کراچی میں آٹھ سو سالہ عالم دین جن

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

شمشاد

لائبریرین
شواہد کے لیے آپ کو ایسے عاملین پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔۔۔ جنات پر یقین عین اسلام ہے اور اسلام کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو ایک عام انسان ہونے کے ناطے بھی آپ کو یقین کرنا ہی پڑے گا۔۔۔ وادی جن میں جا کر دیکھ لیں۔۔۔ ۔ اگر جا نہیں سکتے تو ویڈیوز تلاش کریں کہ جو لوگ گئے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ جنات چونکہ وجود رکھتے ہیں، لہٰذا ان کے شواہد دستیاب ہونا بھی کوئی زیادہ مشکل بات نہیں۔۔۔ اس آٹھ سو سالہ عالم دین جن کی کہانی پر یقین کرنا یقینا ایمان کا حصہ نہیں لیکن بغیر تصدیق کیے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ سو بہتر یہی تھا کہ Neutralرہا جاتا۔۔۔ ۔

یہ کس وادی جن کی بات کر رہے ہیں؟
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
برسبیل تذکرہ لکھ دیا۔۔۔ ہمیں جانے کا اتفاق ہوا تو تفصیل سے نوازیں گے ۔۔۔ فی الحال اس کے تذکرے کو حذف سمجھئے ۔۔۔ ہاں، Neutral رہنے والی بات پر قائم ہوں۔۔۔
 

یوسف-2

محفلین
یو ٹیوب میں وادی جن لکھ کر تلاش کریں تو کافی ویڈیوز بھی ملتی ہیں۔۔۔ شاید سعودی عرب میں واقع ہے۔۔۔ (بلا سند)

یو ٹیوب کو چھوڑیں، اسی محفل میں تلاش کریں۔۔۔ آپ ”حقیقی صورتحال“ سے آگاہ ہوجائیں گے۔ :p اسی سال کے آغاز میں ہم نے بھی پہلی مرتبہ مدینہ منورہ مین واقع اس ”مبینہ“ وادی جن کا وزٹ کیا تھا۔ تفصیل کے لئے متعلقہ دھاگہ بلکہ دھاگے تلاش کیجئے۔ :)
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
یو ٹیوب کو چھوڑیں، اسی محفل میں تلاش کریں۔۔۔ آپ ”حقیقی صورتحال“ سے آگاہ ہوجائیں گے۔ :p اسی سال کے آغاز میں ہم نے بھی پہلی مرتبہ مدینہ منورہ مین واقع اس ”مبینہ“ وادی جن کا وزٹ کیا تھا۔ تفصیل کے لئے متعلقہ دھاگہ بلکہ دھاگے تلاش کیجئے۔ :)
ایک دو لنک آپ مرحمت فرما دیجئے، ہم بھٹک کر کہیں اور نہ چلے جائیں ۔۔۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
درست ہے ۔۔۔۔ آپ لوگ سیدھا سیدھا کہہ دیتے کہ وہ میگنیٹک راکس یا مقناطیسی چٹانیں ہیں تب بھی میں مان جاتا کیونکہ جو ویڈیوز میں نے دیکھ رکھی ہیں، وہ اسی کی چغلی کھاتی ہیں۔۔۔
 

arifkarim

معطل
آپ نے اپنے نام کے اوپر جو تصویر لگائی ہے وہی آپ کی ذہنیت کا عکاس ہے۔
تو اگر اسکو بدل کر مسجد کی تصویر لگا دوں تو ذہنیت کی عکاسی اسلامی ہو جائے گی؟ :angel:

جس طرح وائرلیس، موبائل کے سگنل کسی پیمائش، عدسے اور آلے کے بغیر نظر نہیں آسکتے اسی طرح یہ "جن" بھی عام آنکھ سے نظر نہیں آتے اس کے لیے مخصوص "طریقے کار" اور "اعمال" ہوتے ہیں تب ہی یہ مخلوق نظر آتی ہے۔ اوپر کا سائنسی مثال نظر میں رکھ کر جواب میں لکھنا۔ یہ ایک بہت ہی عام اور سادہ جواب ہے۔
اگر کسی مخلوق کا حقیقت میں کوئی وجود ہو اور انسان اسکی موجودگی کا پتا اپنے حواس سے یا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے لگا سکتا ہو تو پھر ابھی تک جنات، ارواح، اور دیگر غیر مرئی مخلوق کا ناقابل تردید پتا کیوں نہیں لگا سکا؟ خالی کتابوں سے کچھ بھی نہیں ملنے والا جب تک خودمختارانہ اور آزادانہ تجربات انکی موجودگی کا پتا نہ دیں۔ ایک ذہنی اعتبار سے بیمار انسان کو کیا کیا چیزیں نظر آتی ہیں جو اکثریت صحت مند ذہن والے نہیں دیکھتے۔ تو کیا اسکا یہ مطلب لیا جائے کہ ان چیزوں کا وجود ہے؟


باقی اگر آپ "امت" کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے (جو کہ ایک آپ جیسے لبرل اور قادیانی نوازوں کا وطیرہ ہے) تو پھر قدرت اللہ شہاب صاحب جیسے معتبر ادیب، محقق، اور کھری شخصیت کا "شہاب نامہ" پڑھ لیں۔ اس میں اس "غیر مرئی" مخلوق پر ان پر بیتے تجربات کی روشنی میں سیرِِ حاصل بحث کی گئی ہے۔
پھر وہی قادیانی لبرل پراپیگنڈہ۔ شاید آپ ابھی تک کسی کٹر قادیانی سے نہیں ملے۔ ان میں سے بعض تو اتنے سخت ہوتے ہیں کہ اگر انکی اولاد قادیانیت سے باہر شادی کر لے تو انکو جائداد، حسب و نسب سے ہی بے دخل کر دیتے ہیں! خیر۔ یہ شہاب نامہ ایک اچھی کتاب لگ رہی ہے۔ اسکو پڑھنے کے بعد ہی کچھ بہتر کہا جا سکتا ہے۔ جہاں تک سائنس کا سوال ہے تو وہ ان جنات، بھوت، پریت جیسی مخلوقات کو نہیں مانتی:
http://en.wikipedia.org/wiki/Parapsychology#Criticism_and_controversy

باقی انکی دنیا بڑی ہی پر اسرار ہے مگر پھر بھی آجکل کے سائنسی دور میں ان کے حقیقت کو سمجھنا بہت آسان ہے۔:)
سائنس ایسی غیر مرئی مخلوقات کو نہیں مانتی۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو براہ راست ٹی وی پر کسی اصلی جن کے ملاپ کا مظاہرہ کر کے دکھائے تمام لوگوں کے سامنے۔

جواب:
یہ آپ کا اورساری دنیا کا ایمان ہوسکتا ہے۔ لیکن قرآن پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں کا نہیں۔ قرآن اور حدیث جنات جیسی غیر مرئی مخلوق کی تصدیق کرتا ہے۔ لہٰذا ہم مسلمان ۔۔۔ قرآن میں ذکر کردہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں، جن میں فرشتے اور جن بھی شامل ہیں۔ (دو حوالے پیش ہیں)
  1. قصے کہانیوں میں بھی فرشتوں اور جنوں کے خودساختہ دلچسپ اور سبق کہانیاں ضرور بیان کی جاتی ہیں۔ لیکن ان کہانیوں کے خودساختہ ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ فرشتے اور جن کا وجود ہی نہیں ہوتا۔
  2. ویسے آج ہمارے ”علم“ میں مزید اضافہ ہوا کہ آپ کے قادیانی مذہب میں ”غیب“ پر ایمان لانا ضروری نہیں کہ وہ جنوں اور فرشتوں جیسے ”غیر مرئی مخلوق“ کو محض قصے کہانیاں تصور کرتے ہیں۔ :)
یہ بار بار قادیانی کی بحث کیوں لائی جارہی ہے؟ غیب پر ایمان لانا ہر مسلم پر فرض ہے لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ اس غیب کی کیفیت کیا ہے؟ احادیث مبارکہ میں جتنے بھی فرشتوں کا ذکر ہوا ہے وہ سب کے سب انسانی شکل میں آپؐ کے حضور حاضر ہوتے رہے۔ جنکو بعض روایات میں صحابہ کرامؓ نے بھی دیکھا۔ ان انسانی فرشتہ نما اجسام کی جو حالت آجکل کے فرشتوں اور جنات پر ایمان لانے والوں نے کر دی ہے۔ اسکا کیا حل ہے آپکے پاس؟

شواہد کے لیے آپ کو ایسے عاملین پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔۔۔ جنات پر یقین عین اسلام ہے اور اسلام کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو ایک عام انسان ہونے کے ناطے بھی آپ کو یقین کرنا ہی پڑے گا۔۔۔ وادی جن میں جا کر دیکھ لیں۔۔۔ ۔ اگر جا نہیں سکتے تو ویڈیوز تلاش کریں کہ جو لوگ گئے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ جنات چونکہ وجود رکھتے ہیں، لہٰذا ان کے شواہد دستیاب ہونا بھی کوئی زیادہ مشکل بات نہیں۔۔۔ اس آٹھ سو سالہ عالم دین جن کی کہانی پر یقین کرنا یقینا ایمان کا حصہ نہیں لیکن بغیر تصدیق کیے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ سو بہتر یہی تھا کہ Neutralرہا جاتا۔۔۔ ۔
وادی جن کا مسئلہ تو کب کا حل ہو چکا۔ یہ دیکھیں اسکا سائنسی جواب:
http://www.jinndemons.com/wadi-jinn-valley-of-jinn-solved-mystery/

اس قسم کے بہت سارے کیسز اسی ویب سائٹ پر حل ہو چکے ہیں۔

ایسا ہے تو پھر (شاید) کل آپ کہیں کہ میں نے تو خدا کو بھی نہیں دیکھا۔ اب کیسے مان لوں کہ واقعی خدا ہے؟
لیکن خدا کو اسکی تخلیق کے ذریعے محسوس تو کیا ہے نا! اب تو خود سائنس اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ ایک خاص منشاء کے بغیر اس زمین پر پہلے زندگی اور پھر بعد میں اشرف المخلوق انسان تک کا ارتقاء کسی بھی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ اسکے پیچھے ایک الٰہی، روحانی یا غیرمرئی قوت کارفرما ہے۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
سائنس ایسی غیر مرئی مخلوقات کو نہیں مانتی۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو براہ راست ٹی وی پر کسی اصلی جن کے ملاپ کا مظاہرہ کر کے دکھائے تمام لوگوں کے سامنے۔
آپ ننگی آنکھ سے چیونٹی کو دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی بینائی کی مزید گہرائی میں جائیں تو چیونٹی سے بھی کئ گنا کم حشرہ آپ اپنی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن اگر مزید گہرائی میں جائیں تو جراثیم جو ایک جاندار وجود رکھتے ہیں، آپ اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔ آپکی بصارت کی حد ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ پھر سائنس آپکی مدد کو آتی ہے، کیوں کہ اس سٹیج پر سائنس اتنی بالغ ہو چکی ہے کہ آپ کی مدد کر سکے۔۔۔۔۔۔۔ آپ خورد بین سے وہ اجسام دیکھ سکتے ہیں جن کو آپ اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ پاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کل کلاں سانئس ہی آپ کی آنکھوں کے مزید پردے گرانے کا ذریعہ بند جائے اور ایسی ایجادات بھی منظر عام پر آ جائیں کہ مزید چھپے ہوئے اجسام آپ کی بینائی کی پہونچ میں ہو جائیں۔۔۔۔۔ فی الحال تو سائنس بھی یہاں تک ہی پہنچی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سائنس تو ویسے بھی حیران ہے کہ اہرام مصر کس نے اور کیسے تعمیر کئے۔۔۔۔۔۔۔۔!
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
اہرام مصر ۔۔۔ کسی روحانی علم رکھنے والے بزرگ نے بتایا تھا کہ وہ لوگ کشش ثقل ختم کردیتے تھے ۔۔۔ اس کے بعد بڑی بڑی چٹانوں کو کاغذ کی طرح اٹھا کر کہیں بھی لایا اور لے جایا جاسکتا تھا ۔۔۔۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
اہرام مصر ۔۔۔ کسی روحانی علم رکھنے والے بزرگ نے بتایا تھا کہ وہ لوگ کشش ثقل ختم کردیتے تھے ۔۔۔ اس کے بعد بڑی بڑی چٹانوں کو کاغذ کی طرح اٹھا کر کہیں بھی لایا اور لے جایا جاسکتا تھا ۔۔۔ ۔
اس کی کچھ مزید وضاحت مل سکتی ہے؟
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
اس کی کچھ مزید وضاحت مل سکتی ہے؟
یہ میں نے خواجہ شمس الدین عظیمی کی کتاب ’’ٹیلی پیتھی سیکھئے‘‘ میں پڑھا تھا ۔۔۔ لیکن کل رات امام صاحب نے قرآن پاک کی جو تفسیر بیان کی، اس میں فرمایا کہ قوم ثمود ایک ایسی قوم گزری ہے جو ناخنوں سے پہاڑوں کو تراش اور کاٹ کر گھربنا لیا کرتے تھے ۔۔۔ اگر قوم ثمود اتنی طاقتور تھی تو عین ممکن ہے کہ اہرام مصر تعمیر کرنے والی قوم بنی اسرائیل، جس پر سب سے زیادہ پیغمبر اترے تھے، اس وقت ایسی ہی طاقتور ہوا کرتی ہو کہ اسے کشش ثقل ختم کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ہو۔۔۔ عین ممکن ہے ۔۔۔
 

arifkarim

معطل
اہرام مصر ۔۔۔ کسی روحانی علم رکھنے والے بزرگ نے بتایا تھا کہ وہ لوگ کشش ثقل ختم کردیتے تھے ۔۔۔ اس کے بعد بڑی بڑی چٹانوں کو کاغذ کی طرح اٹھا کر کہیں بھی لایا اور لے جایا جاسکتا تھا ۔۔۔ ۔
ہاہاہا۔ ایسی ہی فرضی فضول کتابی باتوں پر "ایمان" لا کر ہمارا یہ حال ہوگیا ہے۔ بھئی اگر کشش ثقل ختم کی جا سکتی تو آج سیسہ پلائی دیواروں اور جدید اسٹیل کے بغیر بلند اور بالا عمارات نہ بنائی جاتیں!
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top