کلام میں موسیقیت کیسے اور کیونکر لائی جاتی ہے؟

افتخاررحمانی فاخر نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 17, 2019

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,720
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تابش میاں سے متفق ہوں
    اس کے علاوہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ عام طور پر حروف کا اسقاط بھی نہ کیا جائے، اجازت ہونے پر بھی۔ جو الفاظ ساقط حروف کے ساتھ ہی فصیح تر ہیں، ان کو اسی طرح استعمال کیا جائے جو، تو، کہ، نہ، کا، کی، کے، کے دوسرے حروف کے اسقاط سے ہی روانی بہتر ہوتی ہے اور بحر مترنم ہو تو اشعار کی روانی ہی ترنم کہلاتی ہے
    قابل اجمیری کی اسی غزل کی تقطیع کریں اور دیکھیں کہ کہاں کہاں حروف گرائے گئے ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    361
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    تابش بھائی! خوب ہے۔
     
  3. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    361
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    عمران بھائی! بالکل۔ مجھے ایسا لگتا ہے۔ اور شاید میں غلط بھی ہوں۔ کہ متقدمین کے اشعار سے لطف اٹھانے والوں کو متاخرین میں لطف کم ہی آتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  4. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    361
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    کل ہم دو دیوانے مستانے بیٹھے تھے کہ یہ شعر زبان پر آگیا:۔

    جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
    کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
    ۔
    اور کئی ایک اشعار۔۔۔
    ہم اتنے اچھل رہے تھے گویا کہ قارون کی دولت ہاتھ آگئی۔ ویسے بھی اقلیم سخن سے آشنائی، گنج قارون سے کم تھوڑی ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 18, 2019
  5. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,163
    جھنڈا:
    Pakistan
    غلط صحیح کی کیا بات۔۔۔
    اپنا اپنا ذوق ہے۔۔۔
    جو خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔۔۔
    اس میں ہمارا کیا قصور؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    محترم الف عین اور محمد تابش صدیقی کی بات سے اتفاق کروں گا کہ کلام میں موسیقیت اور ترنم میں سب سے زیادہ عمل دخل بحر کا ہے اس کے علاوہ قوافی اور تلفیظ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں
     
  7. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اپنا اپنا نقطہ نظر ہے مگر میرے خیال میں علاقائی اور لوک شاعری میں جو موسیقیت ہے وہ اپنی مثال آپ ہے نمونہ کلام ملاحظہ ہو

    خواجہ فرید ؒ کے ہاں ایک ملتانی راگنی کی کیفیت کا یوں ہلکا سا عکس ملتا ہے:

    سب صورت وچ وسدا ڈھولا ماہی
    رنگ برنگے اس دے ڈیرے
    آپے رانجھن آپے ہیر تے آپے کھیڑے
    لک چھپ بھید نہ ڈسدا ڈھولا ماہی
    آپےے ہجر تے آپے میلہ
    آپے قیس تے آپے لیلٰے
     
    آخری تدوین: ‏اگست 8, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مزید راگ کے مطابق بھی بول لکھ جاتے ہیں

    مادھو لعل حسین کی ایک کافی میں راگ آساوری کے بنیادی جذبے یا کیفیت کو دیکھیے:

    اک دن تینو سپنا تھیسن بابل دالیاں گلیاں دو
    اُڈ گئے بھور پھلاں تے آکے سن پتراں سن ڈالیاں دو
    جت تن لاگے سوئی تن جانے ہور گلاں کرن سکھا لیاں دو
     
  9. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    موسیقیت کو عموما آلاتِ موسیقی کے تحت سمجھا جاتاہے، جب کہ ترنم بغیر آلات کے پیدا ہوتا ہے۔
    1۔ میرے خیال میں تقریبا ہر بحر میں اپنا ایک ترنم ہوتاہے، جو ہر شخص کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے، جو وہبی بھی ہوسکتا ہے اور کسبی بھی۔ ترنم اگرچہ اکتساب اور کسب سے اپنی انتہا کو پہنچ سکتا ہے لیکن بعض لوگوں کو یہ کچھ زیادہ ہی ودیعت کیا گیا ہوتا ہے۔ البتہ ترنم کے لیے موسیقی کے ساز و سُر کیسے وضع کیے جاتے ہیں یہ فی الحال سمجھ سے باہر ہے۔
    مثلا علامہ اقبال کی معروف غزل ”کبھی اے حقیقتِ منتظر“ کو کئی گلوکاروں نے اپنے اپنے ترنم میں پڑھا ہے، میں نے غالبا 9 مختلف طرز میں سنی ہے۔
    2۔ ایسا ہونا ضروری نہیں، بلکہ غیر متوازن الفاظ کو ”لے“ کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتاہے۔
    3۔ علامہ صاحب کی درجہ بالا نظم اس کی نفی کرتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر