کشور ناہؔید:::::سنبھل ہی لیں گے، مُسلسل تباہ ہوں تو سہی:::::Kishwar -Naheed

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 23, 2020

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,643
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    کشور ناہؔید

    سنبھل ہی لیں گے، مُسلسل تباہ ہوں تو سہی
    عذابِ زِیست میں رشکِ گناہ ہوں تو سہی

    کہِیں تو ساحِلِ نایافت کا نِشاں ہوگا
    جلاکے خود کو تقاضائے آہ ہوں تو سہی

    مجال کیا ، کہ نہ منزِل بنے نشانِ وفا
    سفِیرِ خود نگراں، گردِ راہ ہوں تو سہی

    صدا بدشت بنے گی نہ یہ لہُو کی تپِش
    لہُو کے چھینٹے مگر گاہ گاہ ہوں تو سہی

    ہے رات کھولے ہوئے بال، دلفگار کہ اب
    طلُوعِ صبح کے آثارِ راہ ہوں تو سہی

    خود اپنے عکس سے نالاں پِھریں گے یہ خود بِیں
    فریب و مکر، مجسّم پناہ ہوں تو سہی

    یہ خود فریبئ احساسِ دِلبَری ہے سُراب
    مقامِ حشر ہو، باہم گواہ ہوں تو سہی

    کشور ناہؔید
    Born: 1940- Bulandshahr, India
     
    آخری تدوین: ‏مئی 23, 2020

اس صفحے کی تشہیر