جارہا ہے۔
 
Top