کسی گہرے نشے سے زندگانی لُوٹ جاتی ہیں: غزل برائے اصلاح

عمران سرگانی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 29, 2019

  1. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت شکریہ سر۔۔۔ نوازش
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یہ شعر یوں کر دیا ہے
    نہیں رہتا کوئی رشتہ یہاں مضبوط ، پل بھر میں
    یہاں سالوں پرانی دوستیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں
    یا پہلا مصرعہ ویسے رہنے دیا جائے؟
    نہیں رہتا کوئی رشتہ یہاں مضبوط میری جاں
    یہاں سالوں پرانی دوستیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں
     
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    مطلع کے قوافی اگر درست مان بھی لئے جائیں تو مطلب کیا نکلتا ہے؟ مجھ پر تو واضح نہیں ہوا!
    دوسرے شعر کے دوسرے مصرع میں اگر 'تو' استعمال کریں گے تو 'ٹوٹ ہی جاتی' کے الفاظ درکار ہوں گے۔ بہتر ہو گا کہ پہلے مصرع میں 'پڑتا' کا ہی متبادل سوچیں
    تیسرے شعر میں 'جلدی' کی ی کا اسقاط بھی میرے دیکھنے سے رہ گیا تھا، یہ بھی اچھا نہیں لگ رہا۔
    چوتھے شعر میں 'تو' پر پیش لگائیں کہ کنفیوژن پیدا ہوتی ہے

    نہیں رہتا کوئی رشتہ یہاں مضبوط ، پل بھر میں
    یہاں سالوں پرانی دوستیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں
    ۔۔۔۔ 'دوستیاں' اب بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کس طرح وزن میں لا رہے ہیں؟

    مقطع کے دونوں مصرعوں میں بھی تقریباً ایک سی بات لگتی ہے۔ پہلے میں کسی خاص جگہ کا ذکر ہو اور دوسرے میں اس طرف کو جاتی گاڑیاں چھوٹنے کی بات ہو تو بات بنے گی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    دوستیاں میں س ساکت ہے جس طرح دوست میں س ساکت ہے۔۔۔ ن غنہ کی طرح اس کی واضح آواز ادا نہیں ہوتی اس لئے تقطیع میں شمار نہیں کیا۔۔۔ باقی اشعار کو بھی دیکھتے ہیں ان شاءاللہ بہتر صورت نکل آئے گی۔۔۔ سر اعجاز عبید صاحب کی بھی رائے لے لیتے ہیں۔۔۔
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مطلع تو میری سمجھ سے بھی باہر ہے، نہ جانے کیوں اسے فائنل سمجھ کر مراسلے کا عنوان بنا دیا گیا۔ حیاتی کے بے معنی لفظ کی جگہ زندگانی کرنے پر بھی سمجھ نہیں سکا۔
    محض دوست میں س کو تقطیع میں شامل نہیں کیا جاتا، لیکن دوستی میں نہیں۔ اصول یہ ہے کہ آخر کے دو متسل ساکن حروف میں ایک ہی گنا جاتا ہے، دوستی یا دوستیاں میں دو درمیانی ساکن حروف نہیں، ت پر زیر ہے۔
    لوٹ اور روٹھ صوتی قافیہ کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔
    پوری غزل تو اس صفحے پر نہیں۔ ہاں، جوتیاں تک ٹوٹ جاتی ہیں، ایک متبادل ہو سکتا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت شکریہ سر۔۔۔
    دوستیاں کے متبادل یاریاں کر سکتے ہیں مگر لفظ بازاری لگ رہا ہے آپکی کیا رائے ہے؟؟؟
    کیا
    کسی گہرے نشے سے تن بدن تک لوٹ جاتی ہیں
    یا
    کوئی گہرا نشہ دے کر یہ سب کچھ لوٹ جاتی ہیں
    یہ وقتی چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں
    یہ مصرعہ درست ہے؟؟؟
    یا کوئی دوسرا متبادل لیا جائے۔۔۔
     
  7. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سر الف عین عظیم شاہد شاہنواز محمد خلیل الرحمٰن صاحبان اب کچھ بہتری ہے؟؟؟

    مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
    کوئی گہرا نشہ دے کر سبھی کچھ لوٹ جاتی ہیں
    یا
    کسی گہرے نشے سے جب سبھی کچھ لُوٹ جاتی ہیں
    تو وقتی چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں

    برہنہ پاؤں چلنا پڑ گیا پُر خار صحرا میں
    محبت کے سفر میں جوتیاں تک ٹوٹ جاتی ہیں

    ترے بدلے ہوئے تیور مجھے جوں یاد آتے ہیں
    نہ جانے کیوں مرے ہاتھوں سے چیزیں چھوٹ جاتی ہیں

    مجھے مایوس ہونے پر کہیں ، تُو لوٹ آئے گا
    تری یادیں ہمیشہ بول کر یہ جھوٹ جاتی ہیں

    کہیں اس کے چلے آنے سے گل کھلتے ہیں صحرا میں
    کہیں سوکھے ہوئے پیڑوں سے شاخیں پھوٹ جاتی ہیں

    نظر آتا ہے پانی ہر طرف پیاسے کو صحرا میں
    سرابوں کے سفر میں ہڈیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں

    نہیں ممکن ، مقدر ساتھ دے ہر بار الفت میں
    یہاں لوگوں کی اچھی قسمتیں بھی پھوٹ جاتی ہیں

    ترے گھر کا کبھی رستہ بھلا دیتا ہوں بھولے سے
    کبھی تو تجھکو پانے کی امیدیں چھوٹ جاتی ہیں

    نہیں رہتا کوئی رشتہ یہاں مضبوط ، پل بھر میں
    جہاں سالوں پرانی یاریاں جب ٹوٹ جاتی ہیں

    کبھی میری جگہ پر بیٹھ جاتا ہے کوئی عمران
    کبھی منزل کو جاتی گاڑیاں سب چھوٹ جاتی ہیں
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 31, 2019
  8. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    کوئی گہرا نشہ دے کر سبھی کچھ لوٹ جاتی ہیں
    یا
    کسی گہرے نشے سے جب سبھی کچھ لُوٹ جاتی ہیں
    تو وقتی چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں
    ۔۔۔۔ پہلا مصرع 'دے کر' کے ساتھ بہتر ہے۔ اگر کہیں جو لایا جائے تو مزید بہتر ہو سکتا ہے
    مثلاً کوئی گہرا نشہ دے کر جو سب کچھ لوٹ جاتی ہیں
    لیکن دوسرا واضح نہیں ہے۔ بیزار کس سے؟ اور روٹھتی بھی کس سے ہیں؟

    برہنہ پاؤں چلنا پڑ گیا پُر خار صحرا میں
    محبت کے سفر میں جوتیاں تک ٹوٹ جاتی ہیں

    ترے بدلے ہوئے تیور مجھے جوں یاد آتے ہیں
    نہ جانے کیوں مرے ہاتھوں سے چیزیں چھوٹ جاتی ہیں
    ۔۔۔۔ جوں کی جگہ جو بہتر لگتا ہے۔ یا 'جب'

    مجھے مایوس ہونے پر کہیں ، تُو لوٹ آئے گا
    تری یادیں ہمیشہ بول کر یہ جھوٹ جاتی ہیں

    کہیں اس کے چلے آنے سے گل کھلتے ہیں صحرا میں
    کہیں سوکھے ہوئے پیڑوں سے شاخیں پھوٹ جاتی ہیں

    نظر آتا ہے پانی ہر طرف پیاسے کو صحرا میں
    سرابوں کے سفر میں ہڈیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں
    ۔۔۔۔ 'بھی' بھرتی کا لگتا ہے۔ اسکے علاوہ پہلے سے ربط نہیں سمجھ آ رہا

    نہیں ممکن ، مقدر ساتھ دے ہر بار الفت میں
    یہاں لوگوں کی اچھی قسمتیں بھی پھوٹ جاتی ہیں
    ۔۔۔۔ 'بھی' کی جگہ 'تک' لایا تو جا سکتا ہے مگر ایک اشعار میں بہتر ہو گا۔ پہلے بھی قافیہ سے پہلے ایک بار استعمال ہوا ہے۔ کچھ اورلا سکیں تو بہت بہتر ہے

    ترے گھر کا کبھی رستہ بھلا دیتا ہوں بھولے سے
    کبھی تو تجھکو پانے کی امیدیں چھوٹ جاتی ہیں
    ۔۔۔ بھولے سے؟ دوسرے کا پہلے سے ربط کیا ہے؟ اور معنی کیا نکلتے ہیں یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا

    نہیں رہتا کوئی رشتہ یہاں مضبوط ، پل بھر میں
    جہاں سالوں پرانی یاریاں جب ٹوٹ جاتی ہیں
    ۔۔۔۔ 'یہاں' اور 'پل بھر' کے الفاظ ہٹا کر اگر 'دنیا، جہان' وغیرہ لے آیا جائے تو بہتر رہے گا
    دوسرے میں 'یہاں' لے آئیں 'جہاں' کی جگہ۔ اور 'سالوں' کی جگہ صدیوں استعمال کیا جا سکتا ہے

    کبھی میری جگہ پر بیٹھ جاتا ہے کوئی عمران
    کبھی منزل کو جاتی گاڑیاں سب چھوٹ جاتی ہیں
    ۔۔۔ آپ کی جھہ پر آپ کی 'سیٹ' مراد ہے تو یہ بات واضح نہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سر جلدی میں کچھ اشعار ہی درست کر پایا ہوں فوتگی ہو گئی گاؤں جا رہا ہوں۔۔۔ باقی اشعار شام کو ان شاءاللہ بہتر کروں گا۔۔۔

    کوئی گہرا نشہ دے کر جو سب کچھ لوٹ جاتی ہیں
    تو ہم سے چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں

    ترے بدلے ہوئے تیور مجھے جب یاد آتے ہیں
    نہ جانے کیوں مرے ہاتھوں سے چیزیں چھوٹ جاتی ہیں

    نہیں ممکن ، مقدر ساتھ دے ہر بار الفت میں
    یہاں لوگوں کی اچھی قسمتیں تک پھوٹ جاتی ہیں

    ترے گھر کا کبھی رستہ بدل دیتا ہوں بھولے سے
    کبھی تجھ تک پہچنے کی امیدیں چھوٹ جاتی ہیں
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مطلع تو اب بھی میری ناقص عقل میں نہیں آ سکا
    ترے گھر کا کبھی رستہ بدل دیتا ہوں بھولے سے
    کبھی تجھ تک پہچنے کی امیدیں چھوٹ جاتی ہیں
    ... کبھی یہ اور کبھی وہ جیسے بیانیہ میں دونوں باتیں متضاد یا کم از کم مختلف ہونی چاہیے ۔ رستہ بھول جانا اور منزل تک نہ پہنچنا تقریباً ایک ہی بات ہے
    رستہ بدل دینا یا رستہ بھلا دینے کے مجہول بیان سے یہ مصرع سادہ اور صاف ہے
    کبھی میں راستہ ہی بھول جاتا ہوں ترے گھر کا
    لیکن دوسرا مصرع بدلنے کی ضرورت ہے
    باقی اشعار درست ہو گئے ہیں عظیم کے مشوروں کے بعد
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    مطلع میں سر آپ ہی کچھ مدد کریں میں تو جیسے دائرے میں گھوم رہا ہوں جہاں سے چلتا ہوں وہیں آ جاتا ہوں۔۔۔
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مطلع میں لوٹ جانا کا قافیہ چھوڑ دو۔ لوٹ لینا درست
    محاورہ ہے، لوٹ جاتا یوں بھی غلط ہے
    مفہومِ سمجھ سکوں تو کچھ مشورہ دوں، ورنہ تب تک بغیر مطلع کے ہی رہنے دو
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہتر سر۔۔۔
     
  14. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کیا اب سر کچھ بہتری ہے؟؟؟

    مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

    ہمیشہ کی طرح جب سب امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
    تو ہم سے چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں

    مجھے مایوس ہونے پر کہیں ، تُو لوٹ آئے گا
    تری یادیں ہمیشہ بول کر یہ جھوٹ جاتی ہیں

    برہنہ پاؤں چلنا پڑ گیا پُر خار صحرا میں
    محبت کے سفر میں جوتیاں تک ٹوٹ جاتی ہیں

    ترے بدلے ہوئے تیور مجھے جب یاد آتے ہیں
    نہ جانے کیوں مرے ہاتھوں سے چیزیں چھوٹ جاتی ہیں

    کہیں اس کے چلے آنے سے گل کھلتے ہیں صحرا میں
    کہیں سوکھے ہوئے پیڑوں سے شاخیں پھوٹ جاتی ہیں

    نہیں ممکن ، مقدر ساتھ دے ہر بار الفت میں
    یہاں لوگوں کی اچھی قسمتیں تک پھوٹ جاتی ہیں

    سنو رہتا نہیں رشتہ کوئی مضبوط دنیا میں
    یہاں برسوں پرانی یاریاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں

    ہمیشہ دیر سے باہر نکلتا ہوں جو میں عمران
    مری منزل کو جاتی گاڑیاں سب چھوٹ جاتی ہیں
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 2, 2019
  15. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    مطلع کے دوسرے مصرعہ میں چاہتیں بیزار کیوں ہو رہی ہیں اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔
    مقطع کے بھی الفاظ بدلنے کی ضرورت ہے۔ 'باہر نکلنا' کی بجائے 'گھر سے نکلنا' بہتر ہو گا
    اور دوسرے میں
    'مری' کو ہٹا کر کسی طرح 'تو' لایا جائے تو بہتر ہو سکتا ہے
    باقی مجھے درست لگتے ہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مزید یہ کہ
    سنو رہتا نہیں رشتہ کوئی....
    سنو لفظ بھرتی کا ہے، اس کی جگہ 'کبھی' استعمال کیا جا سکتا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    اگر سر مطلع اس طرح کر دیا جائے تو کیا بہتر ہو گا؟؟؟

    محبت کو نبھانے کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
    تو ہم سے چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں

    یا

    جو رشتوں کو نبھانے کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
    تو ہم سے چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں

    (چاہتوں کے بیزار ہونے یا روٹھنے کی وجہ محبت یا رشتوں کو نہ نبھانا ہے)
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 5, 2019
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    محبت کو نبھانے کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
    تو ہم سے چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں
    ہی بہتر ہے لیکن چاہتیں کیوں بیزار ہو سکتی ہیں، یہ تم کو ہر جگہ واضح کرنا پڑے گا!
    مختصر یہ کہ بیانیہ پسند نہیں آیا لیکن جب تک دوسرا مطلع نہ کہ سکو، اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ مطلع کی تکنیکی مجبوری کی وجہ سے اکثر اعتراضات کو بخش دیا جاتا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    مقطع
    ہمیشہ دیر سے گھر سے نکلتا ہوں جو میں عمران
    تبھی منزل کو جاتی گاڑیاں سب چھوٹ جاتی ہیں
    یا
    تو ہی منزل کو جاتی گاڑیاں سب چھوٹ جاتی ہیں
     
  20. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سر الف عین اب کچھ بہتر ہے؟؟؟

    محبت کو نبھانے کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
    کیوں ہم سے چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں

    مجھے مایوس ہونے پر کہیں ، تُو لوٹ آئے گا
    تری یادیں ہمیشہ بول کر یہ جھوٹ جاتی ہیں

    برہنہ پاؤں چلنا پڑ گیا پُر خار صحرا میں
    محبت کے سفر میں جوتیاں تک ٹوٹ جاتی ہیں

    ترے بدلے ہوئے تیور مجھے جب یاد آتے ہیں
    نہ جانے کیوں مرے ہاتھوں سے چیزیں چھوٹ جاتی ہیں

    کہیں اس کے چلے آنے سے گل کھلتے ہیں صحرا میں
    کہیں سوکھے ہوئے پیڑوں سے شاخیں پھوٹ جاتی ہیں

    نہیں ممکن ، مقدر ساتھ دے ہر بار الفت میں
    یہاں لوگوں کی اچھی قسمتیں تک پھوٹ جاتی ہیں

    کبھی رہتا نہیں رشتہ کوئی مضبوط دنیا میں
    یہاں برسوں پرانی یاریاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں

    ہمیشہ دیر سے گھر سے نکلتا ہوں جو میں عمران
    مری منزل کو جاتی گاڑیاں سب چھوٹ جاتی ہیں
     

اس صفحے کی تشہیر