جون ایلیا کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے - جون ایلیا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 12, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,049
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے
    ترے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے

    ہوا ہے جانتے جانانہ عمر بھر کو جدا
    یہ جاکنی ہے کہ رشتوں کی بے سباتی ہے

    ہم ایک ساحلِ دریائے خواب پر ہیں کھڑے
    پہ جو بھی موج ہے ہم پر سراب لاتی ہے

    ہے یہ صحنِ شامِ ملال اور آسماں خاموش
    نہ جانے کس کی تمنا کسے گنواتی ہے

    ہے یاد اس کے لبوں کی بہت عطش انگیز
    بہشت ہے پہ جہنم سے ہو کے آتی ہے

    ترے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو
    تری سفید چنبلی تجھے بلاتی ہے

    کسی سے کم نہیں چالاک ہم مگر کیا ہو
    ہے وہ ہماری سِیادت جو مات کھاتی ہے

    اسے بھی اب کوئی دلدار مل گیا ہو گا
    ہمیں بھی اب کوئی حسرت نہیں جگاتی ہے

    ترے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہے
    مرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
    جون ایلیا
     
    آخری تدوین: ‏مئی 12, 2018

اس صفحے کی تشہیر